سان فرانسسکو، 23 اکتوبر 2026 (ویب ڈیسک): اوپن اے آئی نے اپنی نئی ڈسیژن اے پی آئی تمام صارفین کے لیے کھول دی ہے، جس کے ساتھ مصنوعی ذہانت کی دنیا میں ایک نئی اور تیز رفتار دوڑ باضابطہ طور پر شروع ہو گئی ہے۔ یہ سروس بڑے لینگویج ماڈلز کے مقابلے میں کہیں تیز اور سستی ہے، اور اس کا کام صرف ایک ہے: دیے گئے آپشنز میں سے بہترین کا انتخاب کرنا، اور اس انتخاب پر اپنے اعتماد کا اسکور بھی دینا۔
ٹیک کرنچ کی رپورٹ کے مطابق اوپن اے آئی نے یہ ٹول 29 ستمبر کو اپنے ڈویلپر ڈے میں متعارف کرایا تھا، اور 22 اکتوبر سے یہ ہر صارف کے لیے دستیاب ہے۔ کمپنی کے دعوے کے مطابق اس اے پی آئی نے فیصلہ سازی کا وقت ایک سے تین سیکنڈ سے گھٹا کر محض 100 سے 180 ملی سیکنڈ کر دیا ہے۔ یعنی اب ایک فیصلہ آنکھ جھپکنے سے بھی کم وقت میں ہو جاتا ہے۔
فیصلہ ساز ماڈل آخر ہیں کیا؟
عام لینگویج ماڈل لمبے جوابات لکھتے ہیں، مضمون تیار کرتے ہیں اور سوالات کے تفصیلی جواب دیتے ہیں۔ فیصلہ ساز ماڈل ان سے بالکل مختلف کام کرتے ہیں۔ انہیں چند آپشن دیے جاتے ہیں، مثلاً یہ ای میل اہم ہے یا نہیں، اس تصویر میں کون سی چیز دکھائی دے رہی ہے، یا اس گاہک کو کون سا پیغام بھیجنا چاہیے، اور وہ سیکنڈ کے چھوٹے سے حصے میں جواب دے دیتے ہیں۔ ساتھ ہی وہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ انہیں اپنے فیصلے پر کتنا اعتماد ہے۔
ماہرین انہیں "سسٹم ون" ماڈل بھی کہتے ہیں۔ یہ نام انسانی ذہن کے اس تیز اور خودکار نظام سے لیا گیا ہے جو بغیر سوچے سمجھے فوری فیصلے کرتا ہے، جیسے ڈرائیونگ کے دوران اچانک بریک لگانا۔ ان ماڈلز کی خوبی یہ ہے کہ یہ بھاری بھرکم لینگویج ماڈلز کے مقابلے میں ہلکے، تیز اور کہیں سستے ہوتے ہیں۔
سافٹ ویئر ڈویلپرز کو جلد ہی اندازہ ہو گیا کہ یہ چھوٹے ماڈل بہت سے کاموں میں بڑے ماڈلز کی جگہ لے سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس شعبے میں اچانک اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری ہونے لگی، اور بڑی کمپنیاں بھی اس دوڑ میں کود پڑیں۔
Jev نے میدان سجایا، مالیت 7.6 ارب ڈالر
اس نئی کیٹیگری کی بنیاد ٹائپ سیف نامی اسٹارٹ اپ کے Jev ماڈل نے رکھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹائپ سیف کی بنیاد اوپن اے آئی کے ایک سابق محقق نے رکھی تھی، اور Jev کی کامیابی نے کمپنی کی مالیت صرف چند ہفتوں میں 7.5 ارب ڈالر تک پہنچا دی۔ Jev ایک ایسا ماڈل ہے جو دیے گئے آپشنز میں سے تیزی سے انتخاب کرتا ہے اور ہر فیصلے کے ساتھ اعتماد کا اسکور دیتا ہے۔
اوپن اے آئی کے اے پی آئی مصنوعات کے سربراہ نکنج ہنڈا نے ٹیک کرنچ کو بتایا کہ جب ان کی ٹیم نے Jev کو دیکھا تو سب نے کہا کہ اس کے تو لاکھوں استعمال ہو سکتے ہیں۔ اس کے بعد ان کی ٹیم نے تیزی سے اپنا متبادل تیار کیا، مگر ایک مختلف راستے سے: بالکل نیا ماڈل بنانے کے بجائے انہوں نے چیٹ جی پی ٹی لونا کو ہی تیز رفتار اور کم لاگت والا بنا کر پیش کر دیا۔
"ڈسیژن اے پی آئی کی سب سے بڑی کامیابی رفتار ہے۔ ہم نے وقت کو ایک سے تین سیکنڈ سے گھٹا کر 100، 120، 180 ملی سیکنڈ کر دیا ہے۔ مستقبل میں ہم اپنے ماڈلز کو ان کاموں کے لیے خصوصی تربیت بھی دے سکتے ہیں، لیکن فی الحال یہ عام لونا ہی کام کر رہا ہے۔" نکنج ہنڈا نے کہا۔
آزمائش میں رفتار کا ثبوت
ابتدائی آزمائشوں میں باکس، ڈیٹا ڈاگ، ریمپ اور سپیک جیسی کمپنیوں کے انجینئرز نے اوپن اے آئی کے اپنے لینگویج ماڈلز کی جگہ یہ نیا اے پی آئی لگایا اور کارکردگی میں نمایاں بہتری دیکھی۔ زبان سکھانے والی ایپ 'سپیک' اس کی ایک عملی مثال ہے۔ کمپنی کے چیف ٹیکنالوجی افسر اینڈریو ہسو کہتے ہیں:
