مینلو پارک، 21 اکتوبر 2026 (نیوز ڈیسک): میٹا نے اپنے نئے اے آئی ایجنٹ میوز کی چیٹ شیئرنگ کی سہولت معطل کر دی ہے۔ یہ فیصلہ اس انکشاف کے بعد کیا گیا کہ سیکیورٹی محققین نے انٹرنیٹ کے ڈومین نیم سسٹم کے پرانے ریکارڈز کی مدد سے تقریباً 6,800 شیئر کی گئی بات چیتوں کے لنکس ڈھونڈ لیے تھے۔ ان میں سے کئی میں صارفین کی ذاتی اور کاروباری خفیہ معلومات موجود تھیں۔ میٹا نے یہ قدم اس وقت اٹھایا جب ٹیکنالوجی اشاعت آرس ٹیکنیکا نے سب سے پہلے محققین کی تحقیق کی خبر شائع کی۔
تحقیق میں کیا سامنے آیا
سائبر سیکیورٹی فرم کلیروک کے محققین نے دریافت کیا کہ میوز کے شیئر لنکس کی ساخت میں ایک بنیادی خامی موجود تھی۔ میوز صارفین کو اپنی بات چیت دوسروں کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے ایک ویب لنک بنانے کی سہولت دیتا تھا۔ عام طور پر ایسے لنکس میں ایک لمبی اور اندازے سے مشکل حروف کی زنجیر ہوتی ہے، تاکہ کوئی انہیں باآسانی ڈھونڈ نہ سکے۔ لیکن میوز ان لنکس کو مختلف انداز میں بناتا تھا۔ ہر شیئرڈ بات چیت کا ویب پتہ اس بات چیت کے اپنے عنوان سے بنتا تھا۔ یہ پتہ ایک ہی ڈومین کے تحت رکھا جاتا تھا، اور اس میں عنوان کے ساتھ ایک بے ترتیب شناختی نمبر بھی شامل ہوتا تھا۔
اصل مسئلہ یہاں سے پیدا ہوا۔ انٹرنیٹ پر ہر ویب پتہ کھولنے کے لیے ڈومین نیم سسٹم سے پوچھا جاتا ہے۔ یہ نظام انسانی زبان میں لکھے گئے پتوں کو مشینوں کے پڑھنے والے پتوں میں بدلتا ہے۔ کچھ سروسز ان پوچھ گچھ کے ریکارڈ محفوظ کرتی رہتی ہیں۔ انہیں پیسو ڈی این ایس کہا جاتا ہے۔ یہ انٹرنیٹ کے ٹیلی فون ڈائریکٹری جیسے پرانے ریکارڈز ہیں۔
کلیروک کے مطابق میوز نے ہر شیئر لنک کا نام اس بات چیت کے اپنے عنوان پر رکھا، اور یہ نام عوامی ڈی این ایس میں درج ہو گیا۔ اس لیے ایک ہی تلاش سے ہزاروں لنکس فہرست کی صورت میں مل گئے۔ محققین نے اسے گوسٹ شیئرز کا نام دیا۔
"ایک پیسو ڈی این ایس تلاش ہزاروں لنکس واپس لے آتی ہے، نام کے ساتھ درج، جیسے کسی فہرست کے مشمولات ہوں۔"
صارفین کی کیا معلومات بے نقاب ہوئیں
محققین نے تقریباً 6,800 شیئرڈ بات چیتوں کے لنکس گنے اور ان میں سے چند سو کھول کر دیکھے۔ کئی بات چیتوں میں ایسی معلومات تھیں جو واضح طور پر عوام کے لیے نہیں تھیں۔ ان میں ایک فرنٹیئر اے آئی لیب کے ساتھ ملاقاتوں کے اوقات، ایک چھوٹے کاروبار کی قرض کی درخواست، اکاؤنٹ کی جزوی تفصیلات والا ایک بینک فراڈ الرٹ، ایک کمپنی کا چھٹیوں کا کیلنڈر اور دیگر اندرونی کاروباری دستاویزات شامل تھے۔
کلیروک کے محققین نے یہ معاملہ میٹا کے بگ باؤنٹی پروگرام میں 8 اکتوبر کو اٹھایا تھا۔ اس سے پہلے انہوں نے 7 اور 8 اکتوبر کو کئی لنکس کی جانچ کی تھی۔ محققین نے یہ بھی پایا کہ میوز کی روبوٹس فائل سرچ اور اے آئی کرالر کو شیئرڈ صفحات سے دور رہنے کو کہتی تھی۔ لیکن یہ انتباہ یہ فیصلہ نہیں کر سکتا تھا کہ کون سا صارف کسی صفحے کو کھول سکتا ہے۔ اس سے ڈی این ایس ریکارڈز کا محفوظ ہونا بھی نہیں رکا۔
میٹا کا ردعمل
آرس ٹیکنیکا کی رپورٹ کے بعد میٹا نے فوری ردعمل دیا۔ کمپنی کے ترجمان نے کہا کہ میٹا نے میوز کے لیے بگ باؤنٹی پروگرام اسی لیے شروع کیا ہے تاکہ محققین ممکنہ مسائل کی نشاندہی کر سکیں۔ ترجمان نے بتایا کہ میوز کا شیئرڈ مواد ایک ویب صفحے کی شکل میں بنتا تھا، جو ہر اس شخص کے لیے قابل رسائی تھا جس کے پاس لنک ہو۔
"تاہم ہم نے اس سہولت کو معطل کر دیا ہے، جب تک ہم اس رپورٹ کا جائزہ لیتے ہیں اور یہ سوچتے ہیں کہ ان لنکس کو دریافت ہونے سے روکنے کے لیے کیا تبدیلیاں کی جا سکتی ہیں۔"
