سان فرانسسکو، 25 اکتوبر 2026 (نیوز ڈیسک): اوپن اے آئی (OpenAI) نے مصنوعی ذہانت کے کاروباری گاہکوں کی دوڑ میں ایک نیا محاذ کھول دیا ہے۔ دی انفارمیشن (The Information) کی رپورٹ کے مطابق کمپنی اینتھروپک (Anthropic) کے بڑے کاروباری گاہکوں کو 90 فیصد تک رعایت دے کر اپنی طرف کھینچ رہی ہے، اور اس کے نتائج بھی سامنے آ رہے ہیں۔ ریپلنگ (Rippling)، ریپلٹ (Replit) اور ڈیٹا کیمپ (DataCamp) جیسی کمپنیوں نے اپنا اے آئی خرچ اینتھروپک سے ہٹا کر اوپن اے آئی کی طرف منتقل کر دیا ہے، جس سے فرنٹیئر ماڈلز کی مارکیٹ میں قیمتوں کی ایک کھلی جنگ چھڑ گئی ہے۔
یہ خبر اس لیے اہم ہے کہ اینتھروپک کا کلاڈ (Claude) گزشتہ دو برس سے کوڈ لکھنے کے کام میں کاروباری صارفین کا سب سے پسندیدہ ماڈل سمجھا جاتا تھا۔ اب اوپن اے آئی اپنے نئے سول (Sol) اور لونا (Luna) ماڈلز کی بدولت کم قیمت پر وہی کام پیش کر رہی ہے۔
ریپلنگ نے کوڈنگ کا زیادہ تر کام اوپن اے آئی کو دے دیا
رپورٹ کی سب سے واضح مثال کاروباری سافٹ ویئر بنانے والی کمپنی ریپلنگ کی ہے۔ ریپلنگ کے سربراہ پارکر کونریڈ (Parker Conrad) کے مطابق ان کی کمپنی نے کوڈ لکھنے کے کام میں اوپن اے آئی کا حصہ 16 فیصد سے بڑھا کر 52 فیصد کر دیا ہے، جبکہ اینتھروپک کا حصہ 57 فیصد سے گھٹ کر 18 فیصد رہ گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ریپلنگ نے اس لیے رخ بدلا کیوں کہ اوپن اے آئی کی قیمت زیادہ مسابقتی تھی۔ ایک ہی کام پر کم خرچ بڑی کمپنیوں کو سالانہ لاکھوں ڈالر کی بچت دیتا ہے، اور یہی بچت اب گاہکوں کے فیصلوں میں سب سے بڑا عنصر بنتی جا رہی ہے۔
ریپلٹ اور ڈیٹا کیمپ: کروڑوں ڈالر کے معاہدے بدل گئے
ڈویلپرز کے پلیٹ فارم ریپلٹ نے بھی اپنا زیادہ تر اے آئی بجٹ اوپن اے آئی کو منتقل کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اوپن اے آئی نے ریپلٹ کو سالانہ 10 کروڑ ڈالر سے زائد مالیت کے معاہدے پر 30 فیصد سے زیادہ رعایت دی، جس کے بعد ریپلٹ نے معاہدہ اوپن اے آئی سے کر لیا۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اینتھروپک نے اپنی پرانی رعایت برقرار رکھنے کے لیے شرط رکھی تھی کہ ریپلٹ مزید خرچ کا وعدہ کرے، جبکہ معاہدے کی حد پوری ہونے پر رعایت ختم کرنے کی پالیسی نے بھی گاہک کو دور کر دیا۔
