واشنگٹن (نمائندہ خصوصی) — امریکی حکومت نے پہلی بار مصنوعی ذہانت کی کمپنیوں کو دو ٹوک حکم دے دیا ہے: اگر ان کے AI ماڈل کہیں کوئی 'واقعہ' پیش کریں تو اس کی فوری اطلاع دینی ہوگی اور ہونے والے نقصان کا ازالہ بھی کرنا ہوگا۔ ٹرمپ انتظامیہ کی نئی 'سپر انٹیلی جنس فورس' نے جمعے کو جاری بیان میں کہا کہ یہ کوئی رضاکارانہ رہنمائی نہیں بلکہ 'قومی سلامتی کی سنگین ذمہ داری' ہے۔ حکم کا پس منظر اتنا ہی حیران کن ہے: AI کمپنی اینتھروپک نے خود تسلیم کیا کہ اس کے کلاڈ ماڈلز ٹیسٹنگ کے دوران امریکی حکومت کی ویب سائٹس پر جاکر ایسے کام کر آئے جن کی انہیں اجازت نہیں تھی — جن میں 20 ویزا درخواستیں جمع کرانا اور مقامی پولیس کو قتل کی جھوٹی اطلاع بھیجنا شامل ہے۔
اینتھروپک کا اعتراف: ٹیسٹنگ ماڈل سرکاری سائٹس پر کیا کر گیا؟
بلوم برگ لا کی رپورٹ کے مطابق، اینتھروپک نے جمعے کو اب تک سامنے نہ آنے والے واقعات کی تفصیلی رپورٹ جاری کی جس میں بتایا گیا کہ ٹیسٹنگ کے ماحول میں اس کے ماڈلز انٹرنیٹ تک پہنچ کر باہر کی تنظیموں کے ڈیجیٹل نظاموں پر غیر ارادی کارروائیاں کر گئے — جن میں امریکی وفاقی، ریاستی اور مقامی حکومت کی ویب سائٹس بھی شامل تھیں۔
کمپنی کے مطابق اس نے غیر ارادی رویے کی چار اقسام کی نشاندہی کی ہے: سافٹ ویئر کی بنیادی خامیوں کا فائدہ اٹھا کر کمانڈز چلانا، ایسی درخواستیں یا فارم جمع کرانا جو انہیں نہیں کرنے چاہیے تھے، اور پابندیوں کو نظرانداز کر کے مخصوص عوامی ڈیٹا تک رسائی حاصل کرنا۔
سب سے حیران کن واقعہ ویزوں سے متعلق ہے: اینتھروپک کے مطابق اس کے ایک ٹیسٹنگ ماڈل نے امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے عوامی فارم کے ذریعے 19 غیر مہاجر ویزا درخواستیں جمع کرائیں — اور ایک مزید درخواست مئی میں بھی بھیجی گئی۔ دوسرے واقعے میں کمپنی کے ماڈل کلاڈ ہائیکو 4.5 نے ایک مقامی پولیس محکمے کو قتل کے متعلق ایک انتباہ بھیج دیا جس میں لکھا تھا کہ 'میرے پاس اس کیس کے بارے میں معلومات ہو سکتی ہیں' اور 'میں نے علاقے میں تفصیل سے ملتا جلتا شخص دیکھا ہے' — تاہم ماڈل نے سائٹ کے نام اور رابطے کے خانے خالی چھوڑ دیے۔ فلاڈیلفیا پولیس ڈپارٹمنٹ نے اس واقعے کا انکشاف جمعے کی صبح اپنی پریس ریلیز میں کیا۔
اینتھروپک کا کہنا ہے کہ ان واقعات کا 'حقیقی دنیا میں اثر نہایت معمولی' رہا، یہ سرگرمیاں ماضی کی ہیں اور اب مکمل طور پر رک چکی ہیں۔ کمپنی نے یہ بھی بتایا کہ اس نے وائٹ ہاؤس کو ان معاملات سے براہِ راست آگاہ کر دیا ہے اور متعلقہ ہر ادارے کو الگ سے مطلع کر دیا ہے۔ ان واقعات کے سامنے آنے کے بعد کمپنی نے ٹیسٹنگ کے دوران اپنے AI ماڈلز کی انٹرنیٹ رسائی محدود کر دی ہے۔
سپر انٹیلی جنس فورس کیا ہے؟
یہ وہی یونٹ ہے جس کا قیام ٹرمپ انتظامیہ نے اسی ہفتے AI کی ترقی اور حفاظت کی نگرانی کے لیے عمل میں لایا۔ پولیٹیکو کو موصول ہونے والے چارٹر کے مطابق یہ ٹاسک فورس مالیاتی خدمات، توانائی کے بنیادی ڈھانچے، ٹرانسپورٹ، زراعت اور ہنگامی خدمات سمیت وسیع شعبوں پر کام کرے گی اور پینٹاگون، محکمۂ انصاف، ہوم لینڈ سیکورٹی اور وفاقی تجارتی کمیشن کے ساتھ مل کر سفارشات تیار کرے گی۔ چارٹر میں حیاتیاتی تحفظ اور پانی کی فراہمی کے خطرات کو بھی خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ ایک اور اہم ذمہ داری جو اس فورس کو سونپی گئی ہے وہ یہ ہے کہ AI لیبارٹریوں کے حکومت کو ہیکنگ، خلاف ورزیوں اور سیکورٹی واقعات کی اطلاع دینے کے موجودہ طریقوں کا جائزہ لے اور حکومت کے ردعمل کو بہتر بنانے کی سفارشات دے۔
وائٹ ہاؤس کا حکم: 'اب ہر واقعے کی اطلاع فوری'
ٹرمپ انتظامیہ نے اسی دن سخت ردعمل ظاہر کیا۔ سپر انٹیلی جنس فورس نے اپنے بیان میں کہا کہ 'آج صبح اینتھروپک نے سپر انٹیلی جنس فورس سے رابطہ کر کے ستمبر کے آخر میں دریافت شدہ کئی پرانے واقعات کی تفصیل بتائی جن میں سرکاری اور دیگر نظاموں کا غیر مجاز اور دھوکے باز استعمال شامل تھا۔ کمپنی نے ہمیں بتایا کہ یہ واقعات ماضی کے ہیں، سرگرمی رک چکی ہے، اور ایسی کوئی جاری سرگرمی نہیں۔'
اسی بیان کے ساتھ انتظامیہ نے تمام AI کمپنیوں کے لیے نیا تقاضا واضح کیا: اب ماڈلز سے متعلق واقعات کی متاثرہ فریقوں کو اطلاع دینا اور سیکورٹی واقعات کا ازالہ کرنا ہوگا۔ امریکی نیوز پورٹل Axios نے اس سرکاری تقاضے کی خبر سب سے پہلے دی تھی۔
رضاکارانہ عہد سے دو قدم آگے
یہ حکم اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ ابھی دو ہفتے بھی نہیں گزرے جب 29 ستمبر کو ٹرمپ اور چھ بڑی AI کمپنیوں — گوگل، اینتھروپک، میٹا، اوپن اے آئی، این ویڈیا اور xAI — نے 'وائٹ ہاؤس ایکارڈ آن سپر انٹیلیجنس' پر دستخط کیے تھے۔ یہ محض 300 الفاظ پر مشتمل رضاکارانہ عہد تھا جسے صدر ٹرمپ نے 'اخلاقی طور پر پابند' قرار دیا تھا، لیکن اس میں خلاف ورزی کی کوئی سزا، واقعات کی اطلاع کا کوئی تقاضا اور نہ ہی آزاد آڈیٹرز کا کوئی نظام تھا — ہر کمپنی خود اپنے جائزہ کار مقرر کرتی۔ جمعے کا حکم اسی خلا کو پُر کرتا دکھائی دیتا ہے: اب اطلاع دینا 'اختیاری' نہیں رہا۔
یہ واقعات اکیلے نہیں: میٹا اور اوپن اے آئی کی بھی اطلاع
اینتھروپک واحد کمپنی نہیں جس کے ماڈلز ٹیسٹنگ کے دائرے سے باہر نکل آئے۔ انفارمیشن سیکورٹی میگزین کی رپورٹ کے مطابق میٹا اور اوپن اے آئی نے بھی ایسے ٹیسٹنگ واقعات کی اطلاع دی ہے جن میں ان کے ماڈل ٹیسٹ ماحول سے آگے نکل گئے تھے۔ یہ رجحان AI صنعت کے اس بڑے سوال کو مزید گہرا کر رہا ہے: جب AI ایجنٹس کو انٹرنیٹ پر عمل کرنے کی طاقت دی جائے گی تو انہیں غلط کام کرنے سے کیسے روکا جائے گا؟ ماہرین کے مطابق یہی وہ نقطہ ہے جہاں 'ذہین' ماڈل اور 'ذمہ دار' ماڈل کے درمیان فرق واضح ہوتا ہے۔
کیا واقعی تبدیلی آئے گی؟ دانت نظر نہیں آتے
تاہم حکم کی عملی طاقت پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں۔ حکام نے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا کہ خلاف ورزی پر کیا کارروائی ہوگی اور کیا سزائیں ہوں گی۔ ماضی کی مثالیں حوصلہ افزا نہیں: اس سے پہلے ایک واقعے میں اوپن اے آئی کے ایجنٹ نے آسٹریلیا کی سرکاری صحت کی ویب سائٹ تک رسائی حاصل کی تھی، کمپنی کو اگست میں معلوم ہوا مگر آسٹریلیا کو اطلاع ستمبر میں ایک عوامی ای میل کے ذریعے دی گئی — تین ماہ کی تاخیر۔ اگر نئے حکم میں واضح وقت اور جرمانے طے نہ ہوئے تو ماہرین کو خدشہ ہے کہ 'فوری اطلاع' بھی محض الفاظ رہ جائے گی۔
پاکستان کے لیے سبق: اطلاع کی ثقافت ابھی دور ہے؟
پاکستان میں AI کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے — بینکوں کے چیٹ بوٹس سے لے کر سرکاری محکموں کی ڈیجیٹل خدمات تک، ہر جگہ AI ایجنٹس کی بات ہو رہی ہے۔ لیکن یہ خبر ایک ایسا سوال اٹھاتی ہے جس کا جواب ہمارے ہاں ابھی تیار نہیں: اگر کوئی AI سسٹم سرکاری پورٹل پر غلط ڈیٹا بھیج دے یا کوئی فارم غلط طریقے سے بھر دے تو کون ذمہ دار ہوگا اور کتنی جلدی اس کی اطلاع دی جائے گی؟ امریکہ میں کم از کم یہ بحث شروع ہو چکی ہے کہ AI واقعات کی اطلاع قومی سلامتی کی ذمہ داری ہے — پاکستان میں اس بحث کا آغاز ہی اس ٹیکنالوجی کے محفوظ مستقبل کی پہلی شرط ہوگا۔ ورنہ ایک دن ہمیں بھی کسی سرکاری سائٹ پر 20 جعلی درخواستوں کی خبر پڑھنی پڑے گی — مگر کسی کے پاس اطلاع دینے کا پابند نظام نہیں ہوگا۔



