سان فرانسسکو، 25 اکتوبر 2026 (ویب ڈیسک): جیک ڈورسی کی کمپنی بلاک(Block) نے ایک ایسا صوتی ماڈل متعارف کرا دیا ہے جو صرف انسانی گفتگو سن کر بولنا سیکھا ہے۔ اس ماڈل کو نہ کوئی تحریری متن پڑھایا گیا، نہ پہلے سے تیار کسی ماڈل کی مدد لی گئی۔ کمپنی کے مطابق ڈیسا (Dessa) نامی یہ ماڈل بات چیت کے دوران بیک وقت سن بھی سکتا ہے اور بول بھی سکتا ہے، اور اس کی آواز میں ہنسی، توقف، طنز اور جذبات کی وہ باریکیاں موجود ہیں جو عام طور پر آواز کو تحریری متن میں بدلتے ہی ضائع ہو جاتی ہیں۔
بلاک کے تحقیقی لیب نے ڈیسا کا اعلان 23 اکتوبر کو کیا، اور اگلے روز ٹیک کرنچ سمیت کئی ٹیکنالوجی اشاعتوں نے اس کی تفصیلات شائع کیں۔ کمپنی نے ڈیسا کو ابھی عام صارفین کے لیے جاری نہیں کیا ہے۔ فی الحال یہ ایک تحقیقی پیش نظارہ ہے، جس کے لیے عوامی انتظار کی فہرست کھولی گئی ہے، جب کہ ایک چھوٹے گروہ کے اے آئی حفاظتی محققین کو پہلے آزمائش کی سہولت دی جا رہی ہے۔ کمپنی پہلے یہ جاننا چاہتی ہے کہ یہ ماڈل کن نئے خطرات کو جنم دے سکتا ہے۔
ڈیسا کیا ہے اور عام وائس اے آئی سے کیسے مختلف ہے
آج کے زیادہ تر وائس اسسٹنٹ تین مرحلوں میں کام کرتے ہیں: پہلے آواز تحریری متن میں بدلتی ہے، پھر وہ متن کسی بڑے لینگویج ماڈل کے پاس جاتا ہے، اور آخر میں جواب دوبارہ آواز میں سنائی دیتا ہے۔ اس طریقے میں لہجے کا اتار چڑھاؤ، ہنسی، توقف اور جذبات کی شدت جیسی معلومات نکل جاتی ہیں۔
ڈیسا اس پورے سلسلے کو چھوڑ دیتا ہے۔ یہ آواز سے آواز تک کا ماڈل (Speech-to-speech) ہے، یعنی بیچ میں کوئی تحریری مرحلہ نہیں آتا۔ یہ مکمل دو طرفہ ہم وقتی گفتگو (Full-duplex) کا ماڈل بھی ہے، یعنی یہ بولتے ہوئے بھی سن سکتا ہے، اس لیے اسے بیچ میں ٹوکا جا سکتا ہے اور وہ بات کا رخ بدل سکتا ہے، بالکل انسانوں کی طرح۔ کمپنی کے مطابق ڈیسا نے حقیقی گفتگو سے یہ بھی سیکھا ہے کہ کب بیچ میں بولنا ہے اور کب صرف ہاں کہہ کر سننے کا اشارہ دینا ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ ذہانت سے بات چیت کا سب سے فطری طریقہ آواز ہے، اس لیے ہم نے ڈیسا بنایا ہے، جو اب تک کا سب سے مستند مکمل دو طرفہ آوازی ماڈل ہے۔ اس سے بات کرنا کسی انسان سے بات کرنے جیسا لگتا ہے، جس میں جذبات، باریکیاں، توقف اور فطری لے موجود ہوتی ہے۔ — جیک ڈورسی، شریک بانی و سربراہ، بلاک۔
صرف آواز سے سیکھنا کیوں مشکل تھا
بلاک کے محققین کے مطابق صرف آواز سے سیکھنا تحریری متن سے سیکھنے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل کام ہے۔ تحریری لفظ ہر بار ایک جیسا رہتا ہے، لیکن بولا ہوا لفظ ہر بار بدل جاتا ہے، اور لفظ پر زور بدلنے سے جملے کا مطلب بھی بدل جاتا ہے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ اس مشکل کے باوجود ڈیسا نے بڑے لینگویج ماڈلز کے مقابلے میں سینکڑوں گنا کم الفاظ سے زبان سیکھی۔ تربیت کے حوالے سے بھی بلاک نے ایک اہم دعویٰ کیا ہے۔ کمپنی کے مطابق ڈیسا کی تربیت صرف ایک Nvidia GB200 NVL72 نظام پر ہوئی ہے، جو اگرچہ ایک طاقتور کمپیوٹنگ نظام ہے، مگر فرنٹیئر ماڈلز کی تربیت کے لیے استعمال ہونے والے بڑے بڑے ڈیٹا مراکز کے مقابلے میں بہت چھوٹا ہے۔ اگر یہ دعویٰ درست ہے تو آواز پر مبنی ماڈل کم وسائل میں بھی تیار ہو سکتے ہیں۔
براہ راست گفتگو کی مثالیں
بلاک نے ڈیسا کی کئی ریکارڈ شدہ گفتگوئیں بھی جاری کی ہیں، جن کے بارے میں کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ براہ راست ریکارڈ کی گئیں اور ان کے دوران ماڈل کو کوئی ہدایت نہیں دی گئی۔ ایک مثال میں ڈیسا جملے کے بیچ میں ہنس پڑتا ہے، اور دوسری میں وہ حیرت پر جذبات سے بھری آواز میں جواب دیتا ہے۔
ٹیک کرنچ کی رپورٹ کے مطابق ایک گفتگو میں ڈیسا نے خود کو کام سے تھکا ہوا ظاہر کیا، اور اس وقت اس کی آواز میں بھی تھکن سنائی دی۔ بلاک کے لیب کے سربراہ راگاون تھرائی رتنم نے اسے آواز کی دنیا میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا ہے۔ تاہم یہ مثالیں کمپنی نے خود منتخب کر کے جاری کی ہیں، اور ان کی آزادانہ تصدیق تاحال نہیں ہوئی ہے۔
چھوٹی مشین پر چلنا اور کاروباری پہلو
ڈیسا کی ایک اور نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ کمپنی کے مطابق یہ ماڈل مقامی طور پر چل سکتا ہے، یعنی ہر وقت کسی بڑے سرور سے رابطے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ بلاک کا کہنا ہے کہ یہ میک بک پرو ایم 4 میکس یا اس سے بہتر مشین پر حقیقی وقت سے بھی تیز جواب دے سکتا ہے۔ اس سے رازداری بہتر ہوگی اور اخراجات کم ہوں گے۔
یہ پہلو بلاک کے کاروبار کے لیے بھی اہم ہے، کیوں کہ اسکوائر پہلے ہی چھوٹے کاروباروں کے لیے وائس اے آئی کے ذریعے آرڈر لینے کی سہولت استعمال کر رہا ہے۔ مقابلے میں ڈیسا کا سامنا اوپن اے آئی کے جی پی ٹی لائیو اور الیون لیبز جیسی کمپنیوں سے ہوگا۔ بلاک کا دعویٰ ہے کہ ڈیسا میں جذبات بعد میں شامل نہیں کیے گئے، بلکہ وہ اس کی تربیت کا حصہ ہیں۔ ٹیک کرنچ کے مطابق تاحال یہ واضح نہیں کہ ان جذبات کو کس حد تک وائس ٹیگز کے ذریعے قابو کیا جا رہا ہے۔
حفاظت کا سوال سب سے پہلے کیوں
بلاک نے ڈیسا کو عام صارفین کے لیے جاری کرنے سے پہلے حفاظتی محققین کو آزمائش کی دعوت دی ہے۔ کمپنی کے مطابق موجودہ وائس اے آئی آواز کو متن میں بدل کر اس کی بہت سی معلومات ضائع کر دیتا ہے، جس سے وہ بولنے والے کے جذبات نہیں سمجھ پاتا۔
موجودہ وائس اے آئی سے بات چیت میں آواز کو پہلے متن میں بدلا جاتا ہے، جس سے وہ بہت سی معلومات ضائع ہو جاتی ہیں جو صرف آواز ہی بتا سکتی ہے۔ دنیا کے طاقتور ترین اے آئی نظام بھی یہ نہیں سن پاتے کہ آپ کیسا محسوس کر رہے ہیں۔
یہ الفاظ بلاک کے بلاگ سے ہیں۔ یہی خوبی ایک خطرہ بھی بن سکتی ہے۔ اگر کوئی ماڈل انسان جیسی آواز میں ہنس سکے اور جذبات ظاہر کر سکے تو اسے فون پر کسی کو دھوکا دینے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بلاک نے پہلے حفاظتی محققین کو آزمائش کی دعوت دی ہے۔ ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ کیا مستقبل میں ایسے ماڈلز کو یہ ظاہر کرنا لازم ہوگا کہ بات کرنے والا انسان نہیں، بلکہ ایک مشین ہے۔
پاکستان کے قاری کے لیے اس خبر کا مطلب
پاکستان میں وائس اے آئی کی اہمیت روز بروز بڑھ رہی ہے، کیوں کہ بہت سے صارفین لکھنے کے بجائے بول کر کام کرنا پسند کرتے ہیں۔ اگر آواز کو سمجھنے والے ماڈل مقامی مشینوں پر کم لاگت میں چلنے لگیں تو پاکستانی سافٹ ویئر ہاؤسز بھی اپنی وائس سروسز بنا سکیں گے، جن میں اردو لہجوں کی سمجھ بوجھ شامل ہو۔
تاہم دو احتیاطیں ضروری ہیں۔ بلاک نے تاحال یہ واضح نہیں کیا ہے کہ ڈیسا کن زبانوں میں کام کرتا ہے، اس لیے اردو میں اسی معیار کی گفتگو کا دعویٰ قبل از وقت ہوگا۔ دوسری طرف پاکستان میں فون فراڈ پہلے ہی ایک سنگین مسئلہ ہے، اور انسان جیسی آواز والے ماڈل اس خطرے کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔ مجموعی طور پر ڈیسا کا مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ مشین کو بولنا سکھانے کے لیے اسے پہلے لکھنا سکھانا ضروری نہیں ہے۔ اگر یہ تجربہ آزادانہ آزمائش میں بھی کامیاب رہا تو وائس اے آئی میں ایک نیا راستہ کھل جائے گا۔ فی الحال بلاک نے صرف انتظار کی فہرست کھولی ہے، اور اصل فیصلہ اس وقت ہوگا جب ڈیسا عام صارفین کے سامنے آئے گا۔




