سان فرانسسکو، 7 نومبر 2026 (ویب ڈیسک): مصنوعی ذہانت کی معروف کمپنی اینتھروپک (Anthropic) اپنے ماڈلز کو پہلے کے مقابلے میں تقریباً دو گنا تیزی سے بہتر کر رہی ہے، اور اس تیزی کی بڑی وجہ یہ ہے کہ خود اے آئی کو تحقیق و ترقی میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ نتیجہ آزاد تحقیقی ادارے میٹر (Model Evaluation and Threat Research، METR) کی گیارہ ہفتے پر محیط جانچ میں سامنے آیا ہے، جس کی رپورٹ پانچ نومبر کو شائع ہوئی۔
میٹر کے محققین نے 12 اگست سے 29 اکتوبر 2026 تک اینتھروپک کے اندرونی ڈیٹا تک رسائی حاصل کی۔ انھوں نے تربیتی عمل، ری انفورسمنٹ لرننگ (Reinforcement Learning)، کمپیوٹ کے استعمال اور اندرونی بینچ مارک (Benchmark) اسکورز کا جائزہ لیا، اور کمپنی کے تقریباً 15 ملازمین سے تفصیلی انٹرویو کیے۔ ادارے نے اس کام کی کوئی فیس نہیں لی۔
میٹر نے گیارہ ہفتوں میں کیا پایا
رپورٹ کا مرکزی پیمانہ اے ای سی آئی (AECI) ہے۔ یہ ایپوک کیپیبلٹیز انڈیکس (Epoch Capabilities Index) پر مبنی اینتھروپک کا اپنا پیمانہ ہے، جو کئی بینچ مارکس کے نتائج کو ایک ہی اسکور میں سمیٹ دیتا ہے۔ اس پیمانے پر اینتھروپک کے ماڈلز اکتوبر 2025 سے قبل ہر سال تقریباً 15 پوائنٹس بہتر ہو رہے تھے، جب کہ اس کے بعد بہتری کی یہ رفتار بڑھ کر سالانہ تقریباً 29 پوائنٹس تک پہنچ گئی۔ میٹر کے حساب سے یہ 1.9 گنا تیزی ہے، اور 95 فیصد اعتماد کے ساتھ یہ شرح 1.5 سے 2.8 گنا کے درمیان ہے۔
دوسرے لفظوں میں، اینتھروپک نے گزشتہ ایک برس میں اتنی پیش رفت کی ہے جتنی اس سے قبل دو برس میں ہوئی تھی۔ میٹر کے مطابق یہ فاصلہ تقریباً وہی ہے جو کلاڈ 2.1 (Claude 2.1) سے کلاڈ سونیٹ 4.5 (Claude Sonnet 4.5) تک طے ہوا تھا۔
میٹر کا کہنا ہے کہ اصل رفتار 1.3 گنا بھی ہو سکتی ہے اور 3 گنا بھی، مگر سب سے زیادہ امکان یہی ہے کہ اصل رفتار دو گنا کے قریب ہے۔ مختلف طریقوں سے جانچنے پر یہ شرح 1.1 سے 2.9 گنا کے درمیان رہی۔
رفتار کیوں بڑھی: اے آئی خود تحقیق میں
میٹر کا اندازہ ہے کہ موجودہ تیزی کا تقریباً 80 فیصد حصہ اینتھروپک کے اپنے اے آئی نظاموں کو تحقیق میں استعمال کرنے کا نتیجہ ہے۔ تاہم ادارے نے واضح کیا ہے کہ یہ اندازہ ہے، پیمائش نہیں، اور اس میں خاصی غیر یقینی صورتحال موجود ہے۔ اینتھروپک کے اپنے عملے میں بھی اس سوال پر اتفاق نہیں تھا۔
انٹرویوز اور سروے میں عملے نے بتایا کہ اے آئی کی مدد سے ان کے کام کی رفتار دو گنا کے قریب بڑھی ہے۔ اب تک یہ تیزی زیادہ تر اے آئی کی معاونت سے آئی ہے، مکمل خودکار کام سے نہیں، مگر رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مکمل خودکار حصہ آئندہ بڑھ سکتا ہے۔
کمپنی کے اندرونی غیر رسمی پولز میں ملازمین نے خود بتایا کہ تازہ ترین ماڈل سے ان کی رفتار 12 گنا تک بڑھ گئی ہے، جب کہ کلاڈ 3.7 سونیٹ (Claude 3.7 Sonnet) کے زمانے میں یہ تقریباً 1.2 گنا تھی۔ میٹر نے خود تسلیم کیا ہے کہ یہ اعداد کمزور شواہد ہیں، کیوں کہ یہ غیر رسمی رائے شماری پر مبنی ہیں۔
"ہمیں یقین ہے کہ اس رفتار میں اضافے کی وجہ تربیتی کمپیوٹ کی پیمانہ بندی میں تیزی نہیں تھی۔"
میٹر کی رپورٹ
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 2025 کے آخر میں رفتار بڑھنے میں غیر اے آئی عوامل کا بھی کردار رہا ہوگا، مگر وقت کے ساتھ اے آئی کا حصہ بڑھتا گیا ہے۔
