سان فرانسسکو، 31 اکتوبر 2026 (ویب ڈیسک): اے آئی کوڈ ایڈیٹر کرسر (Cursor) کی ایکسٹینشن مارکیٹ پلیس میں اینتھروپک (Anthropic) کے کوڈنگ ٹول کلاڈ کوڈ (Claude Code) کی جعلی اپ ڈیٹ تقریباً 11 گھنٹے تک دستیاب رہی، جس نے زیادہ سے زیادہ 5 ہزار ڈویلپرز کے کمپیوٹرز میں بیک ڈور (Backdoor) نصب کرنے کی کوشش کی۔ کرسر نے 29 اکتوبر کو اس واقعے کی تصدیق کی کہ بدلی ہوئی اپ ڈیٹ اینتھروپک نے تیار نہیں کی تھی۔
کلاڈ کوڈ ڈویلپرز کو کوڈ لکھنے اور اس میں تبدیلی کرنے میں سہولت دیتا ہے۔ یہ واقعہ اس لیے اہم ہے کہ بدلی ہوئی اپ ڈیٹ اصل ناشر کے نام سے آئی، اور خودکار اپ ڈیٹ کے باعث صارفین کو اسے خود نصب کرنے کی ضرورت بھی نہیں پڑی۔
گیارہ گھنٹے تک مارکیٹ پلیس میں موجود رہی جعلی اپ ڈیٹ
کرسر کے سیکیورٹی نوٹس کے مطابق بدلی ہوئی اپ ڈیٹ 29 اکتوبر کو صبح 2:27 سے دوپہر 1:35 تک (پیسیفک ٹائم) مارکیٹ پلیس پر موجود رہی۔ اس دوران کلاڈ کوڈ کے دو ورژن، 2.1.312 اور 2.1.313، صارفین تک پہنچے۔ کرسر کا کہنا ہے کہ زیادہ سے زیادہ 5 ہزار صارفین نے یہ بدلی ہوئی اپ ڈیٹ نصب کی۔
یہ تعداد کامیاب حملوں کی نہیں، بلکہ ان صارفین کی زیادہ سے زیادہ حد ہے جن تک یہ اپ ڈیٹ پہنچی۔ یہ معاملہ صرف کرسر کی مارکیٹ پلیس تک محدود رہا۔ اینتھروپک کی اصل تقسیم کے ذرائع، این پی ایم (NPM) پیکج، اوپن وی ایس ایکس (Open VSX) اور مائیکروسافٹ (Microsoft) کے ویژول اسٹوڈیو کوڈ (Visual Studio Code) مارکیٹ پلیس، پر موجود ایکسٹینشن اس سے متاثر نہیں ہوئی۔ ورژن 2.1.313 اینتھروپک کے اصل ورژنوں میں کبھی جاری ہی نہیں ہوا تھا۔
کرسر نے اپنے سیکیورٹی نوٹس میں لکھا ہے:
یہ بدلی ہوئی ایکسٹینشن اینتھروپک نے تیار نہیں کی تھی، اور اس کا اثر کرسر کی مارکیٹ پلیس سے باہر کسی اور ایکسٹینشن پر نہیں پڑا۔
حملہ کیسے کام کرتا تھا
سیکیورٹی محققین کے مطابق حملہ آوروں نے کلاڈ کوڈ کی اصل فائل کے شروع میں 66 سطروں کا بدنیتی پر مبنی لوڈر جوڑ دیا تھا۔ اس لوڈر کی وجہ سے اصل ایکسٹینشن معمول کے مطابق چلتی رہی، تاکہ صارف کو گڑبڑ کا احساس نہ ہو، اور ایڈیٹر کھلتے ہی یہ لوڈر خاموشی سے فعال ہو جاتا تھا۔
پہلے یہ لوڈر کمپیوٹر اور صارف کی معلومات اکٹھی کرتا تھا، جن میں کمپیوٹر کا نام، صارف کا نام، آپریٹنگ سسٹم، ہوم ڈائریکٹری کا راستہ، ماحولیاتی متغیرات کے نام، گٹ کے لیے درج ای میل اور عوامی آئی پی ایڈریس شامل تھے۔ اس کے بعد یہ حملہ آور کی ایس ایس ایچ کی (SSH Key) کو، جس پر svc-telemetry کا لیبل تھا، صارف کی مجاز کیز والی فائل میں شامل کرنے کی کوشش کرتا تھا، تاکہ حملہ آور بعد میں اسی کی سے کمپیوٹر میں داخل ہو سکے۔
لوڈر مقامی ایس ایس ایچ سروس چالو کرنے اور حملہ آور کے سرور تک واپسی سرنگ (Reverse Tunnel) کھولنے کی کوشش کرتا تھا، جسے میک پر لانچ ایجنٹ (LaunchAgent) اور ونڈوز پر طے شدہ ٹاسک (Scheduled Task) کے ذریعے مستقل کیا جاتا تھا۔ پس منظر میں چلنے والی اسکرپٹس تقریباً ہر 60 سیکنڈ بعد سرنگ دوبارہ قائم کرنے کی کوشش کرتی تھیں۔
تاہم کرسر کے مطابق زیادہ تر میک اور ونڈوز کمپیوٹرز پر ایس ایس ایچ سروس چالو کرنے کا مرحلہ ناکام رہا۔ اس کی وجہ بدنیتی پر مبنی کوڈ کی غلطیاں اور مقامی ایس ایس ایچ سروس کے لیے منتظم کی سطح کی اجازت درکار تھی، جو عام صارف کے پاس نہیں ہوتی۔ اس لیے ان کمپیوٹرز پر حملہ آور اس سرنگ کے ذریعے داخل نہیں ہو سکا۔ مگر حملہ آور کی ایس ایس ایچ کی نصب ہو چکی تھی، مستقل اسکرپٹس لگ چکی تھیں اور کمپیوٹر کی معلومات حملہ آور تک پہنچ چکی تھیں۔ اس لیے کرسر نے متاثرہ صارفین کو مکمل صفائی کی ہدایت کی ہے۔
کرسر نے مارکیٹ پلیس ہی بند کر دی
معلوم ہوتے ہی کرسر نے بدلی ہوئی اپ ڈیٹ کو مارکیٹ پلیس سے ہٹا دیا اور احتیاطاً پوری مارکیٹ پلیس ہی بند کر دی۔ کمپنی نے نظام کا جائزہ لیا، اپنی کیز تبدیل کیں اور مارکیٹ پلیس نئے سرے سے تیار کر کے دوبارہ کھول دی۔ جائزے میں کسی اور ایکسٹینشن میں چھیڑ چھاڑ کے شواہد نہیں ملے۔ کمپنی نے ہوسٹنگ فراہم کرنے والی کمپنی کے ساتھ مل کر حملہ آور کا سرور بند کرا دیا، جس سے حملے کا راستہ غیر فعال ہو گیا۔
اوپن سورس میل ویئر (OpenSourceMalware) کی شریک بانی جین گائل نے دی ہیکر نیوز (The Hacker News) سے بات کرتے ہوئے کہا:
اس پیکج نے خود کو اینتھروپک کی کلاڈ کوڈ ایکسٹینشن ظاہر کیا، مگر اس کی اصل فائل میں 66 سطروں کا بدنیتی پر مبنی لوڈر اصل کوڈ سے پہلے جوڑ دیا گیا تھا۔
متاثرہ ڈویلپرز اب کیا کریں
متاثرہ صارفین کے لیے جانچ اور صفائی کا طریقہ جاری کیا گیا ہے۔ پہلے یہ جانچنا ہے کہ کمپیوٹر میں حملہ آور کی کی موجود ہے یا نہیں۔ میک صارفین اپنی ایس ایس ایچ کیز والی فائل میں svc-telemetry تلاش کر سکتے ہیں، جبکہ ونڈوز پر یہی جانچ پاور شیل (PowerShell) سے ہوتی ہے۔ اگر یہ کی مل جائے تو کمپیوٹر متاثر سمجھا جائے گا۔
