ماؤنٹین ویو، 15 اکتوبر 2026 (ویب ڈیسک): گوگل نے اپنا اے آئی شاپنگ کارٹ "یونیورسل کارٹ" امریکہ میں متعارف کرا دیا ہے۔ یہ ٹول گوگل سرچ اور جیمنائی ایپ میں نظر آنے والی مصنوعات ایک ہی جگہ جمع کرتا ہے۔ قیمتوں میں کمی اور دوبارہ دستیابی کی اطلاع دیتا ہے، اور بہترین ادائیگی کا طریقہ بھی تجویز کرتا ہے۔ ٹیک کرنچ کے مطابق گوگل نے اس ٹول کی پہلی جھلک مئی میں اپنی ڈویلپر کانفرنس گوگل آئی او میں دکھائی تھی۔ اب یہ امریکی صارفین کے لیے دستیاب ہے۔
یونیورسل کارٹ کیا کرے گا
آن لائن خریداری کرنے والوں کا ایک پرانا مسئلہ یہ ہے کہ پسند کی چیزیں مختلف دکانوں کی ویب سائٹوں پر بکھری ہوتی ہیں۔ کوئی جوتا ایک دکان پر نظر آتا ہے، کوئی گھڑی دوسری پر۔ کچھ دن بعد جب خریدنے کا ارادہ ہو تو وہی چیزیں دوبارہ ڈھونڈنی پڑتی ہیں۔ گوگل کا نیا ٹول اسی الجھن کو ختم کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔
یونیورسل کارٹ میں صارف گوگل سرچ یا جیمنائی ایپ میں پسند آنے والی چیز محفوظ کر سکتا ہے۔ دکان کوئی بھی ہو، چیز کارٹ میں محفوظ ہو جائے گی۔ بعد میں واپس آنے پر ساری محفوظ کردہ چیزیں وہیں ملتی ہیں۔ خریداری وہیں سے آگے بڑھائی جا سکتی ہے، اس لیے دوبارہ تلاش کی ضرورت نہیں پڑتی۔ دی ورج کے مطابق یہ کارٹ مختلف دکانوں کی مصنوعات ایک ہی جگہ جمع کر دیتا ہے۔ یہ گوگل سرچ کے اے آئی موڈ میں بھی کام کرتا ہے۔
کارٹ کی ایک اہم خوبی قیمتوں پر نظر رکھنا ہے۔ اگر محفوظ کردہ کسی چیز کی قیمت گر جائے تو صارف کو اطلاع مل جاتی ہے۔ جو چیز ختم ہو گئی ہو، اس کے دوبارہ دستیاب ہونے کی خبر بھی ملتی ہے۔ اس طرح ہر دکان کی ویب سائٹ الگ الگ چیک کرنے کی زحمت ختم ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ کارٹ متعلقہ پرومو کوڈ بھی دکھاتا ہے۔ خریدار اس سے رعایت کا فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
دی ورج کے مطابق گوگل آگے چل کر یونیورسل کارٹ کو جی میل اور یوٹیوب سے بھی جوڑنا چاہتا ہے۔ تاہم اس کی کوئی تاریخ ابھی اعلان نہیں ہوئی۔ اگر ایسا ہوا تو ای میل کی رسیدوں یا یوٹیوب پر دیکھی گئی مصنوعات بھی اسی کارٹ کا حصہ بن سکیں گی۔ اس طرح گوگل کی مختلف خدمات ایک ہی خریداری کے نظام میں جڑ جائیں گی۔
ادائیگی میں مدد اور نیا تجارتی معیار
یونیورسل کارٹ صرف چیزیں جمع کرنے تک محدود نہیں، بلکہ ادائیگی کے مرحلے میں بھی رہنمائی کرتا ہے۔ گوگل والیٹ کے ساتھ مل کر یہ ٹول صارف کے کریڈٹ کارڈز کے فوائد کا جائزہ لیتا ہے۔ پھر بتاتا ہے کہ کس کارڈ سے ادائیگی زیادہ فائدہ مند رہے گی۔
ادائیگی کے دو طریقے ہیں۔ صارف گوگل والیٹ سے براہ راست ادائیگی کر سکتا ہے، یا اپنی چیزیں دکان دار کے کارٹ میں منتقل کر کے وہیں سے خریداری مکمل کر سکتا ہے۔
اس ٹول کی بنیاد گوگل کا "یونیورسل کامرس پروٹوکول" ہے، جسے مختصراً یو سی پی کہا جاتا ہے۔ یہ ایک کھلا معیار ہے جسے گوگل نے اسی سال متعارف کرایا تھا۔ اس معیار کا مقصد یہ ہے کہ اے آئی ایجنٹ اور دکان دار خریداری کے مختلف مراحل میں ایک ساتھ کام کر سکیں۔ ادائیگی کا مرحلہ بھی اس میں شامل ہے۔ ٹیک کرنچ کے مطابق یہ وہ بنیاد ہے جس پر مستقبل میں اے آئی ایجنٹ خود خریداری کے کام سنبھال سکیں گے۔
