سان فرانسسکو، 4 نومبر 2026 (نیوز ڈیسک): اوپن اے آئی (OpenAI) نے اعلان کیا ہے کہ اس کے نئے ماڈل نے ایک ہفتے سے بھی کم وقت میں کوڈیکس سے بات کرنے والا ایک چھوٹا آلہ ڈیزائن کر دیا ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ تجربہ اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کے لیے کیا گیا تھا کہ کیا ایک اے آئی ماڈل ہارڈویئر کی تیاری کا پورا انجینئرنگ سفر خود طے کر سکتا ہے۔
یہ آلہ اوپن اے آئی کے کوڈنگ ایجنٹ کوڈیکس (Codex) سے رابطے کے لیے بنایا گیا ہے۔ اس میں دبا کر بات کرنے کے لیے ایک بٹن اور ایک چھوٹی اسکرین لگی ہوئی ہے، جس کی مدد سے صارف لیپ ٹاپ کھولے بغیر اپنے کوڈنگ ایجنٹس کی صورتحال دیکھ سکتا ہے۔ کمپنی نے 3 نومبر کو اس منصوبے کی تفصیلات اپنی بلاگ پوسٹ میں جاری کیں۔ منصوبے پر کمپنی کے صرف دو ارکان نے ایک ضمنی منصوبے کے طور پر کام کیا، اور ڈیزائن کا مرحلہ ایک ہفتے سے کم وقت میں مکمل ہوا۔ اس کے بعد مصنوعات بنانے والی ایک ٹھیکے دار کمپنی نے ایک ماہ سے کم وقت میں اس آلے کے نمونوں کی ایک چھوٹی کھیپ تیار کر دی۔
یہ آلہ کیا ہے اور کیوں بنایا گیا
اس آلے کا خیال اوپن اے آئی کے محقق جسٹن لن (Justin Lin) کے ذہن میں آیا۔ انھوں نے بتایا کہ وہ کوڈیکس سے بات کرنے کے لیے بار بار لیپ ٹاپ کھولنا پسند نہیں کرتے تھے، اس لیے انھوں نے ایک ایسا ساتھی آلہ چاہا جو میز پر موجود رہے اور جسے دبا کر کوڈیکس سے بات کی جا سکے۔ وہ اس نمونے کو کوڈیکس پیٹ کہتے ہیں، یعنی کوڈیکس کا ایک چھوٹا ساتھی۔ آلے کی شکل کے لیے ورک لاؤڈر (Work Louder) کے کی بورڈز، کھیلوں اور کھلونوں سے تحریک لی گئی۔ کمپنی نے واضح کیا ہے کہ یہ ایک تجرباتی آلہ ہے، فروخت کے لیے پیش کی جانے والی کوئی مصنوعات نہیں۔
ایک ہفتے میں ڈیزائن کا سفر
کمپنی کے مطابق اس پورے سفر میں جی پی ٹی 6 ایسٹرا (GPT-6 Astra) نے کئی شعبوں کا کام ایک ساتھ سنبھالا۔ جی پی ٹی 6 نے آلے کی عملی ضروریات طے کرنے میں مدد دی، جبکہ ایسٹرا نے اس کا خول اور اندرونی ڈھانچہ ڈیزائن کیا، بجلی کے پرزے چنے اور انھیں پرنٹڈ سرکٹ بورڈ (Printed Circuit Board) پر اس طرح بٹھایا کہ وہ خول کے اندر سما جائیں۔ ایسٹرا نے برقی رابطوں کی ترتیب بھی بنائی، صارف کا انٹرفیس تیار کیا اور وہ فرم ویئر (Firmware) بھی لکھا جو اس آلے کو کوڈیکس سے جوڑتا ہے۔
جسٹن لن کے لیے یہ تجربہ ذاتی طور پر بھی نیا تھا، کیوں کہ انھوں نے پہلی بار کسی سرکٹ بورڈ کو خالی بورڈ سے مکمل اسمبلی تک پہنچایا۔
