اوسلو، 27 اکتوبر 2026 (ویب ڈیسک): براؤزر بنانے والی کمپنی اوپرا (Opera) نے اعلان کیا ہے کہ اس نے براؤزر کے اندر مقامی مصنوعی ذہانت (AI) چلانے کا ایک نیا معیار متعارف کرا دیا ہے۔ اس معیار کا نام ویب اے آئی (WebAI) ہے، اور اس کی بدولت ویب سائٹس اور براؤزر ایکسٹینشنز اے آئی ماڈلز کو صارف کے اپنے کمپیوٹر پر چلا سکیں گی، کسی دور دراز سرور پر انحصار کیے بغیر۔ کمپنی کے مطابق یہ سہولت سب سے پہلے اس کے مرکزی براؤزر اوپرا ون (Opera One) میں ابتدائی پیش نظارے کے طور پر دستیاب ہوئی ہے، جب کہ اوپرا جی ایکس (Opera GX) اور اوپرا نیون (Opera Neon) میں یہ جلد آئے گی۔
عام طور پر براؤزر کی اے آئی سہولتیں یوں کام کرتی ہیں کہ صارف کا سوال کسی کمپنی کے سرور تک جاتا ہے، وہاں ماڈل اس پر کام کرتا ہے، اور جواب واپس بھیجا جاتا ہے۔ اس عمل میں صارف کا ڈیٹا اس کے کمپیوٹر سے نکل کر باہر جاتا ہے، اور اکثر اس سہولت کے لیے ماہانہ سبسکرپشن بھی ادا کرنا پڑتی ہے۔ ویب اے آئی اس ترتیب کو الٹ دیتا ہے: ماڈل خود صارف کے لیپ ٹاپ پر چلتا ہے، اس لیے اے آئی کے حوالے کی گئی معلومات صارف کی اپنی ڈیوائس پر ہی رہتی ہیں۔
ویب اے آئی کیا ہے اور یہ کیسے کام کرے گا؟
ویب اے آئی ایک مجوزہ ویب معیار ہے، یعنی ایک ایسا مشترکہ طریقہ جس پر عمل کرتے ہوئے کوئی بھی ویب سائٹ یا ایکسٹینشن براؤزر کے ذریعے مقامی اے آئی سے رابطہ کر سکے۔ اوپرا کے مطابق اس معیار کی پشت پر گوگل (Google) اور مائیکروسافٹ (Microsoft) جیسی بڑی کمپنیاں بھی ہیں، اور اس کا ڈیزائن کسی ایک ماڈل سے بندھا ہوا نہیں ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ویب سائٹ بنانے والا کسی ایک کمپنی کے ماڈل کا پابند نہیں رہے گا، بلکہ براؤزر میں موجود مختلف اوپن ویٹ ماڈلز (Open-weight models) میں سے کسی کو بھی استعمال کر سکے گا۔
ویب اے آئی کی مدد سے تین بنیادی کام براؤزر کے اندر ہی ہو سکیں گے: متن تیار کرنا، مواد کی درجہ بندی کرنا، اور معلومات کے ٹکڑوں کے درمیان تعلق سمجھنا۔ مثال کے طور پر ایک ایکسٹینشن کھلے ہوئے ٹیبز کو ترتیب دے سکے گی، کلک بیٹ سرخیوں کی نشان دہی کر سکے گی، یا موزوں ملازمتوں کے اشتہار چن سکے گی، اور یہ سب کچھ صارف کے اپنے لیپ ٹاپ پر ہوگا، بغیر کسی اکاؤنٹ یا فیس کے، اور بیرونی سروس کو ڈیٹا بھیجے بغیر۔
صارفین اور ڈویلپرز کو کیا فائدہ ہوگا؟
صارف کے لیے اس پیش رفت کے تین واضح فائدے ہیں۔ پہلا، رازداری: اے آئی کے حوالے کیا گیا مواد صارف کی ڈیوائس سے باہر نہیں جائے گا۔ دوسرا، لاگت: صارف کو اے آئی سہولتوں کے لیے الگ سبسکرپشن لینے کی ضرورت نہیں ہوگی، کیوں کہ ماڈل اس کے اپنے کمپیوٹر پر چل رہا ہوگا۔ تیسرا، اختیار: یہ سہولت رضاکارانہ ہے، یعنی صارف جب تک اسے خود فعال نہیں کرے گا، تب تک کچھ بھی ڈاؤن لوڈ نہیں ہوگا، اور ہر ویب سائٹ کے لیے الگ اجازت طے کی جا سکے گی۔
ڈویلپرز کے لیے فائدہ اس سے بھی زیادہ واضح ہے۔ اب تک کسی ویب سائٹ میں اے آئی سہولت ڈالنے کا مطلب یہ تھا کہ ڈویلپر کو اپنا اے آئی انفراسٹرکچر چلانا پڑتا تھا یا ہر درخواست پر کسی کمپنی کو ادائیگی کرنی پڑتی تھی۔ ویب اے آئی کی بدولت ڈویلپر یہ بوجھ براؤزر پر ڈال سکے گا۔ اوپرا کے براؤزرز اور اے آئی کے ایگزیکٹو نائب صدر کرسٹین کولونڈرا (Krystian Kolondra) نے اسی نکتے کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے:
"لوگ اے آئی سے جو کچھ چاہتے ہیں، اس کا بڑا حصہ کسی ڈیٹا سینٹر کا محتاج نہیں ہے۔ آپ کا لیپ ٹاپ یہ کام پہلے ہی کر سکتا ہے، اپنا ڈیٹا کہیں بھیجے بغیر۔ ہم نے 2024 میں ڈویلپرز کے لیے مقامی ماڈل پیش کیے تھے۔ اب ہم انھیں سب تک پہنچا رہے ہیں۔"
