لاس ویگاس، 28 اکتوبر 2026 (نیوز ڈیسک): اوریکل (Oracle) نے اوپن اے آئی (OpenAI) کے ساتھ اپنی توسیعی شراکت داری کے تحت چار نئی سہولتیں متعارف کرائی ہیں، جن کی بدولت ملازمین چیٹ جی پی ٹی (ChatGPT) سے کاروباری سافٹ ویئر تک رسائی حاصل کر کے منظور شدہ دفتری کام اسی گفتگو میں مکمل کر سکیں گے۔ یہ اعلان 27 اکتوبر کو لاس ویگاس میں اوریکل اے آئی ورلڈ (Oracle AI World) کانفرنس میں کیا گیا۔
اس مجموعے میں اوریکل اے آئی ورک اسپیس (Oracle AI Workspace)، اوریکل اے آئی سیکیورٹی میش (Oracle AI Security Mesh)، اوریکل ایپ کمپوزر (Oracle App Composer) اور اوریکل اے آئی ایس ایم بی بنڈل (Oracle AI SMB Bundle) شامل ہیں۔ اوریکل کے مطابق یہ اس شراکت داری کی پہلی چار سہولتیں ہیں۔
اوریکل کے چیف ایگزیکٹو کلی میگوئرک (Clay Magouyrk) نے مشترکہ اعلان میں کہا:
"اوپن اے آئی کاروباری مسائل کے حل کا طریقہ بدل رہا ہے، چیٹ سے لے کر کوڈنگ، تجزیے اور خودکار ایجنٹس تک۔"
اوپن اے آئی کے صدر اور شریک بانی گریگ بروکمین (Greg Brockman) کے مطابق کاروبار اوپن اے آئی کو اس لیے چن رہے ہیں کیوں کہ کمپنی اے آئی کو ان کے پہلے سے زیرِ استعمال اوزاروں میں شامل کر رہی ہے۔
ورک اسپیس: ایک گفتگو میں پورا دفتر
ورک اسپیس اس مجموعے کی مرکزی سہولت ہے۔ اس نظام کی بدولت ملازمین چیٹ جی پی ٹی کے پلگ ان (Plugin) کے ذریعے اوریکل کی کاروباری ایپلی کیشنز تک پہنچ سکیں گے، جن میں اوریکل فیوژن ایپلی کیشنز (Oracle Fusion Applications)، نیٹ سوٹ (NetSuite)، اوریکل اے آئی ڈیٹا بیس (Oracle AI Database) اور اوریکل کلاؤڈ انفراسٹرکچر (Oracle Cloud Infrastructure) شامل ہیں۔
اوریکل کے مطابق کام کا آغاز مقصد سے ہوگا: ملازم صرف اپنا مقصد بتائے گا، ورک اسپیس متعلقہ معلومات اکٹھی کرے گا، اور اے آئی ایجنٹس اور منسلک ایپلی کیشنز کے درمیان رابطہ قائم کرے گا۔ کام موجودہ اجازتوں اور منظوریوں کے اندر آگے بڑھے گا۔ اس دوران اوریکل کی ایپلی کیشنز کاروباری تقاضوں کی تصدیق کر کے حتمی کام خود انجام دیں گی۔
ورک اسپیس جلد آئے گا، اور دستیابی کی تفصیلات اجراء کے قریب بتائی جائیں گی۔
سائبر سیکیورٹی اور ایپ سازی: دو مزید سہولتیں
دوسری سہولت، سیکیورٹی میش، ایک منظم سروس ہے، جس میں اوپن اے آئی کے سائبر ماڈلز کو اوریکل کے آزمائشی اوزاروں، آزادانہ تصدیق اور عملی حفاظتی انتظامات کے ساتھ جوڑا گیا ہے، تاکہ کمزوریاں حملہ آوروں سے پہلے تلاش کر کے دور کر دی جائیں۔ یہ جانچ اوریکل کے کلاؤڈ، دیگر کلاؤڈ سروسز اور کمپنی کے اپنے کمپیوٹرز تک پھیلی ہوگی، جس کا دائرہ گاہک خود طے کرے گا۔
