سان فرانسسکو، 20 اکتوبر 2026 (ویب ڈیسک): Nvidia کے روبوٹکس تحقیقی پروگرام کے سابق سرکردہ محققین نے روبوٹکس کی دنیا میں ایک نیا قدم اٹھایا ہے۔ ان کی اسٹارٹ اپ ڈریم لیبز نے 90 ملین ڈالر کی سیڈ فنڈنگ جمع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ساتھ ہی کمپنی نے ڈریم ون کے نام سے ایک ایسا روبوٹ فاؤنڈیشن ماڈل پیش کیا ہے جو کمپنی کے دعوے کے مطابق کسی بھی ایسے روبوٹ کو چلا سکتا ہے جس میں گرپرز لگے ہوں۔ وہ بھی بغیر کسی اضافی تربیت کے۔
یہ اعلان 19 اکتوبر کو کیا گیا۔ فنڈنگ کے اس دور کی قیادت بی کیپٹل اور کائنڈرڈ وینچرز نے کی۔ دیگر سرمایہ کاروں میں اے کیپٹل، ان یوزوئل وینچرز، ایس وی اینجل، ونگ وی سی، سکربل وی سی اور ایڈرین اون شامل ہیں۔ ٹیک فنڈنگ نیوز کے مطابق کمپنی اس رقم کا بڑا حصہ کمپیوٹنگ کی سہولیات بڑھانے پر خرچ کرے گی۔
ڈریم ون: ایک ہی ماڈل، ہر روبوٹ کے لیے
ڈریم ون کو کمپنی "ورلڈ ایکشن ماڈل" قرار دیتی ہے۔ یہ روبوٹ کے کیمرے کی ویڈیو اور صارف کی سادہ انگریزی ہدایت کو براہِ راست موٹر کمانڈز میں بدل دیتا ہے۔ یعنی آپ کو روبوٹ کو یہ سکھانے کے لیے کوڈ لکھنے یا ہزاروں گھنٹوں کا تربیتی ڈیٹا دینے کی ضرورت نہیں۔ آپ صرف کہتے ہیں کہ کپ اٹھاؤ۔ ماڈل خود فیصلہ کرتا ہے کہ بازو کیسے حرکت کرے۔
کمپنی کا دعویٰ ہے کہ ڈریم ون ایسے روبوٹس کو بھی چلا سکتا ہے جن پر اسے کبھی تربیت نہیں دی گئی۔ کمپنی کے لانچ اعلان کے ایک انجینئرنگ تجزیے کے مطابق سمولیشن میں 27 ایسے روبوٹس پر اس کا تجربہ کیا گیا جن پر یہ ماڈل کبھی نہیں چلا تھا۔ ان میں 18 سال پرانا تحقیقی روبوٹ پی آر ٹو بھی شامل تھا۔
اس وقت ڈریم ون میز پر ہونے والے کاموں تک محدود ہے۔ چیزیں اٹھانا، رکھنا اور کپڑے تہہ کرنا جیسے کام یہ کر سکتا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس کے 20 سے زائد ہارڈویئر شراکت دار ہیں۔ مستقبل میں پہیوں والے روبوٹس اور زیادہ نازک گرفت والے ہاتھوں کی حمایت بھی شامل کی جائے گی۔
قیمت کے لحاظ سے بھی کمپنی نے سادگی رکھی ہے۔ ڈریم ون کے استعمال کی قیمت 3 ڈالر فی گھنٹہ ہے۔ اس کا ہلکا ورژن ڈریم ون فلیش 2 ڈالر فی گھنٹہ میں دستیاب ہے۔ ہر کال پر ماڈل 1.6 سیکنڈ کے عمل واپس کرتا ہے۔ یعنی فی گھنٹہ تقریباً 2,250 کالیں ہوتی ہیں اور ہر عمل کی قیمت تقریباً 0.0013 ڈالر بنتی ہے۔
