واشنگٹن، 18 اکتوبر 2026 (ویب ڈیسک): میٹا نے اپنی کاروباری شرائط میں وہ متنازع شق تبدیل کر دی ہے جسے قانونی ماہرین نیوز ویب سائٹس کا مواد اے آئی ماڈلز کی تربیت میں مفت استعمال کرنے کی کھلی اجازت قرار دے رہے تھے۔ کمپنی نے شرائط سے "train" کا لفظ نکال دیا ہے۔ ساتھ ہی میٹا نے واضح کیا ہے کہ ویب سائٹس کی کھوج صرف اشتہارات اور کاروباری مصنوعات کی بہتری کے لیے کی جائے گی۔ یہ تبدیلی دی ورج اور ٹیک کرنچ کی 17 اکتوبر کی رپورٹوں میں سامنے آئی۔
متنازع شق کی کہانی
یہ پیش رفت اس تنازع کا تازہ ترین رخ ہے جو اسی ہفتے میٹا کی نئی کاروباری شرائط پر شروع ہوا تھا۔ ان شرائط کا نفاذ 30 اکتوبر 2026 سے ہونا ہے۔ میٹا کا کاروباری اکاؤنٹ رکھنے والے ادارے فیس بک، انسٹاگرام یا واٹس ایپ کا استعمال جاری رکھ کر خودکار طور پر ان شرائط کو قبول کر لیں گے۔ نیمن لیب نے 15 اکتوبر کو رپورٹ کیا تھا کہ شرائط میں میٹا کو یہ حق دیا گیا تھا کہ وہ کسی بھی کاروباری اکاؤنٹ کے ڈومینز، ویب صفحات یا یو آر ایل سے کوئی بھی مواد استعمال کر سکتی ہے۔ مقاصد میں "فراہم کرنا، تیار کرنا، بہتر بنانا، تحقیق کرنا، تربیت دینا اور مصنوعات کی سالمیت برقرار رکھنا" شامل تھے۔ لفظ "AI" متن میں کہیں نہیں آیا تھا۔ لیکن قانونی ماہرین کا کہنا تھا کہ "تربیت" کا لفظ اسے اے آئی ماڈلز کی تربیت کی اجازت بنا دیتا ہے۔
نیمن لیب نے شرائط کا جائزہ تین قانونی ماہرین سے کروایا تھا۔ میڈیا اور دانشورانہ املاک کے معاملات کے وکیل میٹ ٹوپک نے کہا کہ یہ ایک غیر معمولی شق ہے۔ ان کے الفاظ میں، اسے سروس کی شرائط میں چھپانا حیران کن ہے، کیونکہ اس سے میٹا کو ایسے مواد تک رسائی مل جاتی جس کی قیمت لائسنسنگ مارکیٹ میں کئی ملین ڈالر ہو سکتی ہے۔ کارنیل یونیورسٹی کے ڈیجیٹل اور معلوماتی قانون کے پروفیسر جیمز گریمل مین نے کہا کہ خبر رساں اداروں کے لیے اس شق کا مطلب واضح تھا۔ میٹا کو ان کی ویب سائٹس کے کسی بھی مواد پر اے آئی کی تربیت کی اجازت مل جاتی۔ اور یہ مواد ان ناشروں کے مقابلے میں بھی استعمال ہو سکتا تھا۔ ناشروں کے صنعتی گروپ نیوز میڈیا الائنس نے ابتدائی شرائط کو "اشتعال انگیز" قرار دیا تھا، کرپٹو بریفنگ کی رپورٹ کے مطابق۔
"یہ سروس کی شرائط میں چھپائی گئی ایک غیر معمولی شق ہے، کیونکہ اس سے میٹا کو ایسے مواد تک رسائی مل جاتی جس کی قیمت لائسنسنگ مارکیٹ میں کئی ملین ڈالر ہو سکتی ہے۔" (میٹ ٹوپک، میڈیا اور دانشورانہ املاک کے وکیل، نیمن لیب سے گفتگو میں)
'ٹرین' کا لفظ نکالنے کا فیصلہ
تنقید کے بعد میٹا کے ترجمان نے پہلے اصرار کیا تھا کہ نئی شرائط سے ویب کھوج کے طریقے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ پھر 17 اکتوبر کو کمپنی نے شق میں ترمیم کر دی۔ نئے متن میں کہا گیا ہے کہ میٹا منسلک ڈومینز، ویب صفحات یا یو آر ایل سے مواد کی کھوج کر سکتا ہے اور وقفے وقفے سے اپ ڈیٹس لے سکتا ہے۔ مقصد صرف یہ ہے کہ اشتہارات اور کاروباری مصنوعات فراہم کی جائیں، تیار کی جائیں، بہتر بنائی جائیں، ان پر تحقیق ہو اور ان کی سالمیت اور سلامتی برقرار رکھی جائے۔ دونوں متنوں کا موازنہ بتاتا ہے کہ "train" کا لفظ نکال دیا گیا ہے۔ اور اب سارے مقاصد اشتہارات اور کاروباری مصنوعات سے جوڑ دیے گئے ہیں۔
