ووہو، 19 اکتوبر 2026 (ویب ڈیسک): چینی کار ساز کمپنی چیری نے اپنے روبوٹکس برانڈ آئی موگا کے ذریعے گھر میں ساتھ دینے والا پہلا ہیومنائڈ روبوٹ موبو دنیا کے سامنے پیش کر دیا ہے۔ ووہو میں شروع ہونے والے چیری انٹرنیشنل یوزر سمٹ کے موقع پر کمپنی نے موبو کی عالمی نمائش کی اور اس کے لیے دنیا بھر سے پری آرڈر لینے کا اعلان بھی کر دیا۔ سمٹ 19 سے 23 اکتوبر تک جاری رہے گا اور اس کا موضوع "ECO-TECH FOR OUR FUTURE LIFE" رکھا گیا ہے۔
یہ اعلان اس بات کی تازہ علامت ہے کہ کار ساز کمپنیاں اب صرف گاڑیاں بنانے والی نہیں رہیں۔ چیری اس سمٹ میں گاڑیوں کے لیے اپنا خصوصی اے آئی ماڈل، فیکٹری میں بنی روبوٹیکسی اور اڑنے والی گاڑی سمیت کئی نئی ٹیکنالوجیز بھی متعارف کرا رہی ہے۔ روبوٹکس کی دنیا میں یہ ہفتہ چینی کمپنیوں کے نام رہا ہے۔ موبو کی عالمی فروخت کا اعلان ہیومنائڈ روبوٹس کی دوڑ میں ایک نیا موڑ ہے۔
موبو کیا کر سکتا ہے
موبو کو گھر میں ہم نشینی اور بچوں کی تعلیمی مدد کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اس کے اندر آئی موگا کا اپنا تیار کردہ مو ایجنٹ نامی اے آئی نظام نصب ہے، جو پیچیدہ ہدایات کو سمجھتا ہے۔ ان ہدایات کو چھوٹے عملی مراحل میں توڑتا ہے۔ پھر طویل مدتی کاموں کی منصوبہ بندی بھی خود کرتا ہے۔ یعنی یہ صرف الگ الگ احکامات پر جواب دینے والی مشین نہیں، بلکہ مقصد سمجھ کر آگے بڑھنے والا نظام ہے۔
روبوٹ میں جگہ کی پہچان اور کئی ذرائع سے معلومات جوڑنے کی صلاحیت موجود ہے۔ یہ چیزیں پہچانتا ہے۔ آواز، بصری معلومات اور گفتگو کے سیاق و سباق کو ایک ساتھ استعمال کرتا ہے۔ گھر کے ماحول میں رکاوٹوں سے خود بچ کر چلتا ہے۔ اس کا پورا جسم 22 ڈگری آف فریڈم پر حرکت کرتا ہے، جس سے یہ تاثراتی اشارے کر سکتا ہے۔ مستحکم انداز میں چلتا ہے۔ حتیٰ کہ رقص کے انداز بھی اپنا سکتا ہے۔
کمپنی کے مطابق موبو گھر کے ہر فرد کی عادات اور ترجیحات یاد رکھنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ اس میں رازداری کے تحفظ کو ابتدا سے ہی ڈیزائن کا حصہ بنایا گیا ہے۔ اس سے پہلے موبو ورلڈ روبوٹ کانفرنس اور ورلڈ مینوفیکچرنگ کنونشن میں بھی دکھایا جا چکا تھا۔ اب باقاعدہ عالمی نمائش کے ساتھ پری آرڈر بھی کھول دیے گئے ہیں۔
سمٹ میں روبوٹس کی پوری پریڈ