کلیروک نے بعد میں تصدیق کی کہ میٹا کے اپ ڈیٹ کے بعد محققین وہ لنکس کھول نہیں سکے جو وہ پہلے دیکھ چکے تھے۔ تحقیق فرم نے لکھا کہ وہ خوش ہیں کہ یہ خامی اتنی جلدی بند ہو گئی۔ یہ معاملہ صرف ان صفحات کا تھا جنہیں صارفین نے خود شیئر کیا تھا۔ میوز کی تمام نجی بات چیتوں تک رسائی کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔
پہلے سے بھی تنقید کی زد میں
یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا ہے جب میٹا کا میوز ایجنٹ پہلے ہی سیکیورٹی سوالات کا سامنا کر رہا ہے۔ میٹا نے یہ ایجنٹ گزشتہ ماہ متعارف کرایا تھا۔ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ نے لانچ کے وقت کہا تھا کہ میوز کو رازداری اور تحفظ کے لیے بنیادی سطح سے بنایا گیا ہے۔ محققین کی اس تحقیق نے اس دعوے کو سوال کے نیچے رکھ دیا ہے۔
لانچ کے تقریباً تین ہفتے بعد میک سیکیورٹی ماہر پیٹرک وارڈل نے ایک زیرو ڈے خامی کی نشاندہی کی تھی۔ اس کے ذریعے اسی ڈیوائس پر موجود کوئی بھی ایپ صارف کے میوز اکاؤنٹ کا مکمل کنٹرول حاصل کر سکتی تھی۔ اس سے پہلے کچھ رپورٹس میں یہ بھی سامنے آیا تھا کہ میوز صارفین کے دوستوں اور خاندان کی تفصیلات پر مبنی فائلیں رکھتا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ میوز کی وسعت ہی اسے حساس بناتی ہے۔ یہ عام چیٹ بوٹ سے آگے بڑھ کر ویب پر تلاش کرتا ہے، فارم بھرتا ہے، ملاقاتیں طے کرتا ہے اور صارف کے اکاؤنٹس سے جڑتا ہے۔ اتنی گہری رسائی کے ساتھ اس سسٹم پر غیر معمولی اعتماد درکار ہوتا ہے۔
پاکستانی صارفین کے لیے سبق
یہ خبر پاکستان کے صارفین کے لیے بھی ایک واضح انتباہ ہے۔ چیٹ جی پی ٹی، کلاڈ، جیمنائی اور میوز جیسے پلیٹ فارمز پر چیٹ شیئرنگ کی سہولت آج کل عام ہے۔ بہت سے لوگ اپنی بات چیت کا لنک دوستوں یا ساتھیوں کو بھیجتے ہیں۔ لیکن ہر شیئر لنک ایک ویب صفحہ بناتا ہے، جو لنک رکھنے والے ہر شخص کے لیے کھلا ہوتا ہے۔
ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ شیئر لنک بنانے سے پہلے بات چیت کو دوبارہ پڑھیں۔ بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات، قرض کی دستاویزات، کاروباری منصوبے، شناختی کاغذات اور خاندانی معلومات جیسی حساس چیزیں کبھی شیئر لنک میں نہ ہوں۔ اگر ایسی معلومات پہلے سے کسی شیئرڈ لنک میں موجود ہیں تو اس لنک کو فوری طور پر حذف کریں۔ جہاں ممکن ہو، شیئر لنک کی جگہ سکرین شاٹ یا خلاصہ استعمال کریں۔ پاکستان میں ڈیجیٹل خواندگی اب بھی ابتدائی مرحلے میں ہے، اس لیے اس طرح کے واقعات سے سیکھنا اور دوسروں کو بتانا ضروری ہے۔
آگے کیا ہوگا
میٹا نے ابھی یہ نہیں بتایا کہ چیٹ شیئرنگ کی سہولت کب واپس آئے گی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ رپورٹ کا جائزہ لے رہی ہے اور لنکس کو دریافت ہونے سے روکنے کے طریقوں پر غور کر رہی ہے۔ ممکن ہے کہ کمپنی لنکس کی ساخت بدل کر انہیں مکمل طور پر بے ترتیب بنائے۔ ٹیکنالوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ پوری انڈسٹری کے لیے سبق ہے۔ اے آئی ایجنٹ تیزی سے عام ہو رہے ہیں اور حساس کام سنبھال رہے ہیں۔ ان سسٹمز میں رازداری کا ڈیزائن شروع سے مضبوط ہونا چاہیے۔ کلیروک کی تحقیق نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ آزاد سیکیورٹی تحقیق ڈیجیٹل دنیا کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔




