سڈنی، 23 اکتوبر 2026 (ویب ڈیسک): ڈیزائن پلیٹ فارم کینوا نے اپنا پہلا اے آئی امیج جنریشن ماڈل "کینوا کرافٹ" متعارف کرا دیا ہے۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ ماڈل تصویر بنانے سے پہلے اس کا مکمل منصوبہ تیار کرتا ہے، جس سے ڈیزائن کی ترتیب درست رہتی ہے اور تصویر کے اندر لکھا ہوا متن صاف پڑھا جا سکتا ہے۔ یہ ماڈل 22 اکتوبر کو ڈریم لیب ٹیب کے ذریعے تمام صارفین کے لیے پیش کر دیا گیا، جبکہ ڈویلپرز اسے کینوا کے API کے ذریعے استعمال کر سکیں گے۔
پہلے نقشہ، پھر تصویر
عام امیج جنریشن ماڈلز صارف کے پرامپٹ کو براہ راست پکسلز میں بدل دیتے ہیں۔ کرافٹ کا طریقہ اس سے مختلف ہے۔ ٹیک کرنچ کے مطابق یہ ماڈل دو مرحلوں میں کام کرتا ہے۔ پہلے مرحلے میں یہ پرامپٹ کو سمجھ کر تصویر کا تفصیلی منصوبہ بناتا ہے۔ اس منصوبے میں عناصر کی باہمی جگہ، ان کا نسبتی حجم، بصری درجہ بندی اور تصویر میں آنے والے متن کی معلومات شامل ہوتی ہیں۔ دوسرے مرحلے میں اسی منصوبے سے 2K ریزولوشن تک کی تصویر تیار ہوتی ہے، اور صارف 30 سے زائد مختلف پہلو تناسب میں سے انتخاب کر سکتا ہے۔
کینوا کا کہنا ہے کہ منصوبہ بندی پہلے کرنے سے تصویر میں اشیا اپنی درست جگہ پر بنتی ہیں، متن پڑھنے کے قابل ہوتا ہے، اور صارف تصویر کے ایک حصے میں تبدیلی کر سکتا ہے جبکہ باقی تصویر متاثر نہیں ہوتی۔ اس طریقے کو "تصویر بنانے سے پہلے ڈیزائن کی منصوبہ بندی" کہا جا سکتا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جو کرافٹ کو عام امیج ماڈلز سے الگ کرتا ہے۔
تربیت تصاویر پر نہیں، ڈیزائنوں پر
کرافٹ کی سب سے انوکھی بات اس کی تربیت کا مواد ہے۔ عام امیج ماڈلز اربوں تصاویر پر تربیت پاتے ہیں، جبکہ کینوا نے اسے اپنی لائبریری کے انسانی ڈیزائنرز کے تیار کردہ لاکھوں ٹیمپلیٹس پر تربیت دی ہے۔ ان میں پوسٹرز، سوشل میڈیا پوسٹس، پریزنٹیشنز، انفوگرافکس، مینیوز اور متن سے بھرپور ڈیزائن شامل ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ کرافٹ نے ڈیزائن کی ساخت تصاویر سے نہیں، بلکہ اصل ڈیزائنوں سے سیکھی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اس کی بنائی ہوئی تصویر کو کینوا کے "میجک لیئرز" ٹول سے تہہ دار، قابل ترمیم ڈیزائن میں بدلا جا سکتا ہے۔ یعنی اے آئی سے بنی تصویر صرف ایک مکمل تصویر نہیں رہتی، بلکہ اس کے عناصر الگ الگ تہوں میں بٹ جاتے ہیں جنہیں ڈیزائنر بعد میں خود بھی بدل سکتا ہے۔ گزشتہ سال کینوا نے ایسا ہی ایک ماڈل متعارف کرایا تھا جو ڈیزائن اور تہوں کو سمجھتا ہے، اور کرافٹ اسی حکمت عملی کو آگے بڑھاتا ہے۔
اس ماڈل کی تیاری میں لیونارڈو کے محققین نے بھی حصہ لیا۔ یاد رہے کہ کینوا نے 2024 میں میڈیا جنریشن پلیٹ فارم لیونارڈو اے آئی خریدا تھا، اور اس کے ڈریم لیب کا آغاز بھی اسی سال لیونارڈو کے فینکس ماڈل پر ہوا تھا۔ اب اپنا ماڈل بنا کر کمپنی نے باہر کے ماڈلز پر انحصار کم کر دیا ہے۔
اصل مسئلہ: متن اور ترتیب
اے آئی سے تصویر بنانے والے ٹولز کی سب سے بڑی کمزوری متن رہی ہے۔ خوبصورت منظر تو بن جاتا ہے، مگر پوسٹر کی سرخی میں املا غلط ہو جاتا ہے یا حروف بگڑ جاتے ہیں۔ کینوا کا دعویٰ ہے کہ کرافٹ اسی مسئلے کو حل کرتا ہے۔ رپورٹوں کے مطابق کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ ماڈل 55 زبانوں میں تصاویر کے اندر متن لکھ سکتا ہے اور ڈیزائن کی ترتیب کو برقرار رکھتا ہے۔
