نانجنگ، 25 اکتوبر 2026 (ویب ڈیسک): نانجنگ یونیورسٹی (Nanjing University) اور سینس ٹائم (SenseTime) کے محققین نے فون پر ایپس چلانے والے دو نئے اوپن سورس اے آئی ایجنٹس متعارف کرا دیے ہیں جو تجارتی ماڈلز کے برابر کارکردگی دکھا رہے ہیں۔ اوپن موبائل 2 (OpenMobile-2) کے نام سے پیش کیے گئے ان ماڈلز کے پیچھے وہی پرانا سوال ہے کہ عام ڈویلپرز کے ایجنٹس بڑی کمپنیوں کے ایجنٹس سے پیچھے کیوں رہتے ہیں۔
محققین کے مطابق رکاوٹ کمپیوٹنگ طاقت یا ماڈل کا حجم نہیں، بلکہ تربیتی ماحول کا محدود دائرہ تھا۔ بڑی کمپنیوں کے پاس لاکھوں صارفین کے استعمال سے حاصل ہونے والا عملی ڈیٹا ہوتا ہے، آزاد محققین کے پاس نہیں۔ اوپن موبائل 2 اسی خلا کو بھرنے کی کوشش ہے۔ اس کے ساتھ مکمل تربیتی ماحول، ڈیٹا اور اس نظام کو دوبارہ تیار کرنے کی ہدایات بھی جاری کر دی گئی ہیں۔
فون ایجنٹ بنانا دوسرے ایجنٹس سے کیوں مشکل ہے
فون چلانے والا ایجنٹ دراصل صارف کی جگہ اسکرین پر بٹن دباتا ہے، سوائپ کرتا ہے اور لکھتا ہے۔ یہ کام اس لیے مشکل ہے کہ اصل ایپس پر تربیت کے لیے لاگ ان اور اصل خریداری درکار ہوتی ہے، اور ایپ کو بار بار ابتدائی حالت میں واپس لانا بھی ممکن نہیں ہوتا۔ ایک ایپ پر ہزاروں مثالیں دیکھ لینا بھی کافی نہیں ہوتا، کیوں کہ ہر ایپ کا انداز، مینیو اور ردعمل الگ ہوتا ہے۔
اسی وجہ سے اب تک اوپن ماڈلز تجارتی ماڈلز سے پیچھے رہے۔ گوگل (Google) اور ایپل (Apple) جیسی کمپنیوں کے ایجنٹس لاکھوں عملی مثالوں پر تربیت پاتے ہیں، یونیورسٹیوں کے پاس ایسی سہولت نہیں ہوتی۔ اوپن موبائل 2 کی ٹیم نے اس مسئلے کا حل ایپس کی نقل تیار کر کے نکالا، نہ کہ مزید ڈیٹا اکٹھا کر کے۔
110 ایپس کا تربیتی ماحول کیسے تیار ہوا
محققین نے چین میں مقبول 35 ایپس کو دوبارہ بنایا، جن میں تاؤ باؤ (Taobao)، جے ڈی (JD)، ڈی ڈی (DiDi) اور میتوان (Meituan) شامل ہیں۔ ان کے ساتھ سلیک (Slack) اور گوگل ڈرائیو (Google Drive) جیسی عالمی سروسز بھی شامل کر لی گئیں۔ جب انھیں پہلے سے موجود سمیلیٹرز اور اینڈرائیڈ (Android) ایمولیٹر پر چلنے والی ایپس سے جوڑا گیا تو یہ تربیتی ماحول 110 سے زیادہ ایپس تک پھیل گیا۔
انسانی جائزہ کاروں نے ہر نقلی ایپ کا اصل ایپ سے موازنہ کیا اور اسے اس وقت تک بہتر بنایا جب تک وہ اصل ایپ جیسی نہ لگنے لگی۔ آرڈر، بجٹ اور سفر کے منصوبے ایک سیشن سے دوسرے سیشن تک محفوظ رہتے ہیں، اور ڈیٹا کلپ بورڈ کے ذریعے ایک ایپ سے دوسری ایپ میں بھی منتقل ہو سکتا ہے۔ ہر مشق کے بعد سمیلیشن ازخود اپنی ابتدائی حالت میں واپس آ جاتی ہے، اور ایجنٹ صرف وہی اسکرین دیکھتا ہے جو کسی عام صارف کو دکھائی دیتی ہے۔
اس ماحول میں ٹیم نے 11 ہزار 600 سے زیادہ ورک فلو کی مثالیں اور 2 ہزار سے زیادہ مشقی ٹاسک تیار کیے، جن کی کامیابی خودکار طریقے سے جانچی جا سکتی ہے۔ یہ مثالیں تیار کرنے میں گوگل کے جیمینائی 3.1 پرو (Gemini 3.1 Pro) سے مدد لی گئی، یعنی اوپن موبائل 2 نے بالواسطہ ایک تجارتی ماڈل سے سیکھا ہے۔
بینچ مارک میں کیا نکلا
دو ماڈل پیش کیے گئے ہیں: 9 ارب پیرامیٹرز والا چھوٹا ماڈل کیو وین 3.5 (Qwen3.5) پر مبنی ہے، جبکہ 27 ارب پیرامیٹرز والا بڑا ماڈل کیو وین 3.6 (Qwen3.6) پر مبنی ہے۔ اینڈرائیڈ ورلڈ (AndroidWorld) کے بینچ مارک پر بڑے ماڈل کا اسکور 67.1 سے بڑھ کر 79.9 ہو گیا، اور چھوٹے ماڈل کا اسکور 54.3 سے 74 تک پہنچ گیا۔ اس سے قبل اوپن موبائل 1 (OpenMobile-1) اسی ٹیسٹ میں 64.7 اسکور حاصل کر سکا۔
مشکل تر موبائل ورلڈ (MobileWorld) پر، جس میں کئی ایپس پر پھیلے لمبے ٹاسک ہوتے ہیں، بڑے ماڈل کا اسکور 35.9 سے 50.4 تک پہنچ گیا۔ حقیقی اینڈرائیڈ فونز پر ایس پی اے بینچ (SPA-Bench) میں بڑا ماڈل 31.9 سے 59.6 تک جا پہنچا، جو اوپن ماڈلز میں سب سے اچھا نتیجہ ہے اور اس ٹیسٹ میں وہ صرف جیمینائی 3.1 پرو سے پیچھے رہا۔
تنوع نے مقدار کو کیوں ہرایا
تحقیق کا سب سے اہم نتیجہ یہ ہے کہ ایپس کی تعداد بڑھانا صرف مثالوں کی تعداد بڑھانے سے زیادہ فائدہ مند ثابت ہوا۔ ڈیٹا کی مقدار ایک جیسی رکھی گئی، لیکن جب صرف مشق والی ایپس کی تعداد بڑھائی گئی تو تربیت سے باہر کی ایپس پر کامیابی کی شرح 60.7 فیصد سے بڑھ کر 67.5 فیصد ہو گئی۔
سادہ لفظوں میں، ایجنٹ کو ایک ہی ایپ کی ہزاروں مثالیں دکھانے کے بجائے درجنوں مختلف ایپس دکھانا زیادہ کارآمد ہے۔ ہر نئی ایپ اسے نیا انداز اور نیا مسئلہ سکھاتی ہے، اور یہی تنوع اسے نئی، پہلے نہ دیکھی گئی ایپس پر بھی کام کرنے کے قابل بناتا ہے۔ محققین کے نزدیک اوپن سورس ایجنٹس کے پیچھے رہنے کی اصل وجہ یہی تنوع کی کمی تھی، نہ کہ وسائل کی کمی۔
براہ راست کمانڈز کا تجربہ
تحقیق کا ایک حصہ مینیوز میں الجھنے کے بجائے براہ راست کمانڈز کے استعمال پر تھا۔ 50 سے زیادہ نقلی ایپس میں "کارٹ میں شامل کریں" جیسی کمانڈز موجود ہیں، جن کی مدد سے ایجنٹ مینیوز کی الجھنوں سے بچ سکتا ہے۔ ایجنٹ ضرورت کے مطابق دونوں میں سے کوئی ایک طریقہ چن سکتا ہے: جہاں براہ راست کمانڈ دستیاب ہو وہاں اسے استعمال کرے، اور جہاں نہ ہو وہاں اسکرین پر کلک کرے۔
تاہم ماڈلز نے ازخود اس سہولت سے فائدہ نہیں اٹھایا۔ جب تک انھیں خاص طور پر اس کی تربیت نہیں دی گئی، وہ ان شارٹ کٹس کو نظر انداز کرتے رہے۔ تربیت کے بعد ایجنٹ نے 10.3 فیصد پوائنٹ زیادہ ٹاسک مکمل کیے اور اسے تقریباً پانچ مراحل کم درکار ہوئے۔ یہ صلاحیت ان کمانڈز پر بھی کام آئی جن کا ایجنٹ کو تربیت کے دوران کبھی سامنا نہیں ہوا تھا۔
حدود اور اگلے مراحل
محققین نے خود اپنی حدود بھی واضح کی ہیں۔ رینفورسمنٹ لرننگ (Reinforcement Learning) سے صرف محدود فائدہ ہوا۔ اینڈرائیڈ ورلڈ پر بڑے ماڈل کا اسکور اس کے بعد 80.8 کے بجائے 79.9 رہ گیا، یعنی مزید تربیت کے باوجود اس ٹیسٹ میں نتیجہ تھوڑا خراب ہو گیا۔
ایک اور حد یہ ہے کہ براہ راست کمانڈز فی الحال صرف نقلی ایپس تک محدود ہیں، حقیقی ایپس میں نہیں، اس لیے یہ طریقہ ابھی تجرباتی مرحلے میں ہے۔ ٹیم نے 215 ٹاسک پر مبنی اپنا بینچ مارک بھی بنایا ہے، جس میں تقریباً نصف ٹاسک کئی ایپس پر پھیلے ہیں۔ اس میں کامیابی کا فیصلہ کوئی لینگویج ماڈل نہیں کرتا، بلکہ ایک پروگرام ٹاسک سے پہلے اور بعد میں ایپ کے ڈیٹا کا موازنہ کر کے نتیجہ نکالتا ہے۔
اس ضمن میں مائیکروسافٹ ریسرچ (Microsoft Research) کی 2025 کی تحقیق بھی اہم ہے جس کے مطابق براہ راست انٹرفیس والے ایجنٹ زیادہ قابل اعتماد اور اسکرین پر کلک کرنے والے زیادہ لچکدار ہوتے ہیں۔ اوپو (Oppo) نے اپنے اوپن ایجنٹ ایکس اومنی کلا (X-OmniClaw) میں یہی راستہ اپنایا ہے، اور گوگل نے فون کنٹرول کو اپنے جیمینائی 3.5 فلیش (Gemini 3.5 Flash) میں براہ راست شامل کر دیا ہے۔
پاکستان کے صارفین اور ڈویلپرز کے لیے
اوپن موبائل 2 کی اصل اہمیت یہی ہے کہ یہ مکمل اوپن سورس ہے۔ اس کے ماڈل، تربیتی ماحول اور ڈیٹا تک ہر کسی کو رسائی حاصل ہے، اس لیے پاکستانی سافٹ ویئر ہاؤسز، طلبہ اور چھوٹی ٹیمیں بھی بغیر کسی بڑی کمپنی کے نجی ڈیٹا یا بھاری بجٹ کے فون ایجنٹ پر تجربے کر سکتی ہیں۔ مقامی ایپس کے لیے ایجنٹ بنانا ہو تو بھی یہی طریقہ اپنایا جا سکتا ہے: پہلے ایپ کی نقل تیار کی جائے اور ایجنٹ کو اسی پر تربیت دی جائے۔
تاہم یہ بھی واضح رہے کہ یہ ماڈل ابھی تحقیق کی سطح پر ہیں۔ حقیقی فونز پر عام استعمال میں، اردو انٹرفیس کے ساتھ اور مقامی ایپس پر یہ ماڈل کیسا کام کریں گے، یہ ابھی آزمایا جانا باقی ہے۔ فی الحال یہ پیش رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ اوپن سورس دنیا تجارتی ماڈلز سے اپنا فاصلہ مٹا سکتی ہے، اور اس کا راستہ مزید ڈیٹا نہیں بلکہ بہتر اور متنوع تربیت ہے۔




