مینلو پارک، 16 اکتوبر 2026 (ویب ڈیسک): میٹا نے کل جمعرات کو اپنا نیا اوپن ویٹ مصنوعی ذہانت ماڈل 'میوز اسپارک اوپن' لانچ کر دیا۔ روئٹرز، ٹیک کرنچ اور میک رومرز کی رپورٹوں کے مطابق کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ اب تک کا سب سے طاقتور امریکی اوپن ویٹ ماڈل ہے۔ یہ ماڈل خاص طور پر کوڈنگ اور اے آئی ایجنٹس کے کام کے لیے بنایا گیا ہے۔
میوز اسپارک اوپن میں کل 816 ارب پیرامیٹرز ہیں۔ ان میں سے ایک وقت میں 42 ارب پیرامیٹرز متحرک رہتے ہیں۔ ماڈل کی کانٹیکسٹ ونڈو 10 لاکھ ٹوکنز تک ہے۔ یہ نیٹیو ملٹی موڈل ہے اور طویل مدتی سافٹ ویئر انجینئرنگ، پیچیدہ منطق اور کئی مراحل والے کاموں میں بہترین کارکردگی دکھاتا ہے۔
سب سے خاص بات یہ ہے کہ یہ ماڈل ایپل کے کمپیوٹرز پر چلنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ میٹا نے ایپل کے ساتھ مل کر ماڈل کو ایم ایل ایکس فریم ورک کے لیے آپٹیمائز کیا۔ نتیجے میں یہ طاقتور ماڈل اب ڈیسک ٹاپ پر مقامی طور پر چل سکتا ہے۔ ڈویلپرز کو بھاری کلاؤڈ سرورز کی ضرورت نہیں رہے گی۔
میک اسٹوڈیو پر چلنے کی کہانی
میوز اسپارک اوپن کو چلانے کے لیے خاص ہارڈ ویئر درکار ہے۔ میٹا کے مطابق یہ دو 512 جی بی والے ایم 5 الٹرا میک اسٹوڈیو کمپیوٹرز پر چلتا ہے۔ ایپل کی یونیفائیڈ میموری آرکیٹیکچر کی وجہ سے ایک مشین کا انٹیگریٹڈ جی پی یو 512 جی بی تک میموری استعمال کر سکتا ہے۔ دو مشینیں مل کر ایک ٹیرا بائٹ کی یونیفائیڈ میموری بن جاتی ہیں۔
میٹا کا کہنا ہے کہ چپ کی 1.2 ٹی بی فی سیکنڈ بینڈ وڈتھ اتنی تیز ہے کہ ہر ٹوکن کے لیے درکار حصہ فورا پڑھ لیتی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ دو میک اسٹوڈیو مل کر ایک سپر کمپیوٹر جتنی میموری فراہم کرتے ہیں۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ میک اسٹوڈیو کے ساتھ میوز اسپارک اوپن 'اپنے ڈیسک ٹاپ پر طاقتور ماڈل چلانے کا بہترین طریقہ' ہے۔
میٹا کے سربراہ مارک زکربرگ نے اس لانچ کا اعلان اپنی پوسٹ میں کیا۔ انہوں نے ایپل کے سربراہ جان ٹرنس کا شکریہ بھی ادا کیا۔
میوز اسپارک اوپن کے ویٹس آج جاری ہو رہے ہیں۔ جان ٹرنس اور ایپل کے ساتھ مل کر کیے گئے کام کی بدولت یہ نئے میک اسٹوڈیوز پر بہترین چلتا ہے۔
مارک زکربرگ، میٹا کے سربراہ
یہ تعاون ٹیکنالوجی کی دنیا میں بڑی خبر ہے۔ میٹا اور ایپل برسوں سے حریف رہے ہیں۔ اب مصنوعی ذہانت نے ان دونوں کو ایک میز پر بٹھا دیا ہے۔ ٹرنس نے جواب میں کہا کہ اس پیمانے کا ماڈل اتنے موثر انداز میں ڈیسک ٹاپ سے چلنا حیران کن ہے۔ ان کے بقول میک اسٹوڈیو آن ڈیوائس اے آئی کی حدود آگے بڑھا رہا ہے۔
