ہانگ چو، 21 اکتوبر 2026 (نیوز ڈیسک): چینی مصنوعی ذہانت کی لیب ڈیپ سیک نے اپنا اندرونی انفرنس انجن ڈیپ انفر اوپن سورس کر دیا ہے۔ کمپنی نے 20 اکتوبر کو اس سافٹ ویئر کا کوڈ گٹ ہب پر جاری کیا۔ یہ وہی نظام ہے جو ڈیپ سیک کے فلیگ شپ ماڈل V4.1-Flash کو اس کے اپنے پروڈکشن سرورز پر چلاتا ہے۔ یہ کوڈ اب اپاچی 2.0 لائسنس کے تحت دستیاب ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ کوئی بھی ڈویلپر یا کمپنی اسے مفت استعمال کر سکے گی۔ وہ اس میں تبدیلی بھی کر سکے گی۔ اسے اپنی تجارتی مصنوعات میں بھی لگا سکے گی۔
گیزموڈو، کوارٹز اور انٹرکنیکٹس اے آئی سمیت کئی اداروں نے اسی دن اس خبر کو نمایاں کیا۔ ڈیپ سیک پہلے ہی کم قیمتوں کے ساتھ مارکیٹ میں ہلچل مچا چکا تھا۔ اب اس نے وہ سافٹ ویئر بھی کھول دیا ہے جو اس کے ماڈلز کو تیز اور سستا چلاتا ہے۔
ڈیپ انفر اصل میں کرتا کیا ہے
سادہ الفاظ میں ڈیپ انفر ایک ایسا انجن ہے جو تربیت شدہ ماڈل کو چلانے کا کام کرتا ہے۔ جب کوئی صارف چیٹ بوٹ سے سوال پوچھتا ہے تو اس کے پیچھے یہی سافٹ ویئر فیصلے کرتا ہے۔ یہ طے کرتا ہے کہ حساب کتاب کہاں ہو، کون سی درخواستیں مل کر کام کریں اور مشینیں آپس میں کیسے بات کریں۔ بڑے پیمانے پر یہی فیصلے اصل لاگت اور رفتار طے کرتے ہیں۔
ڈیپ سیک کی دستاویزات کے مطابق اس فریم ورک میں تیز حساب کے لیے مخصوص کرنل ہیں۔ یہ کام کو ایک سے زیادہ چپس پر تقسیم کر سکتا ہے۔ اس میں اسپیکیولیٹو ڈی کوڈنگ کا نظام ہے جو جواب بننے کی رفتار بڑھاتا ہے، اور اسنکرونس شیڈولنگ ہے جو مہنگے ہارڈویئر کو مسلسل مصروف رکھتی ہے۔
اس کی سب سے اہم صلاحیت مکسچر آف ایکسپرٹس ماڈل کی تقسیم ہے۔ ایسے ماڈل میں کئی چھوٹے ماہر نیٹ ورک ہوتے ہیں، اور ہر ٹوکن کے لیے صرف منتخب ماہر استعمال ہوتے ہیں۔ ڈیپ انفر ان ماہرین کو مختلف ڈیوائسز پر پھیلاتا ہے۔ اگر کوئی ماہر زیادہ مصروف ہو جائے تو نظام اس کی اضافی نقل بنا لیتا ہے اور ان کی جگہ بدلتا رہتا ہے۔
ڈیپ سیک نے تسلیم کیا ہے کہ یہ نظام اصل میں مقبول اوپن سورس فریم ورک vLLM پر بنایا گیا تھا۔ یہ اعتراف اہم ہے کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ موجودہ نظاموں کے اندر ایک مخصوص بہتری ہے، اس بات کا ثبوت نہیں کہ حریفوں کے انجن کمزور ہیں۔
لائسنس کیوں اہم ہے
اپاچی 2.0 ایک آزاد لائسنس ہے۔ یہ تجارتی استعمال کی اجازت دیتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ڈیپ سیک کے براہ راست حریف بھی یہ کوڈ لے سکتے ہیں۔ وہ اسے اپنی ادا شدہ مصنوعات میں لگا سکتے ہیں۔ انہیں لائسنس کے نوٹس کے سوا ڈیپ سیک کو کچھ نہیں دینا ہوگا۔
