بیجنگ، 24 اکتوبر 2026 (ویب ڈیسک): چین کی اے آئی کمپنی مون شاٹ اے آئی نے اپنا نیا اوپن ویٹ (Open-weight) لینگویج ماڈل کیمی K3.1 Pro متعارف کرا دیا ہے۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ اس کا اب تک کا سب سے طاقتور اوپن ویٹ ماڈل ہے، اور کوڈنگ ایجنٹس کے کڑے بینچ مارک میں یہ اینتھروپک کے بند ماڈل کلاڈ اوپس 5.5 (Claude Opus 5.5) سے صرف 0.7 فیصد پوائنٹ پیچھے رہا ہے۔
مون شاٹ اے آئی کے مطابق نیا ماڈل گزشتہ روز سے کیمی ایپ، کیمی ورک، کیمی کوڈ اور کمپنی کی اے پی آئی کے ذریعے دستیاب ہے، جبکہ اس کے مکمل ویٹس 4 نومبر تک جاری ہوں گے۔ یہ K3.1 سیریز کا پہلا ماڈل ہے، اور تجزیہ کار اسے ڈیپ سیک (DeepSeek) کے بعد چین کی جانب سے امریکی فرنٹیئر لیبز کے لیے سب سے بڑا چیلنج قرار دے رہے ہیں۔
ٹرمینل بینچ میں کلاڈ اور GPT-6 Astra سے مقابلہ
لانچ کے موقع پر مون شاٹ اے آئی نے جو کارکردگی کے اعداد جاری کیے ہیں، ان کے مطابق کیمی K3.1 Pro نے ٹرمینل بینچ (Terminal-Bench 4.0) میں 65.7 فیصد اسکور حاصل کیا ہے۔ یہ وہ کڑا بینچ مارک ہے جو اے آئی ایجنٹس کو حقیقی ٹرمینل ماحول میں اصل پروگرامنگ کے کام سونپ کر پرکھتا ہے۔ اسی جانچ میں کلاڈ اوپس 5.5 کا اسکور 66.4 فیصد اور اوپن اے آئی کے GPT-6 Astra کا 58.2 فیصد رہا۔ یوں چینی ماڈل GPT-6 Astra سے آگے اور کلاڈ اوپس 5.5 سے محض 0.7 فیصد پوائنٹ پیچھے رہا۔
واضح رہے کہ یہ تمام اعداد خود مون شاٹ اے آئی کے جاری کردہ ہیں اور ان کی آزادانہ تصدیق تاحال نہیں ہوسکی۔ کمپنی نے اپنا ماڈل اینتھروپک کے کلاڈ کوڈ (Claude Code) نظام میں چلا کر جانچا، جبکہ حریفوں کے اسکور ان کی شائع شدہ رپورٹوں سے لیے گئے۔
دیگر جانچوں میں ماڈل نے تھری ڈی اشیا کے ڈیزائن کوڈ بنانے والے بینچ کیڈ (BenchCAD) میں 92.7 فیصد اسکور کیا، جبکہ اسی میں کلاڈ اوپس 5.5 نے 96.2 اور GPT-6 Astra نے 95.9 فیصد حاصل کیا۔ مالیاتی دستاویزات کی جانچ آفس کیو اے پرو (OfficeQA Pro v2) میں کمپنی نے 64.4 پوائنٹس کے ساتھ بہترین کارکردگی کا دعویٰ کیا ہے، اور حقائق کی جانچ میں غلط دعوے گھڑنے کی شرح کیمی K3 کے 23.4 فیصد سے گھٹ کر 8.3 فیصد رہ گئی ہے۔
آزاد جانچ ادارے آرٹیفیشل اینالسز (Artificial Analysis) نے بھی کیمی K3.1 Pro کو اپنے انٹیلی جنس انڈیکس میں 55 پوائنٹس کے ساتھ چوتھی پوزیشن دی ہے، جو کیمی K3 سے 11 پوائنٹ زیادہ ہے۔ اس فہرست میں کلاڈ اوپس 5.5 (Claude Opus 5.5) پہلے، کلاڈ سونٹ 5.5 (Claude Sonnet 5.5) اور میٹا کا میوز ونڈر فل (Muse Wonder Full) مشترکہ دوسرے نمبر پر ہیں، جبکہ چینی ماڈل کلاڈ فیبل 5.1 (Claude Fable 5.1)، GPT-6 Astra اور جیمنی 4 آرگن (Gemini 4 Argon) سے آگے ہے۔