کارکردگی کے حوالے سے کمپنی کا دعویٰ ہے کہ آزاد بینچ مارکنگ گروپ روبوکرو نے اسے روبوڈوجو آر سی ٹائر ون میں 59 اسکور دیا۔ اگلے بہترین متبادل کو 48 اسکور ملا۔ کمپنی کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ فی کام کی کوشش کی لاگت Gemini 4 Argon کے مقابلے میں 16 گنا کم ہے۔ یہ دعوے کمپنی کے اپنے ہیں۔ ان کی آزاد تصدیق ابھی باقی ہے۔
اس کے ساتھ کمپنی نے ڈریم API بھی پیش کیا ہے۔ کمپنی کے دعوے کے مطابق یہ پہلا عوامی API ہے جو روبوٹ کے کیمرے کی ویڈیو اور سادہ انگریزی ہدایت کو موٹر کمانڈز میں بدلتا ہے۔ اس کے ساتھ فائن ٹیوننگ کی سروس اور براؤزر میں چلنے والا روبوٹ پلی گراؤنڈ بھی دیا گیا ہے تاکہ ڈیویلپرز خود ماڈل کو آزما سکیں۔
کمپنی کے شریک بانی اور چیف ایگزیکٹو جوئل جنگ نے اعلان میں کہا: "ہارڈویئر تیار ہے۔ جو چیز اب تک غائب تھی وہ ایک ایسا دماغ ہے جو کوئی بھی روبوٹ استعمال کر سکے۔ جب آپ کرائے کی گاڑی میں بیٹھتے ہیں تو آپ کو ڈرائیونگ دوبارہ نہیں سیکھنی پڑتی۔ آپ کنٹرولز ڈھونڈتے ہیں اور آپ کا ماضی کا تجربہ باقی کام کر دیتا ہے۔ ڈریم ون نئے روبوٹ کے ساتھ اسی طرح برتاؤ کرتا ہے۔ اس لیے نیا روبوٹ مہینوں کے بجائے منٹوں میں کارآمد کام کر سکتا ہے۔"
کمپنی نے ایمانداری سے یہ بھی کہا ہے کہ ڈریم ون ابھی تحقیقی بیٹا مرحلے میں ہے۔ اس کے اپنے الفاظ میں یہ غلطیاں کرے گا۔ اسے سلامتی کے حساس استعمال کے لیے منظور نہیں کیا گیا۔
سابق Nvidia ٹیم کی کہانی
ڈریم لیبز 2026 میں قائم ہوئی۔ اس کے بانی وہ محققین ہیں جو Nvidia کی GEAR لیب میں پروجیکٹ GR00T پر کام کرتے تھے۔ جوئل جنگ Nvidia کی GEAR لیب میں سینئر ریسرچ سائنسٹ تھے۔ وہ پروجیکٹ GR00T کے لیے ورلڈ ماڈل ٹیم کی قیادت کرتے تھے۔ ان کے دیگر شریک بانی بھی Nvidia اور گوگل ڈیپ مائنڈ میں فرنٹیئر روبوٹکس تحقیق کا حصہ رہ چکے ہیں۔
ٹیک فنڈنگ نیوز کے مطابق جنگ کی ٹیم کا ڈریم زیرو پیپر فروری 2026 میں شائع ہوا تھا۔ اس میں 14 ارب پیرامیٹرز کے ورلڈ ایکشن ماڈل کی تفصیل تھی۔ یہ ماڈل صرف 30 منٹ کے کھیل کے ڈیٹا سے مکمل نئے روبوٹ کے مطابق ڈھل گیا تھا۔ یہی سوچ اب ڈریم ون کی بنیاد ہے۔
پاک ٹیکستان کی رپورٹ کے مطابق یہ ماڈل لوگوں کے روزمرہ کاموں کی ویڈیو سے سیکھتا ہے۔ یہ ایک مشین کی حرکات یاد کرنے کے بجائے یہ پیشگوئی کرتا ہے کہ آگے کیا ہوگا۔ اسی وجہ سے اس کی مہارتیں ایک ہارڈویئر سے دوسرے میں منتقل ہو سکتی ہیں۔