ووہو کے سمٹ میں موبو اکیلا نہیں ہے۔ آئی موگا اپنا پورا روبوٹ پورٹ فولیو عملی منظرناموں میں دکھا رہا ہے۔ پولیس روبوٹ گشت اور ٹریفک کی رہنمائی کریں گے۔ صحت کے شعبے کے روبوٹ طبی مراکز میں آنے والوں کی رہنمائی کریں گے۔ مورنائن نامی روبوٹ لائیو اسٹریمنگ اور بغیر کیشیئر والی دکانوں کے علاقوں میں پیش کیا جائے گا۔ جبکہ آرگوس پرو نامی چار ٹانگوں والا روبوٹ خودکار پیروی اور بوجھ اٹھانے کا مظاہرہ کرے گا۔ موبو گھر میں ہم نشینی اور تعلیمی مدد دکھائے گا۔
یہ مظاہرے عوامی خدمات، کاروباری سرگرمیوں اور گھر کی روزمرہ زندگی تینوں شعبوں کو محیط ہیں۔ اعلان کے مطابق آئی موگا کے روبوٹ پہلے ہی سو سے زائد عملی شعبوں میں کام کر رہے ہیں۔ ان میں گاڑیوں کے شوروم، دکانیں، سرکاری خدمات، ٹریفک کا انتظام، سیکیورٹی، تعلیم اور صحت شامل ہیں۔ کمپنی اب تک تین ہزار سے زائد روبوٹ دنیا بھر میں فراہم کر چکی ہے۔ اس کی سرگرمیاں ساٹھ سے زائد ممالک اور خطوں تک پھیلی ہوئی ہیں۔
کمپنی اپنے عالمی کام کے فلسفے کو ان الفاظ میں بیان کرتی ہے:
In Somewhere, For Somewhere, Be Somewhere
یعنی جہاں بھی ہوں، وہیں کے لیے، وہیں موجود رہ کر کام کرنا۔ آئی موگا کے مطابق اسی سوچ کے تحت وہ صنعتی ٹیکنالوجی کو روزمرہ زندگی میں لانے کے لیے عملی اور قابل توسیع روبوٹکس حل بنا رہی ہے۔
چیری کا 'آٹو موٹیو اے آئی ماڈل'
سمٹ کے ساتھ ساتھ 20 اکتوبر کو ووہو میں ہی چیری گلوبل انوویشن کانفرنس بھی ہو رہی ہے، جس کا موضوع "تبدیلی" رکھا گیا ہے۔ وہاں کمپنی اپنی یاؤ گوانگ 2035 حکمت عملی پیش کرے گی۔ اس حکمت عملی کا مقصد چیری کو صرف کار بنانے والی کمپنی سے آگے بڑھا کر ایک عالمی ذہین ٹیکنالوجی کمپنی بنانا ہے، جس میں مصنوعی ذہانت مرکزی کردار ادا کرے گی۔
چیری کے اپنے دعوے کے مطابق یہ آٹو موبائل صنعت کا پہلا شعبہ مخصوص بڑا اے آئی ماڈل ہوگا۔ یہ ماڈل کمپنی کے کمپیوٹنگ وسائل، الگورتھم اور ڈیٹا پر مبنی ہے۔ کمپنی فزیکل اے آئی کے عالمی ماڈل کے لیے تیار کردہ آٹو موٹیو گریڈ چپ بھی دکھائے گی۔ مقصد گاڑیوں کی تیاری میں اے آئی کو مزید گہرا لانا اور گاڑی سے باہر کی ضروریات کے لیے بھی نئے استعمال تلاش کرنا ہے۔
روبوٹیکسی، فلائنگ کار اور توانائی
چیری کی ٹیکنالوجی کی نمائش صرف روبوٹس تک محدود نہیں۔ اس کا فالکن ڈرائیور اسسٹنس نظام اور لنگ شی ذہین کاک پٹ دونوں کو اپ گریڈ کیا جا رہا ہے۔ یہ نئی ٹیکنالوجیز اب چیری کے مزید ماڈلز میں شامل ہوں گی۔ کمپنی کے بقول یہ عالمی منڈیوں کے لیے تیار کردہ دنیا کی پہلی فیکٹری میں بنی روبوٹیکسی ہوگی۔ اس کی لنگ شیاؤ نامی اڑنے والی گاڑی بھی کانفرنس میں دکھائی جائے گی۔
