سیٹل، 15 اکتوبر 2026 (ویب ڈیسک): ایمیزون کی ملکیت والی اے آئی کمپنی بی نے دو نئی ذاتی اے آئی ڈیوائسز متعارف کرا دی ہیں جو صارف کی روزمرہ کی بات چیت سن کر اہم باتیں یاد رکھتی ہیں اور انہیں نوٹس، خلاصوں اور کاموں کی فہرست میں بدل دیتی ہیں۔ یہ اعلان گزشتہ سال ایمیزون کے بی کو خریدنے کے بعد کمپنی کی پہلی نئی مصنوعات ہیں، اور ان کی قیمت 75 ڈالر سے شروع ہوتی ہے، جو اس زمرے کی سب سے کم قیمتوں میں سے ایک ہے۔
نئی ڈیوائسز: بی فرنٹیئر اور بی ایکلپس
نئی مصنوعات میں پہلی ڈیوائس بی فرنٹیئر ہے، جو اگلی نسل کا وہ آلہ ہے جسے کلائی پر پہنا جا سکتا ہے یا کپڑوں پر لگایا جا سکتا ہے۔ اس کی قیمت 74.99 ڈالر رکھی گئی ہے اور یہ اونکس، لیونڈر اور سیج رنگوں میں دستیاب ہوگی۔ فرنٹیئر میں ایک بٹن ہے جو ڈیوائس کو بند اور چالو کرتا ہے، بات چیت کا خلاصہ بناتے وقت جلنے والی ایک چھوٹی سی روشنی ہے، پانی سے محفوظ رہنے کی آئی پی 67 درجہ بندی ہے، ایک بار چارج پر سات دن تک چلنے والی بیٹری ہے، یو ایس بی سی چارجنگ ہے، اور شور کو فلٹر کرنے والے دو مائیکروفون لگے ہیں۔
دوسری ڈیوائس بی ایکلپس ہے، جو کریڈٹ کارڈ کے سائز کا ایک چھوٹا سا آلہ ہے اور مقناطیس کے ذریعے اسمارٹ فون کی پشت پر چپک جاتا ہے۔ اس کی قیمت 99.99 ڈالر ہے اور یہ سلور، مڈنائٹ، ہنی اور بلش رنگوں میں پیش کی جائے گی۔ ٹیک کرنچ کے مطابق ایکلپس کے ساتھ بی اب براہ راست اس بازار میں مقابلے میں اتر آئی ہے جہاں پلاڈ نوٹ اور پاکٹ جیسی ڈیوائسز پہلے سے موجود ہیں، لیکن بی کی قیمتیں ان سب سے کم ہیں۔ پلاڈ نوٹ کی قیمت 159 ڈالر اور نوٹ پرو کی 189 ڈالر ہے، جبکہ پاکٹ اے آئی ڈیوائس 129 ڈالر میں فروخت ہوتی ہے۔
یہ ڈیوائسز کرتی کیا ہیں
اصل بی ڈیوائس کی طرح نئی ڈیوائسز کا بنیادی خیال یہ ہے کہ اے آئی صارف کی روزمرہ کی گفتگو سے نوٹس لے، اہم باتیں یاد رکھے اور انہیں قابل عمل کاموں، خلاصوں اور تجزیوں میں بدل دے۔ مثلاً اگر صارف نے دوستوں کے ساتھ منصوبہ بناتے ہوئے کسی تاریخ اور وقت پر اتفاق کیا تو بی وہ تاریخ اور وقت یاد رکھ کر خود ہی کیلنڈر میں دعوت نامہ بنا دے گی۔ طالب علم اس سے کلاس کے لیکچر کے نوٹس لے سکتا ہے، اور مریض ڈاکٹر کے ساتھ طے شدہ علاج کا منصوبہ لکھوا سکتا ہے۔