رکاوٹیں کہاں ہیں، اور سرخ جھنڈا
میٹر کو اگلے 12 ماہ میں ایسی کوئی واضح رکاوٹ نظر نہیں آئی جو مزید پیش رفت روک سکے۔ نہ الگورتھم کی ترقی میں، نہ تربیتی کمپیوٹ میں، نہ تجربات کے کمپیوٹ میں اور نہ ڈیٹا میں۔ تاہم ادارے نے اعتراف کیا ہے کہ جانچ کے دوران رکاوٹوں کے بارے میں اس کی رائے کئی بار بدلی، اس لیے وہ اپنے اس جائزے پر پوری طرح مطمئن نہیں ہے۔
اسی لیے رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ مزید طاقت ور ماڈلز سے رفتار میں مزید تیزی آ سکتی ہے، اور یہ رفتار خود بخود مزید بڑھتی جا سکتی ہے۔
میٹر نے اینتھروپک کی اگست 2026 کی عوامی رسک رپورٹ کا الگ جائزہ بھی لیا ہے۔ اس جائزے کے مطابق، عوامی رپورٹ میں رفتار کے اضافے کو اصل سے کم دکھایا گیا ہے، اور یہ ممکن ہے کہ اینتھروپک کی ذمے دارانہ پیمانہ بندی کی پالیسی (Responsible Scaling Policy) میں طے شدہ دو گنا تیزی کی انتباہی حد پہلے ہی پار ہو چکی ہو۔ میٹر نے واضح کیا ہے کہ یہ رائے قابلِ بحث فیصلوں پر مبنی ہے۔
رپورٹ کے آغاز میں ایک اور اہم بات درج ہے۔ اینتھروپک کو رپورٹ سے کوئی بھی غیر عوامی معلومات حذف کرنے کا حق حاصل تھا، اور میٹر کے مطابق کمپنی نے ان شواہد کی اکثریت حذف کر دی جنھیں ادارہ اپنے نتائج کے لیے سب سے زیادہ اہم سمجھتا تھا۔ اینتھروپک کا کہنا ہے کہ یہ حذف شدہ مواد ایسی خفیہ معلومات تھیں جن سے دیگر اے آئی کمپنیوں کی ترقی تیز ہو سکتی تھی۔
"اینتھروپک نے ان نتائج کی بنیاد بننے والے اہم ترین شواہد کی اکثریت حذف کر دی۔"
میٹر کی رپورٹ
میٹر نے لکھا ہے کہ اس وجہ سے عوام کو ادارے کے فیصلے پر ضرورت سے زیادہ بھروسا کرنا پڑے گا۔ میٹر کو یہ بھی جانچنا تھا کہ اینتھروپک اپنا کمپیوٹ صلاحیت اور حفاظت کی تحقیق میں کیسے بانٹتا ہے، مگر کمپنی نے یہ حصہ جانچ کے دوران منسوخ کر دیا۔
صنعت اور پاکستان کے لیے کیا معنی
فاسٹ کمپنی (Fast Company) کے مطابق، یہ رپورٹ ایسے وقت میں آئی ہے جب اینتھروپک اسٹاک مارکیٹ میں آنے کی تیاری کر رہا ہے، اور اس کے چیف ایگزیکٹو ڈاریو امودی (Dario Amodei) خود اے آئی کی ترقی کی رفتار سست کرنے کی بات کر چکے ہیں۔ یہی تضاد اس رپورٹ کو صنعت کے لیے خاصا اہم بنا دیتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اینتھروپک کے اپنے کلاڈ ہائیکو 5.5 (Claude Haiku 5.5) کے سسٹم کارڈ (System Card) میں تیزی کا اندازہ 1.7 گنا لگایا گیا تھا۔ میٹر کا 1.9 گنا کا اندازہ اس سے زیادہ ہے، کیوں کہ اس میں نئے، تاحال جاری نہ کیے گئے ماڈلز کا ڈیٹا بھی شامل ہے۔
پاکستان کے لیے اس رپورٹ کا براہِ راست پیغام یہ ہے کہ اے آئی کے اوزار اب پہلے سے کہیں زیادہ تیزی سے بدل رہے ہیں۔ سافٹ ویئر ہاؤسز، فری لانسرز اور طلبہ جو کلاڈ جیسے ماڈلز پر کام کرتے ہیں، انھیں ہر چند ماہ بعد نئی صلاحیتوں اور نئے طریقوں سے ہم آہنگ ہونا پڑے گا۔ دوسری جانب، جب ماڈل خود تحقیق میں مدد دینے لگیں تو چھوٹی ٹیموں کے لیے بھی بڑے منصوبوں پر کام کرنا ممکن ہو جائے گا، بشرطیکہ ان اوزاروں کا درست استعمال ہو۔
تاہم یہ بھی واضح رہے کہ یہ رپورٹ بینچ مارک اسکورز پر مبنی ہے، اور بینچ مارک ہر قسم کے کام کی اصل تصویر نہیں دیتے۔ میٹر نے خود لکھا ہے کہ اس کے نتائج واضح طور پر متعین کاموں تک محدود ہیں، اور غیر واضح اور پیچیدہ حقیقی کام اس سے مختلف ہو سکتا ہے۔




