واشنگٹن، 20 اکتوبر 2026 (نیوز ڈیسک): امریکہ کے محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے وفاقی سول اداروں کو حکم دیا ہے کہ ڈیپ سیک کی تمام ٹیکنالوجی ان کے آئی ٹی سسٹمز سے ہٹا دی جائے۔ یہ حکم پیر کو منظر عام پر آیا۔ اس میں ڈیپ سیک کی اپنی سروسز بھی شامل ہیں اور وہ تھرڈ پارٹی مصنوعات بھی جو ڈیپ سیک کے ماڈلز پر بنی ہوں۔ یہ امریکہ کی جانب سے چینی اے آئی کے خلاف اب تک کا سب سے وسیع اقدام ہے۔
حکم کی تفصیلات
محکمے کے جاری کردہ نوٹس کے مطابق وفاقی سول ایجنسیاں اب سے ڈیپ سیک کی کوئی نئی مصنوعات یا سروسز نہیں خرید سکیں گی۔ پابندی ڈیپ سیک سے وابستہ کمپنیوں پر بھی لاگو ہوگی۔ ایجنسیاں استثنیٰ کی درخواست دے سکتی ہیں، تاہم اس کی شرائط واضح نہیں کی گئیں۔
یہ حکم صرف سول اداروں پر لاگو ہوتا ہے۔ قومی سلامتی کے سسٹمز اور بعض خفیہ انٹیلی جنس سسٹمز اس کے دائرے سے باہر ہیں۔ ان پر پہلے ہی الگ پابندیاں عائد ہیں۔
وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق حکم میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ اداروں کو یہ ٹیکنالوجی ہٹانے کے لیے کتنا وقت ملے گا۔ وقت کی حد نہ ہونا عملدرآمد کو مشکل بنا سکتا ہے۔
سلامتی کے سنگین خدشات
محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کا کہنا ہے کہ ڈیپ سیک کے ماڈلز میں "متعدد خطرناک پہلو" موجود ہیں۔ نوٹس میں خبردار کیا گیا کہ اگر سرکاری ملازمین یا ٹھیکے دار ڈیپ سیک استعمال کریں تو حساس ڈیٹا چین منتقل ہو سکتا ہے۔
محکمے نے کہا کہ ڈیپ سیک کا استعمال "امریکی شہریوں یا سرکاری پروگراموں کے بارے میں قابل عمل خفیہ معلومات" پیدا کر سکتا ہے۔
محکمے کے مطابق ماڈلز میں میلویئر یا دیگر سلامتی کی خامیاں بھی ہو سکتی ہیں۔ ڈیپ سیک کے سرورز چین میں ہیں۔ چینی قانون سرکاری ایجنسیوں کو نجی کمپنیوں کے بنیادی ڈھانچے تک وسیع رسائی دیتا ہے۔
ایک جولائی کے میمو میں اداروں کو سرکاری ویب سائٹس کے ڈیٹا کی نگرانی کی ہدایت دی گئی تھی۔
حکم کی قانونی بنیاد
یہ حکم ہوم لینڈ سیکیورٹی کے سیکریٹری مارکوین مولن نے 24 جولائی کو جاری کیا تھا۔ یہ وفاقی خریداری سپلائی چین سیکیورٹی ایکٹ 2018 کے تحت کیا گیا۔ فیصلے سے پہلے وفاقی خریداری سلامتی کونسل کی سفارش اور اس کے حق میں شواہد کا جائزہ لیا گیا۔
قانونی ماہرین کے مطابق یہ ایکٹ حکومت کو سپلائی چین کے خطرات کی بنیاد پر مخصوص کمپنیوں کی مصنوعات پر پابندی کا اختیار دیتا ہے۔ ڈیپ سیک اس قانون کے تحت نشانہ بننے والی پہلی بڑی اے آئی کمپنی ہے۔
پس منظر: پابندیوں کا سلسلہ
یہ پہلا موقع نہیں کہ امریکہ نے ڈیپ سیک کو نشانہ بنایا ہو۔ دسمبر 2025 میں ایک قانون کے ذریعے انٹیلی جنس کے قومی سلامتی کے سسٹمز میں ڈیپ سیک پر پابندی لگائی گئی تھی۔ تازہ حکم اسی سلسلے کی اگلی کڑی ہے جو اب سول اداروں تک پھیل گئی ہے۔
محکمہ تجارت اور امریکی بحریہ پہلے ہی سرکاری آلات پر ڈیپ سیک کے استعمال پر پابندی لگا چکے ہیں۔ نیویارک، ٹینیسی اور ورجینیا جیسی ریاستوں نے بھی اسی طرح کے اقدامات کیے ہیں۔ انفرادی اداروں کی پابندیوں کے بعد اب یہ پہلا وفاقی سطح کا جامع حکم ہے۔
چین کا سخت ردعمل
چین نے اس اقدام کی شدید مخالفت کی ہے۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ماؤ ننگ نے منگل کو کہا کہ بیجنگ اس فیصلے کی مخالفت کرتا ہے۔
"ہم چینی کمپنیوں کے جائز حقوق اور مفادات کا بھرپور تحفظ کریں گے،" ترجمان نے کہا۔
چین کا موقف ہے کہ امریکہ قومی سلامتی کو بہانہ بنا کر چینی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو دبا رہا ہے۔
دنیا بھر میں پابندیوں کی لہر
امریکہ اب ان حکومتوں میں شامل ہو گیا ہے جنہوں نے ڈیپ سیک پر پابندیاں عائد کی ہیں۔ یورپ اور ایشیا کی حکومتیں 2025 کے اوائل سے ڈیپ سیک کی جانچ کر رہی ہیں۔
اٹلی کے پرائیویسی نگراں ادارے نے 30 جنوری 2025 کو اطالوی صارفین کے ذاتی ڈیٹا کی پروسیسنگ پر فوری پابندی عائد کی تھی۔ تائیوان کی ڈیجیٹل وزارت نے جنوری 2025 کے آخر میں سرکاری اداروں، اسکولوں اور اہم بنیادی ڈھانچے میں ڈیپ سیک پر پابندی لگائی تھی۔
ماہرین کے اندازے کے مطابق کم از کم آٹھ حکومتیں اب تک ڈیپ سیک پر کسی نہ کسی شکل میں پابندی لگا چکی ہیں۔ زیادہ تر نے وہی خدشہ ظاہر کیا ہے کہ صارفین کا ڈیٹا چین میں محفوظ ہوتا ہے۔
ڈیپ سیک نے دنیا کو کیوں چونکایا تھا
ڈیپ سیک جنوری 2025 میں اس وقت عالمی توجہ کا مرکز بنا جب اس نے کم لاگت میں تیار کردہ اپنا ریزننگ ماڈل متعارف کرایا۔ اس اعلان کے بعد امریکی ٹیک کمپنیوں کے حصص میں بھاری کمی آئی تھی۔
ڈیپ سیک کے اوپن ویٹ ماڈلز نے اوپن اے آئی اور میٹا جیسی کمپنیوں کو براہ راست چیلنج کیا۔ اسے چین کی اے آئی صلاحیت کی علامت سمجھا جانے لگا۔
ابھی چند روز پہلے، 17 اکتوبر کو، ڈیپ سیک نے اپنا نیا ماڈل V4.1-Flash-1017 بھی جاری کیا تھا۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ ماڈل ایجنٹ پر مبنی کاموں میں بہتر کارکردگی دکھاتا ہے۔
وسیع تناظر: ٹیکنالوجی کی جنگ تیز
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور چین کے درمیان ٹیکنالوجی کی کشمکش تیز ہو رہی ہے۔ امریکی مواصلاتی ریگولیٹر 29 اکتوبر کو ایک تجویز پر ووٹ دے گا جس کے تحت چینی لیبارٹریوں کو اسمارٹ فون، کیمروں اور کمپیوٹروں کی جانچ سے روکا جائے گا۔ ریگولیٹر پہلے ہی چینی ڈرونز اور صارفین کے راؤٹرز کی درآمد پر پابندی لگا چکا ہے۔
دوسری طرف بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق چین 23 اے آئی سے متعلق ٹیکنالوجیز کی برآمدات پر پابندیوں پر غور کر رہا ہے۔ ان میں چپ ڈیزائن اور بعض جدید اے آئی ماڈل بھی شامل ہیں۔ دونوں ملک ایک دوسرے کی ٹیکنالوجی تک رسائی محدود کر رہے ہیں۔
پاکستان کے لیے سبق
یہ خبر پاکستان سمیت ان تمام ممالک کے لیے ایک انتباہ ہے جو غیر ملکی اے آئی سروسز پر تیزی سے انحصار کر رہے ہیں۔ پاکستان میں سرکاری ادارے، بینک اور نجی کمپنیاں مصنوعی ذہانت کے اوزار اپنا رہی ہیں۔
ڈیپ سیک کا واقعہ بتاتا ہے کہ کوئی بھی غیر ملکی اے آئی سروس راتوں رات ڈیٹا خودمختاری کا سوال بن سکتی ہے۔ آج جو سروس سستی اور آسان لگتی ہے، کل وہی سلامتی کا خدشہ بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ممالک کو سستی اور سہولت یا اپنے ڈیٹا پر مکمل کنٹرول میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔ کھلے ماڈلز کو اپنے سرورز پر چلانے سے ڈیٹا ملک سے باہر نہیں جاتا، مگر اس کے لیے تکنیکی صلاحیت اور سرمایہ کاری درکار ہوتی ہے۔
تجزیہ: تھرڈ پارٹی شرط اصل دانت ہے
اس حکم کا سب سے اہم پہلو تھرڈ پارٹی مصنوعات پر پابندی ہے۔ ڈیپ سیک کے ماڈل اوپن ویٹ ہیں۔ یعنی کوئی بھی ڈویلپر انہیں ڈاؤن لوڈ کر کے اپنی ایپ میں لگا سکتا ہے۔ ایسی صورت میں صرف ڈیپ سیک کی ایپ پر پابندی لگانا کافی نہیں ہوتا۔
امریکی محکمے نے سمجھ لیا ہے کہ اصل خطرہ ان سینکڑوں ایپس اور سروسز میں ہے جو ڈیپ سیک کے ماڈلز کے گرد بنی ہیں۔ اسی لیے وابستہ کمپنیوں اور تھرڈ پارٹی سروسز کو بھی حکم میں شامل کیا گیا ہے۔
البتہ عملدرآمد آسان نہیں ہوگا۔ اوپن ویٹ ماڈلز کو ایک بار ڈاؤن لوڈ کرنے کے بعد ان کا سراغ لگانا مشکل ہے۔ اداروں کو یہ جانچنا ہوگا کہ ان کے سسٹمز میں کون سی سروسز ڈیپ سیک کے ماڈلز استعمال کر رہی ہیں۔




