ابوظہبی، 2 نومبر 2026 (نیوز ڈیسک): ابوظہبی نے اوپن اے آئی (OpenAI) کے ساتھ حکومت، توانائی اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں چار معاہدے کر لیے ہیں، جن کے تحت حکومتی قوانین کو ایسی شکل دی جائے گی جسے مشینیں پڑھ اور سمجھ سکیں۔ اس اقدام کا پہلا پائلٹ خوراک کی درآمد کی جانچ پر شروع ہو چکا ہے، جہاں اے آئی نظام افسران کو روزمرہ کی تعمیل کی جانچ میں مدد دے گا، جب کہ حتمی فیصلہ بدستور افسران کے ہاتھ میں رہے گا۔
ابوظہبی میڈیا آفس (Abu Dhabi Media Office) کے مطابق یہ معاہدے اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو سیم آلٹمین (Sam Altman) کی ابوظہبی آمد کے موقع پر طے پائے۔ آلٹمین نے ابوظہبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید آل نہیان (Sheikh Khaled bin Mohamed bin Zayed Al Nahyan) سے ملاقات کی، جنھوں نے دستخط کی تقریب میں شرکت کی۔
چار معاہدوں میں کیا طے پایا
چاروں معاہدوں کا مشترکہ مقصد اے آئی کو تجرباتی مرحلے سے آگے بڑھا کر ابوظہبی کے اہم شعبوں میں بڑے پیمانے پر استعمال میں لانا ہے۔ حکومتی شعبے میں مشین سے پڑھی جانے والی حکومت (Machine-Readable Government) کا نظام شروع کیا گیا ہے۔ توانائی کے شعبے میں ایڈنوک (ADNOC) اوپن اے آئی کی جدید ترین ٹیکنالوجی استعمال کرے گی۔ سرمایہ کاری کے شعبے میں مبادلہ (Mubadala) سرمایہ کاری کے فیصلوں میں اے آئی سے مدد لے گا۔ چوتھا معاہدہ پانچ برس پر محیط ہے، جس کے تحت حکومت، کاروبار اور تعلیم میں جدید اے آئی کے استعمال کو فروغ دیا جائے گا۔
ان معاہدوں کی مالی تفصیلات اور حکومتی نظام کے اگلے مراحل کا شیڈول اعلان میں واضح نہیں کیا گیا۔ فی الحال عملاً صرف خوراک کی درآمد کا پہلا پائلٹ شروع ہوا ہے۔
قوانین مشین کیسے پڑھے گی
عام طور پر حکومتی قوانین دستاویزات کی صورت میں ہوتے ہیں، جنھیں انسان پڑھ کر ہر درخواست پر الگ فیصلہ کرتا ہے۔ نئے نظام میں قوانین کے ایک طے شدہ مجموعے کو ایسی شکل دی جائے گی جسے اے آئی نظام براہ راست پڑھ اور استعمال کر سکے۔ اس کے بعد یہ نظام اجازت ناموں اور سرٹیفکیٹوں سمیت روزمرہ کی تعمیل کی جانچ میں افسران کی مدد دے گا۔
اس نظام کی دو خصوصیات اسے الگ کرتی ہیں۔ پہلی یہ کہ ہر جانچ کا سراغ اس قانون تک لگایا جا سکے گا جس کی بنیاد پر وہ کی گئی ہو، یعنی فیصلے کے پیچھے موجود قاعدہ چھپا ہوا نہیں رہے گا۔ دوسری یہ کہ حتمی فیصلے کی ذمے داری بدستور سرکاری افسران کے پاس رہے گی، اس طرح نظام افسر کی جگہ نہیں لے گا، بلکہ اس کے کام میں معاون بنے گا۔
اس پہل کی قیادت ابوظہبی کا محکمہ برائے حکومتی استعداد کار (Department of Government Enablement – Abu Dhabi) کر رہا ہے، اور اس کا پہلا پائلٹ ابوظہبی زراعت و غذائی تحفظ اتھارٹی (Abu Dhabi Agriculture and Food Safety Authority) کے ساتھ خوراک کی درآمد پر پہلے سے جاری ہے۔ خوراک کی درآمد کا انتخاب بے سبب نہیں: اس میں سرٹیفکیٹ، اصل ملک اور مصنوعات کی اقسام کی دہرائی جانے والی جانچ شامل ہوتی ہے۔
ٹیکنالوجی کے اعتبار سے بھی ایک اہم فیصلہ کیا گیا ہے: اس نظام کی کمپیوٹنگ متحدہ عرب امارات کے اندر موجود انفراسٹرکچر پر ہوگی، جسے اوپن اے آئی کی یو اے ای انفرنس ریزیڈنسی (UAE Inference Residency) کہا گیا ہے۔ سادہ الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ ماڈل کا عملی استعمال، یعنی انفرنس (Inference)، امارات کے ڈیٹا سینٹروں میں موجود گرافکس پروسیسرز (GPU) پر ہوگا۔
توانائی اور سرمایہ کاری کے معاہدے
توانائی کے شعبے میں ایڈنوک، جی 42 (G42) کی ذیلی کمپنی انسیپشن 42 (Inception42) اور اوپن اے آئی نے ایک معاہدہ کیا ہے، جس کے تحت ایڈنوک توانائی کے شعبے کی پہلی کمپنی بن جائے گی جو اوپن اے آئی کی فرنٹیئر ٹیکنالوجی استعمال کرے گی۔ یہ معاہدہ ایڈنوک کے آپریشن، سرمایہ کاری اور تجارتی فیصلوں کو ایک دوسرے سے جوڑے گا۔ یہ نظام اوپن اے آئی کے جی پی ٹی (GPT) ماڈلز پر چلے گا، اور اس کی کمپیوٹنگ بھی امارات کے اندر ہوگی۔
سرمایہ کاری کے شعبے میں مبادلہ، انسیپشن 42 اور اوپن اے آئی نے ایک معاہدہ کیا ہے، جس کے تحت جدید اے آئی صلاحیتوں کو سرمایہ کاری کے تجزیے، مواقع کی شناخت اور خطرات کی جانچ میں استعمال کیا جائے گا، تاکہ زیادہ باخبر فیصلے کیے جا سکیں اور طویل مدت میں قدر پیدا ہو۔ اس کے علاوہ انسیپشن 42 اور اوپن اے آئی نے پانچ برس کا معاہدہ بھی کیا ہے، جس کے تحت دونوں ادارے امارات کی بڑی تنظیموں کے لیے کاروباری حل تیار کریں گے۔
اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو سیم آلٹمین نے اس موقع پر کہا:
"ابوظہبی اور متحدہ عرب امارات مصنوعی ذہانت کو سرکاری اور نجی دونوں شعبوں میں اپنانے کا ایک جرات مندانہ عالمی معیار قائم کر رہے ہیں، تاکہ اس کے فوائد سب تک پہنچیں۔ ہمیں متحدہ عرب امارات کی اس خواہش کی حمایت پر فخر ہے، جس کی بنیاد حفاظت، رسائی اور ذمے دارانہ جدت پر ہے۔"
سیم آلٹمین، چیف ایگزیکٹو، اوپن اے آئی
ابوظہبی یہ سب کیوں کر رہا ہے
یہ معاہدے اچانک سامنے نہیں آئے۔ ابوظہبی برسوں سے خود کو مصنوعی ذہانت کی جدت اور استعمال کا عالمی مرکز بنانے کی کوشش کر رہا ہے، اور اس کا اعلان کردہ ہدف دنیا کی پہلی مکمل طور پر اے آئی پر مبنی حکومت بننا ہے۔ اس تناظر میں قوانین کو مشین کے پڑھنے کے قابل بنانا محض ایک نیا سافٹ ویئر نہیں، بلکہ حکومت چلانے کے طریقے میں تبدیلی کی کوشش ہے۔
دوسری جانب توانائی کا شعبہ بھی اس کہانی کا اہم حصہ ہے۔ روئٹرز کے مطابق اوپن اے آئی امارات میں بنائے جانے والے 5 گیگاواٹ کے اے آئی ڈیٹا سینٹر منصوبے کے پہلے مرحلے میں بھی شریک ہے۔ ڈیٹا سینٹروں کو بے پناہ توانائی درکار ہوتی ہے، اور آلٹمین نے ایڈیپیک (ADIPEC) میں توانائی کو اپنی کمپنی کے سامنے ایک چیلنج قرار دیا۔
اس فیصلے کی اہمیت اور حدود
اس پیش رفت کی اہمیت تین باتوں میں ہے۔ پہلی یہ کہ یہاں اے آئی حکومت کے بنیادی کام، یعنی قانون پر عمل درآمد، میں استعمال ہو رہا ہے۔ دوسری یہ کہ ڈیزائن میں جوابدہی کو جگہ دی گئی ہے: ہر جانچ کا قاعدے سے ربط اور حتمی فیصلہ انسان کے پاس رکھنا۔ تیسری یہ کہ ڈیٹا اور کمپیوٹنگ کو ملک کے اندر رکھنے کا فیصلہ خودمختاری کے خدشات کا جواب ہے۔
تاہم حدود بھی واضح ہیں۔ پہلا پائلٹ صرف خوراک کی درآمد تک محدود ہے، اور یہ بتایا نہیں گیا کہ دیگر شعبوں میں یہ نظام کب پھیلے گا۔ چاروں معاہدوں کی مالیت بھی سامنے نہیں آئی۔ یہ بھی واضح نہیں کہ پرانے یا پیچیدہ قوانین کو مشین کے پڑھنے کے قابل سانچے میں ڈھالنا کتنا مشکل ہوگا۔ ان سوالات کے جواب پہلے پائلٹ کے نتائج کے ساتھ ہی سامنے آئیں گے۔
پاکستان کے لیے اس میں کیا ہے
پاکستان کے لیے اس خبر میں براہ راست کوئی نئی سہولت تو نہیں، مگر ایک قابل غور نمونہ ضرور ہے۔ پاکستان میں بھی سرکاری خدمات کو آن لائن کرنے اور اجازت ناموں کے نظام کو بہتر بنانے کی کوششیں جاری ہیں، اور بندرگاہوں پر درآمدی اشیا کی جانچ ایک روزمرہ کی حقیقت ہے۔ ابوظہبی کے تجربے سے جو سبق نکلتا ہے، وہ ٹیکنالوجی سے زیادہ ڈیزائن کا ہے: قوانین کو پہلے واضح اور مشین کے پڑھنے کے قابل بنایا جائے، ہر فیصلے کا قاعدے سے ربط محفوظ رکھا جائے، اور حتمی فیصلہ انسان کے پاس رہے۔ اگر پاکستان میں بھی کسی دن اس طرز کا نظام بنے تو اس کی کامیابی کا انحصار اسی اصول پر ہوگا: نظام افسر کی جگہ لینے کے بجائے اس کا معاون بنے۔