یہ ایک سوچا سمجھا اشارہ ہے۔ اب ایک چھوٹا اسٹارٹ اپ وہ انجینئرنگ حاصل کر سکتا ہے جو ایک فرنٹیئر لیب اپنے اندر استعمال کرتی ہے۔ اسے یہ انجینئرنگ ازسر نو ایجاد نہیں کرنی پڑے گی، اور مہنگا تجارتی سافٹ ویئر خریدنے کی بھی ضرورت نہیں ہوگی۔
اس اقدام سے اوپن اے آئی اور اینتھروپک پر دباؤ بڑھے گا۔ دونوں کمپنیوں نے اپنے انفرنس کے نظام بند رکھے ہیں۔ ان کی API قیمتوں کا ایک حصہ اسی بند انفراسٹرکچر کی لاگت پر مبنی ہے۔ اگر ڈویلپر مفت کوڈ سے ڈیپ سیک جیسی کارکردگی کے قریب پہنچ جائیں تو مقابلہ صرف اس پر نہیں رہے گا کہ کس کا ماڈل زیادہ ذہین ہے۔ یہ بھی طے ہوگا کہ کس کا نظام بڑے پیمانے پر سستا چلتا ہے۔ دونوں کمپنیوں نے اس ریلیز پر ابھی تک کوئی عوامی ردعمل نہیں دیا۔
جو حصے ڈیپ سیک نے جاری نہیں کیے
ڈیپ سیک نے اس ریلیز کی حدود بھی صاف بتائی ہیں۔ یہ سافٹ ویئر فی الحال صرف آف لائن انفرنس دیتا ہے۔ اس میں عارضی میموری کے مکمل انتظام کا نظام شامل نہیں، نہ مختلف مشینوں پر انفرنس کے مراحل الگ کرنے کا انفراسٹرکچر، نہ ایک سے زیادہ سرورز کے درمیان بوجھ بانٹنے کا نظام۔
عارضی میموری کا انتظام بڑے ماڈلز چلانے کا سب سے مشکل حصہ ہے۔ یہ طے کرتا ہے کہ لمبی گفتگو میں پہلے کی گئی حسابی حالت کو دوبارہ کیسے استعمال کیا جائے۔ اس کے بغیر ڈیپ انفر ایک مضبوط بنیاد ہے، مکمل مینیجڈ پلیٹ فارم کا متبادل نہیں۔
کمپنی کے شائع کردہ بینچ مارک میں پرامپٹ کی پروسیسنگ کے لیے 4 اور جواب بنانے کے لیے 64 گرافکس پروسیسر استعمال کیے گئے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ڈیٹا سینٹر کی سطح کا سافٹ ویئر ہے، عام صارف کے کمپیوٹر کے لیے نہیں۔
محتاط آوازیں بھی موجود ہیں۔ آزاد تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ابھی کوئی آزاد موازنہ سامنے نہیں آیا جو ڈیپ انفر کو مقبول متبادلوں سے بہتر ثابت کرے۔ غائب حصوں میں ہی اصل لاگت کا فائدہ چھپا ہو سکتا ہے۔ ڈیپ سیک کی پیداواری صلاحیت کے دعوے کمپنی کے اپنے ہیں، ان کی آزاد تصدیق ابھی باقی ہے۔
Nvidia اور ہواوے کو برابر درجہ
ریلیز کی ایک نمایاں تفصیل ہارڈویئر کی حمایت ہے۔ دستاویزات میں Nvidia کے SM100 گرافکس پروسیسرز کا نام ہے۔ ہواوے کے Ascend 950 نیورل پروسیسرز کا بھی نام ہے۔ ڈیپ سیک نے دونوں کو برابر اہمیت دی ہے۔