ماڈل کیسے کام کرتا ہے
مون شاٹ اے آئی کے مطابق کیمی K3.1 Pro کوئی نئے سرے سے بنایا گیا بنیادی ماڈل نہیں، بلکہ کیمی K3 کا مزید تربیت یافتہ ورژن ہے۔ یعنی اسی بنیادی ماڈل کو کہیں زیادہ کمپیوٹنگ طاقت سے سینکڑوں شعبوں میں مزید گہری تربیت دی گئی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس سے ماڈل کی طویل مدتی منصوبوں پر کام کی صلاحیت نمایاں طور پر بہتر ہوئی ہے۔
ماڈل ماہرین کا مرکب (Mixture-of-Experts) تکنیک پر بنا ہے: اس میں مجموعی طور پر 2.8 ٹریلین (28 کھرب) پیرامیٹرز ہیں، مگر کسی ایک سوال پر صرف 104 ارب متحرک ہوتے ہیں۔ یوں ماڈل بڑے حجم کے باوجود نسبتاً کم لاگت میں چلتا ہے۔ اس کی کانٹیکسٹ ونڈو (Context Window) دس لاکھ ٹوکن ہے، یعنی یہ ایک ہی نشست میں اتنا متن اور تصاویر سمجھ سکتا ہے، جو طویل دستاویزات اور بڑے سافٹ ویئر منصوبوں کے تجزیے میں کام آتی ہے۔
لانچ کے موقع پر دکھائے گئے مظاہروں میں ماڈل نے گیم انجنوں میں کھیل تیار کیے اور تھری ڈی ماڈلنگ کے اوزاروں سے اشیا ڈیزائن کیں۔ ایک مظاہرے میں اس نے انسانی چال کے سمیلیٹر کی 36 خامیاں دور کر کے مجازی کردار کو 11.2 سیکنڈ تک چلایا۔
قیمت اور دستیابی
مون شاٹ اے آئی نے نئے ماڈل کی قیمت اپنے پیش رو سے بھی کم رکھی ہے۔ اے پی آئی کے ذریعے دس لاکھ ان پٹ ٹوکنز کی قیمت 2 ڈالر اور دس لاکھ آؤٹ پٹ ٹوکنز کی قیمت 10 ڈالر مقرر کی گئی ہے، جو کیمی K3 کی قیمت سے ایک تہائی کم ہے۔ محفوظ شدہ ان پٹ کی قیمت صرف 0.20 ڈالر رکھی گئی ہے، جس سے ایجنٹوں کے طویل کام سستے پڑیں گے۔
اس کے ساتھ کیمی K3.1 Pro ہائی اسپیڈ نامی تیز رفتار ورژن بھی پیش کیا گیا ہے، جو کمپنی کے مطابق وہی صلاحیتیں دو سے تین گنا رفتار سے دیتا ہے، مگر اس کی قیمت دگنی (4 اور 20 ڈالر) رکھی گئی ہے۔
ماڈل فی الحال کیمی کی ویب سائٹ اور موبائل ایپس، کیمی ورک، کیمی کوڈ اور کمپنی کی اے پی آئی (kimi-k3.1-pro اور kimi-k3.1-pro-highspeed) کے ذریعے دستیاب ہے۔ کمپنی کے وعدے کے مطابق 4 نومبر تک اس کے مکمل ویٹس جاری ہوں گے، جس کے بعد اسے اپنے سرورز پر چلانا ممکن ہوگا۔
سائبر حملوں کی تربیت سے دانستہ پرہیز
لانچ اعلان کا ایک غیر معمولی پہلو سائبر تحفظ ہے: مون شاٹ اے آئی کا کہنا ہے کہ اس نے اوپن ویٹ اجراء سے قبل ماڈل کی تربیت سے سائبر حملوں سے متعلق ڈیٹا دانستہ نکال دیا ہے، تاکہ کھلے اجراء سے جارحانہ ہیکنگ کو فروغ نہ ملے۔ کمپنی کے اندازے کے مطابق اس سے متعلقہ جانچوں میں 9.5 پوائنٹ کا فرق پڑا ہے، اور تجزیہ کار اسے اس بحث میں اہم قرار دے رہے ہیں کہ کھلے ماڈلز سے غلط استعمال کا خطرہ کس حد تک بڑھتا ہے۔