میدان میں سخت مقابلہ
ڈریم لیبز اس میدان میں اکیلی نہیں ہے۔ ایک ماڈل جو ہر روبوٹ چلائے، یہی خواب کئی بڑی کمپنیاں دیکھ رہی ہیں۔ ووٹیل کی رپورٹ کے مطابق فیزیکل انٹیلی جنس پہلے ہی 5.6 ارب ڈالر کی مالیت پر 600 ملین ڈالر جمع کر چکی ہے۔ اطلاعات ہیں کہ اینتھروپک اس کے حصول پر بات کر رہی ہے۔ اسکلڈ AI نے اس سال کے شروع میں تقریباً 14 ارب ڈالر کی مالیت پر 1.4 ارب ڈالر جمع کیے۔ Nvidia کی پشت پناہی والی جنرلسٹ نے جون میں 2 ارب ڈالر کی مالیت پر 400 ملین ڈالر جمع کیے۔ دو ماہ بعد اس نے مزید 200 ملین ڈالر حاصل کیے۔
ان میں سے اکثر حریف بھی اسی "ایک ماڈل، کئی مشینیں" کے نظریے پر کام کر رہے ہیں۔ یعنی ماڈل کو اتنا وسیع تربیت دو کہ وہ ہارڈویئر کے پار بھی کام کرے۔ بالکل اسی طرح جیسے بڑے لینگویج ماڈلز تحریر کے پار کام کرتے ہیں۔
ڈریم لیبز کا فرق تقسیم کاری میں ہے۔ بڑی لیبز یا انٹیگریٹرز کو بیچنے کے بجائے اس نے ڈریم API اور فائن ٹیوننگ کی سروس ہر ڈیویلپر اور چھوٹے ہارڈویئر بنانے والے کے لیے کھول دی ہے۔ اس کا دعویٰ ہے کہ روبوٹس کی وسیع تعیناتی میں رکاوٹ ہارڈویئر کی قیمت نہیں بلکہ ذہانت ہے۔ ہارڈویئر کی قیمت تو پہلے ہی کم ہو چکی ہے۔ مثال کے طور پر میکر موڈز جیسی کمپنیاں 2,000 ڈالر کے روبوٹ بازو بیچ رہی ہیں۔
پاکستان کے لیے کیا معنی رکھتا ہے
یہ خبر پاکستان کے لیے بھی دلچسپی رکھتی ہے۔ روبوٹکس میں دلچسپی رکھنے والی یونیورسٹیوں اور طلبہ کے لیے یہ اہم ہے کہ ایک طاقتور روبوٹ ماڈل اب API کے ذریعے 3 ڈالر فی گھنٹہ میں آزمایا جا سکتا ہے۔ مہنگے تربیتی ڈیٹا یا مہینوں کی تیاری کے بغیر کسی سستے روبوٹ بازو کو کارآمد بنانا ان لیبز کے لیے دروازہ کھولتا ہے جن کے بجٹ محدود ہیں۔
پاکستان کی صنعت کے لیے بھی یہ رجحان اہم ہے۔ ٹیکسٹائل اور فوڈ پروسیسنگ جیسی صنعتوں میں چیزوں کو اٹھانے، چھانٹنے اور پیک کرنے کے کاموں میں ایسے ماڈل مستقبل میں لاگت کم کر سکتے ہیں۔ البتہ یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ ڈریم ون ابھی بیٹا مرحلے میں ہے۔ اسے سلامتی کے حساس کاموں کے لیے منظور نہیں کیا گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل امتحان اب شروع ہوا ہے۔ دعوے کاغذ پر متاثر کن ہیں۔ لیکن میدان میں یہ ماڈل مختلف روبوٹس پر کتنا قابلِ اعتماد ثابت ہوتا ہے، یہ آنے والے مہینوں میں پتہ چلے گا۔




