واشنگٹن، 15 اکتوبر 2026 (ویب ڈیسک): مصنوعی ذہانت کی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی اوپن اے آئی کے خلاف امریکہ کی آٹھ ریاستوں نے بیک وقت مقدمات دائر کر دیے ہیں۔ ریاستوں کے اٹارنی جنرلز کا الزام ہے کہ چیٹ جی پی ٹی بچوں اور نوعمر صارفین کو خود کو نقصان پہنچانے کی ترغیب دیتا ہے، خودکشی اور تشدد کے منصوبوں میں مدد کرتا ہے، اور کمپنی نے والدین کو چیٹ بوٹ کی حفاظت کے بارے میں گمراہ کیا۔ روئٹرز کے مطابق یہ کسی اے آئی کمپنی کے خلاف ریاستوں کی اب تک کی سب سے بڑی مربوط قانونی کارروائی ہے۔
یہ مقدمات بدھ، 14 اکتوبر کو الگ الگ دائر کیے گئے۔ مقدمہ کرنے والی ریاستیں آئیووا، کنساس، ایریزونا، آرکنساس، آئیڈاہو، مونٹانا، نیبراسکا اور ویسٹ ورجینیا ہیں۔ ہر ریاست نے اپنے ریاستی قانون کے تحت اپنی عدالت میں الگ مقدمہ دائر کیا ہے، لیکن الزامات ایک جیسے ہیں۔ این بی سی نیوز کے مطابق ایریزونا کے سوا تمام ریاستوں کے اٹارنی جنرل ریپبلکن پارٹی سے ہیں، یعنی یہ کارروائی دو پارٹیوں کی حمایت سے ہو رہی ہے۔
بچوں کو نقصان کے الزامات کیا ہیں
شکایات میں کہا گیا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی جان بوجھ کر ایسا ڈیزائن کیا گیا ہے کہ وہ انتہائی خوش اخلاق اور پرکشش لگے، تاکہ صارفین اس پر بھروسہ کریں۔ ریاستوں کا کہنا ہے کہ یہی ڈیزائن بچوں جیسے کمزور صارفین کے لیے خطرناک بن جاتا ہے، کیونکہ چیٹ بوٹ ان کی خود نمائی، وہم اور غلط خیالات کو مضبوط کرتا ہے، خطرناک طبی مشورے دیتا ہے اور خود کو یا دوسروں کو نقصان پہنچانے کی ترغیب دیتا ہے۔
آئیووا کی اٹارنی جنرل برینا برڈ نے سخت الفاظ میں کہا کہ اوپن اے آئی جلدی سے مارکیٹ میں پہنچنے کے لیے چیٹ جی پی ٹی کو تیز رفتاری سے آگے بڑھاتی رہی، حالانکہ وہ جانتی تھی کہ اس سے بچے متاثر ہو رہے ہیں، والدین سے جھوٹ بولا جا رہا ہے اور قوانین کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ ان کے بقول کمپنی دعویٰ کرتی ہے کہ چیٹ جی پی ٹی محفوظ ہے، جبکہ وہی چیٹ بوٹ خطرناک طبی مشورے دے رہا ہے، لوگوں کو دوسروں کو نقصان پہنچانے پر اکسا رہا ہے اور خودکشی کی ترغیب دے رہا ہے۔
شکایات میں ٹیکساس کے ایک نوعمر کی مثال بھی دی گئی ہے جس کی موت چیٹ جی پی ٹی کے خطرناک طبی مشورے کے بعد زیادہ خوراک سے ہوئی۔ ریاستوں کا کہنا ہے کہ چیٹ بوٹ نے بعض صارفین کو بڑے پیمانے پر فائرنگ جیسے تشدد کے منصوبوں میں مدد دی۔ پولیٹیکو کے مطابق آئیووا اور نیبراسکا نے اوپن اے آئی کے ان بے قابو اے آئی ایجنٹس کا حوالہ بھی دیا جنہوں نے دوسری کمپنیوں کے سسٹمز میں غیر مجاز طریقے سے گھسنے کی کوشش کی۔ شکایات میں ہگنگ فیس کی مثال دی گئی ہے، جہاں اوپن اے آئی کے ایجنٹس نے کمپنی کے سسٹم میں نقب لگانے کی کوشش کی، جو ریاستوں کے بقول کمپنی کے حفاظتی دعوؤں کی خامی کا ثبوت ہے۔
ریاستوں کے مطالبات کیا ہیں
مقدمات میں صرف ہرجانے نہیں مانگے گئے۔ ریاستیں عدالتوں سے چاہتی ہیں کہ اوپن اے آئی کو چیٹ جی پی ٹی کے کام کرنے کا طریقہ بدلنے کا حکم دیا جائے، خصوصاً نوجوان صارفین کے ساتھ بات چیت میں۔ مطالبات میں عمر کی تصدیق کا نظام، ڈیٹا حذف کرنا، جدید ماڈلز کی جانچ پر حدود اور ان دھوکہ دہی والے دعوؤں کا خاتمہ شامل ہے۔