میٹا کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا:
"ہم نے آپ کی بات سنی ہے اور وضاحت کرنا چاہتے ہیں: جن کھوج کی شرائط کو ہم نے یکجا کیا تھا، وہ صرف ہمارے اشتہارات اور کاروباری مصنوعات پر لاگو ہوتی تھیں۔ ہم نے شرائط میں یہ بات واضح کر دی ہے۔ اس سے یہ نہیں بدلتا کہ میٹا ویب کرالر کیسے استعمال کرتی ہے۔"
میٹا کے ترجمان ڈینیئل رابرٹس نے کہا کہ ان تبدیلیوں سے کمپنی کے ویب کھوج کے موجودہ طریقوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ ویب سائٹ کے مالکان robots.txt کے ذریعے اپنی رسائی کی ترجیحات بتاتے رہ سکتے ہیں۔ میٹا کے نائب صدر برائے مواصلات اینڈی اسٹون نے اس خیال کو مسترد کیا کہ یہ اپ ڈیٹ خبری ویب سائٹس کی کھوج کے لیے تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کا مقصد اشتہارات اور مواد کی سفارشات کے لیے مصنوعات کی درست معلومات حاصل کرنا تھا۔
جو کچھ اب بھی نہیں بدلا
تاہم یہ ترمیم مکمل پسپائی نہیں ہے۔ نظرثانی شدہ شرائط میں اب بھی میٹا کو ویب اسکریپرز، بوٹس، روبوٹس، اسپائیڈرز، کرالرز اور یوزر ایجنٹس کے ذریعے منسلک ڈومینز کی کھوج کی اجازت ہے۔ ٹیسٹ اکاؤنٹس بنانے کی اجازت بھی برقرار ہے۔ اور شرائط کے نفاذ کی تاریخ 30 اکتوبر ہی ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ پلیٹ فارم چھوڑے بغیر اس کھوج سے بچنے کا کوئی طریقہ اب بھی نہیں ہے۔ robots.txt واحد ذریعہ ہے جس سے ویب سائٹ کے مالکان کرالر کو ہدایات دے سکتے ہیں۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی اصل اجازت کو نرم کرتی ہے۔ لیکن ناشروں کی بنیادی تشویش اب بھی اپنی جگہ موجود ہے۔
یہ تنازع اس بڑے پس منظر میں بھی دیکھا جانا چاہیے جس میں میٹا پہلے ہی کاپی رائٹ کے مقدمات کا سامنا کر رہی ہے۔ پچھلے سال کمپنی نے کاپی رائٹ کی خلاف ورزی کے ایک نمایاں مقدمے میں کامیابی حاصل کی تھی۔ لیکن میٹا اور دیگر اے آئی کمپنیوں کے خلاف کئی مقدمات اب بھی چل رہے ہیں۔ اس لیے ناشر اب ہر نئی شق کو اسی عدالتی پس منظر میں پرکھتے ہیں۔
پاکستانی ناشروں کے لیے اس کا مطلب
یہ کہانی پاکستان کے اخباری اداروں کے لیے بھی براہ راست اہمیت رکھتی ہے۔ ملک کے بڑے اخبارات اور خبر رساں ادارے سب میٹا کے کاروباری اکاؤنٹ چلاتے ہیں۔ فیس بک اور انسٹاگرام پر ان کے کروڑوں قارئین ہیں۔ واٹس ایپ چینلز بھی خبروں کی تقسیم کا بڑا ذریعہ بن چکے ہیں۔ اگر ابتدائی متن برقرار رہتا تو ان اداروں کی اردو ویب سائٹس کا مواد بھی اس کھوج کی زد میں آ سکتا تھا۔ اردو خبروں کا یہ ذخیرہ اے آئی ماڈلز کی تربیت کے لیے قیمتی ہے۔ کیونکہ اردو میں معیاری تربیتی مواد انگریزی کے مقابلے میں بہت کم ہے۔
اب میٹا نے "train" کا لفظ تو نکال دیا ہے۔ لیکن کھوج کی اجازت اب بھی موجود ہے۔ اس لیے پاکستانی ناشروں کے لیے سب سے اہم قدم یہ ہے کہ وہ 30 اکتوبر سے پہلے اپنے کاروباری اکاؤنٹ سے منسلک ویب سائٹس کا جائزہ لیں۔ اور robots.txt کی فائل کو مضبوط بنائیں۔ یہ فائل ہی وہ واحد ذریعہ ہے جس سے وہ میٹا کے کرالر کو اپنی حدود بتا سکتے ہیں۔ میٹا کا کہنا ہے کہ وہ اس فائل کا احترام کرتی ہے۔ ناشروں کو اس دعوے کو پرکھتے رہنا چاہیے۔ کیونکہ شرائط کے الفاظ بدل گئے ہیں، اصل کھوج کی مشینری وہیں کی وہیں ہے۔




