کیوپرٹینو، 3 نومبر 2026 (ویب ڈیسک): ایپل (Apple) نے اپنی گھڑی پر گفتگو سننے اور اس کا خلاصہ بنانے والی نئی اے آئی سہولتوں کی آزمائش شروع کر دی ہے۔ یہ سہولتیں آڈیو انٹیلی جنس (Audio Intelligence) کے نام سے ستمبر میں متعارف کرائی گئی تھیں، اور اب آئی او ایس 27.3 کے ڈویلپر ورژن میں ان کی جانچ شروع ہو گئی ہے۔ ٹیک کرنچ (TechCrunch) کے مطابق یہ سہولتیں ابتدا میں ایپل واچ سیریز 12 (Apple Watch Series 12) اور ایپل واچ الٹرا 4 (Apple Watch Ultra 4) پر دستیاب ہوں گی۔
چار سہولتیں، ایک مقصد: سننا اور یاد رکھنا
آڈیو انٹیلی جنس میں چار سہولتیں شامل ہیں، اور چاروں کو صارف کی مرضی سے چلایا جا سکے گا۔ پہلی سہولت آوازوں کی پہچان ہے، جو سماعت سے محروم یا کم سننے والے صارفین کو سائرن، الارم یا دروازے کی گھنٹی جیسی اہم آوازوں سے خبردار کرے گی۔ دوسری سہولت گانوں کی پہچان ہے، جو ایپل کی ایپ شازم (Shazam) کی مدد سے آس پاس بجنے والے گانے کا نام اور گلوکار بتا سکے گی۔ تیسری اور چوتھی سہولتیں گفتگو سے متعلق ہیں، جن پر سب سے زیادہ بحث ہو رہی ہے۔
ایپل کا کہنا ہے کہ ان سہولتوں کا مقصد صارف کی یادداشت کا بوجھ کم کرنا ہے، نہ کہ دوسروں کی گفتگو ریکارڈ کرنا۔ یہ فرق اس خبر کا سب سے اہم پہلو ہے، کیوں کہ اے آئی سے لیس پہننے والے آلات پر پہلے ہی تنقید ہو رہی ہے۔ میٹا (Meta) کی اے آئی عینکوں سمیت کئی آلات پر یہ اعتراض کیا گیا کہ وہ آس پاس کے لوگوں کی رازداری سے سمجھوتا کرتے ہیں۔
لائیو ری وائنڈ: آخری 15 سیکنڈ دوبارہ سننا
لائیو ری وائنڈ (Live Rewind) کا خیال سادہ ہے۔ اگر بات چیت کے دوران کوئی بات سننے سے رہ جائے، تو صارف گھڑی کے ڈیجیٹل کراؤن کو دو بار دبا کر گزشتہ 15 سیکنڈ میں کہی گئی بات تحریر کی صورت میں اسکرین پر دیکھ سکے گا، مثلاً کوئی راستہ بتا رہا ہو یا ریستوران میں کھانوں کی فہرست سنا رہا ہو۔
ایپل کے مطابق جب صارف ڈیجیٹل کراؤن دو بار دبائے گا تو ایک آواز اور اسکرین پر ایک حرکت بھی ظاہر ہوگی، تاکہ آس پاس موجود لوگوں کو پتا چل سکے کہ کچھ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اگر صارف اس تحریری ٹکڑے کو محفوظ نہ کرے تو وہ 30 سیکنڈ کے اندر خود بخود ختم ہو جائے گا۔ محفوظ کیا گیا ٹکڑا آئی او ایس 27 کے ساتھ آنے والی سیری ایپ (Siri app) میں رکھا جا سکے گا۔ اس ٹکڑے کے نیچے "سیری سے پوچھیے" کا اختیار بھی ملے گا، جس سے صارف کہی گئی بات کے بارے میں سوال کر سکے گا۔
سیری ری کیپس: پوری گفتگو کا مختصر نوٹ
سیری ری کیپس (Siri Recaps) اس سے ایک قدم آگے جاتی ہے۔ یہ پوری گفتگو کا خلاصہ ایک مختصر جملے اور چند نکات کی صورت میں تیار کرے گی، جن میں اہم تاریخیں، آخری تاریخیں، قیمتیں یا ادائیگی کی تفصیلات جیسی عملی معلومات شامل ہو سکیں گی۔ ایپل کا کہنا ہے کہ یہ سہولت بولنے والوں کی شناخت نہیں کرے گی، نہ خام آڈیو محفوظ کرے گی، اور نہ لفظ بہ لفظ نقل تیار کرے گی۔
ایپل نے اس سہولت کے استعمال کی مثالیں بھی دی ہیں، جیسے دفتری میٹنگ یا والدین اور اساتذہ کی ملاقات، جہاں ہاتھ میں قلم نہ ہو یا توجہ بات سننے پر مرکوز ہو۔ دن کے اختتام پر صارف کو اپنے محفوظ شدہ خلاصے دیکھنے اور یہ فیصلہ کرنے کا موقع ملے گا کہ ان میں سے کون سا رکھنا ہے۔ یہ یاددہانی صبح گھڑی کھولنے پر بھی ظاہر ہوگی۔ جو خلاصے محفوظ نہ کیے جائیں، وہ سات دن کے اندر خود بخود ختم ہو جائیں گے، اور محفوظ شدہ نوٹس کو نوٹس ایپ یا جرنل ایپ میں بھیجا جا سکے گا۔
