سانٹا کلارا، 16 اکتوبر 2026 (ویب ڈیسک): Nvidia نے اپنے اوپن نیمیوٹرون خاندان میں تین نئے ماڈلز کا اعلان کر دیا ہے۔ ان میں سب سے بڑا ماڈل سپر وی ایل ہے، جس کے کل 120 ارب پیرامیٹرز ہیں۔ Nvidia کا دعویٰ ہے کہ یہ ماڈل کمپنی کے سب سے بڑے ریزننگ ماڈل کے برابر کارکردگی دیتا ہے، جبکہ اس کے پیرامیٹرز کی تعداد اس کا پانچواں حصہ ہے۔ اس کے ساتھ دو چھوٹے ماڈلز بھی پیش کیے گئے ہیں جن میں سے ایک عام گھریلو کمپیوٹر پر چل سکتا ہے۔
نیمیوٹرون خاندان کا پس منظر
Nvidia کا نیمیوٹرون اوپن ماڈلز کا خاندان ہے جو کمپنی مفت میں ڈیولپرز کو فراہم کرتی ہے۔ اس خاندان میں پہلے سے لائٹننگ اور الٹرا ماڈلز موجود تھے۔ لائٹننگ تیز رفتار کاموں کے لیے بنایا گیا تھا اور الٹرا مشکل سوالات کے جواب کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
نئے ماڈلز اسی خاندان کی اگلی نسل ہیں۔ ان کا مقصد اے آئی ایجنٹس ہیں۔ ایسے ایجنٹس جو خود دستاویزات پڑھیں، تصاویر دیکھیں، اوزار استعمال کریں اور کئی مراحل والے کام خود مکمل کریں۔ Nvidia کے بلاگ کے مطابق ان ماڈلز کو ڈیٹا سینٹروں سے لے کر مقامی کمپیوٹروں تک ہر جگہ چلانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
Nvidia کے بلاگ کے مطابق سپر وی ایل کمپنی کے سب سے بڑے ریزننگ ماڈل کے برابر ہے، مگر اس کے پیرامیٹرز کی تعداد اس کا پانچواں حصہ ہے۔
سپر وی ایل کیا کر سکتا ہے
نیمیوٹرون 3.5 سپر وی ایل ایک مکسچر آف ایکسپرٹس ماڈل ہے۔ اس کے کل 120 ارب پیرامیٹرز ہیں لیکن ہر لفظ یا ٹوکن پر ان میں سے صرف 12 ارب فعال ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے یہ بڑے کام نسبتاً کم کمپیوٹنگ طاقت پر کر لیتا ہے۔
یہ ماڈل ایک ساتھ کئی کام کرتا ہے۔ یہ متن پڑھتا ہے، تصاویر اور دستاویزات دیکھتا ہے، دو منٹ تک کے ویڈیو کلپس سمجھتا ہے، سوچتا ہے، اوزار استعمال کرتا ہے اور کوڈ بھی لکھتا ہے۔ ڈیولپرز کے لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ اب انہیں متن کے لیے الگ ماڈل اور تصویر کے لیے الگ ماڈل نہیں چاہیے۔ ایک ہی ماڈل دونوں کام کر دیتا ہے۔
اس ماڈل کا کنٹیکسٹ دس لاکھ ٹوکنز تک ہے۔ عام زبان میں اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک بار میں پوری کتاب یا سینکڑوں صفحات کی دستاویزات پڑھ کر ان کا خلاصہ نکال سکتا ہے۔ تیز رفتاری کے لیے Nvidia نے چار نئی تکنیکیں استعمال کی ہیں جن میں ملٹی ٹوکن پیش گوئی اور NVFP4 کواںٹائزیشن شامل ہیں۔
Nvidia کا دعویٰ ہے کہ سنگل جی پی یو پر یہ ماڈل اپنے کلاس کے دیگر اوپن ماڈلز سے پانچ گنا زیادہ تیز رفتار دیتا ہے۔ یہ دعویٰ آرٹیفیشل اینالیسز انٹیلی جنس انڈیکس لیڈر بورڈ پر مبنی ہے۔ آزاد ماہرین کا کہنا ہے کہ کمپنیوں کے اپنے دعوے احتیاط سے دیکھنے چاہئیں۔ دی ڈیکوڈر نے اسی خبر میں لکھا کہ مجموعی درجہ بندی میں سپر وی ایل بند بڑے ماڈلز سے کافی پیچھے ہے۔ تاہم یہ نیمیوٹرون 3 الٹرا سے بہتر ہے۔
بنچ مارک ٹیسٹوں میں اس نے GPQA-Diamond میں 89.90 اسکور کیا۔ سافٹ ویئر انجینئرنگ کے SWE-bench ٹیسٹ میں 71.07 اور ویب ایجنٹ کے BrowseComp ٹیسٹ میں 77.5 اسکور حاصل کیا۔ تاہم بینکنگ کے طویل مدتی ٹیسٹ tau3-bench میں اس کا اسکور صرف 17.78 رہا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ طویل بینکنگ ورک فلو میں یہ اب بھی کمزور ہے۔
