بیجنگ، 17 اکتوبر 2026 (ویب ڈیسک): چینی مصنوعی ذہانت کمپنی ڈیپ سیک نے اپنا نیا ماڈل V4.1-Flash-1017 لانچ کر دیا ہے۔ کمپنی نے آج تصدیق کی کہ نیا ماڈل ڈیپ سیک کی ویب سائٹ، موبائل ایپ اور ڈویلپر API پر دستیاب ہے۔ ڈیپ سیک کا کہنا ہے کہ یہ اس کے پچھلے فلیش ماڈل کے مقابلے میں استدلال، کوڈنگ، ایجنٹ ٹاسکوں اور ویژن ٹیسٹوں میں نمایاں بہتری لاتا ہے، جبکہ جوابات تیز اور مختصر ہوئے ہیں۔
کمپنی نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ V4.1-Flash-1017 پچھلے ماڈل پر "کارکردگی اور لاگت میں پیریٹو بہتری" ہے۔ اس سے کمپنی کی مراد یہ ہے کہ ماڈل بہتر تو ہوا ہے، مگر اسے چلانے کی رفتار یا قیمت پر کوئی اضافی بوجھ نہیں پڑا۔
سب سے دلچسپ دعویٰ قیمت سے متعلق ہے۔ ڈیپ سیک کے جاری کردہ چارٹ کے مطابق یہ ماڈل سوفٹ ویئر انجینئرنگ کے ٹیسٹ ڈیپ سوی میں 77 فیصد تک اسکور حاصل کرتا ہے، اور اس کی فی ٹاسک لاگت صرف 15 سے 25 سینٹ رہتی ہے۔ اسی ٹیسٹ میں اینتھروپک کا کلاڈ اوپس 5 لگ بھگ 73 فیصد اسکور دیتا ہے۔ مگر اس کے لیے اسے فی ٹاسک 10 ڈالر سے زیادہ خرچ کرنا پڑتا ہے۔ یعنی ایک ہی معیار کے کام کے لیے ڈیپ سیک کا ماڈل تقریباً چالیس گنا سستا ہے۔
ڈیپ سیک نے اپنی لانچ پوسٹ میں کہا کہ V4.1-Flash-1017 "کارکردگی اور لاگت میں پیریٹو بہتری" ہے، یعنی معیار بہتر ہوا ہے مگر رفتار اور قیمت وہی رہی ہے۔
یہ لانچ اس اعتبار سے اہم ہے کہ ڈیپ سیک ایک بار پھر AI صنعت کی قیمتوں کی جنگ کو نئی سمت دے رہا ہے۔ جنوری 2025 میں جب ڈیپ سیک V3 آیا تھا تو اس نے امریکہ کی بڑی لیبز کی قیمتوں کو چیلنج کیا تھا۔ اب یہ کمپنی وہی حکمت عملی ایجنٹ ٹاسکوں کے میدان میں دہرا رہی ہے۔
بینچ مارکس میں کون آگے، کون پیچھے
ڈیپ سیک نے ایک بینچ مارک چارٹ شائع کیا ہے۔ اس میں V4.1-Flash-1017 کا موازنہ کلاڈ اوپس 5، اوپن اے آئی کے GPT-5.6-Sol، مون شاٹ کے کیمی K3 اور ژیپو کے GLM 5.3 سے کیا گیا ہے۔ یہ نتائج ملے جلے ہیں، مگر ایجنٹ ٹاسکوں کے ٹیسٹوں میں ڈیپ سیک کا نیا ماڈل واضح برتری رکھتا ہے۔
ایجنٹس لاسٹ ایگزام نامی ٹیسٹ میں V4.1-Flash-1017 نے 35.4 اسکور کیا، جبکہ کلاڈ اوپس 5 کا اسکور 28.6 رہا۔ آٹومیشن بینچ میں ڈیپ سیک کا ماڈل 60.5 کے ساتھ اوپس 5 کے 50.3 سے آگے رہا۔ ڈیپ سوی ورژن 1.1 میں نیا ماڈل 77 فیصد تک پہنچتا ہے، جو اسی معیار کے دیگر ماڈلز کے برابر یا اس سے بہتر ہے۔
