سان فرانسسکو، 29 اکتوبر 2026 (نیوز ڈیسک): اینتھروپک (Anthropic) نے کاروباری صارفین کے لیے تین نئے ٹولز متعارف کرا دیے ہیں جو یہ بتائیں گے کہ مصنوعی ذہانت پر خرچ ہونے والی رقم سے کمپنیوں کو اصل میں کیا حاصل ہوا۔ ان ٹولز کی بدولت مینیجر اب یہ دیکھ سکیں گے کہ ان کی ٹیم نے ایک مخصوص مدت میں کیا کام کیا، اس کام پر کتنی لاگت آئی اور کام کے دوران کہاں رکاوٹ پیدا ہوئی۔
یہ تینوں ٹولز، اسمارٹ رپورٹس (Smart Reports)، مشترکہ گروپ بجٹ (Pooled Group Budgets) اور ایپ کے اندر سروے (In-App Surveys)، کلاڈ انٹرپرائز (Claude Enterprise) کے صارفین کے لیے جاری کر دیے گئے ہیں۔ اینتھروپک کے مطابق ان ٹولز کی آزمائش ستمبر سے جاری تھی اور اب انھیں تمام انٹرپرائز صارفین کے لیے جاری کر دیا گیا ہے۔
نئے ٹولز کیا کرتے ہیں
اسمارٹ رپورٹس اس مجموعے کا سب سے اہم حصہ ہیں۔ یہ رپورٹس کمپنی کے اندرونی تجزیے اور ملازمین کے سروے کو ملا کر تیار ہوتی ہیں۔ مینیجر کسی بھی مدت کا انتخاب کر کے دیکھ سکتا ہے کہ ٹیم نے کن کاموں پر اے آئی کا استعمال کیا، ہر کام پر کتنے ٹوکن خرچ ہوئے اور نتیجہ کیا نکلا۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ کام کا سلسلہ کہاں ٹوٹا اور اسے بہتر بنانے کے لیے کیا کرنا چاہیے۔
دوسرا ٹول مشترکہ گروپ بجٹ ہے۔ اس سے قبل ہر صارف کی خرچ کی حد الگ الگ مقرر ہوتی تھی، جس کے باعث کوئی سرگرم صارف مہینے کے درمیان میں ہی حد تک پہنچ جاتا تھا جبکہ دوسرے صارفین کا مختص بجٹ بچا رہتا تھا۔ نئے نظام میں منتظمین پوری ٹیم کے لیے ماہانہ مشترکہ حد مقرر کر سکیں گے۔ صارف ایک سے زیادہ گروپ بجٹ میں بھی شامل ہو سکتا ہے اور منتظمین ان بجٹ کی ترجیح بھی طے کر سکیں گے۔
تیسرا ٹول ایپ کے اندر سروے ہے جس کے ذریعے ملازمین سے یہ پوچھا جائے گا کہ کلاڈ (Claude) ان کے کام میں کس طرح مدد کر رہا ہے اور کیا اس کی بدولت وہ ایسے کام کر پا رہے ہیں جو پہلے ممکن نہیں تھے۔ اینتھروپک کا کہنا ہے کہ ان سروے اور رپورٹس کا ڈیٹا بطورِ ڈیفالٹ ماڈل کی تربیت کے لیے استعمال نہیں ہوگا۔
اینتھروپک نے واضح کیا ہے کہ یہ رپورٹس کسی ملازم کی انفرادی کارکردگی جانچنے یا ملازمت سے متعلق فیصلے کرنے کے لیے نہیں بنائی گئیں اور انھیں اس مقصد کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
خرچ کیوں بڑا سوال بن گیا ہے
اے آئی ٹولز پر خرچ کا سوال اس لیے شدت اختیار کر گیا ہے کہ یہ خرچ تیزی سے بڑھ رہا ہے اور اس کا حساب رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔ سافٹ ویئر ڈویلپرز کے لیے ٹولز بنانے والی کمپنی جیلی فش (Jellyfish) کی تازہ رپورٹ کے مطابق اس کے دو لاکھ چھہتر ہزار صارفین کے درمیان اے آئی کوڈنگ ٹولز پر خرچ رواں برس کے آغاز سے دس گنا بڑھ چکا ہے اور اب یہ مجموعی انجینئرنگ لاگت کا تقریباً دو فیصد بنتا ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ اینتھروپک کے ماڈلز پر بنے ٹولز سب سے زیادہ استعمال ہو رہے ہیں اور جائزے کے لیے پیش کی جانے والی کوڈ کی تبدیلیوں میں ان کا حصہ تقریباً ایک تہائی ہے۔ جیلی فش کے چیف سائنٹسٹ نکولس آرکولانو (Nicholas Arcolano) نے ٹیک کرنچ (TechCrunch) سے گفتگو میں کہا کہ دو فیصد کا عدد چھوٹا لگ سکتا ہے، مگر دس گنا اضافہ وہ ہے جس کی بیشتر مالیاتی افسران نے منصوبہ بندی نہیں کی تھی۔
"اگرچہ دو فیصد چھوٹا عدد لگتا ہے، مگر دس گنا اضافہ وہ ہے جس کی بیشتر مالیاتی افسران نے منصوبہ بندی نہیں کی تھی۔ اب صورتِ حال یہ ہے کہ صرف خرچ کرنا کافی نہیں، اسے بہتر بنانا بھی ضروری ہو گیا ہے۔"
یہ الفاظ جیلی فش کے چیف سائنٹسٹ نکولس آرکولانو کے ہیں، جو انھوں نے ٹیک کرنچ سے گفتگو میں کہے۔
