سان فرانسسکو، 22 اکتوبر 2026 (ویب ڈیسک): اوپن اے آئی نے اپنے جدید ترین GPT-6 ماڈلز کو گوگل کلاؤڈ پر دستیاب کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت GPT-6 خاندان کے تینوں ماڈل Astra، Sol اور Luna گوگل کلاؤڈ کے Model Garden میں فروخت ہوں گے، جبکہ کمپنی کا کوڈنگ ایجنٹ کوڈکس بھی اسی پلیٹ فارم پر آئے گا۔ گوگل کا دعویٰ ہے کہ وہ اب واحد بڑا کلاؤڈ فراہم کنندہ ہوگا جہاں گوگل کے اپنے جیمینائی، اینتھروپک کے کلاڈ اور اوپن اے آئی کے ماڈلز، تینوں بڑے بند ماڈل ایک ہی جگہ ملیں گے۔
معاہدے میں کیا شامل ہے
اوپن اے آئی نے 21 اکتوبر کو اپنی ویب سائٹ پر اعلان کیا کہ اس کے فرنٹیئر ماڈل اب گوگل کلاؤڈ کے صارفین کے لیے دستیاب ہوں گے۔ CNBC، آرس ٹیکنیکا اور دیگر امریکی اشاعتوں کے مطابق پہلے مرحلے میں منتخب کاروباری صارفین کو نجی آزمائش کے طور پر رسائی دی جائے گی، جبکہ عام دستیابی آنے والے ہفتوں میں شروع ہونے کی توقع ہے۔
Model Garden گوگل کلاؤڈ کی وہ مارکیٹ پلیس ہے جہاں دو سو سے زائد AI ماڈل پہلے سے موجود ہیں۔ ان میں گوگل کے اپنے جیمینائی ماڈل، اینتھروپک کا کلاڈ اور اوپن ماڈل جیسے Mistral اور Llama شامل ہیں۔ GPT-6 خاندان کی آمد سے اس کیٹلاگ کی سب سے بڑی کمی دور ہو جائے گی، کیونکہ GPT اب تک وہ واحد بڑا بند ماڈل خاندان تھا جو گوگل کلاؤڈ پر دستیاب نہیں تھا۔
بلنگ بھی گوگل کے نظام سے ہوگی۔ ماڈلز کی قیمت گوگل کلاؤڈ مارکیٹ پلیس کے ذریعے وصول ہوگی، اور یہ رقم صارفین کے گوگل کلاؤڈ کے ساتھ طے شدہ سالانہ اخراجات میں شمار ہوگی۔ اس کا مطلب ہے کہ جو کمپنیاں پہلے سے گوگل کلاؤڈ پر خرچ کر رہی ہیں، انہیں اوپن اے آئی کے ماڈلز کے لیے علیحدہ ادائیگی کا نظام نہیں بنانا پڑے گا۔
اعلان میں تین چیزیں شامل ہیں: Model Garden میں فرنٹیئر ماڈل، کوڈ اور ڈیٹا پر چلنے والے ایجنٹک ورک فلو والا کوڈکس، اور آنے والے دنوں میں یہی ماڈل گوگل کے Antigravity کوڈنگ ٹول اور Gemini Agent مصنوعات میں۔
تین ماڈل، تین مختلف کام
گوگل کے مطابق GPT-6 خاندان کا ہر ماڈل الگ مقصد کے لیے بنایا گیا ہے۔ Astra سب سے طاقتور ہے اور مشکل کوڈنگ، کمپیوٹر کے استعمال، پیشہ ورانہ کام اور تحقیق کے لیے ہے۔ Sol اس کے قریب کارکردگی کم قیمت میں دیتا ہے اور AI ایجنٹوں اور کوڈنگ کے لیے موزوں ہے۔ Luna سب سے تیز اور سستا ہے اور روزمرہ کے عام کاموں کے لیے بنایا گیا ہے۔
اوپن اے آئی کی اپنی API کی فہرست قیمتوں کے مطابق Astra کے دس لاکھ ٹوکن کے ان پٹ پر 10 ڈالر اور آؤٹ پٹ پر 50 ڈالر لاگت آتی ہے۔ Sol کے لیے یہ قیمت 2 اور 10 ڈالر ہے، جبکہ Luna کے لیے صرف 0.10 اور 0.50 ڈالر۔ گوگل نے ابھی اپنی قیمتوں کا اعلان نہیں کیا، اس لیے یہ معلوم نہیں کہ گوگل کلاؤڈ پر یہی قیمتیں لاگو ہوں گی یا الگ ہوں گی۔ قیمتوں کا اعلان عام دستیابی کے قریب متوقع ہے۔
حریف سے شراکت دار تک
یہ خبر اس لیے بھی بڑی ہے کہ گوگل اور اوپن اے آئی برسوں سے حریف ہیں۔ گوگل کے جیمینائی ماڈل براہ راست اوپن اے آئی کے GPT سے مقابلہ کرتے ہیں۔ CNBC کے مطابق ابھی چند ماہ پہلے ہی مائیکروسافٹ کا اوپن اے آئی کی دانشورانہ ملکیت پر خصوصی لائسنس ختم ہوا تھا۔ اس لائسنس کے ختم ہونے کے اگلے ہی دن ایمازون نے اعلان کیا تھا کہ وہ اپنے کلاؤڈ پر اوپن اے آئی کے ماڈل ہوسٹ کرے گا۔ اب گوگل تیسرا بڑا امریکی کلاؤڈ فراہم کنندہ ہے جو یہی قدم اٹھا رہا ہے۔ اس طرح اوپن اے آئی کے ماڈل اب تینوں بڑے کلاؤڈ پلیٹ فارمز پر دستیاب ہوں گے۔