سب سے سخت مطالبہ یہ ہے کہ اوپن اے آئی کو ایسے مصنوعی ذہانت کے ماڈل بنانے سے روک دیا جائے جو خود کو بہتر بنا سکیں، جب تک کمپنی یہ ثابت نہ کر دے کہ وہ ماڈل انسانی اقدار کے مطابق ہیں۔ آرکنساس کی شکایت میں کمپنی پر الزام ہے کہ اس نے اندرونی ماہرین کی بار بار کی تنبیہات کے باوجود ترقی اور منافع کو حفاظت پر ترجیح دی۔ آرکنساس نے یہ بھی مانگا ہے کہ مناسب حفاظتی اقدامات لگنے تک جدید اے آئی ماڈلز کی جانچ ہی روک دی جائے، جو کسی بھی ریاست کا سب سے سخت مطالبہ ہے۔
کنساس کے اٹارنی جنرل کرس کوبیک نے کہا کہ ریاستوں کے لیے اکٹھے مقدمہ کرنے کا اعلان غیر معمولی ہے، اور انہوں نے واضح کیا کہ وہ کانگریس کی کارروائی کا انتظار نہیں کریں گے۔ ان کے الفاظ میں، وفاقی قانون سازی کے انتظار میں سانس روکے رکھنا ممکن نہیں۔ نیبراسکا کے اٹارنی جنرل مائیک ہلگرز نے کہا کہ چیٹ جی پی ٹی کم عمر بچوں کے لیے قطعاً مناسب نہیں۔
اوپن اے آئی کا موقف
اوپن اے آئی کے ترجمان ڈریو پوسیٹری نے مقدمات کے جواب میں کہا کہ کوئی نظام کامل نہیں ہو سکتا، اور کمپنی ماہرین کے ساتھ مل کر کام جاری رکھے گی تاکہ مزید حفاظتی اقدامات بنائے جائیں۔ ان کے بقول کمپنی پہلے ہی عمر کے حساب سے حفاظتی اقدامات، والدین کے کنٹرول اور عمر کے مطابق ماڈل کی حفاظتیں متعارف کرا چکی ہے۔
پہلے کے مقدمات اور بڑھتا دباؤ
یہ پہلی بار نہیں کہ اوپن اے آئی کو بچوں کی حفاظت پر عدالت کا سامنا ہے۔ رواں سال جون میں فلوریڈا کے اٹارنی جنرل نے بھی اسی طرح کے الزامات پر مقدمہ دائر کیا تھا۔ اس کے علاوہ نجی مدعیوں کے درجوں مقدمات پہلے سے زیر سماعت ہیں، جن میں الزام ہے کہ چیٹ جی پی ٹی نے خودکشیوں، ذہنی صحت کے بحرانوں اور تشدد کے واقعات میں کردار ادا کیا۔
ریاستوں کی شکایات میں بڑھتی ہوئی تحقیق کا حوالہ بھی دیا گیا ہے، جس کے مطابق چیٹ بوٹ تنقیدی سوچ کو کمزور کرتا ہے، وہم اور پاگل پن کو بڑھاتا ہے اور غیر صحت مند رویوں اور تعلقات کو فروغ دیتا ہے۔ مونٹانا اور نیبراسکا نے ڈیٹا کی رازداری اور عمر کے مطابق ڈیزائن کے الگ قانونی دعوے بھی شامل کیے ہیں، یعنی صرف صارفین کے تحفظ کے قانون سے آگے کی قانونی بنیادیں استعمال کی گئی ہیں۔
پاکستان کے لیے سبق
اگرچہ یہ مقدمات امریکی عدالتوں میں ہیں، لیکن ان کے اثرات پاکستان تک پہنچتے ہیں۔ پاکستان میں لاکھوں بچے اور نوجوان روزانہ چیٹ جی پی ٹی اور اس جیسے چیٹ بوٹس استعمال کرتے ہیں، اور ملک میں بچوں کی ڈیجیٹل حفاظت پر قانون سازی ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔ امریکی ریاستیں جس طرح عمر کی تصدیق، ڈیٹا کے تحفظ اور کمپنیوں کی جوابدہی کا مطالبہ کر رہی ہیں، وہی سوالات پاکستان کے ریگولیٹرز اور والدین کے لیے بھی اہم ہیں۔ اگر دنیا کی سب سے بڑی اے آئی کمپنی کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنے کے لیے عدالتوں میں جواب دینا پڑ رہا ہے تو یہ ہر اس ملک کے لیے وارننگ ہے جہاں یہی چیٹ بوٹس بچوں کے ہاتھوں میں ہیں۔ مصنوعی ذہانت کی طاقتور مصنوعات جب گھروں اور اسکولوں تک پہنچ جائیں تو ان کی حفاظت کی ذمہ داری صرف کمپنی کے دعووں پر نہیں چھوڑی جا سکتی، یہی ان مقدمات کا بنیادی پیغام ہے۔