دوسری جانب کے پی ایم جی (KPMG) کی ایک رپورٹ کے مطابق صرف بارہ فیصد کمپنیاں باقاعدگی سے یہ جانچتی ہیں کہ ان کے اے آئی منصوبوں سے حاصل ہونے والی قدر ان پر خرچ ہونے والی رقم کے برابر ہے یا نہیں۔ ٹیک کرنچ کے مطابق فارچیون 500 (Fortune 500) کی بیشتر کمپنیاں اے آئی سے ابھی بڑا فائدہ حاصل نہیں کر پا رہیں، اور یہی خلا نئے ٹولز کا ہدف ہے۔
اینتھروپک کی کاروباری حکمت عملی
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اینتھروپک نے سرمایہ کاروں کے ساتھ اپنے مالی اعداد بھی شیئر کیے ہیں۔ کمپنی کے مطابق اس کے اے آئی کوڈنگ ٹول کلاڈ کوڈ (Claude Code) نے رواں برس کی دوسری سہ ماہی میں آپریٹنگ منافع کمایا۔ موجودہ صارفین سے آمدنی برقرار رکھنے کی شرح نو سو فیصد رہی، جس کا مطلب ہے کہ گزشتہ برس کی تیسری سہ ماہی کے مقابلے میں رواں برس کی تیسری سہ ماہی میں وہی صارفین نو گنا زیادہ خرچ کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ اینتھروپک نے 26 اکتوبر کو اسٹاک مارکیٹ میں آنے کی دستاویزات جمع کرائی تھیں، اس لیے موجودہ صارفین کو برقرار رکھنا اس کے لیے مزید اہم ہو گیا ہے۔ نئے ٹولز اسی حکمت عملی کا حصہ ہیں، جن کی مدد سے صارف کو یہ دکھایا جاتا ہے کہ اس کی رقم کہاں جا رہی ہے اور اس سے کیا حاصل ہو رہا ہے، تاکہ وہ خرچ جاری رکھے۔
مسابقت کے محاذ پر بھی یہ اقدام اہم ہے۔ اوپن اے آئی (OpenAI) کا کوڈنگ ٹول کوڈیکس (Codex) اور گوگل (Google) کے ٹولز انٹرپرائز صارفین کے لیے اینتھروپک کے مدِ مقابل ہیں۔ جیلی فش کے اعداد کے مطابق اوپن اے آئی کے نئے ماڈل نے ابھی تک اینتھروپک کی برتری کو نمایاں نقصان نہیں پہنچایا، مگر مقابلہ سخت ہوتا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے نزدیک یہ رپورٹنگ ٹولز صارف کو کمپنی سے جوڑے رکھنے کا ذریعہ بھی ہیں، کیوں کہ ایک ٹول کے مطابق ڈھلی ٹیم کے لیے دوسرے ٹول پر منتقل ہونا آسان نہیں رہتا۔
رازداری اور حدود
اینتھروپک نے دو باتیں خاص طور پر واضح کی ہیں۔ پہلی یہ کہ رپورٹس اور سروے کا ڈیٹا بطورِ ڈیفالٹ ماڈل کی تربیت کے لیے استعمال نہیں ہوگا، یعنی کمپنی کا اندرونی کام اس کے ماڈلز کو بہتر بنانے کے لیے خود بخود استعمال نہیں ہوگا۔ دوسری یہ کہ یہ رپورٹس ٹیم کے مجموعی کام کا جائزہ لینے کے لیے ہیں، کسی فرد کی کارکردگی پرکھنے کے لیے نہیں۔
تاہم یہ ٹولز صرف اینتھروپک کے پلیٹ فارم کے اندرونی اعداد دکھاتے ہیں۔ مجموعی کاروباری فائدے، جیسے آمدنی میں اضافہ یا لاگت میں کمی، کا فیصلہ ان رپورٹس سے اکیلے نہیں ہو سکتا، اور اینتھروپک کے دعووں کی آزادانہ تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی ہے۔
پاکستانی سافٹ ویئر صنعت کے لیے مطلب
پاکستان کے سافٹ ویئر ہاؤسز اور فری لانس ڈویلپرز کے لیے اس خبر کا عملی پہلو براہِ راست ہے۔ ملک میں بہت سی چھوٹی ٹیمیں اب کوڈنگ کے لیے اے آئی ٹولز استعمال کر رہی ہیں اور ان کے ماہانہ بل ڈالر میں آتے ہیں۔ جب بل اچانک بڑھ جائے تو یہ جاننا مشکل ہوتا ہے کہ کس منصوبے یا ٹیم کے کس رکن پر کتنا خرچ ہوا۔ اینتھروپک کے نئے ٹولز اسی سوال کا جواب دیتے ہیں، مگر فی الحال یہ سہولت صرف کلاڈ انٹرپرائز کے صارفین کو میسر ہے، انفرادی یا چھوٹے صارفین کو نہیں۔
اس کے باوجود اس اعلان سے ایک بڑا اشارہ ملتا ہے: اے آئی ٹولز کی مارکیٹ اب اس مرحلے میں داخل ہو رہی ہے جہاں صرف صلاحیت بیچنا کافی نہیں، خرچ کا حساب بھی بیچنا پڑے گا۔ پاکستانی کمپنیوں کے لیے سبق یہ ہے کہ اے آئی ٹولز اپناتے وقت صرف ماہانہ فیس نہیں، بلکہ ٹوکن کے استعمال، ٹیم کی حد اور رپورٹنگ کی سہولت کو بھی فیصلے میں شامل کرنا چاہیے۔ جو ٹیم اپنے خرچ کا حساب رکھے گی، وہی طویل مدت میں اے آئی سے فائدہ اٹھا سکے گی۔