صفائی کے لیے میک اور ونڈوز کی الگ اسکرپٹس جاری کی گئی ہیں۔ میک پر اسکرپٹ عام صارف کے طور پر چلانی ہے، اور ونڈوز پر پاور شیل (PowerShell) منتظم کے طور پر چلانی ہے۔ یہ اسکرپٹس بدلی ہوئی ایکسٹینشن، مستقل اسکرپٹس، فعال سرنگ اور حملہ آور کی کی کو ہٹاتی ہیں، اور اگر کچھ باقی رہ جائے تو غلطی ظاہر کرتی ہیں۔
کرسر نے خبردار کیا ہے کہ صرف ایکسٹینشن ہٹا دینا کافی نہیں، کیوں کہ حملے کی مستقل اسکرپٹس الگ سے چلتی رہتی ہیں۔ جن کمپیوٹرز پر حملے کے آثار ملیں، انھیں فوراً الگ کیا جائے۔ متاثرہ کمپیوٹر سے جن پاس ورڈز اور سیشنز تک رسائی ممکن تھی، انھیں کسی محفوظ کمپیوٹر سے تبدیل کیا جائے، اور ضرورت پڑنے پر کمپیوٹر کو نئے سرے سے انسٹال کیا جائے۔
اے آئی کوڈنگ ٹولز کے لیے وارننگ
یہ واقعہ اے آئی کوڈنگ ٹولز کے لیے ایک واضح انتباہ ہے۔ کوڈنگ اسسٹنٹ عام ایپلی کیشنز سے مختلف ہوتے ہیں، کیوں کہ انھیں کوڈ، فائلوں، ٹرمینل اور بسا اوقات سرورز تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔ اس لیے ان کی اپ ڈیٹ کا راستہ حملہ آوروں کے لیے قیمتی ہدف ہے۔ ایک بدلی ہوئی اپ ڈیٹ صارف کے کچھ نیا نصب کیے بغیر ہی ہزاروں ڈویلپرز تک بیک وقت پہنچ سکتی ہے۔
دوسری جانب یہ واقعہ مارکیٹ پلیسوں پر اعتماد کا سوال اٹھاتا ہے۔ یہاں حملہ جعلی ناشر کے نام سے نہیں، بلکہ اصل ناشر کے نام سے ہوا۔ صارف کے لیے صرف ناشر کا نام دیکھ لینا کافی نہیں رہا۔ مارکیٹ پلیس چلانے والی کمپنیوں کو اپ ڈیٹ کی تصدیق، دستخطوں کی جانچ اور غیر معمولی تبدیلیوں کی نگرانی مزید سخت کرنی ہوگی۔
پاکستان کے ڈویلپرز کے لیے اس کا مطلب
پاکستان کے فری لانسرز اور سافٹ ویئر ہاؤسز میں کرسر اور کلاڈ کوڈ تیزی سے استعمال ہو رہے ہیں۔ جن ڈویلپرز کو 29 اکتوبر کو کرسر کی مارکیٹ پلیس سے کلاڈ کوڈ کی اپ ڈیٹ ملی تھی، وہ اپنا ورژن ضرور جانچیں۔ ورژن 2.1.312 یا 2.1.313 ملنے پر اوپر بتائی گئی جانچ اور صفائی فوراً کی جائے اور صاف ورژن 2.1.314 پر منتقل ہو جائیں۔
دو احتیاطیں ہمیشہ کام آئیں گی۔ پہلی یہ کہ کوڈ ایڈیٹر منتظم کی سطح کی اجازت کے ساتھ نہ چلایا جائے، کیوں کہ اسی اجازت کے نہ ہونے نے حملے کا خطرناک ترین مرحلہ روکا۔ دوسری یہ کہ ایس ایس ایچ کیز کی حفاظت کو معمولی نہ سمجھا جائے، کیوں کہ یہی سرورز اور کوڈ کے ذخائر تک رسائی کی کنجی ہیں۔ اینتھروپک نے 30 اکتوبر کو صاف ورژن 2.1.314 اوپن وی ایس ایکس اور مائیکروسافٹ کے وی ایس کوڈ مارکیٹ پلیس پر جاری کر دیا ہے۔ کرسر کی مارکیٹ پلیس بھی دوبارہ کھل چکی ہے۔