یہ انتخاب معمولی نہیں۔ چینی لیبز کو جدید چپس حاصل کرنے میں برآمدی پابندیوں کا سامنا ہے۔ ایسا فریم ورک بنانا جو دونوں طرح کے ہارڈویئر پر اچھی کارکردگی دے، ایک مشکل انجینئرنگ کا کام ہے۔ صرف Nvidia پر انحصار کرنے والی امریکی لیبز کو اس طرح کی دہری مطابقت کی ضرورت نہیں پڑی۔ یہی وجہ ہے کہ یہ تفصیل مبصرین کی توجہ کا مرکز بنی۔
ڈیپ سیک کا اوپن سورس طریقہ کار
یہ ریلیز ڈیپ سیک کے ایک پرانے طرز عمل کی توسیع ہے۔ کمپنی نے پہلے اپنے ریزننگ ماڈلز آزاد لائسنسوں کے تحت جاری کیے، پھر V4.1-Flash کا اپ ڈیٹ آیا۔ اب اس نے ماڈلز کے ساتھ وہ انفراسٹرکچر بھی کھول دیا ہے جو ان ماڈلز کو چلاتا ہے۔
ڈیپ سیک کا اپنا کہنا ہے:
ہم اپنا پروڈکشن اسٹیک شیئر کر رہے ہیں تاکہ کمیونٹی کمپیوٹ کی لاگت کم کر سکے، توانائی کا استعمال گھٹا سکے اور اے آئی کو سب کے لیے سستا بنا سکے۔
کمپنی نے یہ بھی کہا ہے کہ آنے والے ماڈلز کا انفرنس کوڈ اسی ذخیرے میں شامل کیا جائے گا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈیپ انفر ایک بار کا کوڈ نہیں۔ یہ کمپنی کے ماڈلز کے لیے معیاری سرونگ پرت بننے جا رہا ہے۔
پاکستان کے لیے اس کے کیا معنی ہیں
پاکستان کے ڈویلپرز اور چھوٹے اسٹارٹ اپس کے لیے یہ خبر براہ راست اہمیت رکھتی ہے۔ پروڈکشن گریڈ انفرنس کا نظام اب مفت دستیاب ہے۔ ایک چھوٹی ٹیم بھی اب وہ کارکردگی حاصل کرنے کی کوشش کر سکتی ہے جو پہلے صرف بڑی لیبز کے پاس تھی۔ مقامی کلاؤڈ سروس فراہم کرنے والے اسے اپنا کر ماڈل چلانے کی لاگت گھٹا سکتے ہیں۔ یونیورسٹیوں کے طلبہ اور محققین بھی اب دیکھ سکتے ہیں کہ ایک فرنٹیئر لیب اپنے تیز ترین ماڈل کو اصل میں کیسے چلاتی ہے۔ یہ وہ شفافیت ہے جو تحقیقی مقالے کے منتخب نمبروں سے نہیں ملتی۔
تاہم ایک احتیاط بھی ضروری ہے۔ ڈیپ انفر چلانے کے لیے ڈیٹا سینٹر سطح کا ہارڈویئر چاہیے، عام لیپ ٹاپ پر یہ نہیں چلے گا۔ اس کے علاوہ امریکہ میں ڈیپ سیک پر پابندیوں کا معاملہ بھی چل رہا ہے۔ 19 اکتوبر کو امریکی ہوم لینڈ سیکیورٹی کے ایک نوٹس نے وفاقی خریداری میں ڈیپ سیک سے متعلق پابندیوں کو اجاگر کیا۔ تکنیکی فائدہ اور استعمال کی اجازت دو الگ باتیں ہیں۔
آگے کیا ہوگا
اصل امتحان اب شروع ہوگا۔ آزاد ڈویلپرز اس کوڈ کو چلائیں گے اور اس کا موازنہ موجودہ مقبول فریم ورکوں سے کریں گے۔ اگر ڈیپ انفر واقعی کم لاگت پر اچھی کارکردگی دے تو اسے اپنانا مشکل نہیں ہوگا۔ ڈیپ سیک نے ماڈلز کے بعد اب انفراسٹرکچر کی جنگ بھی شروع کر دی ہے، اور اوپن سورس بمقابلہ بند نظاموں کا یہ مقابلہ آنے والے مہینوں میں اے آئی کی معیشت کو نئی شکل دے سکتا ہے۔




