واشنگٹن (نمائندہ خصوصی) — مصنوعی ذہانت کی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی اوپن اے آئی کے مالی معاملات پر اس ہفتے ایسا سوال اٹھا ہے جس نے پوری ٹیکنالوجی مارکیٹ کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق کمپنی نے اپنے سرمایہ کاروں کو بتایا ہے کہ اس کی سالانہ آمدنی "پچاس ارب ڈالر کے لگ بھگ" ہے — یہ رقم اس تخمینے سے بیس ارب ڈالر کم ہے جو محض ہفتہ دس روز قبل میڈیا میں گردش کر رہا تھا۔
یہ خبر صرف ایک کمپنی کے مالی حساب کتاب کی کہانی نہیں؛ یہ اس سوال کا آغاز ہے جو مصنوعی ذہانت کی صنعت کے ہر مبصر کے ذہن میں کہیں نہ کہیں موجود تھا: کیا مصنوعی ذہانت کی معیشت واقعی اتنی بڑی ہے جتنی بتائی جا رہی ہے؟
ستر ارب کا دعویٰ، پچاس ارب کی حقیقت
معاملہ "سالانہ آمدنی" (annualized revenue) نامی ایک ایسے پیمانے سے شروع ہوتا ہے جسے ٹیکنالوجی کی نئی کمپنیاں اپنی ترقی کی رفتار ظاہر کرنے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ سادہ الفاظ میں، کسی ایک مہینے کی فروخت کو بارہ سے ضرب دے کر پورے سال کا تخمینہ نکالا جاتا ہے۔ ماہرین اس پیمانے کو ہمیشہ سے مشکوک سمجھتے آئے ہیں، کیونکہ ایک مہینے کی کارکردگی پورے سال کی ضمانت نہیں دیتی۔
رواں سال ستمبر کے آخر میں میڈیا میں یہ خبر سامنے آئی تھی کہ اوپن اے آئی کی سالانہ آمدنی ستر ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ ٹیکنیکرنچ کی رپورٹ کے مطابق یہ تخمینہ کمپنی کے اپنے سرمایہ کاروں کی جانب سے فراہم کردہ معلومات پر مبنی تھا، اور اس کا مقصد اوپن اے آئی کا براہ راست موازنہ اس کے سب سے بڑے حریف اینٹھروپک سے کرنا تھا۔
اب فنانشل ٹائمز کا کہنا ہے کہ کمپنی نے اپنے مالی پشت پناہوں کے ساتھ شیئر کردہ دستاویزات میں آمدنی کا جو اصل تخمینہ دیا ہے وہ پچاس ارب ڈالر کے قریب ہے۔ فرق بیس ارب ڈالر کا ہے — اتنی رقم جس کے سامنے کئی ممالک کی سالانہ ٹیکنالوجی بجٹ چھوٹی پڑ جاتی ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این بی سی نے معاملے کی ایک اور پرت کھولی ہے: اس کے مطابق پہلا تخمینہ، یعنی اٹھسٹھ سے ستر ارب ڈالر، "مجموعی آمدنی" (gross revenue) پر مبنی تھا جس میں چپ ساز کمپنی این ویڈیا کے ساتھ شراکت داری سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی شامل تھی۔ یہ طریقہ اس لیے اپنایا گیا تھا تاکہ سرمایہ کار اوپن اے آئی اور اینٹھروپک کا موازنہ آسانی سے کر سکیں۔
اینٹھروپک سے موازنہ اور حساب کتاب کا فرق
یہاں کہانی کا ایک تکنیکی مگر اہم پہلو ہے: اوپن اے آئی اور اینٹھروپک اپنی آمدنی کا حساب ایک جیسے طریقے سے نہیں لگاتیں۔ ٹیکنیکرنچ کے مطابق اینٹھروپک اپنی کلاؤڈ شراکت دار کمپنیوں کے ذریعے ہونے والی فروخت کو بھی اپنی آمدنی میں شامل کرتی ہے، جبکہ اوپن اے آئی ایسا نہیں کرتی۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں کمپنیوں کے اعداد و شمار کا براہ راست موازنہ گمراہ کن ہو سکتا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اینٹھروپک اگلے ماہ عوامی مارکیٹ میں فہرست بندی (آئی پی او) کی توقع رکھتی ہے۔ ایسے میں آمدنی کے اعداد و شمار کا ہر فرق دونوں کمپنیوں کے درمیان سرمایہ کاروں کی توجہ کا مقابلہ مزید دلچسپ بنا دیتا ہے۔
مارکیٹ کا ردعمل — اسٹاکس میں گراوٹ
رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد مصنوعی ذہانت سے جڑے اسٹاکس میں نمایاں گراوٹ دیکھی گئی۔ اے ایف پی کے مطابق این ویڈیا کے شیئرز میں 2.9 فیصد، اسپیس ایکس میں 4 فیصد اور اوریکل میں تقریباً 6 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ یہ گراوٹ اس بات کی علامت ہے کہ سرمایہ کار اوپن اے آئی کی مالی صحت کو پوری صنعت کی صحت کا پیمانہ سمجھتے ہیں۔
