بیجنگ، 1 نومبر 2026 (ویب ڈیسک): ایپل (Apple) نے چین میں اپنی مصنوعی ذہانت کی سہولتوں کے مجموعے ایپل انٹیلی جنس (Apple Intelligence) کی آمد کی تصدیق کر دی ہے۔ کمپنی کے مطابق چین میں ان سہولتوں کی آزمائش 4 نومبر سے آئی او ایس (iOS) کے اگلے ڈویلپر بیٹا سے شروع ہوگی، جب کہ عام صارفین کو یہ سہولتیں دسمبر میں آئی او ایس 27.3 کے باضابطہ اجرا کے ساتھ ملیں گی۔ یہ اعلان اس انتظار کا خاتمہ ہے جس میں چین میں آئی فون استعمال کرنے والے دو برس سے تھے، کیوں کہ 2024 میں امریکا میں متعارف ہونے والی یہ سہولتیں چین میں اب تک دستیاب نہیں تھیں۔
ایپل نے یہ تفصیلات اپنے چینی نیوز روم میں جاری کردہ اعلان میں بتائی ہیں۔ اعلان کے مطابق پہلے مرحلے میں یہ سہولتیں صرف آئی فون پر ملیں گی، جب کہ دیگر آلات پر ان کی فراہمی کے لیے ضروری منظوریاں حاصل ہونے کے بعد ہی فیصلہ ہوگا۔
پہلی کھیپ میں کون سی سہولتیں ملیں گی
ایپل کے اعلان کے مطابق پہلی کھیپ میں صارفین کو کئی روزمرہ سہولتیں ملیں گی۔ ان میں پیغامات، فیس ٹائم اور فون کالز کے دوران براہ راست ترجمے کی سہولت شامل ہے، جس سے دوسری زبان بولنے والے شخص سے بات چیت آسان ہو جائے گی۔ تحریری اوزار صارفین کو متن لکھنے، اسے بہتر بنانے اور خلاصہ تیار کرنے میں مدد دیں گے، جب کہ جین موجی (Genmoji) سے صارف اپنی مرضی کی ایموجی بنا سکیں گے۔
تصاویر کے شعبے میں بھی کئی سہولتیں شامل ہیں۔ صارف تصاویر سے غیر ضروری اشیا ہٹا سکیں گے، عام زبان میں لکھ کر اپنی تصاویر تلاش کر سکیں گے، اور بصری ذہانت کی مدد سے تصاویر اور دستاویزات کے بارے میں سوالات پوچھ سکیں گے۔ اس کے علاوہ اہم اطلاعات کو ترجیح دینے، اطلاعات کا خلاصہ دکھانے اور فوری جواب تجویز کرنے کی سہولتیں بھی پہلی کھیپ کا حصہ ہوں گی۔
علی بابا کا کیوون کہاں کام آئے گا
چین میں ایپل انٹیلی جنس کی سب سے نمایاں خصوصیت مقامی شراکت داری ہے۔ ایپل نے علی بابا (Alibaba) کے ساتھ مل کر کام کیا ہے، اور اس کے لینگویج ماڈل کیوون (Qwen) کو سیری، تحریری اوزاروں اور بصری ذہانت میں شامل کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ چین میں صارفین بعض درخواستوں پر براہ راست کیوون سے جواب حاصل کر سکیں گے۔ اس تک رسائی کیوون اکاؤنٹ سے یا ایپل کے سائن ان کے ذریعے حاصل ہو سکے گی۔
یہ شراکت داری اس لیے بھی اہم ہے کہ چین میں غیر ملکی اے آئی ماڈلز کو مقامی قواعد کے تحت کام کرنا ہوتا ہے۔ بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق علی بابا کے ساتھ تیار کردہ حفاظتی انتظامات میں ایک ایسا فلٹر بھی شامل ہے جس کے ذریعے حکومت ماڈلز میں آئندہ تبدیلیوں کی منظوری دے سکے گی۔ رپورٹ کے مطابق ایپل چینی سرچ کمپنی بائیڈو (Baidu) کے ساتھ بھی تلاش اور سیری سے متعلق سہولتوں پر کام کر رہا ہے۔
نئی سیری اور تصویری سہولتیں پہلی کھیپ میں شامل نہیں
ایپل کے اعلان میں ایک حد بھی واضح کی گئی ہے۔ کمپنی کی نئی سیری اے آئی، جس کا اعلان اس برس کیا گیا تھا، چین میں پہلی کھیپ کا حصہ نہیں ہوگی۔ اسی طرح ایپل کے اپنے تصویر سازی کے اوزار بھی ابتدا میں دستیاب نہیں ہوں گے۔ بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق چین میں سہولتوں کی یہ محدود فہرست مقامی ضوابط کی پابندی کا نتیجہ ہے۔
یہ فرق چین کے صارفین کے لیے اہم ہے۔ ایک جانب انھیں برسوں بعد ایپل انٹیلی جنس کی بنیادی سہولتیں مل رہی ہیں، دوسری جانب جدید ترین سہولتیں فی الحال ان کی پہنچ سے باہر رہیں گی۔ ایپل نے یہ نہیں بتایا کہ نئی سیری چین میں کب آئے گی، اور رپورٹوں کے مطابق کمپنی کے عہدیداروں کو توقع نہیں کہ یہ جلد دستیاب ہوگی۔
