بیجنگ، 17 اکتوبر 2026 (نیوز ڈیسک): چین نے مصنوعی ذہانت کی 23 اہم ٹیکنالوجیز کی برآمد پر کنٹرول عائد کرنے کا مسودہ پیش کر دیا ہے۔ اس تجویز میں اے آئی ماڈلوں کے ویٹس اور سورس کوڈ کو پہلی بار برآمدی پابندیوں کے دائرے میں لایا گیا ہے۔ چین کی وزارت تجارت اور وزارت سائنس و ٹیکنالوجی نے 16 اکتوبر کو اس ڈرافٹ کو عوامی مشاورت کے لیے جاری کیا۔ بلومبرگ نے سب سے پہلے اس کی رپورٹ دی۔
یہ تجویز صرف اے آئی تک محدود نہیں۔ مجموعی طور پر 40 ٹیکنالوجیز پر نظرثانی کی گئی ہے۔ ان میں بایوٹیکنالوجی کی پانچ اور شمسی توانائی کی 12 ٹیکنالوجیز بھی شامل ہیں۔ مگر اے آئی کا حصہ سب سے بڑا ہے۔ اس میں بڑے زبانی ماڈلز، اے آئی ایجنٹس، چپ کے ڈیزائن، کمپیوٹنگ کلسٹر اور ڈیٹا پروسیسنگ کے نظام شامل ہیں۔
تجویز کے دائرے میں کیا کیا ہے
ڈرافٹ کے مطابق بڑے اے آئی ماڈلوں پر دو صورتوں میں برآمدی کنٹرول لگے گا۔ پہلی صورت وہ ماڈل ہیں جن کی تربیت چین کے "اہم ڈیٹا" پر ہوئی ہو۔ اہم ڈیٹا کی تعریف چین کے ڈیٹا سیکیورٹی قانون میں دی گئی ہے۔ اس شرط سے بچنے کی دو صورتیں ہیں۔ ڈیٹا قانونی طور پر عوامی ہو، یا تربیت سے پہلے اسے اتنا صاف کیا گیا ہو کہ تربیتی مجموعے کا ایک فیصد کے دسویں حصے سے بھی کم رہ جائے۔ ساتھ ہی یہ ڈیٹا ماڈل کے جوابات میں کبھی ظاہر نہ ہو اور متعلقہ شعبے کی تحقیق و ترقی کو اس سے نمایاں فائدہ نہ ملے۔
دوسری صورت ماڈلوں کی بنیادی ٹیکنالوجی ہے۔ ویٹس، چیک پوائنٹس، سورس کوڈ، ماڈل کی ساخت اور تربیت یا انفرنس کے طریقے کنٹرول ہوں گے۔ یہ پابندی اس صورت میں لگے گی جب تین میں سے کوئی ایک حد پوری ہو۔ ماڈل کی تربیت میں دس کی طاقت چھبیس فلاپس کی کمپیوٹنگ طاقت لگی ہو۔ یا ماڈل کے کم از کم دو کھرب پیرامیٹرز ہوں۔ یا وہ معروف ملکی اور بین الاقوامی جائزوں میں دنیا کے دس بہترین ماڈلوں میں شامل ہو۔ یہ درجہ بندی عوامی بنچ مارک اور صنعت کے پلیٹ فارمز سے طے کی جائے گی۔
وہ اے آئی ٹولز جو خودکار طور پر نقصان دہ کوڈ لکھ سکتے ہیں، مکمل پابندی کی زد میں آئیں گے۔ یہ وہ ٹولز ہیں جو اہم تنصیبات، فوج یا سرکاری اداروں پر حملوں کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں۔ سافٹ ویئر کی کمزوریاں تلاش کرنے والے ٹولز پر مکمل پابندی نہیں لگے گی مگر نئی حدود عائد ہوں گی۔
اوپن سورس اور عام صارفین مستثنیٰ رہیں گے