"ڈسیژن اے پی آئی نے ہمارے ہاں لگاتار دو اقدامات کے درمیان وقت 1.4 سیکنڈ سے کم کر کے 0.13 سیکنڈ کر دیا ہے۔"
یعنی رفتار تقریباً گیارہ گنا بڑھ گئی ہے۔
اوپن اے آئی نے اسی ٹیکنالوجی سے اپنے ڈاٹس کی جوابدہی بھی بہتر بنائی ہے۔ نئے ورژن میں آواز اور تصویر کی سہولت بھی شامل کی گئی ہے، اور دنیا بھر میں تاخیر کم کرنے کے لیے کمپیوٹنگ وسائل کو مختلف خطوں میں تقسیم کیا گیا ہے تاکہ ہر علاقے کے صارف کو قریبی سرور سے جواب ملے۔
مقابلہ اب باقاعدہ جنگ بن چکا ہے
ڈسیژن ماڈلز کی یہ دوڑ اب صرف دو کمپنیوں تک محدود نہیں رہی۔ کھلے بینچ مارکس میں لیکوئڈ کا ڈی ون الٹرا اور بیس لیب کا ایلیفنٹ ون سب سے آگے ہیں، جبکہ Jev تیسرے اور ساتویں نمبر پر ہے۔ اوپن اے آئی کا ڈسیژن ماڈل ان درجہ بندیوں میں آٹھویں اور چودھویں نمبر پر ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ رفتار اور رسائی کے معاملے میں اوپن اے آئی آگے ہے، مگر معیار کے پیمانوں پر اسے ابھی سخت مقابلہ درپیش ہے۔
اس میدان کا سب سے دلچسپ بینچ مارک JevMan ہے، جس میں فیصلہ ساز ماڈل پیک مین گیم کھیلتے ہیں۔ یہ گیم اس لیے بہترین آزمائش ہے کہ اس میں ہر موڑ پر چند سو ملی سیکنڈ میں فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ اگلا قدم کدھر اٹھانا ہے۔ اس درجہ بندی میں Jev کا تازہ ترین ماڈل سب سے آگے ہے۔
ٹائپ سیف کے چیف ایگزیکٹو بینچ مارکس پر زیادہ بھروسہ نہیں کرتے اور ڈویلپرز کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ ماڈلز کو اپنے اصل کام میں خود آزمائیں۔ ان کی کمپنی نے گزشتہ ہفتے اپنی درجہ بندی بھی جاری کی، جس میں Jev کے نئے ورژن کے ساتھ تصویروں کی سپورٹ اور اسمارٹ اِف لاجک جیسی سہولتیں شامل ہیں۔
پاکستانی ڈویلپرز کے لیے اس کا کیا مطلب ہے؟
یہ خبر پاکستان کے سافٹ ویئر ڈویلپرز اور اسٹارٹ اپس کے لیے بھی اہمیت رکھتی ہے۔ اب تک مصنوعی ذہانت کی ایپلی کیشنز میں سب سے بڑی رکاوٹ لاگت اور تاخیر تھی، خاص طور پر ان کاموں میں جہاں ہزاروں چھوٹے فیصلے کرنے ہوں، جیسے فراڈ کی نشاندہی، مواد کی درجہ بندی، کسٹمر سپورٹ کے جوابات، یا چیٹ بوٹس کی فوری جوابدہی۔ ڈسیژن اے پی آئی جیسی سستی اور تیز سروسز ان رکاوٹوں کو کم کرتی ہیں، جس سے چھوٹی ٹیمیں اور فری لانسرز بھی بڑے پیمانے کی اے آئی سروسز بنا سکتے ہیں۔
دوسری جانب یہ مقابلہ قیمتوں کو مزید گرانے کا بھی اشارہ ہے۔ جب اوپن اے آئی جیسی بڑی کمپنی کسی نئی کیٹیگری میں اترتی ہے تو عام طور پر قیمتوں کی جنگ شروع ہو جاتی ہے، اور اس کا فائدہ آخرکار صارفین اور ڈویلپرز کو پہنچتا ہے۔ اوپن روٹر کے مطابق ٹائپ سیف کے ماڈل پہلے ہی سب سے زیادہ پوچھے جا رہے ہیں، اور اب اوپن اے آئی کی رسائی اس مقابلے کو مزید تیز کرے گی۔
آگے کیا ہوگا؟
نکنج ہنڈا کا اگلا ہدف 60 ملی سیکنڈ ہے۔ ان کے الفاظ میں، اس رفتار پر "ویڈیو کے ہر فریم کے لیے ایک اے پی آئی کال" کا تصور ممکن ہو جائے گا۔ یعنی مستقبل میں ہر فریم، آواز کے ہر ٹکڑے اور ہر کلک پر مصنوعی ذہانت کا فیصلہ موجود ہوگا۔
اس رجحان کی جڑیں معاشیات کے ایک پرانے اصول میں ہیں۔ Jev کا نام اسی برطانوی ماہر معاشیات کے نام پر رکھا گیا ہے جس نے بتایا تھا کہ وسائل کو جتنا موثر بنایا جائے، وہ اتنے ہی عام ہو جاتے ہیں۔ فیصلہ ساز ماڈل اسی اصول کی عملی شکل ہیں: جتنے سستے اور تیز ہوں گے، اتنے ہی زیادہ کاموں میں استعمال ہوں گے، اور اتنے ہی نئے استعمال سامنے آئیں گے جو آج کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں۔




