بیجنگ، 3 نومبر 2026 (نیوز ڈیسک): چین کی ٹیکنالوجی کمپنی بائیڈو (Baidu) نے ڈرائیور کے بغیر چلنے والی ٹیکسیوں کی تربیت کے لیے ایک نیا نظام اپولو ورلڈ (Apollo World) پیش کر دیا ہے۔ یہ نظام اصل سڑکوں کی نقل تیار کرتا ہے تاکہ روبوٹ ٹیکسیاں حقیقی سفر سے پہلے مجازی دنیا میں چلنا سیکھ سکیں۔ خبر رساں ادارے روئٹرز (Reuters) کے مطابق بائیڈو نے یہ نظام منگل کے روز متعارف کرایا ہے، اور اس نظام سے اس کی روبوٹ ٹیکسی سروس اپولو گو (Apollo Go) کے بیڑے کی تربیت پہلے ہی جاری ہے۔
بائیڈو کے مطابق اپولو ورلڈ یومیہ ایک لاکھ کلومیٹر تک مجازی ڈرائیونگ تیار کر سکتا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ مقدار تقریباً تین برس کی اس حقیقی آزمائش کے برابر ہے جو حفاظتی ڈرائیور کے ساتھ چلنے والی ایک خودکار گاڑی سے حاصل ہوتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اصل سڑک پر برسوں میں جمع ہونے والا تجربہ مجازی ماحول میں کہیں کم وقت میں، اور بغیر کسی کو خطرے میں ڈالے، حاصل کیا جا سکتا ہے۔
اپولو ورلڈ کیا ہے اور کیسے کام کرتا ہے
اپولو ورلڈ ایک ورلڈ ماڈل (World Model) ہے، یعنی ایسا اے آئی نظام جو دنیا کے کام کرنے کا انداز سیکھتا ہے اور پھر اس کی نقل بنا کر آگے کے حالات کی پیش گوئی کرتا ہے۔ اس معاملے میں اس کا کام سڑک کی دنیا کی نقل بنانا ہے: سڑکیں، سگنل، دوسری گاڑیاں اور پیدل چلنے والے، سب کچھ مجازی صورت میں سامنے آتا ہے، اور خودکار ڈرائیونگ کا نظام اسی مجازی دنیا میں فیصلے کرتا ہے۔
اس نظام کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ حقیقی وقت میں کئی اقسام کا ڈیٹا فراہم کرتا ہے، جن میں کیمرے کی تصاویر اور لائیڈار (LiDAR) کے مشاہدات شامل ہیں۔ لائیڈار وہ سینسر ہے جو لیزر کی مدد سے اردگرد کی چیزوں کا فاصلہ اور خاکہ ناپتا ہے۔ خودکار گاڑی کا نظام ان مجازی مشاہدات کو اسی طرح استعمال کرتا ہے جیسے وہ اصل سینسر سے آ رہے ہوں، اور اسی بنیاد پر گاڑی کو موڑنا، رفتار کم کرنا یا رکنا سکھایا جاتا ہے۔
یہی فرق اسے پرانی طرز کی سمیولیشن سے الگ کرتا ہے۔ پرانی آزمائش میں اکثر پہلے سے طے شدہ منظرنامے دہرائے جاتے تھے، جب کہ بائیڈو کا دعوٰی ہے کہ اس کی بنائی ہوئی دنیا بدلتی رہتی ہے اور آگے کے حالات کی پیش گوئی بھی کرتی ہے۔ اس طرح روبوٹ ٹیکسی کو نئے اور غیر متوقع حالات سے نمٹنے کی مشق بھی کرائی جاتی ہے۔
اصل سڑک کی جگہ مجازی سڑک کیوں؟
خودکار گاڑیوں کی تربیت کا سب سے بڑا مسئلہ لاگت اور وقت ہے۔ اصل سڑک پر آزمائش کے لیے گاڑیاں، حفاظتی ڈرائیور اور اجازت نامے درکار ہوتے ہیں، اور حادثے کا خطرہ بھی رہتا ہے۔ ہر نیا شہر، ہر نیا ٹریفک قاعدہ اور سڑک کی ہر نئی بناوٹ نظام کے لیے ایک نیا سبق ہے، اور یہ سبق اصل سڑک پر سیکھنا مہنگا اور سست عمل ہے۔
روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق چینی روبوٹ ٹیکسی کمپنیوں نے بیرون ملک توسیع کے لیے زیادہ تر ہلکا طریقہ اپنایا ہے۔ وہ گاڑیوں کا پورا بیڑا خود خریدنے اور چلانے کے بجائے اپنی ٹیکنالوجی کار ساز اداروں، آن لائن ٹیکسی پلیٹ فارمز اور مقامی بیڑا چلانے والوں کو فراہم کرتی ہیں۔ اس سے بیرون ملک پھیلنا آسان ہو جاتا ہے، لیکن ٹیکنالوجی تیار کرنے کی لاگت پھر بھی اپنی جگہ قائم رہتی ہے۔
"کسی نئی جگہ سروس شروع کرنے کی رفتار اس بات پر منحصر ہے کہ آپ کی ٹیکنالوجی اس ماحول کو کتنی جلدی سمجھ سکتی ہے، اس سے سیکھ سکتی ہے اور اس میں چلنا سیکھ سکتی ہے۔"
یہ بات انتظامی مشاورتی ادارے آرتھر ڈی لٹل (Arthur D. Little) میں خودکار نقل و حرکت کے ماہر فرینک میک کلیری (Frank McCleary) نے روئٹرز سے گفتگو میں کہی۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ماڈلز کی تربیت اور گاڑیوں کی لاگت وہ چیلنج ہے جس کا سامنا ہر خودکار گاڑی بنانے والی کمپنی کو ہے۔