تعلیمی پلیٹ فارم ڈیٹا کیمپ کی مثال اس سے بھی زیادہ نمایاں ہے۔ کمپنی کے سربراہ جوناتھن کورنیلسن (Jonathan Cornelissen) کے مطابق اوپن اے آئی کی قیمتوں سے ان کی کمپنی کے اخراجات میں 80 سے 90 فیصد تک کمی آئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق اوپن اے آئی نے ڈیٹا کیمپ کو اندرونی مصنوعات کی تیاری میں استعمال ہونے والے ماڈلز پر 40 فیصد رعایت دی، اس شرط پر کہ کمپنی اوپن اے آئی کا کوڈنگ ٹول کوڈیکس (Codex) بھی استعمال کرے گی۔ اگر یہ رعایت اس کی فروخت کی جانے والی مصنوعات پر بھی لاگو ہو جائے تو کمپنی کی مجموعی بچت 80 سے 90 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔
اس کے علاوہ 7 ارب ڈالر سے زائد اثاثے رکھنے والے ایک امریکی بینک نے بھی بغیر کسی اضافی خرچ کے چیٹ جی پی ٹی (ChatGPT) استعمال کرنے والے اپنے ملازمین کی تعداد دوگنی کر کے 500 تک پہنچا دی ہے۔ اس بینک کو فی صارف 7 ڈالر سے کم قیمت پڑ رہی ہے، جبکہ عام قیمت 20 ڈالر سے زیادہ ہے۔
رعایت کیسے ممکن ہوئی: سول اور لونا ماڈلز
اوپن اے آئی کی یہ رعایت محض نقصان اٹھا کر گاہک اپنی طرف کھینچنے کی حکمت عملی نہیں ہے۔ کمپنی کے مطابق اس کے نئے سول اور لونا ماڈلز زیادہ مؤثر طریقے سے چلتے ہیں، جس سے انفرنس (Inference) کی لاگت کم ہو گئی ہے۔ انفرنس وہ عمل ہے جس میں تربیت یافتہ ماڈل صارف کے سوال کا جواب تیار کرتا ہے، اور یہی اے آئی کمپنیوں کا سب سے بڑا جاری خرچ ہے۔
قیمتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ اوپن اے آئی کی توجہ اب کم قیمت تلاش کرنے والے بڑے اداروں پر ہے۔ سول کی قیمت 10 لاکھ ان پٹ ٹوکنز پر 2 ڈالر اور 10 لاکھ آؤٹ پٹ ٹوکنز پر 10 ڈالر ہے، جبکہ لونا کی قیمت اس سے بھی کم، یعنی 10 لاکھ ان پٹ ٹوکنز پر صرف 0.10 ڈالر اور آؤٹ پٹ ٹوکنز پر 0.50 ڈالر ہے۔ ٹوکن (Token) سے مراد متن کی وہ چھوٹی اکائی ہے جس کے حساب سے اے آئی ماڈلز کے استعمال کی قیمت طے ہوتی ہے۔
چیٹ جی پی ٹی کی کاروباری رکنیت کی عام قیمت فی صارف 20 ڈالر سے زیادہ ہے، اس لیے بینک کو 7 ڈالر سے کم قیمت دینا واضح اشارہ ہے کہ کمپنی بڑے اداروں کو راغب کرنے کے لیے اپنا مارجن قربان کرنے کو تیار ہے۔
اینتھروپک کا جواب: قیمتوں کی جنگ دونوں طرف سے
یہ قیمتوں کی جنگ یک طرفہ نہیں ہے۔ اینتھروپک نے بھی اپنی قیمتوں میں نمایاں کمی کی ہے، رپورٹس کے مطابق اس نے اپنے سستے ترین ماڈل کلاڈ ہائیکو (Claude Haiku) کی قیمت میں 90 فیصد تک کمی کی، اور صارفین کو کریڈٹس بھی دیے تاکہ وہ اس کے ماڈلز سے جڑے رہیں۔