تاہم علم اور استدلال کے سخت ٹیسٹوں میں کلاڈ اوپس 5 اب بھی آگے ہے۔ ہیومنٹیز لاسٹ ایگزام میں اوپس 5 کا اسکور 56.3 ہے، جبکہ ڈیپ سیک کا ماڈل 42.6 پر ہے۔ کوڈ کے بڑے ٹیسٹوں میں بھی اوپس 5 برتری رکھتا ہے۔
باقی حریفوں کے خلاف ڈیپ سیک کا نیا ماڈل نمایاں کامیابی دکھاتا ہے۔ کیمی K3، GLM 5.3 اور GPT-5.6-Sol کو یہ لگ بھگ ہر بینچ مارک میں پیچھے چھوڑتا ہے۔ اپنے پچھلے ماڈل V4.1-Flash سے بھی اس کی کارکردگی ہر شعبے میں بہتر ہے۔
ایک ضروری احتیاط یہ ہے کہ یہ تمام نمبر ڈیپ سیک کے اپنے جاری کردہ چارٹ سے لیے گئے ہیں۔ کمپنی نے خود ٹیسٹ چلائے اور خود نتائج شائع کیے ہیں، اس لیے آزاد ماہرین کی تصدیق کا انتظار کرنا ہوگا۔
قیمت وہ چیز ہے جو کھیل بدل سکتی ہے
اس لانچ کی اصل کہانی اسکور نہیں، قیمت ہے۔ ڈیپ سیک کے API کی قیمت 10 لاکھ ان پٹ ٹوکن پر 15 سینٹ اور اتنے ہی آؤٹ پٹ ٹوکن پر 60 سینٹ ہے۔ کیش میں پہلے سے موجود ان پٹ کی قیمت صرف تین ہزارویں ڈالر فی 10 لاکھ ٹوکن ہے۔ ماڈل 10 لاکھ ٹوکن تک کا طویل سیاق و سباق سنبھال سکتا ہے۔
ڈویلپرز کے لیے اصل پیمانہ فی ٹاسک لاگت ہے۔ 25 سینٹ میں مکمل ہونے والا ٹاسک اس وقت 10 ڈالر والے حریف کو مشکل میں ڈال دیتا ہے، چاہے اسکور میں معمولی فرق ہی کیوں نہ ہو۔
اے آئی ایجنٹ بار بار وہی سیاق و سباق پڑھتے ہیں، اس لیے کیش کی قیمت ان کے لیے سب سے اہم ہوتی ہے۔ ڈیپ سیک کا دعویٰ ہے کہ اس کے نئے ڈھانچے میں کیش میموری پچھلی نسل کے مقابلے میں ایک چوتھائی رہ گئی ہے۔ اس سے لمبے چلنے والے ایجنٹ سستے پڑتے ہیں۔
نئے ڈھانچے کی جھلک
رپورٹس کے مطابق V4.1-Flash-1017 ڈیپ سیک کے نئے کازل انکوڈر ڈیکوڈر نامی ڈھانچے پر بنا ہے۔ یہ ایک اسپارس مکسچر آف ایکسپرٹس ماڈل ہے جس میں کل 552 ارب پیرامیٹرز ہیں۔ مگر ہر ٹوکن پر صرف 8 ارب پیرامیٹرز ان پٹ اور 16 ارب آؤٹ پٹ کے لیے متحرک ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بھاری ماڈل کے باوجود اسے چلانا سستا ہے۔
ڈیپ سیک کا کہنا ہے کہ تصویر سمجھنے کی صلاحیت اس ڈھانچے میں شروع سے شامل ہے۔ یہ بعد میں لگائی گئی خصوصیت نہیں ہے۔ کمپنی نے ڈویلپرز کو ڈیپ سیک ہارنس کا نیا ورژن استعمال کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ یہ ماڈل ٹینسنٹ کے CodeBuddy اور WorkBuddy کے لیے بھی موزوں بنایا گیا ہے۔
ویٹ MIT لائسنس کے تحت کھلے ہیں، یعنی ڈویلپرز اسے اپنی مشینوں پر بھی چلا سکتے ہیں۔