طریقہ کار یہ ہوگا کہ پہلے اوریکل نظاموں کا نقشہ بنائے گا اور منظوری کے لیے آزمائشی منصوبہ پیش کرے گا، پھر مخصوص اے آئی ایجنٹس کمزوریوں کی چھان بین کریں گے اور ان سے فائدہ اٹھانے کا طریقہ پرکھیں گے۔ ایک الگ ایجنٹ آزمائش دہرا کر مسئلے کی تصدیق کرے گا۔ پھر پلیٹ فارم ترجیحی اصلاحات بتائے گا اور کوڈنگ ایجنٹس منظوری سے مسودہ تیار کریں گے، جس کے بعد دوبارہ پرکھا جائے گا کہ خلا بند ہو گیا ہے اور معمول کا کام متاثر نہیں ہوا۔
تیسری سہولت، ایپ کمپوزر، ان ملازمین کے لیے ہے جو کوڈنگ کے ماہر نہیں۔ اس کی بدولت وہ اپنے خیال کو کوڈیکس (Codex) کی مدد سے کاروباری ایپلی کیشن میں بدل سکیں گے، جبکہ اوریکل اس ایپ کی تنصیب اور دیکھ بھال اپنے کلاؤڈ پر سنبھالے گا۔ یہ ایپلی کیشنز منظور شدہ اوریکل ڈیٹا اور کاروباری طریقہ کار سے منسلک ہوں گی۔ انھیں او سی آئی (OCI) کی خدمات حاصل ہوں گی، جن میں کوبرنیٹس انجن (Kubernetes Engine) اور خودکار اے آئی ڈیٹا بیس (Autonomous AI Database) شامل ہیں۔ کاروباری شناخت، اجازتوں، نیٹ ورک اور آڈٹ کے ضوابط بھی اسی نظام میں لاگو ہوں گے۔ ایپیکس لینگ (APEXlang) بھی پیش کی گئی ہے، تاکہ جنریٹو طریقے سے بننے والا کوڈ بعد میں سنبھالنا مشکل نہ ہو۔ انجینئرنگ ٹیم کے سنبھالنے پر کسی ایپ کا ماخذ، ترتیبات اور تاریخ ساتھ منتقل ہو جائیں گے۔ ایپ کمپوزر فی الحال محدود دستیابی میں ہے۔
چھوٹے کاروبار کے لیے بنڈل
چوتھی سہولت چھوٹے کاروباروں کے لیے بنڈل ہے، جو مفت آغاز کے ساتھ ہر سال 12 ہزار ڈالر کے اوریکل کلاؤڈ کریڈٹس کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ اس میں چیٹ جی پی ٹی بزنس، ورک اسپیس، کوڈیکس، ایپ کمپوزر، او سی آئی اور نیٹ سوٹ کوئیک اسٹارٹ شامل ہیں۔ نیٹ سوٹ کوئیک اسٹارٹ سے بلنگ اور نقد رقم کے بہاؤ جیسے بنیادی کام سنبھالے جا سکیں گے۔
تاہم شرائط محدود ہیں: یہ بنڈل صرف تصدیق شدہ، نجی ملکیت والے، منافع بخش اور آزاد امریکی کاروباروں کے لیے ہے، اور ہر نئی کمپنی صرف ایک بار داخلہ لے سکے گی۔ یہ بنڈل سرکاری اداروں، غیر منافع بخش تنظیموں، کرپٹو کاروبار، صرف خدمات دینے والی مشاورتی فرموں اور بلاک شدہ کمپنیوں کے لیے نہیں ہے۔ وہ موجودہ اوریکل گاہک بھی اہل نہیں ہوں گے جو ڈھائی لاکھ ڈالر سے زیادہ یونیورسل کریڈٹس استعمال کر چکے ہوں۔ کریڈٹس ہر سال تین برس تک ملیں گے، مگر ہر سال اہلیت کی جانچ ہوگی، اور اضافی استعمال کی قیمت وصول کی جائے گی۔ اس کے علاوہ، نیٹ سوٹ کوئیک اسٹارٹ کا پلگ ان سات دن کے اندر استعمال کرنے والے اہل ارکان کو ایک بار 50 ڈالر کا کریڈٹ ملے گا، اور ایک ورک اسپیس میں زیادہ سے زیادہ پانچ افراد، یعنی مجموعی طور پر ڈھائی سو ڈالر تک، اس سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ امریکا میں اوریکل کے گاہک مارکیٹ پلیس سے اہل یونیورسل کریڈٹس کے ذریعے اوپن اے آئی کی اے پی آئی (API)، کوڈیکس اور چیٹ جی پی ٹی ورک بھی خرید سکیں گے۔
یہ اعلان کیوں اہم ہے
یہ اعلان اس دوڑ کا حصہ ہے جس میں بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں فرنٹیئر ماڈلز کو روزمرہ کے دفتری کاموں میں اتار رہی ہیں۔ مائیکروسافٹ اور گوگل بھی اپنے دفتری سافٹ ویئر میں اے آئی معاون لا رہے ہیں، مگر اوریکل کا دعویٰ ہے کہ اس کی سہولتیں کاروبار کے اصل نظاموں سے براہ راست جڑیں گی، نہ کہ صرف دستاویزات تک محدود رہیں گی۔ اس دعوے کی آزمائش ورک اسپیس کی عام دستیابی پر ہوگی۔
اس ضمن میں اہم سوال اجازتوں کا ہے: کسی خرچے کو دیکھنے کی اجازت کا مطلب اسے منظور کرنے یا تبدیل کرنے کی اجازت نہیں۔ اوریکل کا کہنا ہے کہ ورک اسپیس تنظیم کی موجودہ اجازتوں اور منظوریوں کے اندر رہے گا، اور انسانی جائزہ وہاں موجود رہے گا جہاں اس کی ضرورت ہو۔ اگر یہ وعدہ عملی آزمائش میں پورا ہوا تو یہ ماڈل کاروباری اداروں کے لیے قابل قبول ہو سکے گا، ورنہ کمپنیاں اسے صرف معلومات تلاش کرنے تک محدود رکھیں گی۔
رپورٹس کے مطابق اوپن اے آئی کے کاروباری شعبے کی بدولت اس کی سالانہ آمدنی سال کے آخر تک 70 ارب ڈالر (7 ہزار کروڑ ڈالر) تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ ستمبر کے آخر میں یہ 50 ارب ڈالر (5 ہزار کروڑ ڈالر) تھی۔
پاکستان کے لیے اس کا مطلب
پاکستانی قاری کے لیے اس خبر میں ایک واضح حد بھی ہے اور ایک عملی سبق بھی۔ حد یہ ہے کہ بنڈل کے 12 ہزار ڈالر کے کریڈٹس فی الحال صرف تصدیق شدہ امریکی کاروباروں کے لیے ہیں، اس لیے پاکستانی چھوٹے کاروبار براہ راست اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے۔ عملی سبق یہ ہے کہ اوریکل یا نیٹ سوٹ کے نظام استعمال کرنے والی پاکستانی کمپنیوں، یا چیٹ جی پی ٹی بزنس پر کام کرنے والے ملازمین کے لیے، دفتری کام کا انداز بدلنے والا ہے۔ مالیات، خریداری اور انسانی وسائل جیسے کام چیٹ کے ذریعے ہونے لگے تو مقامی سافٹ ویئر ہاؤسز اور کاروباری ٹیموں کو اپنے طریقہ کار، اجازتوں اور آڈٹ کے نظام پر ازسرنو غور کرنا ہوگا۔ ایپ کمپوزر کا ماڈل بھی ان کے لیے دلچسپی رکھتا ہے، کیوں کہ کوڈنگ کے بغیر ایپ سازی ان کے لیے مقابلہ بھی ہے اور نیا اوزار بھی۔




