ماؤنٹین ویو، 14 اکتوبر 2026 (ویب ڈیسک): گوگل نے مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں اپنا سب سے بڑا داؤ کھیل دیا ہے۔ کمپنی نے اپنا نیا فلیگ شپ ماڈل جیمنائی 4 آرگن دنیا بھر کے ڈیویلپرز اور کاروباری اداروں کے لیے جاری کر دیا ہے، جسے گوگل ڈیپ مائنڈ کی تاریخ کا سب سے طاقتور ماڈل قرار دیا جا رہا ہے۔ روئٹرز کے مطابق یہ لانچ کئی ماہ کی تاخیر اور ڈیپ مائنڈ میں قیادت کی بڑی تبدیلیوں کے بعد سامنے آیا ہے، اور اس کا واضح ہدف اوپن اے آئی اور اینتھروپک سے کھویا ہوا میدان واپس لینا ہے۔
گوگل کا کہنا ہے کہ جیمنائی 4 آرگن پیچیدہ اور کئی مراحل پر مشتمل کاموں میں غیر معمولی مہارت رکھتا ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ ماڈل کوڈنگ، مالیات، قانون، سائبر سیکیورٹی اور سائنسی تحقیق جیسے شعبوں میں طویل اور گہرے کام خود انجام دے سکتا ہے۔ ابتدائی قیمت بھی جارحانہ رکھی گئی ہے: فی ملین ان پٹ ٹوکن 2 ڈالر اور فی ملین آؤٹ پٹ ٹوکن 10 ڈالر، تاہم یہ رعایتی قیمت صرف 30 نومبر تک رہے گی، اس کے بعد قیمت دگنی ہو کر 4 اور 20 ڈالر ہو جائے گی۔
تاخیروں کے بعد بڑا داؤ
یہ لانچ گوگل کے لیے ایک مشکل دور کے بعد سامنے آیا ہے۔ کمپنی نے ستمبر میں اعلان کیا تھا کہ وہ جیمنائی 3.5 پرو جاری کرنے کا ارادہ ترک کر رہی ہے، حالانکہ چیف ایگزیکٹو سندر پچائی نے کہا تھا کہ یہ ماڈل جون میں آئے گا۔ اس کے بعد ڈیپ مائنڈ میں بڑی تبدیلیاں ہوئیں، جن میں لیب کے شریک بانی اور چیف ایگزیکٹو ڈیمس حسابیس کا عہدہ چھوڑنا اور جیمنائی ٹیم کے کئی رہنماؤں کا کمپنی چھوڑنا شامل ہے۔
"گوگل نے کئی ماہ کی تاخیر اور ڈیپ مائنڈ میں قیادت کی تبدیلی کے بعد اپنا فلیگ شپ ماڈل جاری کیا ہے، جس کا ہدف اوپن اے آئی اور اینتھروپک سے مقابلہ ہے۔"
جیمنائی 4 آرگن کا اعلان دراصل 30 ستمبر کو گوگل ڈیپ مائنڈ کے کورے کاوکجوگلو کے بلاگ کے ذریعے ہوا تھا، مگر اس وقت اس کی رسائی صرف فیئر ونڈ پروگرام کے قابل اعتماد سائبر دفاعی شراکت داروں تک محدود تھی۔ 13 اکتوبر کو یہ ماڈل عام ڈیویلپرز، کاروباری اداروں اور صارفین کے لیے کھول دیا گیا۔
بینچ مارکس میں دعوے اور حقیقت
گوگل کے جاری کردہ بینچ مارک نتائج کے مطابق جیمنائی 4 آرگن نے 19 میں سے 13 بینچ مارکس میں جی پی ٹی 6 ایسٹرا اور کلاڈ اوپس 5.5 کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ ڈیپ ایس ڈبلیو ای میں اس کا اسکور 77.9 فیصد رہا، جبکہ سی ڈبلیو ای بینچ میں کمزوریاں دور کرنے کے امتحان میں 68 فیصد کے ساتھ پہلی پوزیشن حاصل کی۔ ویلز انڈیکس میں، جو مالیات، کوڈنگ، قانون اور ٹیکس جیسے شعبوں میں معاشی کارکردگی ناپتا ہے، یہ ماڈل پہلے نمبر پر رہا۔
"آرگن نے ڈیپ ایس ڈبلیو ای میں 77.9 فیصد اسکور کیا، جو حقیقی دنیا کے طویل سافٹ ویئر انجینئرنگ کاموں کا امتحان ہے۔"
تاہم گوگل کی اپنی شائع کردہ جدول میں کچھ کمزوریاں بھی نظر آتی ہیں۔ فرنٹیئر ایس ڈبلیو ای میں جی پی ٹی 6 ایسٹرا 65.5 فیصد کے ساتھ آگے ہے جبکہ آرگن 55 فیصد پر رہا، اور ٹرمینل بینچ میں کلاڈ اوپس 5.5 نے 66.4 فیصد کے ساتھ برتری حاصل کی۔ یہ تمام نتائج گوگل نے خود چلا کر شائع کیے ہیں، ان کی آزاد تصدیق ابھی باقی ہے۔
بلومبرگ کی ایک رپورٹ کے مطابق گوگل کے کچھ ملازمین، جنہیں اس ماڈل تک پہلے رسائی ملی، اس کی کارکردگی سے پوری طرح مطمئن نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حقیقی کوڈنگ کے کاموں میں، خاص طور پر فرنٹ اینڈ ڈیزائن میں، یہ ماڈل اتنا اچھا نہیں جتنا اس کے بینچ مارک اسکور بتاتے ہیں۔
دس لاکھ ٹوکن کی حد اور کم غلط بیانی
جیمنائی 4 آرگن کی ایک نمایاں خصوصیت اس کی یادداشت کی وسعت ہے۔ اس کا کانٹیکسٹ ونڈو دس لاکھ ٹوکن سے زیادہ ہے، اور سب سے بڑی چھلانگ آؤٹ پٹ کی حد میں لگی ہے جو 64 ہزار سے بڑھ کر دس لاکھ ٹوکن ہو گئی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ماڈل ایک ہی بار میں لاکھوں ٹوکن پر مشتمل طویل دستاویزات، کوڈ یا تجزیے تیار کر سکتا ہے۔
اس ماڈل کی ایک اور خاص بات اس کی کم غلط بیانی کی شرح ہے۔ ایک آزاد جائزے میں آرگن کی غلط بیانی کی شرح صرف 15 فیصد رہی، جو اس درجے کے کسی بھی ماڈل میں سب سے کم ہے۔ اس کے مقابلے میں جی پی ٹی 6 ایسٹرا کی شرح 51 فیصد ہے۔ یعنی جب آرگن کو جواب معلوم نہ ہو تو وہ اندازے لگانے کے بجائے لا علمی کا اعتراف کرنے کا امکان زیادہ رکھتا ہے۔
کس کو رسائی ملے گی
جیمنائی 4 آرگن ادائیگی کرنے والے صارفین کو گوگل کے اے آئی ایپ بنانے والے ٹولز کے ذریعے دستیاب ہوگا۔ گوگل اے آئی پرو اور الٹرا کے صارفین اسے جیمنائی ایپ اور سرچ کے اے آئی موڈ میں استعمال کر سکیں گے، جبکہ اینٹی گریویٹی کوڈنگ ٹول صرف الٹرا صارفین تک محدود رہے گا۔
گوگل کے مطابق اینٹی گریویٹی میں آرگن استعمال کرنے والی ٹیموں نے ایجنٹ کے ذریعے جمع کرائے گئے کوڈ میں 35 فیصد سے زیادہ اضافہ دیکھا، جبکہ کوڈ واپس لینے کے واقعات میں تقریباً ایک تہائی کمی آئی۔ ابتدائی آزمائشی صارفین میں ڈیلوئٹ، لیکسس نیکسس، ایمبیئنس ہیلتھ کیئر اور آئسومورفک لیبز شامل ہیں۔
سائبر دفاع اور سائنسدانوں کے لیے خصوصی پیشکش
گوگل نے اپنے فیئر ونڈ پروگرام کو مزید سینکڑوں شراکت داروں کے لیے کھولنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ پروگرام جانچے گئے سائبر دفاعی ماہرین کو آرگن کا ایسا نسخہ دیتا ہے جس میں سائبر حفاظتی رکاوٹیں نہیں ہوتیں، تاکہ وہ حملوں سے بچاؤ کی تیاری کر سکیں۔
اس کے علاوہ گوگل دس ہزار سائنسدانوں کو اینٹی گریویٹی کے سب سے اعلی درجے کی چھ ماہ مفت رسائی دے گا۔ یہ اقدام سائنسی تحقیق میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کو فروغ دینے کی کوشش کا حصہ ہے۔
پاکستان کے لیے اس کا مطلب
پاکستان میں سافٹ ویئر ہاؤسز اور فری لانسرز کی بڑی تعداد گوگل کے ٹولز پر انحصار کرتی ہے، اور جیمنائی 4 آرگن کی آمد ان کے لیے براہ راست اہمیت رکھتی ہے۔ دس لاکھ ٹوکن کے کانٹیکسٹ ونڈو کا مطلب ہے کہ ڈیویلپرز پورے کوڈ بیس یا طویل قانونی اور مالی دستاویزات ایک ہی بار میں ماڈل کو دے سکیں گے، جو آؤٹ سورسنگ کے کام میں رفتار بڑھا سکتا ہے۔
ابتدائی قیمت بھی پاکستانی اسٹارٹ اپس کے لیے اہم ہے۔ فی ملین ان پٹ ٹوکن 2 ڈالر کی رعایتی قیمت 30 نومبر تک دستیاب ہے، جس کے بعد یہ دگنی ہو جائے گی۔ ایسے میں مقامی کمپنیوں کے پاس ایک محدود موقع ہے کہ وہ کم قیمت پر اس ماڈل کو اپنے نظام میں آزما لیں۔ تاہم آزاد جائزوں میں سامنے آنے والی کمزوریاں، خاص طور پر فرنٹ اینڈ ڈیزائن میں، یہ بتاتی ہیں کہ پیداواری نظام میں لگانے سے پہلے اپنی ضروریات پر خود جانچ ضروری ہے۔
گوگل کی یہ لانچ مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں ایک نیا موڑ ہے۔ سوال اب یہ نہیں کہ کون سا ماڈل بینچ مارکس میں آگے ہے، بلکہ یہ ہے کہ حقیقی کام میں کون سا ماڈل بہتر ثابت ہوتا ہے، اور اس کا جواب آنے والے مہینوں میں صارفین کے تجربے سے ملے گا۔