اس کے باوجود اوپن اے آئی نے واضح کیا ہے کہ مائیکروسافٹ اس کا بنیادی کلاؤڈ شراکت دار رہے گا۔ گوگل کلاؤڈ کے سربراہ تھامس کورین نے کہا کہ ان کی کمپنی کی توجہ صارفین کو ماڈلز کا وسیع انتخاب دینے پر ہے، بشمول اوپن اے آئی کے ماڈل۔
کلاؤڈ کی جنگ میں نیا محاذ
اس معاہدے کے پیچھے کلاؤڈ مارکیٹ کی سخت مقابلہ بازی بھی ہے۔ CNBC کے مطابق گوگل کے کلاؤڈ یونٹ کی آمدنی میں دوسری سہ ماہی میں سالانہ بنیاد پر تقریباً 82 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ اسی عرصے میں ایمازون کے 37 اور مائیکروسافٹ کے 42 فیصد اضافہ ہوا۔ تینوں کمپنیاں اگلے ہفتے اپنی سہ ماہی نتائج کا اعلان کریں گی، اس لیے یہ اعلان ان نتائج سے پہلے گوگل کی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش بھی لگتا ہے۔
دوسری طرف اوپن اے آئی بھی صارفین کی بنیاد بڑھانے کی دوڑ میں ہے۔ اطلاعات کے مطابق کمپنی 1.4 ٹریلین ڈالر کی قیمت پر سرمایہ کاروں کی تلاش میں ہے۔ ایسے میں اپنے ماڈل تینوں بڑے کلاؤڈز پر لانا کاروباری صارفین تک رسائی بڑھانے کی واضح حکمت عملی ہے۔ یہ اس تبدیلی کا بھی حصہ ہے جس میں اوپن اے آئی چیٹ جی پی ٹی کے صارفین سے آگے بڑھ کر انٹرپرائز مارکیٹ کی طرف بڑھ رہی ہے۔
صارفین کے لیے سب سے بڑا فائدہ لچک ہے۔ گوگل کا کہنا ہے کہ اس کا نظام کارکردگی، تاخیر اور لاگت کی بنیاد پر کام خودکار طور پر ایک ماڈل سے دوسرے ماڈل پر منتقل کر سکتا ہے۔ اس سے کمپنیوں کو ہر کام کے لیے درست ماڈل چننے کی سہولت ملے گی۔ مثال کے طور پر مشکل تحقیق کے لیے Astra اور روزمرہ کے کاموں کے لیے Luna استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ سب ایک ہی بل میں آئے گا۔
اب بھی کئی سوال باقی ہیں
اعلان مختصر ہے اور کئی اہم تفصیلات ابھی معلوم نہیں۔ گوگل نے اپنی قیمتیں نہیں بتائیں۔ یہ نہیں بتایا کہ کن خطوں میں ماڈل دستیاب ہوں گے۔ زیرو ڈیٹا ریٹینشن اور کانفیڈنشل کمپیوٹ جیسی خصوصیات ابھی جلد آنے والی فہرست میں ہیں، جو ان کمپنیوں کے لیے اہم ہیں جو حساس ڈیٹا پر AI چلاتی ہیں۔ جو ٹیمیں کسی مخصوص ماڈل پر منصوبہ بندی کر رہی ہیں، انہیں Model Garden میں اصل فہرست کا انتظار کرنا چاہیے۔
ایک اور سوال یہ ہے کہ اوپن اے آئی کی اپنی API استعمال کرنے والے موجودہ صارفین پر کیا اثر پڑے گا۔ گوگل پر دستیابی سے انہیں نیا راستہ تو ملے گا، لیکن دونوں پلیٹ فارمز کی قیمتوں اور خصوصیات میں فرق فیصلے کو متاثر کرے گا۔ یہ تفصیلات عام دستیابی کے وقت واضح ہوں گی۔
پاکستان کے لیے اس کے کیا معنی ہیں
پاکستان کے سافٹ ویئر ہاؤسز اور اسٹارٹ اپس کے لیے یہ خبر براہ راست اہمیت رکھتی ہے۔ جو کمپنیاں پہلے سے گوگل کلاؤڈ استعمال کر رہی ہیں، وہ اب GPT-6 ماڈلز تک اسی بل اور اسی معاہدے کے تحت پہنچ سکیں گی۔ انہیں اوپن اے آئی سے علیحدہ معاہدہ یا علیحدہ ادائیگی کا بندوبست نہیں کرنا پڑے گا۔
اس سے ماڈلز کے درمیان موازنہ بھی آسان ہوگا۔ ایک ہی ڈیش بورڈ سے ٹیمیں جیمینائی، کلاڈ اور GPT کے نتائج کا موازنہ کر سکیں گی اور ہر کام کے لیے سستا یا بہتر ماڈل چن سکیں گی۔ خاص طور پر ان ٹیموں کے لیے یہ فائدہ مند ہے جو پہلے سے گوگل کلاؤڈ کے سالانہ وعدوں کے تحت اخراجات کرتی ہیں، کیونکہ ماڈلز کی قیمت بھی انہی وعدوں میں شمار ہوگی۔
البتہ حتمی فیصلے سے پہلے قیمتوں اور ڈیٹا کے تحفظ کی تفصیلات کا انتظار کرنا چاہیے۔ زیرو ڈیٹا ریٹینشن جیسی خصوصیات کے بغیر حساس صارف ڈیٹا پر ماڈل چلانا خطرناک ہو سکتا ہے۔ آنے والے ہفتوں میں عام دستیابی کے ساتھ یہ تصویر واضح ہو جائے گی، اور تب پاکستانی ڈویلپرز کے لیے اصل فائدے کا اندازہ لگایا جا سکے گا۔