بولٹ: گھر کے کمپیوٹر پر چلنے والا ماڈل
اس لانچ کا سب سے دلچسپ حصہ نیمیوٹرون 3.5 بولٹ 74B-A9B ہے۔ اس کے کل 74 ارب پیرامیٹرز ہیں اور ہر ٹوکن پر صرف 9 ارب فعال ہوتے ہیں۔ Nvidia نے اسے مقامی ایجنٹ کاموں کے لیے بنایا ہے۔
اس کی خاص بات یہ ہے کہ اسے 2 بٹ کواںٹائزیشن کی مدد سے صرف 24 جی بی میموری میں فٹ کر دیا گیا ہے۔ Nvidia نے خود اسے ایک GeForce RTX 5090 والے عام کمپیوٹر اور DGX Spark پر چلا کر جانچا۔ یہ ماڈل آج ہی سے Hugging Face سے ڈاؤن لوڈ کیا جا سکتا ہے اور Ollama اور llama.cpp جیسے مقبول ٹولز کے ساتھ چلتا ہے۔
تیسرا ماڈل بولٹ E4B ہے جو صرف 4 جی بی میموری میں چلے گا۔ یہ آواز کے اسسٹنٹس اور چھوٹے ایمبیڈڈ ایجنٹس کے لیے ہے۔ یہ Jetson اور RTX ہارڈ ویئر پر چلے گا اور 23 اکتوبر کو دستیاب ہوگا۔
اوپن وزن کی اہمیت
ان ماڈلز کے وزن OpenMDW-1.1 لائسنس کے تحت جاری کیے گئے ہیں جس میں تجارتی استعمال کی اجازت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی کمپنی ان ماڈلز کو اپنے سرور پر ڈاؤن لوڈ کر کے اپنے ڈیٹا پر خود تربیت دے سکتی ہے۔
Nvidia نے ابتدائی نتائج بھی بتائے ہیں۔ اسکیل اے آئی نے اس ماڈل کو اسکائی ڈانس کارپوریشن کے لیے تیار کیا۔ اس سے لاگت 40 گنا کم اور تاخیر 5 گنا کم ہوئی۔ ریمپ کمپنی اسے رسیدوں کی تصاویر کو ڈیٹا میں بدلنے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ اسے 50 فیصد زیادہ رفتار اور 10 گنا کم تاخیر کی توقع ہے۔ اے آئی 21 نے اسے خطرے کی معلومات کے تجزیے میں استعمال کیا۔ اس سے درستگی 40 فیصد بہتر ہوئی۔
پاکستان کے لیے اس کا مطلب
پاکستان کے لیے اس لانچ کے دو رخ ہیں۔ پہلا رخ روشن ہے۔ اوپن ماڈلز کا مطلب یہ ہے کہ پاکستانی سافٹ ویئر کمپنیاں اور یونیورسٹیاں ان ماڈلز کو اپنے کمپیوٹروں پر چلا کر مقامی ڈیٹا کے ساتھ تربیت دے سکتی ہیں۔ اس سے ڈیٹا ملک کے اندر رہتا ہے اور غیر ملکی کلاؤڈ کمپنیوں کی مہنگی فیس سے بچا جا سکتا ہے۔
Nvidia کا کہنا ہے کہ اس ماڈل کی تربیت میں جنوبی ایشیا کی زبانوں کے دس ارب ٹوکنز بھی شامل کیے گئے تھے۔ اس سے اردو اور علاقائی زبانوں کے لیے ماڈل کی سمجھ بہتر ہونے کی توقع ہے۔ پاکستان میں اردو زبان کے چیٹ بوٹس اور دستاویزات کے تجزیے کے لیے یہ ایک مفید بنیاد ہو سکتی ہے۔
دوسرا رخ حقیقت پسندانہ ہے۔ 24 جی بی میموری والا گرافکس کارڈ پاکستان میں عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہے۔ RTX 5090 کی قیمت پاکستان میں لاکھوں روپے بنتی ہے۔ اس لیے یہ ٹیکنالوجی فی الحال بڑی کمپنیوں، یونیورسٹیوں اور اچھی مالی حیثیت والی ٹیک فرموں تک محدود رہے گی۔ تاہم اوپن ہونے کا فائدہ یہ ہے کہ کلاؤڈ پر بھی یہ ماڈل مہنگے بند ماڈلز کا سستا متبادل ثابت ہو سکتا ہے۔
تجزیہ
Nvidia کا یہ اقدام اوپن ویٹ ماڈلز کی دوڑ میں ایک اہم قدم ہے۔ علی بابا کے کیو وین اور میٹا کے حالیہ اوپن ماڈلز کے بعد Nvidia نے بھی دکھا دیا ہے کہ وہ صرف چپس نہیں بلکہ ماڈلز کی دنیا میں بھی سنگین کھلاڑی ہے۔
اہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ دعوے آزاد جانچ میں بھی قائم رہیں گے۔ کمپنیوں کے اپنے بنچ مارک ہمیشہ احتیاط سے دیکھنے چاہئیں۔ پھر بھی تینوں ماڈلز کا ایک ساتھ آنا ایک ٹھوس قدم ہے۔ خاص طور پر گھریلو کمپیوٹر پر چلنے والا 74 ارب پیرامیٹرز کا ماڈل اے آئی کو عام صارف کے قریب لائے گا۔