عالمی دوڑ میں بائیڈو کہاں کھڑا ہے؟
بائیڈو کی روبوٹ ٹیکسی سروس اپولو گو چین کی سب سے بڑی روبوٹ ٹیکسی سروس سمجھی جاتی ہے، اور بائیڈو کے مطابق اپولو ورلڈ سے اسی بیڑے کی تربیت ہو رہی ہے جسے عالمی سطح پر چلانے کا منصوبہ ہے۔ اس دوڑ میں اس کے حریفوں میں وی رائیڈ (WeRide)، پونی اے آئی (Pony.ai) اور مومنٹا گلوبل (Momenta Global) شامل ہیں۔
دوسری جانب ووکس ویگن (Volkswagen) کی چینی شراکت دار ایکس پینگ (XPeng) بھی 2027 میں روبوٹ ٹیکسی سروس شروع کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ یہ مقابلہ اب روایتی کار ساز اداروں تک بھی پہنچ چکا ہے۔
امریکا میں ٹیسلا (Tesla) بھی اپنی سائبر کیب (Cybercab) روبوٹ ٹیکسی کو آگے بڑھا رہی ہے۔ اس کا طریقہ مختلف ہے: ٹیسلا انسانی ڈرائیونگ کی ویڈیو پر تربیت یافتہ اینڈ ٹو اینڈ نیورل نیٹ ورک استعمال کرتی ہے۔ بائیڈو کا طریقہ اس سے الگ ہے: یہ مجازی دنیا بنا کر نظام کی تربیت کرتا ہے، جب کہ ٹیسلا اصل انسانی ڈرائیونگ کے ریکارڈ پر انحصار کرتی ہے۔
اس منڈی کے حجم کا اندازہ مورگن اسٹینلے (Morgan Stanley) کے ایک تخمینے سے ہوتا ہے، جس کے مطابق چین میں روبوٹ ٹیکسیوں کا بیڑا 2035 تک 10 لاکھ گاڑیوں تک پہنچ سکتا ہے۔ یہ صرف ایک تخمینہ ہے۔
مجازی تربیت کی حدود اور کھلے سوالات
مجازی دنیا میں تربیت کی رفتار متاثر کن ہے، لیکن اس کی حدود بھی ہیں۔ مجازی سڑک کتنی ہی حقیقی کیوں نہ لگے، وہ اصل سڑک نہیں ہوتی۔ اصل ٹریفک میں انسانی ڈرائیوروں کا غیر متوقع رویہ، خراب موسم اور اچانک سامنے آنے والی رکاوٹیں مجازی ماڈل میں پوری درستی سے لانا ایک مشکل کام ہے۔ اس لیے مجازی تربیت اصل آزمائش کی جگہ نہیں لے سکتی، وہ صرف اس کی رفتار بڑھا سکتی ہے۔
روئٹرز کی رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ اپولو ورلڈ دوسری کمپنیوں کو بھی دستیاب ہوگا یا صرف بائیڈو کے اپنے بیڑے تک محدود رہے گا، اور نہ ہی اس کی قیمت یا تجارتی شرائط بتائی گئی ہیں۔ یہ سوالات اس لیے اہم ہیں کہ اگر یہ نظام صرف بائیڈو تک محدود رہا تو اس کا دائرہ ایک کمپنی تک رہے گا، اور اگر یہ دوسروں کو ملا تو پورا شعبہ اس سے مستفید ہو سکتا ہے۔
اسی طرح یہ بھی دیکھنا باقی ہے کہ مجازی دنیا میں تربیت پانے والی گاڑیاں نئے ملکوں کی سڑکوں اور ٹریفک قوانین سے کتنی جلدی ہم آہنگ ہوتی ہیں۔ بائیڈو کے دعوے کی اصل آزمائش اس وقت ہوگی جب اپولو گو کا بیڑا چین سے باہر مختلف شہروں میں چلے گا۔
پاکستان کے قاری کے لیے اس خبر کا مطلب
پاکستان میں ڈرائیور کے بغیر ٹیکسیاں فی الحال ایک دور کی بات ہیں، اور اس خبر کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اپولو گو جلد پاکستان کی سڑکوں پر نظر آئے گا۔ تاہم ایک پہلو پاکستانی قاری کے لیے بھی دل چسپ ہے: سڑک کی حفاظت کی آزمائش اب حقیقی سڑک پر خطرہ مول لیے بغیر بھی ممکن ہو رہی ہے۔
پاکستان کی جامعات اور سافٹ ویئر ہاؤسز میں جو لوگ ٹرانسپورٹ یا روڈ سیفٹی پر کام کرتے ہیں، ان کے لیے ورلڈ ماڈل کا تصور ایک نیا دروازہ کھولتا ہے۔ مجازی ماحول میں ٹریفک کے منظرنامے بنا کر نئے نظاموں کو پرکھا جا سکتا ہے، اور یہ طریقہ اصل سڑک پر آزمائش سے کہیں سستا اور محفوظ ہے۔
مجموعی طور پر اپولو ورلڈ کی خبر یہ بتاتی ہے کہ روبوٹ ٹیکسیوں کی دوڑ اب صرف اس بات پر نہیں کہ کس کے پاس زیادہ گاڑیاں ہیں، بلکہ اس بات پر ہے کہ کس کا نظام نئی دنیا کو سب سے تیزی سے سیکھ سکتا ہے۔ بائیڈو کے مطابق اس کا بیڑا پہلے ہی اسی مجازی دنیا میں تربیت پا رہا ہے۔