صارف اس سہولت کو خود چلا سکے گا، یا شیڈول بنا سکے گا، مثلاً صرف دفتر کے اوقات میں خلاصے بنیں، رات کو کبھی نہیں۔ شیڈول کے باوجود صارف کسی بھی وقت کنٹرول سینٹر سے اسے بند کر سکے گا۔ ایپل کے مطابق جب صارف ہیڈ فون سے موسیقی سن رہا ہو یا شور کم کرنے والی سہولت استعمال کر رہا ہو تو خلاصے نہیں بنیں گے۔
رازداری: ایپل کا دعوٰی اور کھلے سوالات
ایپل نے رازداری کے لیے کئی حدود بھی رکھی ہیں۔ کمپنی کے مطابق سیری ری کیپس میں سرکاری شناختی نمبر، مالیاتی اور تصدیقی معلومات، اور خود کو نقصان پہنچانے کی ترغیب دینے والی زبان شامل نہیں کی جائے گی۔ تیار شدہ خلاصے صرف صارف کے لیے ہوں گے، ایپل کے لیے نہیں، اور آلات کے درمیان ہم آہنگی کے دوران خفیہ رکھے جائیں گے۔
تاہم یہ دعوے اپنی جگہ، سوال اپنی جگہ موجود ہے۔ کسی کی گفتگو سننے والا آلہ، خواہ وہ کتنا ہی محتاط کیوں نہ ہو، دوسرے شخص کی رضامندی کا سوال ضرور اٹھاتا ہے۔ گھڑی پر بجنے والی آواز اور حرکت اس سوال کا جزوی جواب تو ہے، مگر یہ واضح نہیں کہ مصروف ماحول میں آس پاس کے لوگ اس اشارے کو کتنا سمجھیں گے۔ اسی لیے ایپل نے ان سہولتوں کو اختیاری رکھا ہے، اور ان کا استعمال صارف کے اپنے فیصلے پر چھوڑا ہے۔
یہ ٹیکنالوجی اندر سے کیسے کام کرتی ہے
ایپل کے مطابق یہ سہولتیں گھڑی کی ایس 11 چپ (S11)، آئی فون پر چلنے والے ایپل انٹیلی جنس ماڈلز اور پرائیویٹ کلاؤڈ کمپیوٹ (Private Cloud Compute) کے ملاپ سے کام کرتی ہیں۔ گھڑی میں موجود ہلکے ماڈل پہلے یہ پہچانتے ہیں کہ صارف خود کسی گفتگو کا حصہ ہے یا نہیں۔ پھر آڈیو آئی فون کے محفوظ حصے میں جاتی ہے، جہاں وہ مختصر متن میں بدل جاتی ہے، اور یہ متن خفیہ کر کے پرائیویٹ کلاؤڈ کمپیوٹ کو بھیجا جاتا ہے۔ خلاصہ تیار ہونے کے بعد اس میں استعمال ہونے والا مواد ایپل کے مطابق فوراً ختم کر دیا جاتا ہے۔
اس پورے عمل میں خام آڈیو کسی کے لیے قابلِ رسائی نہیں ہوتی، یہاں تک کہ ایپل کے لیے بھی نہیں، کیوں کہ آڈیو ایک محفوظ بفر میں پروسیس ہوتی ہے۔ ایپل کا دعوٰی ہے کہ ان سہولتوں سے گھڑی یا فون کی بیٹری پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ اس دعوے کی آزادانہ تصدیق تاحال نہیں ہوئی، اور بیٹری پر اصل اثر عام استعمال کے بعد ہی واضح ہوگا۔
پاکستانی صارفین کے لیے اس کا کیا مطلب ہے
پاکستانی صارفین کے لیے اس خبر کا فوری مطلب محدود ہے۔ یہ سہولتیں ابتدا میں صرف سیریز 12 اور الٹرا 4 پر آ رہی ہیں، اور آزمائش بھی پہلے ڈویلپرز تک محدود ہے۔ عوامی آزمائش اس کے بعد آئے گی۔ زبان کا سوال بھی اہم ہے، کیوں کہ اس طرح کی سہولتوں کی آزمائش عموماً انگریزی سے شروع ہوتی ہے، اور اردو تک پہنچنے میں وقت لگتا ہے۔ ایپل نے تاحال یہ واضح نہیں کیا کہ اردو گفتگو کے خلاصے کب دستیاب ہوں گے۔
اس کے باوجود یہ خبر پاکستانی مارکیٹ کے لیے اس لیے اہم ہے کہ پہننے والے آلات میں اے آئی کی سمت اب واضح ہو رہی ہے۔ گھڑی صرف قدم گننے یا اطلاعات دکھانے کا آلہ نہیں رہی، بلکہ وہ ایک ایسا معاون بن رہی ہے جو سنتا ہے، سمجھتا ہے اور نوٹ بناتا ہے۔ اگر ایپل جیسی کمپنی گفتگو کے خلاصے کو عام کر دیتی ہے، تو صارفین کی توقعات بھی بدل جائیں گی، اور مقامی مصنوعات کو بھی اسی معیار سے ناپا جائے گا۔
مجموعی طور پر ایپل نے ایک محتاط مگر واضح قدم اٹھایا ہے۔ اس نے گفتگو سننے والی سہولتوں کو عام کرنے سے پہلے آزمائش، اختیاری استعمال، خودکار حذف اور رازداری کی حدود کا راستہ چنا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ڈویلپرز کی آزمائش میں یہ سہولتیں کیسی کارکردگی دکھاتی ہیں۔ عوامی آزمائش کے بعد ہی واضح ہوگا کہ گھڑی پر گفتگو کا خلاصہ روزمرہ ضرورت بنتا ہے یا اضافی سہولت ہی رہتا ہے۔