توانائی کے شعبے میں چیری کا دعویٰ ہے کہ اس نے توانائی کی پیداوار، ذخیرہ، ترسیل اور استعمال پر محیط مکمل نظام بنایا ہے۔ کانفرنس میں اس کی اے سی وہیکل ٹو گرڈ ٹیکنالوجی کی عالمی رونمائی ہوگی۔ اس کے ساتھ تیز چارجنگ کا نیا نظام بھی پیش کیا جائے گا۔ 16 اکتوبر کو کمپنی نے چین کے اسٹیٹ گرڈ کارپوریشن کے ساتھ اسٹریٹیجک معاہدہ کیا تھا، جس کے تحت پہلا بڑے پیمانے کا وہیکل ٹو گرڈ مظاہرہ اسٹیشن بنانے کا کام شروع ہوگا۔
بڑی تصویر: ہیومنائڈ روبوٹس کی دوڑ تیز
موبو کا عالمی پری آرڈر کھلنا ہیومنائڈ روبوٹس کی عالمی دوڑ میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ اب تک یہ دوڑ زیادہ تر خصوصی روبوٹکس کمپنیوں اور ٹیکنالوجی کے بڑے ناموں تک محدود سمجھی جاتی تھی۔ چیری جیسی بڑی کار ساز کمپنی کا صارفین کے لیے گھریلو ہیومنائڈ روبوٹ لانا اس بات کا اشارہ ہے کہ ایمبوڈیڈ اے آئی اب فیکٹریوں اور گوداموں سے نکل کر گھروں کی دہلیز پر آ رہا ہے۔
اس دوڑ میں مقابلہ سخت ہے۔ دنیا بھر میں کئی کمپنیاں انسانی نما روبوٹ بنا رہی ہیں۔ کچھ فیکٹریوں کے لیے ہیں، کچھ گھروں کے لیے۔ ہر کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کا روبوٹ زیادہ سمجھدار، زیادہ محفوظ اور زیادہ کارآمد ہے۔ چیری کا دعویٰ یہ ہے کہ اس کے پاس گاڑیوں کی صنعت کا تجربہ، تیار سپلائی چین اور بڑے پیمانے پر پیداوار کی صلاحیت موجود ہے۔ یہی وہ ہتھیار ہے جس سے وہ روبوٹ کو لیبارٹری سے نکال کر عام گھروں تک پہنچانا چاہتی ہے۔
تاہم سوالات بھی اپنی جگہ موجود ہیں۔ گھر میں ایک ایسا روبوٹ جو آپ کی عادات یاد رکھے، آپ کی باتیں سنے اور گھر میں گھومے، رازداری کے نئے چیلنج پیدا کرتا ہے۔ چیری کا کہنا ہے کہ رازداری کا تحفظ ابتدا سے ڈیزائن میں شامل ہے، لیکن آزاد ماہرین کی جانچ کے بغیر اس دعوے کی تصدیق ممکن نہیں۔ قیمت کا اعلان کمپنی نے ابھی نہیں کیا۔ گھریلو ہیومنائڈ روبوٹ کی کامیابی کا فیصلہ آخرکار اسی بات پر ہوگا کہ عام خاندان اسے خریدنے کے لیے تیار ہوتے ہیں یا نہیں۔
پاکستان کے قارئین کے لیے یہ خبر اس لیے بھی اہم ہے کہ چیری کی گاڑیاں پاکستان میں بھی فروخت ہوتی ہیں۔ جب ایک کار ساز کمپنی خود کو ٹیکنالوجی کمپنی میں بدل رہی ہے اور روبوٹ، اڑنے والی گاڑیاں اور ذہین توانائی کے نظام بنا رہی ہے، تو یہ تبدیلی جلد یا بدیر پاکستانی منڈی پر بھی اثر ڈالے گی۔ سمارٹ نقل و حمل اور گھریلو روبوٹکس کا مستقبل اب صرف مغربی ممالک کی کہانی نہیں رہا۔ چینی کمپنیاں اس دوڑ میں سب سے آگے نظر آ رہی ہیں۔