پس منظر: ڈیپ سیک کی قیمتوں کی حکمت عملی
ڈیپ سیک نے AI کی دنیا میں اپنی پہچان قیمتوں سے بنائی ہے۔ جنوری 2025 میں V3 نے امریکی لیبز کی مہنگی قیمتوں کو چیلنج کیا اور پوری صنعت کو ہلا دیا۔ پھر R1 نے استدلال والے ماڈلز کے میدان میں یہی کام کیا۔ اب V4 خاندان کے فلیش ورژن اس حکمت عملی کو ایجنٹ ٹاسکوں تک بڑھا رہے ہیں۔
یہ رجحان صرف ڈیپ سیک تک محدود نہیں۔ چینی لیبز کیمی، ژیپو اور کوئن ایجنٹ اور کوڈنگ کے ٹیسٹوں میں امریکی فرنٹیئر لیبز سے فاصلہ کم کر رہی ہیں۔ مشکل استدلال کے ٹیسٹوں میں اینتھروپک، اوپن اے آئی اور گوگل اب بھی آگے ہیں۔ مگر قیمت کا فرق اس فاصلے کو دھندلا رہا ہے۔ ڈویلپر کے لیے سوال یہ نہیں کہ کون سا ماڈل سب سے ذہین ہے۔ سوال یہ ہے کہ کون سا ماڈل اس کے بجٹ میں اصل کام کرتا ہے۔
مقابلہ اب صاف نظر آ رہا ہے۔ اوپن ویٹ ماڈلز کی دوڑ میں ڈیپ سیک، کوئن، GLM اور کیمی ایک طرف ہیں، اور میٹا جیسی امریکی کمپنیاں دوسری طرف۔ اس دوڑ کا فائدہ ڈویلپرز کو مل رہا ہے۔
پاکستان کے لیے کیا معنی
پاکستان کے ڈویلپرز اور اسٹارٹ اپس کے لیے یہ لانچ براہ راست فائدے کی خبر ہے۔ ایجنٹ کوڈنگ ٹولز چلانے کی لاگت اب چند سینٹ فی ٹاسک رہ گئی ہے۔ ایک پاکستانی سافٹ ویئر ہاؤس یا فری لانسر اب اسی معیار کے ایجنٹ ٹاسک چلا سکتا ہے جو پہلے صرف بڑی امریکی کمپنیوں کے بس میں تھے۔
MIT لائسنس کے کھلے ویٹ کا مطلب یہ بھی ہے کہ پاکستانی یونیورسٹیاں اور تحقیقی ادارے اس ماڈل کو اپنی مشینوں پر چلا کر تجربات کر سکتے ہیں، اور اس کے لیے انہیں مہنگی API فیس بھی نہیں دینی پڑے گی۔
البتہ ایک احتیاط ضروری ہے۔ یہ تمام دعوے ڈیپ سیک کے اپنے چارٹ پر مبنی ہیں، اور آزاد جانچ ابھی باقی ہے۔ پاکستانی ڈویلپرز کو مشورہ یہی ہے کہ اہم منصوبوں میں استعمال سے پہلے خود چھوٹے پیمانے پر ٹیسٹ کریں۔
آگے کیا ہوگا
ڈیپ سیک نے دکھا دیا ہے کہ ایجنٹ ٹاسکوں کے میدان میں قیمت اب سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ اگر آزاد ٹیسٹ کمپنی کے دعووں کی تصدیق کرتے ہیں تو امریکی لیبز پر دباؤ بڑھے گا کہ وہ اپنی قیمتیں کم کریں۔ اگلے ہفتوں میں کلاڈ اوپس 5 اور GPT-6 سیریز کے حوالے سے نئی قیمتوں یا نئے ماڈلز کی خبریں آ سکتی ہیں۔
ایک بات واضح ہے۔ AI کی دوڑ اب صرف ذہانت کی نہیں، لاگت کی بھی ہے۔ اور اس دوڑ میں ڈیپ سیک نے ایک بار پھر پہلا قدم بڑھایا ہے۔