تعطیلات سے پہلے ای کامرس کی دوڑ
یونیورسل کارٹ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ میں بلیک فرائیڈے اور سال کے آخر کی تعطیلات کا خریداری سیزن قریب ہے۔ دی ورج کے مطابق یہی وہ دور ہے جب آن لائن دکانیں سب سے زیادہ فروخت کرتی ہیں۔ گوگل اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔
گوگل اس دوڑ میں اکیلا نہیں ہے۔ اوپن اے آئی اور میٹا پہلے ہی ایسے اے آئی معاون متعارف کرا چکے ہیں جو صارف کی طرف سے آن لائن خریداری کر سکتے ہیں۔ ایمیزون بھی ایجنٹوں کے ذریعے خریداری کی خصوصیات لا رہا ہے۔ شاپیفائی نے بھی حال ہی میں اعلان کیا کہ وہ اپنا پلیٹ فارم مزید اے آئی ایجنٹوں کے لیے کھول رہا ہے۔ اس طرح ایجنٹ اس کی دکانوں سے خریداری کر سکیں گے۔
دکان داروں کے لیے اس تبدیلی کے دو رخ ہیں۔ ایک طرف اے آئی ایجنٹ ان کی مصنوعات زیادہ خریداروں تک پہنچا سکتے ہیں۔ ایجنٹ قیمتوں اور دستیابی کا موازنہ خود کر کے بہترین سودا تلاش کرتا ہے۔ دوسری طرف دکانوں کی ویب سائٹوں پر آنے والوں کی تعداد کم ہو سکتی ہے۔ خریدار دکان پر جانے کے بجائے گوگل کے کارٹ میں ہی فیصلہ کر لے گا۔ یہی وجہ ہے کہ شاپیفائی جیسے پلیٹ فارم خود اے آئی ایجنٹوں کے لیے دروازے کھول رہے ہیں۔ وہ اس نئے نظام سے باہر رہنے کے بجائے اس کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔
یہ سب ایک بڑی تبدیلی کی طرف اشارہ ہے۔ آن لائن خریداری کا مستقبل ایسا ہو سکتا ہے جہاں زیادہ تر کام انسان کے بجائے ایک ذہین معاون انجام دے۔ گوگل اس سمت میں پہلے سے سرگرم ہے۔ سرچ کے اے آئی موڈ میں بات چیت کے ذریعے مصنوعات تلاش کرنے کی سہولت پہلے سے موجود ہے۔ "لیٹ گوگل کال" نامی ٹول اے آئی ایجنٹ کے ذریعے قریبی دکانوں سے رابطہ کر کے معلوم کرتا ہے کہ مطلوبہ چیز دستیاب ہے یا نہیں۔ یونیورسل کارٹ اسی سلسلے کی تازہ ترین کڑی ہے۔
پاکستان کا زاویہ
پاکستان میں آن لائن خریداری تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ یہاں کے خریدار بھی وہی مسئلہ محسوس کرتے ہیں جو یونیورسل کارٹ حل کرنا چاہتا ہے۔ ایک چیز ایک دکان کی ویب سائٹ پر ملتی ہے، دوسری کسی اور پر، اور قیمتوں کا موازنہ تھکا دینے والا کام ہے۔ اگرچہ گوگل کا یہ ٹول فی الحال صرف امریکہ میں دستیاب ہے، لیکن اس کے پیچھے موجود رجحان پاکستان کے لیے بھی اہم ہے۔
پاکستانی ای کامرس پلیٹ فارم بھی آہستہ آہستہ اے آئی خصوصیات اپنا رہے ہیں۔ عالمی سطح پر ایجنٹوں سے خریداری کا بڑھتا رجحان مقامی دکان داروں کے لیے ایک اشارہ ہے۔ آنے والے برسوں میں مقابلہ صرف قیمتوں کا نہیں، ذہین خریداری کے تجربے کا بھی ہوگا۔ جو پلیٹ فارم خریدار کی الجھن کم کرے گا، وہی آگے رہے گا۔
نتیجہ
یونیورسل کارٹ گوگل کی اے آئی خریداری حکمت عملی کا ایک اہم قدم ہے۔ بکھری ہوئی آن لائن خریداری ایک جگہ سمٹے گی، قیمتوں پر نظر رہے گی، اور ادائیگی آسان ہوگی۔ تعطیلات کی خریداری کا سیزن شروع ہونے سے پہلے اس کا اجرا ظاہر کرتا ہے کہ گوگل ای کامرس میں اے آئی کی دوڑ میں پیچھے نہیں رہنا چاہتا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ صارفین اسے کتنا اپناتے ہیں، اور حریف کمپنیاں اس کا جواب کیسے دیتی ہیں۔



