کیلیفورنیا، 31 اکتوبر 2026 (ویب ڈیسک): گوگل (Google) نے اعلان کیا ہے کہ اس کے پروٹو ٹائپ سیٹلائٹ نے خلا سے پہلا مکمل اے آئی جواب زمین تک پہنچا دیا ہے۔ یہ جواب ایک نظم تھی، جسے سیٹلائٹ میں نصب ماڈل نے مدار میں تیار کیا اور زمین پر ٹیم تک پہنچایا۔ گوگل کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ ڈیٹا سینٹرز میں استعمال ہونے والی چپ نے مدار میں رہ کر اے آئی کا کوئی جواب تیار کیا ہو۔
یہ تجربہ گوگل کے طویل مدتی منصوبے پروجیکٹ سن کیچر (Project Suncatcher) کا حصہ ہے، جس کا مقصد یہ جانچنا ہے کہ آیا اے آئی کی بھاری کمپیوٹنگ خلا میں موجود سیٹلائٹس پر چلائی جا سکتی ہے، یا اسے ہمیشہ زمین پر بنے ڈیٹا سینٹرز تک محدود رہنا چاہیے۔ پہلے جواب کے زمین تک پہنچنے نے اس منصوبے کو ایک ٹھوس قدم آگے بڑھا دیا ہے۔
خلا سے آنے والا پہلا جواب
گوگل کے چیف ایگزیکٹو سندر پچائی (Sundar Pichai) نے 30 اکتوبر کو سوشل میڈیا پر اس پیش رفت کا اعلان کیا۔ انھوں نے لکھا کہ چند ہفتے قبل پروٹو ٹائپ سیٹلائٹ روانہ کرنے کے بعد ٹیم نے اب کمانڈ خلا تک پہنچائی، چپ کو چلایا، پرامپٹ دیا اور زمین پر پہلا مکمل جواب حاصل کر لیا۔
چند ہفتے قبل پروٹو ٹائپ سیٹلائٹ بھیجنے کے بعد ہم نے اب کمانڈ خلا تک پہنچائی، ٹی پی یو چلائی، پرامپٹ دیا اور زمین پر پہلا مکمل جواب حاصل کر لیا، ایک نظم (سندر پچائی، چیف ایگزیکٹو، گوگل)
زمین سے بھیجا گیا پہلا پرامپٹ سادہ تھا۔ ٹیم نے سیٹلائٹ پر موجود ماڈل سے کہا کہ وہ خلا میں ہونے کے موضوع پر ایک نظم لکھے۔ یہ نظم اس وقت موصول ہوئی جب سیٹلائٹ ناروے کے علاقے سوالبارد (Svalbard) کے اوپر سے گزر رہا تھا۔ ماڈل کا جواب تین مصرعوں پر مشتمل تھا:
Blue marble below
Data streams in silent grace
Starlight feeds my core
اس نظم کے بعد ٹیم نے خلا کے موضوع پر مزید نظمیں آزمائیں اور ماڈل سے سیٹلائٹ کے نظام کی صورت حال بھی پوچھی۔ گوگل کے مطابق ان آزمائشوں کا مقصد یہ دیکھنا تھا کہ چپ اور ماڈل خلا کے ماحول میں عام ہدایات پر کس طرح ردعمل دیتے ہیں۔
یہ تجربہ کیسے ہوا
یہ پروٹو ٹائپ سیٹلائٹ یکم اکتوبر 2026 کو روانہ ہوا تھا۔ اسے اسپیس ایکس (SpaceX) کے فیلکن 9 (Falcon 9) راکٹ کے ذریعے خلا میں بھیجا گیا، جو اس روز 100 سے زیادہ چھوٹے سیٹلائٹس کو لے کر گیا تھا۔ اس مشن کو ٹرانسپورٹر 18 (Transporter-18) کا نام دیا گیا تھا۔ سیٹلائٹ کی تیاری میں سیٹلائٹ تصاویر بنانے والی کمپنی پلینٹ (Planet) نے بھی حصہ لیا۔
سیٹلائٹ میں گوگل کی اپنی تیار کردہ چار ٹینسر پروسیسنگ یونٹس (Tensor Processing Units) نصب ہیں، جنھیں مختصراً ٹی پی یو کہا جاتا ہے۔ یہ وہی خاص چپس ہیں جن پر گوگل زمین پر اپنے ڈیٹا سینٹرز میں اے آئی ماڈلز چلاتا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اس بار یہ چپس زمین پر نہیں، بلکہ مدار میں کام کر رہی تھیں۔
روانگی کے بعد تقریباً تین ہفتے تک سیٹلائٹ کے نظاموں کی جانچ ہوتی رہی، جس میں رابطہ قائم کرنا، ٹی پی یو کو بجلی کی فراہمی اور ابتدائی آزمائشیں شامل تھیں۔ ان مراحل کے بعد ہی پہلا باقاعدہ پرامپٹ بھیجا گیا۔
سیٹلائٹ پر جو ماڈل چل رہا تھا وہ جیما 4 (Gemma 4) ہے، جو گوگل ڈیپ مائنڈ (Google DeepMind) کا اوپن ماڈل ہے۔ اوپن ماڈل کا مطلب یہ ہے کہ ڈویلپرز اسے اپنی ضرورت کے مطابق ڈھال سکتے ہیں۔ اسے روانگی سے پہلے ہی سیٹلائٹ میں محفوظ کر دیا گیا تھا۔
خلا میں ڈیٹا سینٹر کیوں؟
اس منصوبے کے پیچھے ایک بنیادی سوال ہے۔ اے آئی ماڈلز کو چلانے کے لیے بجلی کی ضرورت مسلسل بڑھ رہی ہے، اور زمین پر ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر کے لیے جگہ، بجلی اور ٹھنڈک کے انتظامات درکار ہوتے ہیں۔ گوگل یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ کیا ان میں سے کچھ کام خلا میں منتقل کیا جا سکتا ہے، جہاں سورج کی روشنی تقریباً ہر وقت میسر رہتی ہے۔