یہی وہ میدان ہے جہاں عام صارف کو فرق محسوس ہوگا۔ سوشل میڈیا پوسٹ، اشتہاری بینر یا تھمب نیل بناتے وقت سب سے زیادہ وقت متن کی درستگی پر لگتا ہے۔ اگر ماڈل پہلی ہی کوشش میں درست ترتیب اور صاف متن دے دے تو ڈیزائنر کا کام آدھا رہ جاتا ہے۔ کینوا کے جنریٹو اے آئی کے سربراہ جے جے فیاسن نے کہا ہے:
"کرافٹ ان کاموں کے لیے غیر معمولی نتائج دیتا ہے جہاں ڈیزائن کی ترتیب اور متن کا بالکل درست ہونا ضروری ہو، اور یہ لوگوں اور قدرتی مناظر کو بھی شاندار معیار میں پیش کرتا ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ لوگوں کے تخیل کو حقیقت بنانے کے بے شمار نئے راستے کھولے گا۔"
بڑی کمپنیوں سے ٹکر
کینوا اس ماڈل کو گوگل، اوپن اے آئی، بائٹ ڈانس اور میٹا کے امیج ماڈلز کے مقابل کھڑا کر رہا ہے۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ کرافٹ کھلے بینچ مارک DesignArena پر چوتھے نمبر پر رہا ہے، جس سے کینوا اوپن اے آئی کے بعد امیج جنریشن میں دنیا کی دوسری جدید ترین اے آئی لیب بن گئی ہے۔ تاہم یہ دعویٰ خود کمپنی کی جانب سے ہے، اس کی آزاد تصدیق ابھی سامنے نہیں آئی۔
کاروباری پہلو بھی اہم ہے۔ اب تک کینوا اپنے پلیٹ فارم میں دوسری کمپنیوں کے ماڈل استعمال کرتا تھا، جن کی فیس کمپنی کو ادا کرنا پڑتی تھی۔ اپنا ماڈل بنانے سے یہ لاگت کم ہوگی اور معیار و رفتار پر کنٹرول بھی کمپنی کے ہاتھ میں آئے گا۔ ٹیک کرنچ کے مطابق کینوا دو سستے اور تیز ورژن، Craftfast اور Craft-ultrafast، بھی جلد متعارف کرائے گا۔ طویل مدت میں کمپنی اس ماڈل کو MCP کے ذریعے چیٹ جی پی ٹی اور جیمنی جیسے چیٹ بوٹس میں بھی لانا چاہتی ہے۔
پس منظر کے طور پر، کینوا کے دنیا بھر میں 25 کروڑ سے زائد صارفین ہیں۔ رپورٹوں کے مطابق کمپنی گزشتہ سال 4 ارب ڈالر آمدنی کی راہ پر تھی، تاہم 2026 کی نمو کی پیش گوئی میں کٹوتی کے بعد بیرونی تجزیہ کاروں کے مطابق اس کی مالیت 42 ارب ڈالر سے گھٹ کر 35 ارب ڈالر رہ گئی ہے۔ اپنا اے آئی ماڈل اسی دباؤ کا جواب بھی ہے۔
پاکستان میں اس کا مطلب
پاکستان میں بھی کینوا ڈیزائنرز، فری لانسرز، سوشل میڈیا مینیجرز اور چھوٹے کاروباری مالکان میں بے حد مقبول ہے۔ روزانہ بے شمار پوسٹرز، اشتہارات اور تھمب نیلز اسی پلیٹ فارم پر بنتے ہیں۔ ایسے صارفین کے لیے سب سے بڑی آسانی یہ ہوگی کہ انہیں متن کی غلطیوں کو ٹھیک کرنے میں گھنٹے نہیں لگانے پڑیں گے۔ ایک چھوٹا کاروباری مالک اگر اپنی دکان کے افتتاح کا پوسٹر بنانا چاہے تو ماڈل سے براہ راست درست ترتیب اور صاف متن والی تصویر مل سکتی ہے، جسے بعد میں میجک لیئرز سے مزید بدلا بھی جا سکتا ہے۔
دوسری جانب یہ پیش رفت ایک بڑے رجحان کی علامت بھی ہے۔ اب ہر بڑی پلیٹ فارم کمپنی اپنا اے آئی ماڈل بنانے کی دوڑ میں ہے تاکہ دوسروں پر انحصار ختم ہو۔ کینوا کا یہ قدم اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ آنے والے ہفتوں میں سب کی نظریں Craftfast کی رفتار اور چیٹ بوٹس میں انضمام پر ہوں گی، جو طے کریں گے کہ یہ ماڈل صرف ایک اعلان تھا یا واقعی ڈیزائن کی دنیا بدلنے والا ہے۔