تجویز میں رعایتوں کا ایک پورا باب بھی ہے۔ اے پی آئی، ویب سائٹوں، ایپس اور آن لائن خدمات کے ذریعے ماڈلوں کا استعمال نئے کنٹرول سے باہر رہے گا۔ یعنی اگر کوئی بیرون ملک ڈویلپر چینی ماڈل کو اے پی آئی کے ذریعے استعمال کر رہا ہے تو اسے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ البتہ وہی سافٹ ویئر بیرون ملک کے سروروں پر چلانے کے لیے برآمد کرنا ہو تو معیاری برآمدی لائسنس درکار ہوگا۔
اوپن سورس کے طور پر جاری کردہ اے آئی ٹیکنالوجی کے لیے تیز تر خودکار لائسنسنگ متعارف کرائی جائے گی۔ بیرون ملک ڈیٹا سینٹر چلانے والی چینی کمپنیوں اور بین الاقوامی تعاون کرنے والوں کو بھی سہولت ملے گی۔ وہ ٹیکنالوجی جو اوپن سورس اشاعت یا تعلیمی مقالوں کے ذریعے پہلے ہی عوامی دائرے میں آ چکی ہے، عام طور پر ان پابندیوں سے مستثنیٰ رہے گی۔
عوامی مشاورت 15 نومبر 2026 تک جاری رہے گی۔ متاثرہ ٹیکنالوجیز کے لیے ایک عارضی برآمد سے پہلے رجسٹریشن کی شرط پہلے سے نافذ ہے۔ وزارت تجارت گرمیوں سے ہی علی بابا، بائٹ ڈانس، ژیپو اور دیگر ملکی اے آئی اور چپ کمپنیوں سے ان کنٹرول کی شکل پر مشاورت کر رہی تھی۔
امریکہ کے کنٹرول کا آئینہ
یہ اقدام اچانک نہیں ہوا۔ امریکی حکومت پہلے ہی ماڈل ویٹس پر برآمدی کنٹرول لگا چکی ہے۔ اوپن اے آئی کے حکمت عملی کے سربراہ ڈین بال نے اسے "امریکہ کے کنٹرول کا آئینہ" قرار دیا۔ ان کے بقول:
یہ اقدام یہ نہیں کہتا کہ چین اوپن ویٹ ماڈلوں کو بند کر رہا ہے، مگر اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چینی حکومت مستقبل کے اوپن ویٹ ماڈلوں کو جب چاہے روکنے کا اختیار قائم کر رہی ہے۔
اینکورا چائنہ ایڈوائزرز کے سینئر ڈائریکٹر رائن ایٹزکورن نے کہا کہ یہ معمول کی دیکھ بھال سے بڑھ کر ہے۔ ان کے مطابق اے آئی، شمسی توانائی اور بایوٹیکنالوجی کو نشانہ بنا کر بیجنگ ایک پیغام دے رہا ہے۔ وہ پیغام یہ ہے کہ مغرب سے بہتر تعلقات کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اپنی ترقی پر توقف لگا دے گا۔
پس منظر میں چین کے اوپن ویٹ ماڈلوں کی تیزی سے بڑھتی کامیابی ہے۔ مون شاٹ اے آئی کا کیمی کے تھری، ڈیپ سیک کے نئے ماڈل اور دیگر چینی نظام بہتر قیمتوں کے ساتھ امریکی صنعت کے رہنماؤں کے فرق کو تیزی سے کم کر رہے ہیں۔ چینی کمپنیاں اپنے ماڈلوں کے ویٹس کھلے بانٹنے کے طریقے کو ترجیح دیتی ہیں تاکہ ڈویلپر ان پر مزید کام بنا سکیں۔ ژیپو جیسی کمپنیاں اپنی خدمات امریکی کلاؤڈ کمپنیوں کے پلیٹ فارمز پر بھی دستیاب کرا رہی ہیں۔ اس پس منظر میں بیجنگ کو اپنی ٹیکنالوجی کے بیرون ملک بہاؤ پر کنٹرول کی ضرورت محسوس ہوئی ہے۔