گوگل کے مطابق زمین کے نچلے مدار میں سیٹلائٹس کو سورج کی تقریباً مسلسل روشنی مل سکتی ہے، اور اس سے زمین کے مقابلے میں آٹھ گنا تک زیادہ شمسی بجلی پیدا ہو سکتی ہے۔ یہ کمپنی کا دعوٰی ہے، اس کی عملی آزمائش ابھی باقی ہے، مگر یہی خیال پروجیکٹ سن کیچر کی بنیاد ہے۔
حدود اور اگلے مراحل
اس پیش رفت کو اس کی حدود کے ساتھ سمجھنا ضروری ہے۔ یہ سیٹلائٹ کوئی مکمل ڈیٹا سینٹر نہیں۔ ٹیک کرنچ (TechCrunch) کی رپورٹ کے مطابق سیٹلائٹ ایک کلو واٹ تک بجلی پیدا کرتا ہے، اس لیے ایک وقت میں صرف ایک ٹی پی یو چلائی جا سکتی ہے، اور وہ بھی تقریباً 20 منٹ تک۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ابھی صرف سادہ اور مختصر کام آزمائے جا سکتے ہیں، بھاری اور طویل کمپیوٹنگ نہیں۔
اگلا مرحلہ اس سے زیادہ سخت ہوگا۔ گوگل کے مطابق اب ٹی پی یو چپس کو درجہ حرارت کے دباؤ اور خلا میں موجود تابکاری کے ماحول میں آزمایا جائے گا۔ تابکاری کا ایک خطرہ یہ ہے کہ کوئی ذرہ چپ میں محفوظ معلومات کو بدل سکتا ہے، جس سے جواب میں خرابی آ سکتی ہے۔ اس لیے یہ جانچنا ہوگا کہ چپس خلا میں کتنی دیر تک قابل اعتماد رہتی ہیں۔
اگر یہ آزمائشیں کامیاب رہیں تو گوگل 2027 میں دو مزید سیٹلائٹس خلا میں بھیجے گا، جو ایک دوسرے سے جڑے ہوں گے۔ اس مرحلے میں یہ دیکھا جائے گا کہ کیا دو سیٹلائٹس مل کر کوئی بڑا کام انجام دے سکتے ہیں۔ گوگل نے ابھی خلا میں اے آئی چلانے کی رفتار یا لاگت کے بارے میں کوئی اعداد جاری نہیں کیے ہیں، اس لیے یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ خلا میں اے آئی چلانا زمین کے مقابلے میں سستا یا تیز ہوگا۔
ماہرین کے نزدیک اس تجربے کی اصل اہمیت نظم میں نہیں، بلکہ اس پورے سلسلے میں ہے: چپ کا سلامت رہنا، اس کا چلنا، پرامپٹ کا موصول ہونا اور جواب کا زمین تک واپس آنا۔ یہ سلسلہ مکمل ہوا تو اس سے ثابت ہوا کہ ڈیٹا سینٹر کی چپ خلا میں بھی بنیادی کام انجام دے سکتی ہے۔ اس سے آگے کا راستہ ابھی آزمائشوں سے طے ہوگا، دعوؤں سے نہیں۔
پاکستان کے لیے اس کا مطلب
پاکستان کے قاری کے لیے اس خبر کا فوری مطلب کوئی نئی سہولت نہیں۔ خلا سے آنے والی یہ نظم کسی صارف کے فون یا کمپیوٹر تک نہیں پہنچی، اور نہ ہی اس سے پاکستان میں اے آئی کی دستیابی میں کوئی تبدیلی آئی ہے۔ مگر اس کی اہمیت دو اور زاویوں سے ضرور ہے۔
پہلا زاویہ تعلیم اور تحقیق کا ہے۔ جیما 4 جیسے اوپن ماڈلز زمین پر ہی ڈویلپرز اور طلبہ کے لیے دستیاب ہیں، اور ان پر تجربات کے لیے سیٹلائٹ کی ضرورت نہیں۔ پاکستانی جامعات اور سافٹ ویئر ہاؤسز اسی ماڈل کو اپنے کمپیوٹرز پر چلا کر یہ سیکھ سکتے ہیں کہ ایک ماڈل ہدایت پر کس طرح جواب بناتا ہے۔ خلا کا تجربہ اسی بنیادی علم کی ایک دور دراز آزمائش ہے۔
دوسرا زاویہ منصوبہ بندی کا ہے۔ اگر مستقبل میں اے آئی کی کمپیوٹنگ کا کچھ حصہ خلا کی طرف جاتا ہے تو سیٹلائٹ، مواصلات اور توانائی کے شعبے ایک دوسرے سے اور قریب آ جائیں گے۔ ان شعبوں سے وابستہ طلبہ اور پیشہ ور افراد کے لیے یہ ایک اشارہ ہے کہ اے آئی کی کہانی اب صرف چیٹ بوٹس تک محدود نہیں رہی۔
مجموعی طور پر یہ ایک ابتدائی مگر ٹھوس تجربہ ہے۔ گوگل نے خلا میں چپ چلائی، اس سے جواب لیا اور وہ جواب زمین تک پہنچا۔ اب اصل سوال یہ ہے کہ یہ چپ خلا کی سختیوں میں کتنی دیر تک قائم رہتی ہے، اور کیا دو سیٹلائٹس مل کر اس سے بڑا کام کر سکتے ہیں۔ ان سوالات کے جواب 2027 کی آزمائشوں سے سامنے آئیں گے۔