تاہم اینتھروپک پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ سرمایہ کاروں کے لیے تیار کیے گئے ایک اندرونی جائزے کے مطابق دوسری سے تیسری سہ ماہی کے دوران اس کی نمو سست ہوئی، اگرچہ شرح نمو اب بھی 45 فیصد بتائی گئی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق دوسری سہ ماہی میں کمپیوٹنگ پر 5.6 ارب ڈالر خرچ ہوئے جبکہ آمدنی 11.5 ارب ڈالر رہی۔ رپورٹس کے مطابق کمپنی آئندہ ماہ ہی ایک بڑی ابتدائی عوامی پیشکش (IPO) کی تیاری کر رہی ہے، جس سے گاہکوں کو بچائے رکھنے کا دباؤ اور بڑھ گیا ہے۔
اوپن اے آئی کی سینئر عہدیدار فدجی سیمو (Fidji Simo) نے اسی سال مارچ میں عملے سے کہا:
"ہمیں مجموعی طور پر، اور خاص طور پر کاروباری محاذ پر، پیداواری صلاحیت میں کمال حاصل کرنا ہے۔" — فدجی سیمو، سربراہ ایپلی کیشنز، اوپن اے آئی۔
یہ بیان واضح کرتا ہے کہ اوپن اے آئی کاروباری صارفین کو اپنا مرکزی محاذ سمجھتی ہے، اور رعایت کی حکمت عملی اسی سمت میں ایک قدم ہے۔
چینی ماڈلز کا دباؤ سب پر برابر
اس صورت حال کے پس منظر میں چینی لیبز کا دباؤ بھی ہے۔ ڈیپ سیک (DeepSeek) اور کیمی (Kimi) جیسے ماڈلز اب اس کارکردگی کے قریب پہنچ رہے ہیں جو پہلے صرف امریکی فرنٹیئر لیبز کے پاس تھی، اور وہ بھی بہت کم قیمت پر۔ اس سے دونوں امریکی کمپنیوں پر قیمت کم کرنے کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔
ماہرین کے نزدیک یہی تبدیلی سب سے اہم ہے۔ جب ماڈل ایک دوسرے سے بدلنے کے قابل ہو جائیں تو مقابلہ کارکردگی سے زیادہ قیمت پر ہونے لگتا ہے، اور جو کمپنی کم قیمت پر اچھا ماڈل دے سکے، وہی گاہک جیت لیتی ہے۔ اوپن اے آئی کی رعایت اسی نئی حقیقت کا اعتراف ہے۔
پاکستان کے لیے اس کا کیا مطلب ہے؟
پاکستانی سافٹ ویئر ہاؤسز اور فری لانسرز کے لیے یہ قیمتوں کی جنگ براہ راست فائدہ مند ہو سکتی ہے۔ کوڈنگ کے ماڈلز سستے ہوں گے تو چھوٹی ٹیمیں بھی وہی اوزار استعمال کر سکیں گی جو پہلے صرف بڑی کمپنیوں کی پہنچ میں تھے، اور فری لانسرز کے لیے ماڈل کی قیمت براہ راست ان کے منافع سے جڑی ہوتی ہے۔
تاہم یہ خصوصی رعایتیں عام صارفین تک فورا نہیں پہنچتیں۔ ریپلٹ اور ڈیٹا کیمپ کو ملنے والی رعایت معاہدوں کی بنیاد پر ہے، جبکہ ایک عام پاکستانی صارف اب بھی عام قیمت ہی ادا کرے گا۔ اس خبر کا فائدہ پاکستانی صارفین کو اس وقت ہوگا جب یہ رعایتیں عام قیمتوں میں بدل جائیں، جیسا کہ سول اور لونا جیسے سستے ماڈلز کی صورت میں ہو رہا ہے۔
اس وقت صورت حال یہ ہے کہ ریپلنگ، ریپلٹ اور ڈیٹا کیمپ اپنا زیادہ تر اے آئی خرچ اوپن اے آئی کو منتقل کر چکے ہیں، اور فرنٹیئر ماڈلز کی مارکیٹ میں قیمت اب کارکردگی جتنی ہی فیصلہ کن ہو گئی ہے۔