حکومت کا موقف
وزارت تجارت کے ترجمان نے کہا کہ "زیادہ تر اے آئی ٹیکنالوجیز آزادانہ طور پر برآمد کی جا سکیں گی"۔ ترجمان کے مطابق وہ ٹیکنالوجیز جن سے خودکار نقصان دہ کوڈ لکھا جا سکتا ہے، خطرناک ہیں۔ اگر یہ بدنیتی کرنے والوں کے ہاتھ لگ جائیں تو قومی سلامتی اور انسانی سلامتی کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ ترجمان نے کہا:
چین کا مقصد حفاظتی انتظامات قائم کرنا، غلط استعمال روکنا اور یہ یقینی بنانا ہے کہ اے آئی انسانی کنٹرول میں رہے۔
ترجمان نے یہ بھی کہا کہ چین اوپن سورس اے آئی کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔ اوپن سورس اے آئی منصوبے اور بیرون ملک چپ کی تیاری کی سرگرمیاں سہولتی انتظامات کی اہل ہوں گی۔
یہ 2020 کے اقدام کی توسیع ہے
چین وقتاً فوقتاً برآمدی کنٹرول کی فہرست پر نظرثانی کرتا ہے۔ 2020 میں بیجنگ نے الگورتھمز کو اس فہرست میں شامل کیا تھا۔ یہ اس وقت ہوا جب پہلی ٹرمپ انتظامیہ نے ٹک ٹاک پر پابندی کی دھمکی دی تھی۔ انتظامیہ کا مطالبہ تھا کہ یہ ایپ اپنے امریکی اثاثے فروخت کرے۔ اب کی توسیع ہارڈویئر سے آگے بڑھ کر تربیت شدہ نظاموں کو بھی براہ راست فہرست میں لا رہی ہے۔
شائع شدہ تفصیلات کے مطابق پورے چالیس ٹیکنالوجیز کی فہرست میں چودہ ممنوعہ اور چھبیس محدود قرار دی گئی ہیں۔ مشاورت مکمل ہونے کے بعد حتمی فہرست جاری ہوگی۔
پاکستان کے لیے کیا اہمیت
پاکستان کے ڈویلپر، طلبہ اور اسٹارٹ اپ چینی اوپن ویٹ ماڈلوں کے بڑے صارف ہیں۔ کوئن، ڈیپ سیک اور GLM جیسے ماڈل مقامی تحقیق اور چھوٹے منصوبوں میں اس لیے مقبول ہیں کہ وہ کھلے اور سستے ہیں۔ اس تجویز کا فوری اثر ان صارفین پر نہیں پڑے گا کیونکہ اے پی آئی اور ویب کے ذریعے رسائی مستثنیٰ رہے گی۔
مگر جو ادارے ان ماڈلوں کو اپنے سروروں پر ڈاؤن لوڈ کر کے باریک بینی سے تربیت دیتے ہیں، انہیں مستقبل میں لائسنسنگ کے مراحل سے گزرنا پڑ سکتا ہے۔ اوپن سورس کے لیے تیز تر لائسنسنگ کی رعایت ایک مثبت اشارہ ہے، مگر حتمی فہرست نومبر کے بعد ہی واضح ہوگی۔ مقامی یونیورسٹیوں اور تحقیقی اداروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس مشاورت کے نتائج پر نظر رکھیں تاکہ ان کے منصوبے متاثر نہ ہوں۔
یہ اقدام عالمی اے آئی مقابلے کے نئے دور کا حصہ ہے۔ امریکہ اور چین دونوں اب اپنی ٹیکنالوجی کو قومی اثاثے کی طرح سنبھال رہے ہیں۔ آنے والے مہینے یہ طے کریں گے کہ اس کنٹرول کا عملی اثر اوپن سورس ماحول پر کتنا گہرا ہوتا ہے۔