صنعت کا تناظر: ڈیپ سیک کے بعد چین کی دوسری للکار
یہ لانچ اس وقت ہوئی ہے جب امریکی لیبز بند فرنٹیئر ماڈلز پر اربوں ڈالر خرچ کر رہی ہیں: اوپن اے آئی 30 ارب ڈالر کی نئی سرمایہ کاری کی تیاری میں ہے اور اینتھروپک کلاڈ ماڈلز کے ساتھ سبقت لیے ہوئے ہے۔ اس ماحول میں ایک چینی لیب کا اوپن ویٹ ماڈل ان کے قریب پہنچنا مسابقت کا نقشہ بدل سکتا ہے۔
یاد رہے کہ کیمی K3 رواں برس جولائی میں آیا تھا اور اس کے ویٹس بھی چند روز بعد جاری ہوئے تھے۔ 2025 کے اوائل میں ڈیپ سیک نے کم لاگت ماڈل سے امریکی کمپنیوں کو ہلا کر رکھ دیا تھا، اور مون شاٹ اے آئی اب اسی راستے پر ایک قدم آگے بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔
اوپن ماڈلز پر نظر رکھنے والے نیوز لیٹر انٹرکنیکٹس (Interconnects) کے مصنف نتھن لیمبرٹ کے مطابق اگر کمپنی 4 نومبر تک واقعی ویٹس جاری کر دیتی ہے تو یہ موجودہ دور کا واضح طور پر سب سے طاقتور اوپن ویٹ ماڈل ہوگا۔ ان کے خیال میں کمپنی نے اپنی تربیتی تکنیک درست کر لی ہے۔
"کیمی K3.1 Pro ہمارا اب تک کا سب سے قابل 3T کلاس اوپن ویٹ ماڈل ہے۔"
کمپنی نے لانچ اعلان میں یہ دعویٰ کیا ہے۔ تاہم احتیاط ضروری ہے: تقریباً تمام بینچ مارک اسکور خود کمپنی کے جاری کردہ ہیں اور ان کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔ ابتدائی صارفین کے تجربات ملے جلے رہے ہیں، اور ویٹس کا اجراء فی الحال صرف ایک وعدہ ہے۔ اصل امتحان 4 نومبر کے بعد ہوگا جب آزاد محققین ماڈل کو خود پرکھ سکیں گے۔
پاکستانی ڈویلپرز اور سافٹ ویئر ہاؤسز کے لیے اہمیت
پاکستان کے سافٹ ویئر ہاؤسز، فری لانسرز اور ڈویلپرز کے لیے اس لانچ کی عملی اہمیت قیمت اور رسائی میں ہے۔ بند فرنٹیئر ماڈلز کی اے پی آئی عام طور پر مہنگی ہوتی ہے، جبکہ کیمی K3.1 Pro کی اے پی آئی دس لاکھ ان پٹ ٹوکنز پر صرف 2 ڈالر میں دستیاب ہے۔ چھوٹے بجٹ پر کام کرنے والی ٹیموں اور اسٹارٹ اپس کے لیے یہ فرق منصوبے کے اخراجات میں نمایاں کمی لا سکتا ہے۔
4 نومبر کو ویٹس کے متوقع اجراء کے بعد پاکستانی کمپنیاں ماڈل کو اپنے سرورز پر چلا کر مزید تربیت دے سکیں گی، اور حساس ڈیٹا بیرون ملک بھیجنے کی ضرورت کم ہوگی۔ تاہم یہ سہولت صرف انھی ٹیموں کے کام آئے گی جن کے پاس اتنے بڑے ماڈل چلانے کی کمپیوٹنگ طاقت ہوگی۔