تمام بی ڈیوائسز مفت میں گفتگو کے خلاصے اور دوبارہ دیکھنے کے قابل ریکاپ بناتی ہیں اور 14 دن تک کی یادداشت دیتی ہیں۔ بی پرو نامی ماہانہ سبسکرپشن 11.99 ڈالر میں ملے گی، جس میں لامحدود گفتگو کے خلاصے، ایمیزون ڈاٹ کام، الیکسا پلس اور دیگر ایپس کے ساتھ انضمام، تجویز کردہ کام، روزانہ کی یادیں، ذاتی چیٹ اسسٹنٹ اور گفتگو کے سانچے شامل ہوں گے۔ کمپنی نے ساتھی موبائل ایپ کو بھی نئے سرے سے ڈیزائن کیا ہے اور ایک نئی ڈیسک ٹاپ ایپ بھی جاری کی ہے۔
پیداواری صلاحیتوں کے ساتھ انضمام
بی اب صارف کے روزمرہ کے پیداواری سافٹ ویئر کے ساتھ بھی کام کرتی ہے۔ جی میل، گوگل کیلنڈر اور مائیکروسافٹ آؤٹ لک کے ساتھ رابطہ کاری کے ذریعے یہ ای میل کے مسودے تیار کر سکتی ہے، میٹنگیں طے کر سکتی ہے، کام کی فہرستیں سامنے لا سکتی ہے اور متعلقہ نکات نکال سکتی ہے۔ صارف تصاویر بھی بی پر اپ لوڈ کر سکتا ہے یا ایپل کی ہیلتھ کٹ سے جوڑ سکتا ہے تاکہ صحت کی مجموعی تصویر بھی فراہم کردہ تجزیوں میں شامل ہو جائے۔
سب سے نمایاں نئی بات یہ ہے کہ بی پرو صارفین اب ایمیزون ڈاٹ کام سے براہ راست خریداری بھی کر سکتے ہیں اور الیکسا سے ہاتھ لگائے بغیر بی کی بصیرتیں، خلاصے یا کاموں کی فہرستیں مانگ سکتے ہیں۔ یعنی یہ آلہ اب صرف سننے اور یاد رکھنے والا نہیں رہا بلکہ خریداری کرنے والا معاون بھی بن گیا ہے، جو اسے اس دوڑ میں شامل کرتا ہے جہاں بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اے آئی ایجنٹوں کے ذریعے خریداری کا بازار اپنے قبضے میں لینے کی کوشش کر رہی ہیں۔
ہر وقت سننے کے سوال پر پرائیویسی کا جواب
اس طرح کی ڈیوائسز پر سب سے بڑا اعتراض ہمیشہ یہ رہا ہے کہ ایک ایسا آلہ جو ہر وقت سنتا ہو، اس پر کیسے بھروسہ کیا جائے۔ ایمیزون اور بی کا کہنا ہے کہ ڈیوائسز ایک نجی کمپیوٹنگ حفاظتی ڈھانچے پر کام کرتی ہیں جو گفتگو کی خام آڈیو محفوظ نہیں کرتا۔ آڈیو کو حقیقی وقت میں پروسیس کیا جاتا ہے اور پھر مٹا دیا جاتا ہے۔ گفتگو کی تحریری نقل ان چابیوں سے خفیہ کی جاتی ہے جو خود ڈیوائس بناتی اور کنٹرول کرتی ہے، یعنی ایمیزون کے ملازمین سمیت کوئی اور ان فائلوں تک رسائی نہیں رکھ سکتا جب تک صارف خود ارادے سے انہیں شیئر نہ کرے۔