آغاز میں کون سے ماڈل دستیاب ہوں گے؟
آغاز میں صارف گوگل کے اوپن ویٹ ماڈل جیما (Gemma) تک رسائی پا سکے گا، اور میک کمپیوٹرز پر ایپل (Apple) کا ڈیوائس پر چلنے والا فاؤنڈیشن ماڈل بھی اوپرا میں دستیاب ہوگا۔ اوپرا کا کہنا ہے کہ یہ صرف شروعات ہے، اور آگے مختلف ڈیوائسز کے لیے ڈھالے گئے مزید اوپن ماڈل بھی آئیں گے۔ یہ پیش نظارہ فی الحال 64 بٹ ونڈوز کمپیوٹرز، خواہ ان میں انٹیل (Intel) ہو یا اے ایم ڈی (AMD) کا پروسیسر، اور ایپل سلیکون والے میک کمپیوٹرز پر دستیاب ہے۔
یہاں ایک حد بھی ہے، جس کا ذکر خود اوپرا نے بھی کیا ہے: چونکہ اے آئی صارف کی اپنی ڈیوائس پر چل رہا ہوگا، اس لیے اس کی رفتار کا انحصار اس کمپیوٹر کی طاقت پر ہوگا۔ ایک نیا لیپ ٹاپ مقامی ماڈل کو تیزی سے چلا سکے گا، جب کہ پرانا کمپیوٹر اس میں سست پڑ سکتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ مقامی اے آئی کلاؤڈ اے آئی کا مکمل متبادل نہیں ہے، بلکہ ان کاموں کے لیے ایک نیا راستہ ہے جو ڈیوائس پر ہی ہو سکتے ہیں۔
2024 کی آزمائشی شروعات سے آج تک
اوپرا کی مقامی اے آئی کی کہانی آج سے نہیں شروع ہوئی۔ کمپنی کے مطابق وہ 2024 میں پہلا بڑا براؤزر تھا جس نے ڈویلپرز کے لیے آزمائشی ورژن میں مقامی اے آئی ماڈلز تک براہ راست رسائی دی تھی۔ اس وقت یہ سہولت صرف تجربہ کار ڈویلپرز تک محدود تھی۔ گزشتہ دو برسوں میں اوپن ویٹ ماڈل چھوٹے اور زیادہ قابل ہوئے ہیں، اور عام لیپ ٹاپ بھی زیادہ طاقت ور ہو گئے ہیں، ان دونوں تبدیلیوں نے 2024 کے تجربے کو آج کی عام سہولت بنا دیا ہے۔
اس اعلان کے ساتھ اوپرا نے ایچ ٹی ایم ایل ان کینوس (HTML-in-Canvas) نامی ایک دوسری سہولت بھی متعارف کرائی ہے، جس کی بدولت حقیقی ویب صفحات دو جہتی اور سہ جہتی مناظر میں بھی قابل استعمال رہیں گے۔
براؤزر اے آئی کی دوڑ میں اس کا مقام
براؤزر میں اے آئی لانا اب کوئی نئی بات نہیں رہی، مگر زیادہ تر موجودہ سہولتیں کلاؤڈ پر انحصار کرتی ہیں، جہاں صارف کا ڈیٹا باہر جاتا ہے اور کمپنی ہر درخواست کی قیمت وصول کرتی ہے۔ اوپرا کا راستہ اس سے مختلف ہے: وہ اے آئی کو صارف کی مشین پر لے آیا ہے، اور اسے کسی ایک ماڈل سے بھی نہیں باندھا ہے۔ اگر اس معیار کو اپنایا گیا تو چھوٹے ڈویلپرز بھی بغیر بھاری سرور خرچ کے اپنی مصنوعات میں اے آئی ڈال سکیں گے۔
دوسری جانب، اس کی کامیابی کا انحصار ابھی کئی سوالوں پر ہے: کیا دوسرے براؤزر بھی ویب اے آئی اپنائیں گے، اور کیا ویب سائٹس اپنی سہولتیں مقامی ماڈلز پر منتقل کریں گی؟ تاحال یہ پیش نظارہ ہے، حتمی سہولت نہیں، اس لیے اصل امتحان آنے والے مہینوں میں ہوگا۔
پاکستانی صارفین کے لیے اس کا مطلب
پاکستانی ڈویلپرز کے لیے اس اعلان میں ایک عملی پہلو ہے: جو چھوٹی ٹیم اپنی ویب سائٹ یا ایکسٹینشن میں اے آئی سہولت ڈالنا چاہتی ہے، مگر سرور اور فی درخواست ادائیگی کا خرچ برداشت نہیں کر سکتی، اس کے لیے مقامی اے آئی ایک سستا راستہ کھول سکتی ہے۔ اسے نہ اپنا انفراسٹرکچر چلانا ہوگا، نہ ہر درخواست کی قیمت ادا کرنی ہوگی۔ اسی طرح طلبہ اور فری لانسرز کے لیے بھی یہ سہولت اس لیے کارآمد ہو سکتی ہے کہ اس میں سبسکرپشن کی رکاوٹ نہیں ہے، اور ڈیٹا ان کی اپنی ڈیوائس پر رہتا ہے۔
تاہم وہی حد یہاں بھی لاگو ہوتی ہے: مقامی اے آئی اتنی ہی اچھی چلے گی، جتنا اچھا صارف کا کمپیوٹر ہوگا، اور پاکستان میں بہت سے صارفین پرانے یا درمیانی درجے کے کمپیوٹر استعمال کرتے ہیں۔ اس کے باوجود سمت واضح ہے: اے آئی بڑے سروروں سے نکل کر صارف کی اپنی مشین تک آ رہی ہے۔