دو برس کی تاخیر کے پیچھے کیا تھا
ایپل انٹیلی جنس کی چین میں آمد کی راہ میں ریگولیٹری رکاوٹیں سب سے بڑی وجہ رہی ہیں۔ رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق جولائی میں اس منصوبے کو ایک اہم ابتدائی منظوری ملی تھی، جس کے بعد چین میں اس کی راہ ہموار ہونا شروع ہوئی۔ بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق 29 ستمبر کو حالیہ آئی فونز کو ایپل انٹیلی جنس اور علی بابا کے ماڈلز کے ساتھ کام کرنے کی اجازت ملی، جن میں کیوون اور ٹونگی وین شیانگ (Tongyi Wanxiang) شامل ہیں۔
اس پس منظر میں اکتوبر کے وسط میں ایپل کے سربراہ ٹم کک (Tim Cook) کے بیان نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ چینی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق کک نے شنگھائی کے دورے کے دوران بتایا تھا کہ ایپل انٹیلی جنس اور کیوون کو منظوری مل گئی ہے اور اس کی آزمائشی شکل اکتوبر کے آخر تک آئے گی۔ اب ایپل کے باضابطہ اعلان نے اس سلسلے کو مکمل کر دیا ہے، جس میں آزمائش کی تاریخ 4 نومبر اور عام اجرا کی تاریخ دسمبر طے کر دی گئی ہے۔ اس سے قبل اجرا کے کئی ہدف مقرر ہوئے اور ٹلتے رہے: پہلے مئی 2025، پھر 2025 کا آخر، پھر 2026 کا آغاز۔
کن آلات پر یہ سہولتیں چلیں گی
ایپل کے اعلان کے مطابق یہ سہولتیں آئی فون 15 پرو اور آئی فون 15 پرو میکس، آئی فون 16 اور اس کے بعد کے ماڈلز، آئی فون ایئر اور آئی فون ڈیوو پر دستیاب ہوں گی۔ صارفین کو سیری اور آلے کی زبان انگریزی یا آسان چینی پر رکھنا ہوگی، ورنہ یہ سہولتیں کام نہیں کریں گی۔
چین کی اے آئی دوڑ میں ایپل کہاں کھڑا ہے
چین میں اے آئی سہولتوں کی دوڑ پہلے ہی تیز ہے، اور مقامی کمپنیاں اپنے فونز میں اے آئی سہولتیں دے رہی ہیں۔ اس ماحول میں ایپل کی تاخیر اس کے لیے ایک کمزوری رہی ہے، کیوں کہ چین کے خریداروں کو دو برس تک وہ سہولتیں نہیں ملیں جو امریکا اور دیگر ممالک میں آئی فون کا حصہ بن چکی تھیں۔ دسمبر کے اجرا سے ایپل اس خلا کو کم کرنے کی کوشش کرے گا، مگر محدود فہرست کے باعث یہ مقابلہ ابھی برابر نہیں ہوگا۔
دوسری جانب علی بابا کے ساتھ شراکت داری ایپل کے لیے ایک عملی راستہ بھی ہے۔ مقامی ماڈل کے ذریعے ایپل چینی قواعد کے اندر رہتے ہوئے اپنی سہولتیں دے سکے گا، اور اس تجربے سے وہ یہ بھی سیکھے گا کہ مختلف ممالک میں اے آئی کو مقامی شراکت داروں کے ساتھ کیسے ڈھالا جائے۔
پاکستانی قارئین کے لیے اس خبر کا سبق
پاکستانی قارئین کے لیے اس خبر کا براہ راست سبق یہ ہے کہ اے آئی سہولتیں دنیا بھر میں ایک جیسی نہیں ہوتیں۔ ایک ہی کمپنی کی سہولت ایک ملک میں مکمل شکل میں مل سکتی ہے اور دوسرے ملک میں محدود شکل میں، اور اس کا فیصلہ مقامی قوانین، زبان اور شراکت داریوں سے ہوتا ہے۔ اس لیے بیرون ملک سے فون خریدنے یا سفر کے دوران اے آئی سہولتوں کی توقع رکھنے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ وہ سہولتیں اس ملک میں دستیاب ہیں یا نہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ یہ خبر پاکستانی سافٹ ویئر کمپنیوں اور طلبہ کے لیے بھی ایک مثال ہے کہ اے آئی کی دنیا میں مقامی زبان اور مقامی ڈیٹا کتنے اہم ہو گئے ہیں۔ چین میں ایپل کو کامیابی کے لیے مقامی ماڈل کا سہارا لینا پڑا، جو اس بات کی علامت ہے کہ مستقبل میں اے آئی سہولتوں کا مقابلہ صرف طاقتور ماڈلز سے نہیں، بلکہ مقامی ضروریات کو سمجھنے سے بھی طے ہوگا۔