میں نے چیٹ کو بتایا کہ مجھے کیا چاہیے، اسے کچھ منصوبے دیے اور اس نے بورڈ ڈیزائن کر دیا۔ کارخانے کے ساتھ چند مراحل کی نظرثانی کے بعد یہ نمونہ واپس آیا۔
جسٹن لن، محقق، اوپن اے آئی
کارخانے تک پہنچنے میں رکاوٹیں
ڈیزائن کی رفتار کے باوجود تیاری کا مرحلہ اتنا سیدھا نہیں تھا۔ اوپن اے آئی نے خود تسلیم کیا ہے کہ ایسٹرا ہر جگہ کارخانے کی پیداواری حدود، پرزوں کی برداشت کی حد اور اسمبلی کی تفصیلات کا حساب نہیں رکھ سکا، اس لیے ڈیزائن کو کارخانے کے قابل بنانے کے لیے نظرثانی اور ترامیم کے کئی مراحل سے گزارنا پڑا۔
اس کی ایک عملی مثال ایک اور کمپنی کے تجربے میں بھی سامنے آئی ہے۔ سرکٹ بورڈ بنانے والی کمپنی نیکسٹ پی سی بی (NextPCB) نے ستمبر میں ایسٹرا کو ایک ایسا بورڈ دیا جس پر پرزے پہلے سے لگے ہوئے تھے۔ ایسٹرا نے برقی رابطوں کا کام اوپن سورس آٹو روٹر فری روٹنگ (Freerouting) کے ذریعے تقریبا 12 منٹ میں مکمل کر کے اسے الیکٹرانکس ڈیزائن سافٹ ویئر کی کیڈ (KiCad) میں واپس درآمد کیا۔ تاہم جب اسے صرف کی کیڈ کے انٹرفیس تک محدود رکھا گیا تو وہ ایک گھنٹے میں صرف تین چھوٹے رابطے بنا سکا، جس پر تجربہ روک دیا گیا۔ کمپنی نے لکھا کہ اصل حسابی کام فری روٹنگ نے کیا، جبکہ ایسٹرا نے پورے عمل کی ترتیب سنبھالی۔
بینچ مارک اور کمپنی کے اندر استعمال
اوپن اے آئی نے ماڈل کی انجینئرنگ صلاحیت ناپنے کے لیے بینچ کیڈ 2.0 (BenchCAD 2.0) نامی جانچ کا حوالہ بھی دیا ہے، جو یہ دیکھتی ہے کہ ماڈل انجینئرنگ کی ڈرائنگ یا تصاویر سے تین جہتی پرزے اور اسمبلیاں دوبارہ بنا سکتا ہے یا نہیں، اور سرکٹ بورڈ پر رابطوں کی شناخت کر سکتا ہے یا نہیں۔ جی پی ٹی 6 ایسٹرا نے اپنی سب سے زیادہ استدلالی ترتیب میں 0.594 اسکور حاصل کیا، جبکہ کمپنی کے ایک نئے اندرونی ماڈل نے اوسطا 0.875 اسکور کیا۔ یہ اندرونی ماڈل ابھی جاری نہیں ہوا، اس لیے اس کے اسکور کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ واضح رہے کہ یہ جانچ شکل، پرزوں کی جگہ اور رابطوں کو ناپتی ہے، کسی چیز کے بننے کے قابل ہونے یا عملی کارکردگی کو نہیں۔
کمپنی کے اندر ہارڈویئر ٹیمیں پہلے ہی کوڈیکس اور چیٹ جی پی ٹی کو کمپیوٹر کی مدد سے ڈیزائن (Computer-Aided Design) کے ماڈل بنانے، تیاری کی تکنیکی ڈرائنگ تیار کرنے اور سمولیشن چلانے میں استعمال کر رہی ہیں۔ کمپنی کے مطابق فروری سے اکتوبر کے درمیان اس کی ہارڈویئر ٹیموں میں ماڈلز کے استعمال میں 23 گنا اضافہ ہوا، جسے ٹوکن کے استعمال سے ناپا گیا۔ اوپن اے آئی کی فارورڈ ڈیپلائڈ انجینئر گریس لیم (Grace Lam) نے بتایا کہ کوڈیکس نے تصور سے تیار شدہ پرزے تک کا سفر تیز کیا ہے۔
کاروں اور ریسنگ کی دنیا میں آزمائش
اوپن اے آئی ان صلاحیتوں کو صنعت کے شراکت داروں کے ساتھ بھی آزما رہی ہے۔ موٹر اسپورٹس ٹیم چپ گناسی ریسنگ (Chip Ganassi Racing) کے انجینئر تین جہتی اسکین کو قابل ترمیم ڈیزائن ماڈل میں بدلنے اور اسکین شدہ پرزوں سے دو جہتی تیاری ڈرائنگ بنانے کے طریقے تلاش کر رہے ہیں، تاکہ ایسے پرزے دوبارہ بنائے جا سکیں جن کی اصل ڈیزائن فائلیں موجود نہ ہوں۔
دوسری جانب کار ساز کمپنی مزدا (Mazda) کے ساتھ تحقیقی اشتراک میں یہ دیکھا جا رہا ہے کہ ماڈل گاڑیوں کی ہوا کی روانی بہتر بنانے میں کس طرح مدد کر سکتا ہے۔ اس منصوبے میں ایسٹرا گاڑی کے اگلے حصے کی مختلف شکلیں آزما کر ہوا کے بہاؤ کی سمولیشن کرتا ہے، تاکہ ایسی ترتیبیں سامنے آئیں جن میں ہوا کی مزاحمت کم ہو۔
یہ تمام آزمائشیں اوپن اے آئی کی ہارڈویئر کی وسیع کوششوں کا حصہ ہیں، جس میں ایپل کے سابق ڈیزائن سربراہ جونی آئیو (Jony Ive) اور ان کی فرم لو فرام (LoveFrom) کے ساتھ ڈیزائن اشتراک بھی شامل ہے۔ واضح رہے کہ کوڈیکس ساتھی آلہ اس اشتراک کی مصنوعات نہیں ہے، اور کمپنی نے الگ سے ایک ایسے صارفی آلے پر کام کا ذکر بھی کیا ہے جو اے آئی اسپیکر اور اسمارٹ فون کے درمیان کی چیز ہوگا۔
پاکستان کے انجینئرز کے لیے اس کا مطلب
پاکستان میں ہارڈویئر پر کام کرنے والی چھوٹی ٹیموں، الیکٹرانکس کے انجینئرز اور طلبہ کے لیے اس تجربے کا سبق دو رخا ہے۔ ایک جانب کسی خیال کا پہلا ڈیزائن اب پہلے سے کہیں کم وقت میں تیار ہو سکتا ہے، جس سے نئے خیالات آزمانے کی لاگت کم ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب یہ تجربہ یہ بھی بتاتا ہے کہ تیاری کے قابل ڈیزائن کے لیے کارخانے کی حدود، پرزوں کی دستیابی اور اسمبلی کی مہارت اب بھی انسانوں کے تجربے کی محتاج ہے۔ اس لیے مقامی ٹیموں کے لیے بہتر راستہ یہ ہو سکتا ہے کہ وہ اے آئی سے پہلا مسودہ تیار کرائیں اور پھر اسے تجربہ کار انجینئر کی نظرثانی کے بعد ہی تیاری کے لیے بھیجیں۔ اوپن اے آئی کا کہنا ہے کہ وہ ان صلاحیتوں کی آزمائش صنعت کے شراکت داروں کے ساتھ جاری رکھے گی، جبکہ اس آلے کی فروخت کا کوئی اعلان نہیں ہوا۔