یہ خبر ایسے وقت میں آئی ہے جب مصنوعی ذہانت کی صنعت کے بارے میں عمومی مزاج میں تبدیلی آ رہی ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سنگاپور میں ہونے والی دو کانفرنسوں میں سرمایہ کاروں اور پالیسی سازوں نے مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والے وجودی خطرات اور مالی خطرات پر تشویش کا اظہار کیا۔ سنگاپور کے وزیر خارجہ ویوین بالا کرشنن نے کہا کہ خودکار نظاموں کے انسانی کنٹرول سے نکلنے کا خطرہ حقیقی ہے۔ بھارتی دواسازی کمپنی بایوکون کی بانی کرن مزمدر شا نے خبردار کیا کہ برے عناصر اس ٹیکنالوجی کو نئے وائرس یا پیتھوجنز بنانے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔
پس منظر: بے تحاشا خرچ اور مؤخر آئی پی او
آمدنی پر سوالات ایسے وقت میں اٹھے ہیں جب اوپن اے آئی کے اخراجات کی رفتار آمدنی سے کہیں تیز ہے۔ ٹیکنیکرنچ کے مطابق کمپنی نے مارچ میں ہونے والے فنڈنگ راؤنڈ میں 122 ارب ڈالر اکٹھے کیے تھے۔ اس سال کے آغاز میں لیک ہونے والے 2025 کے مالی ریکارڈ سے پتا چلا تھا کہ کمپنی نے تقریباً 13 ارب ڈالر کمائے مگر خرچ اس سے نمایاں طور پر زیادہ کیا۔ یہ خرچ بنیادی طور پر ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر پر ہو رہا ہے — وہی انفراسٹرکچر جو مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کو چلانے کے لیے درکار ہے۔
اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق اوپن اے آئی نے جون میں آئی پی او کے لیے خفیہ طور پر کاغذات جمع کرائے تھے، اور توقع تھی کہ کمپنی اسی سال عوامی مارکیٹ میں آئے گی، مگر اب یہ منصوبہ 2027 کے آغاز تک مؤخر کر دیا گیا ہے۔ کمپنی اس وقت نئی نجی فنڈنگ کے مذاکرات میں ہے جس میں اس کی قدر تقریباً 1.4 کھرب ڈالر لگائی جا رہی ہے — یعنی آمدنی پر سوالات کے باوجود سرمایہ کار اب بھی اس پر بے تحاشا شرط لگا رہے ہیں۔
پاکستان کے لیے پیغام: ہائپ اور حقیقت کا فرق
اس خبر کا پاکستان سے کیا تعلق ہے؟ براہ راست تو کوئی نہیں — مگر بالواسطہ بہت گہرا ہے۔ پاکستان کی آئی ٹی صنعت اور فری لانسر کمیونٹی گزشتہ دو برس سے مصنوعی ذہانت کی لہر پر سوار ہے۔ نوجوان ڈویلپرز اور اسٹارٹ اپس مصنوعی ذہانت کا لیبل لگا کر سرمایہ کاری اور گاہک دونوں حاصل کر رہے ہیں۔ یہ رجحان بذات خود برا نہیں، مگر اوپن اے آئی کی یہ خبر ایک پرانا سبق دہراتی ہے: تخمینوں اور حقیقی آمدنی میں فرق ہو سکتا ہے، اور جو کاروبار صرف شور پر کھڑا ہو وہ پہلی ٹھنڈی ہوا میں لڑکھڑا جاتا ہے۔
پاکستانی سرمایہ کاروں اور اسٹارٹ اپ بانیوں کے لیے اصل سبق یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کے منصوبوں کی قیمت ان کی اصل آمدنی اور اخراجات کے تناسب سے لگائی جائے، نہ کہ مستقبل کے خوابوں سے۔ جس صنعت میں دنیا کی سب سے بڑی کمپنی کو اپنے اعداد و شمار کی وضاحت دینی پڑ رہی ہو، وہاں چھوٹے کھلاڑیوں کے لیے شفافیت ہی سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ جو اسٹارٹ اپ اپنی اصل آمدنی اور لاگت کا ایماندارانہ حساب پیش کرے گا، وہی طویل دوڑ میں سرمایہ کار کا اعتماد جیتے گا۔
آگے کیا ہوگا؟
اب سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ آیا سرمایہ کار "پچاس ارب ڈالر" کے نئے بیانیے کو قبول کریں گے یا مزید وضاحت کا مطالبہ کریں گے۔ "سالانہ آمدنی" جیسے پیمانے کی درستگی پر بھی بحث تیز ہونے کا امکان ہے، کیونکہ یہی پیمانہ مصنوعی ذہانت کی کمپنیوں کی قدر کا تعین کرنے میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔
ایک بات طے ہے: مصنوعی ذہانت کی صنعت اب اس دور سے نکل رہی ہے جہاں ہر دعوے کو بغیر سوال قبول کر لیا جاتا تھا۔ اب ہر ارب ڈالر کا حساب مانگا جائے گا — اور یہ اس صنعت کے بالغ ہونے کی پہلی علامت ہو سکتی ہے۔