اس کے علاوہ ڈیوائس پر ایک روشنی ہے جو بتاتی ہے کہ خلاصہ بنایا جا رہا ہے، اور ایک ہی بٹن سے اسے بند کیا جا سکتا ہے۔ ایک اختیاری سہولت یہ بھی ہے کہ صارف بی کو الیکسا سے جوڑ سکتا ہے تاکہ گھر کا ایکو ڈیوائس اس کی وائس آئی ڈی خصوصیت کے ذریعے اس کی آواز پہچان کر گفتگو ریکارڈ کرے اور بی کی بصیرتیں دے۔ ایمیزون کے مطابق یہ پہلو مکمل طور پر اختیاری ہے اور صارف کسی بھی وقت تحریری نقل اور خلاصے مٹا سکتا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ خام آڈیو نہ رکھنے کا دعویٰ اچھا ہے، لیکن اصل امتحان یہ ہوگا کہ عملی استعمال میں یہ ضمانتیں کتنی مضبوط ثابت ہوتی ہیں۔
مقابلے کا منظرنامہ
بی کی نئی قیمتوں نے اس شعبے میں مقابلے کو تیز کر دیا ہے۔ پلاڈ نوٹ اور پاکٹ جیسی ڈیوائسز بنیادی طور پر میٹنگوں اور گفتگو کے نوٹس لینے پر مرکوز ہیں، جبکہ بی کا دائرہ وسیع تر ہے: یادیں، کام، خریداری، صحت اور ذاتی معاون، سب ایک ہی جگہ۔ 75 ڈالر کی ابتدائی قیمت اسے اس زمرے کی سب سے سستی نمایاں ڈیوائس بناتی ہے، اور ایمیزون کی ملکیت اسے وہ تقسیمی طاقت دیتی ہے جو چھوٹی اسٹارٹ اپس کے پاس نہیں ہوتی۔ فرنٹیئر ابھی سے ایمیزون پر دستیاب ہے جبکہ ایکلپس جلد دستیاب ہوگی۔
پاکستان کے صارفین کے لیے کیا معنی
پاکستان میں بھی پہننے والے سمارٹ آلات کی مارکیٹ تیزی سے بڑھ رہی ہے، اور نوجوان صارفین خاص طور پر ان آلات کی طرف راغب ہیں جو روزمرہ کے کام آسان بنائیں۔ بی جیسی ڈیوائسز طالب علموں کے لیے لیکچر کے نوٹس، پیشہ ور افراد کے لیے میٹنگوں کے خلاصے اور مصروف گھرانوں کے لیے یاددہانیوں کا کام کر سکتی ہیں۔ البتہ ایمیزون کی یہ مصنوعات فی الحال امریکہ میں فروخت کے لیے پیش کی گئی ہیں، اور پاکستان میں ان کی باضابطہ دستیابی اور قیمت کے بارے میں ابھی کوئی اعلان نہیں ہوا۔ دلچسپی رکھنے والے صارفین کو بین الاقوامی خریداری کے ذرائع پر انحصار کرنا ہوگا۔
ایک بڑی حکمت عملی کا حصہ
یہ لانچ ایمیزون کی اس وسیع حکمت عملی کا حصہ دکھائی دیتی ہے جس کے تحت کمپنی صرف گھروں میں رکھے ایکو اسپیکرز سے آگے بڑھ کر اے آئی کو صارف کی جیب اور کلائی تک پہنچانا چاہتی ہے۔ ایک طرف گوگل، میٹا اور اوپن اے آئی جیسی کمپنیاں اپنے ماڈلز کو زیادہ طاقتور بنا رہی ہیں، دوسری طرف ایمیزون وہ آلات بنا رہا ہے جن کے ذریعے یہ ماڈلز روزمرہ کی زندگی میں داخل ہوں گے۔ ہر وقت سننے والی ڈیوائس کا خیال ابھی بھی بہت سے لوگوں کو عجیب لگتا ہے، لیکن قیمتوں میں کمی اور پرائیویسی کی بہتر ضمانتوں کے ساتھ یہ زمرہ اس سمت بڑھ رہا ہے جہاں فون کے بعد اگلا ذاتی کمپیوٹنگ آلہ شاید وہ ہو جو آپ سنتا ہے، یاد رکھتا ہے اور آپ کے لیے کام بھی کرتا ہے۔