ایک مشکل بھی ہے۔ 512 جی بی والا میک اسٹوڈیو ابھی مارکیٹ میں نہیں آیا۔ ایپل کا کہنا ہے کہ یہ کمپیوٹر اکتوبر کے آخر تک مارکیٹ میں آئے گا۔ 256 جی بی والے میک اسٹوڈیو کی قیمت دس ہزار ڈالر سے زیادہ ہے۔ اینگیجٹ کے مطابق چار 256 جی بی مشینوں پر ماڈل چلانے میں تقریبا 38 ہزار ڈالر خرچ آئے گا۔ یہ رقم عام ڈویلپر کی پہنچ سے باہر ہے۔ بڑی کمپنیوں کے لیے یہ سودا پھر بھی فائدہ مند ہو سکتا ہے جو ٹوکن فیس پر بھاری رقم خرچ کرتی ہیں۔
عملی آزمائش میں کیا کر دکھایا
میٹا نے ماڈل کی عملی آزمائش بھی شیئر کی۔ کمپنی نے میوز کوڈ کے ساتھ ماڈل کو مختلف ایجنٹ ورک فلو میں چلایا۔ ایک آزمائش میں ماڈل نے آئس کیوبز نامی اوپن سورس میسٹوڈون کلائنٹ میں حقیقی آئی او ایس تبدیلیاں کیں۔ ان میں بگ فکسز، نئے فیچرز اور مکمل بلڈ شامل تھا۔
دوسری آزمائش میں ماڈل نے ڈاوِنچی ریزولو نامی ویڈیو ایڈیٹنگ سافٹ ویئر کو چلایا۔ ماڈل نے فٹیج کو فریم بہ فریم دیکھا۔ بہترین لمحے چنے اور انہیں عمودی شکل میں کاٹا۔ یہ سب کچھ مقامی طور پر ڈیوائس پر ہوا۔ کسی کلاؤڈ سرور کی ضرورت نہیں پڑی۔
اوپن ویٹ ماڈلز کی دوڑ
اوپن ویٹ ماڈل وہ ہوتے ہیں جن کے تربیت یافتہ پیرامیٹرز سب کے لیے جاری کر دیے جاتے ہیں۔ ڈویلپرز انہیں ڈاؤن لوڈ کر کے اپنی ضرورت کے مطابق بدل سکتے ہیں۔ یہ بند ماڈلز سے سستے پڑتے ہیں۔ ڈیٹا پر کنٹرول بھی زیادہ دیتے ہیں۔ لیکن انہیں چلانے کے لیے تکنیکی مہارت اور طاقتور کمپیوٹنگ درکار ہوتی ہے۔
میوز اسپارک اوپن امریکی اور چینی لیبز کے درمیان جاری اوپن ویٹ دوڑ کا تازہ ترین باب ہے۔ چینی ماڈلز میں علی بابا کا کیو وین، ڈیپ سیک اور مون شاٹ کا کیمی شامل ہیں۔ یہ سب اوپن ویٹ ہیں اور کم قیمت پر دستیاب ہیں۔ میٹا کا کہنا ہے کہ اس کے ماڈل نے ایجنٹ کاموں اور بصری استدلال میں چینی ماڈلز جی ایل ایم 5.3 اور کیمی کے تھری کو پیچھے چھوڑا۔ یہ نتائج میٹا کے اپنے جائزوں کے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ میٹا نے تسلیم کیا کہ سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ اور کچھ دیگر کاموں میں چینی اوپن ماڈلز اب بھی بہتر ہیں۔ یہ اعتراف امریکی ماڈلز کی حدود بھی ظاہر کرتا ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل سے بات کرتے ہوئے میٹا کے اے آئی سربراہ الیگزینڈر وانگ نے کہا:
ہمارا ماننا ہے کہ دنیا کا بڑا حصہ اوپن ماڈلز پر چلے گا، اور یہ امریکی ہونے چاہئیں۔
الیگزینڈر وانگ، میٹا کے اے آئی سربراہ
یہ میٹا کا دوسرا اوپن ویٹ ماڈل ہے جو اس نے اپنے اے آئی شعبے کی بڑی تبدیلی کے بعد جاری کیا۔ اس سے پہلے اگست میں کمپنی نے 'میوز گلیمر' نامی چھوٹا اوپن ویٹ ماڈل جاری کیا تھا۔ تین روز پہلے میٹا نے اپنا فلیگ شپ ماڈل 'میوز ونڈر' بھی لانچ کیا تھا۔ اس کے اوپن ویٹ ورژن کو اب ڈویلپرز کے لیے جاری کیا گیا ہے۔
مفت ڈاؤن لوڈ اور محدود کمرشل لائسنس
میوز اسپارک اوپن مفت ڈاؤن لوڈ کے لیے دستیاب ہے۔ اس کا لائسنس محدود کمرشل استعمال کی اجازت دیتا ہے۔ ماڈل کے ویٹس ہگنگ فیس، ایمیزون سیج میکر اے آئی، گوگل کلاؤڈ ماڈل گارڈن اور مائیکروسافٹ فاؤنڈری ماڈلز سے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
اے پی آئی کے ذریعے بھی یہ ماڈل دستیاب ہے۔ بیس ٹین، فائر ورکس اے آئی، گروک، موڈل، نیبیئس، اوپن روٹر اور ٹوگیدر اے آئی اسے ہوسٹ کر رہے ہیں۔ ڈویلپرز اسے براہ راست اپنے منصوبوں میں ضم کر سکتے ہیں۔
پاکستان کے لیے کیا معنی رکھتا ہے
پاکستانی ڈویلپرز اور جامعات کے لیے اوپن ویٹ ماڈلز بڑا موقع ہیں۔ مقامی ڈیٹا بیرون ملک کلاؤڈ سرورز پر بھیجے بغیر طاقتور ماڈل استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ یہ ڈیٹا کی خود مختاری کے لیے اہم ہے۔ حساس سرکاری اور بینکنگ ڈیٹا پر کام کرنے والے ادارے اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
لاگت بھی ایک بڑا عنصر ہے۔ اے پی آئی فیس پر ماہانہ ہزاروں ڈالر خرچ کرنے والی سافٹ ویئر کمپنیاں مقامی ہارڈ ویئر پر ماڈل چلا کر طویل مدتی بچت کر سکتی ہیں۔ البتہ ابتدائی ہارڈ ویئر لاگت زیادہ ہے۔ پاکستان میں چھوٹے اسٹارٹ اپس کے لیے میک اسٹوڈیو جیسا سیٹ اپ فی الحال مہنگا پڑے گا۔
اوپن ویٹ ماڈل اردو زبان کی ٹیکنالوجی کے لیے بھی اہم ہیں۔ مقامی محققین ان ماڈلز کو اردو ڈیٹا پر مزید تربیت دے سکتے ہیں۔ اس سے اردو چیٹ بوٹس، ترجمانی اور مواد سازی کے نظام بہتر ہوں گے۔ چینی ماڈلز کی طرح امریکی اوپن ماڈلز کا بھی اردو کمیونٹی کے لیے کھلنا اچھی خبر ہے۔
میٹا اور ایپل کا یہ تعاون ایک نئے دور کی علامت ہے۔ حریف کمپنیاں اب مصنوعی ذہانت کے لیے مل کر کام کر رہی ہیں۔ اوپن ماڈلز کی دوڑ اب ڈیسک ٹاپ تک پہنچ چکی ہے۔ آنے والے مہینوں میں مزید بڑے ماڈلز کے مقامی ورژن دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔



