سان فرانسسکو، 30 اکتوبر 2026 (ویب ڈیسک): اوپن اے آئی (OpenAI) نے اپنے بامعاوضہ پرو پلان کے صارفین کے لیے استعمال کی حد دوگنی کر دی ہے۔ اس اعلان کے بعد پرو 100، پرو 200 اور پرو 500 کے صارفین کو چیٹ جی پی ٹی ورک (ChatGPT Work) اور کوڈیکس (Codex) کے لیے پہلے سے دوگنی گنجائش میسر آئے گی، جب کہ بزنس پریمیم (Business Premium) پلان کی حد بھی دوگنی کر دی گئی ہے۔ یہ تبدیلی 29 اکتوبر سے فوری طور پر نافذ ہو گئی ہے، اور موجودہ صارفین کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔
اعلان میں کیا بدلا ہے
اوپن اے آئی میں کوڈیکس اور چیٹ جی پی ٹی ورک کے سربراہ ٹیبو (Tibo) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر اپنے پیغام میں کہا کہ کمپنی پرو 100، پرو 200 اور پرو 500 کے تمام درجوں اور بزنس پریمیم کی استعمال کی حدیں دوگنی کر رہی ہے۔ دی ڈیکوڈر (The Decoder) کی رپورٹ کے مطابق نئی سبسکرپشن میں یہ حدیں پہلے سے شامل ہیں، جب کہ پرانے صارفین کو یہ سہولت خودکار طور پر مل جائے گی۔
"ہم پرو 100، پرو 200 اور پرو 500 کے تمام درجوں اور بزنس پریمیم کے لیے استعمال کی تمام حدیں دوگنی کر رہے ہیں، اور یہ تبدیلی آج سے نافذ ہے۔"
اس اعلان کی سب سے اہم بات پرو 200 کے صارفین سے متعلق ہے۔ کمپنی نے ان صارفین کی حد میں کمی کا جو منصوبہ بنایا تھا، اسے واپس لے لیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت 30 اکتوبر سے پرو 200 کے پرانے صارفین کی ورک اور کوڈیکس کی گنجائش پلس (Plus) پلان کے مقابلے میں 20 گنا سے کم ہو کر 10 گنا رہ جاتی، اور ہفتہ وار جی پی ٹی 6 پرو (GPT-6 Pro) پیغامات کی حد بھی 200 سے کم ہو کر 100 ہو جاتی، جب کہ ماہانہ قیمت 200 ڈالر ہی رہتی۔ اب یہ کٹوتی نہیں ہوگی، اور پرو 200 کے صارفین کی ورک اور کوڈیکس کی گنجائش سابقہ سطح پر برقرار رہے گی۔
رپورٹوں کے مطابق پرو 100 کی ماہانہ قیمت 100 ڈالر اور پرو 500 کی قیمت 500 ڈالر ہے، جب کہ عام پلس پلان 20 ڈالر ماہانہ کا ہے۔ پلس پلان اس اعلان سے باہر ہے، اور اس کی حد میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔ کمپنی نے مختلف درجوں کی حدوں کے درست اعداد عام نہیں کیے ہیں، اس لیے یہ معلوم نہیں کہ دوگنی حد کا مطلب عملی طور پر کتنے اضافی کام ہیں۔ بلیپنگ کمپیوٹر (BleepingComputer) کی رپورٹ کے مطابق حد کا دوگنا ہونا ضروری نہیں کہ مکمل ہونے والے کام بھی دوگنے ہو جائیں، کیوں کہ ہر کام میں ماڈل، کام کی نوعیت اور ترتیبات کے لحاظ سے استعمال کی مقدار مختلف ہوتی ہے۔
کٹوتی کا منصوبہ کیوں واپس لیا گیا
رپورٹوں کے مطابق 29 ستمبر کو کمپنی نے پرو 200 کے نئے فارمولے کا اعلان کیا تھا، جس میں پرانے صارفین کو 29 اکتوبر تک پرانی حد برقرار رکھنے کی مہلت دی گئی تھی، اور اس کے بعد 30 اکتوبر سے نئی، کم حد لاگو ہونا تھی۔ صارفین نے اس پر سخت اعتراض کیا، کیوں کہ قیمت وہی رہتی اور گنجائش آدھی ہو جاتی، جس کے بعد کمپنی نے کٹوتی کا فیصلہ واپس لے لیا۔
"ہم نے آپ کی مہربان آراء سن لی ہیں، اور ہم پرو 200 کی حد میں کمی نہیں کریں گے، اس لیے آپ کی ورک اور کوڈیکس کی گنجائش وہی رہے گی۔"
یہ وضاحت بھی ٹیبو نے اپنے پیغام میں دی تھی۔
یہ اعلان ٹیبو کی 28 روزہ بہتری کی مہم کے 25 ویں روز سامنے آیا ہے، جس میں انھوں نے ہر روز کوئی نمایاں بہتری پیش کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ اس تناظر میں حدوں میں اضافہ صارفین کے اعتماد کو بحال کرنے کی کوشش بھی ہے، کیوں کہ بھاری قیمتوں پر سوال اٹھ رہے تھے اور کمپنی کے لیے اپنے سب سے زیادہ رقم ادا کرنے والے صارفین کو یہ پیغام دینا ضروری تھا کہ ان کی گنجائش کم نہیں ہوگی۔
ڈاٹس کی حد الگ رہے گی
اعلان کا ایک اور اہم حصہ اوپن اے آئی کے نئے معاونین، ڈاٹس (Dots)، سے متعلق ہے۔ ڈاٹس ایسے ہمیشہ سرگرم اے آئی معاونین ہیں جو صارف کی طرف سے کوڈیکس کے کام خود شروع کر سکتے ہیں۔ کمپنی نے کہا ہے کہ ڈاٹس کی توسیع شدہ حدیں فی الحال برقرار رہیں گی، اور ڈاٹس کا استعمال صارف کی عام حد سے الگ گنا جائے گا۔ یوں ڈاٹس کا شروع کردہ کام صارف کی اپنی ورک یا کوڈیکس کی حد میں شمار نہیں ہوگا۔
یہ وضاحت اس لیے اہم ہے کہ ڈاٹس کا کام خودکار ہوتا ہے، اور صارف کو یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ اس کے معاون نے پس منظر میں کتنا استعمال کر لیا ہے۔ اگر ڈاٹس کا استعمال عام حد میں شامل ہو جاتا تو صارف کی حد تیزی سے ختم ہو سکتی تھی۔ تاہم کمپنی نے یہ نہیں بتایا ہے کہ ڈاٹس کی توسیع شدہ حدیں کب تک برقرار رہیں گی، اس لیے یہ مستقل وعدہ نہیں بلکہ فی الحال کی صورت حال ہے۔
مقابلے کا پس منظر
دی ڈیکوڈر کی رپورٹ کے مطابق یہ فیصلہ اس وقت آیا ہے جب کاروباری صارفین کے لیے اوپن اے آئی اور اینتھروپک (Anthropic) کے درمیان مقابلہ شدت اختیار کر گیا ہے۔ اینتھروپک اسٹاک مارکیٹ میں آنے کی تیاری کر رہی ہے، اور دونوں کمپنیاں کاروباری اداروں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی دوڑ میں ہیں۔ اس دوڑ میں قیمت اور گنجائش فیصلہ کن عنصر بن گئی ہے، کیوں کہ کاروباری صارفین وہی پلیٹ فارم چنتے ہیں جہاں ان کی ٹیمیں بغیر رکاوٹ کے زیادہ کام کر سکیں۔
اوپن اے آئی نے حال ہی میں جی پی ٹی 6.1 ٹیرا (GPT-6.1 Terra) اور جی پی ٹی 6.1 سول (GPT-6.1 Sol) متعارف کرائے ہیں، جن کے بارے میں کمپنی کا دعوٰی ہے کہ وہ پہلے سے زیادہ کارآمد ہیں۔ کمپنی کے مطابق وہ بہتر ماڈلز اور کارکردگی میں اضافے کے ذریعے صارفین کو دستیاب گنجائش مزید بڑھانا چاہتی ہے۔
دوسری جانب یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ حدوں کا یہ اضافہ کب تک قائم رہے گا، کیوں کہ کمپنی نے حدوں کے درست اعداد عام نہیں کیے اور ڈاٹس کی حدوں کی کوئی مستقل مدت بھی نہیں بتائی۔
پاکستانی صارفین کے لیے اس کا کیا مطلب ہے
پاکستان کے سافٹ ویئر ڈویلپرز، فری لانسرز اور چھوٹی ٹیموں کے لیے یہ خبر اس لیے متعلقہ ہے کہ کوڈیکس جیسے کوڈنگ معاونین اب ان کے روزمرہ کے کام کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ جو ڈویلپر بڑے پراجیکٹس پر کام کرتے ہیں، ان کے لیے استعمال کی حد اکثر اصل رکاوٹ بن جاتی ہے، اور حد دوگنی ہونے سے انھیں ایک ہی سبسکرپشن میں زیادہ کوڈنگ، جانچ اور اصلاح کا موقع مل سکتا ہے۔
تاہم اس کے ساتھ قیمت کا سوال بھی جڑا ہوا ہے۔ پرو 200 کی ماہانہ قیمت 200 ڈالر پاکستانی صارفین کے لیے ایک بھاری رقم ہے، اور پلس پلان کی حد میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔ اس لیے عام صارفین کو اس اعلان سے براہ راست فائدہ کم ہوگا، جب کہ زیادہ استعمال کرنے والے پیشہ ور صارفین اور ٹیمیں اس سے زیادہ فائدہ اٹھائیں گی۔
مجموعی طور پر اس سے ایک بات واضح ہوتی ہے کہ مہنگی سبسکرپشن کے معاملے میں بھی صارفین کی آواز وزن رکھتی ہے۔ اوپن اے آئی نے کٹوتی کا منصوبہ بنایا، صارفین نے اعتراض کیا، اور کمپنی نے نہ صرف کٹوتی واپس لی بلکہ حدیں دوگنی بھی کر دیں۔ نئی حدیں موجودہ صارفین کو خودکار طور پر ملیں گی، اور ڈاٹس کا استعمال فی الحال عام حد سے الگ گنا جائے گا۔




