لندن، 28 اکتوبر 2026 (نیوز ڈیسک): گوگل ڈیپ مائنڈ (Google DeepMind) نے اپنا نیا ورلڈ ماڈل (World Model) جینی 4 (Genie 4) متعارف کرا دیا ہے، جو صرف تحریری ہدایت یا تصویر سے ایسی دنیا بنا دیتا ہے جس میں صارف خود چل پھر سکتا ہے، جس کی آوازیں سنائی دیتی ہیں اور جسے چلتے منظر میں بھی بدلا جا سکتا ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ اس کا اب تک کا سب سے حقیقی اور سب سے زیادہ تعاملی ورلڈ ماڈل ہے۔ فی الحال یہ تحقیقی پیش نظارے کے طور پر صرف منتخب آزمائشی صارفین کو دستیاب ہے، اور آئندہ ہفتوں میں اسے گوگل اے آئی الٹرا (Google AI Ultra) کے صارفین تک پہنچایا جائے گا۔
جینی 4 دراصل کیا کرتا ہے
ورلڈ ماڈل کو سمجھنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ اسے ویڈیو بنانے والے ماڈل سے الگ کر کے دیکھا جائے۔ ویڈیو ماڈل ایک کلپ بنا دیتا ہے جسے صارف صرف دیکھ سکتا ہے، جب کہ ورلڈ ماڈل ایک ایسی جگہ تخلیق کرتا ہے جس میں صارف داخل ہو کر گھوم سکتا ہے۔ جینی 4 میں صارف ایک تحریری ہدایت لکھتا ہے یا تصویر دیتا ہے، اور ماڈل اس کے گرد دنیا بنانا شروع کر دیتا ہے، وہ بھی فریم بہ فریم، یعنی ہر لمحہ نئی تصویر گھڑ کر۔ صارف کی بورڈ سے چلتا ہے، کیمرے کا زاویہ بدلتا ہے اور دنیا اس کے ہر قدم پر ردعمل دکھاتی ہے۔
پرانا ماڈل خاموش مناظر بناتا تھا اور منظر صرف ایک منٹ تک مربوط رہتا تھا۔ جینی 4 نے یہ حد دگنی کر دی ہے، یعنی منظر اب تقریبا دو منٹ تک اپنی شکل و صورت برقرار رکھ سکتا ہے۔ دو منٹ ایک زندہ منظر کے لیے بڑا فرق ہے، کیوں کہ اس دوران موسم بدل سکتا ہے اور ایک مکالمہ کسی نتیجے تک پہنچ سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی مناظر زیادہ حقیقی لگتے ہیں، حرکت رواں ہو گئی ہے اور طبیعیات بہتر ہو گئی ہے، یعنی چیزوں کا ٹکرانا، پانی کا بہنا اور ہوا میں درختوں کا جھومنا زیادہ قدرتی انداز میں دکھائی دیتا ہے۔
آواز اور براہِ راست تبدیلی: دو بڑی چھلانگیں
جینی 4 کی سب سے بڑی خبر اس کی آواز ہے۔ ڈیپ مائنڈ کے مطابق یہ اس کا پہلا ریئل ٹائم ورلڈ ماڈل ہے جو آواز خود پیدا کرتا ہے، یعنی دنیا کے ساتھ ہی اس کی موسیقی، ماحول کی آوازیں اور کرداروں کا مکالمہ بھی اسی لمحے گھڑا جاتا ہے۔ ساحل کا منظر ہو تو لہروں کی آواز سنائی دیتی ہے، جنگل ہو تو پتوں کی سرسراہٹ، اور منظر میں موجود کردار صارف کی بات کا جواب بھی دے سکتے ہیں۔ اب آواز دنیا کا حصہ ہے، بعد میں اوپر سے چڑھائی ہوئی آواز نہیں۔
دوسری بڑی تبدیلی یہ ہے کہ دنیا کو بیچ منظر میں بدلا جا سکتا ہے۔ صارف کو منظر روکنے کی ضرورت نہیں، وہ چلتے منظر میں ہی تحریری ہدایت لکھ کر موسم بدل سکتا ہے، کیمرے کا زاویہ گھما سکتا ہے، کوئی نیا شخص یا چیز منظر میں لا سکتا ہے، اور منظر نئی ہدایت کے ساتھ آگے بڑھتا رہتا ہے۔ اس سے پہلے ایسا کرنے کے لیے منظر دوبارہ بنانا پڑتا تھا، اب تخلیق کار ایک ہی نشست میں کئی خیالات آزما سکتا ہے۔ فلم سازوں اور گیم ڈیزائنرز کے لیے یہی خصوصیت سب سے زیادہ دلچسپ ہے، کیوں کہ کسی کہانی کا خاکہ اب منٹوں میں سامنے آ جاتا ہے۔
پردے کے پیچھے جیمنائی کا کردار
جینی 4 تنہا کام نہیں کرتا، اس کی پشت پر گوگل کے جیمنائی (Gemini) ماڈلز کھڑے ہیں۔ جیمنائی اومنی (Gemini Omni) مناظر کو حقیقی دنیا کی شکل و صورت اور رویے سے جوڑ کر رکھتا ہے، تاکہ چیزیں پہچانی ہوئی اور قدرتی لگیں۔ اس کے ساتھ جیمنائی 3.8 فلیش (Gemini 3.8 Flash) ماڈل کے اندر ہی ایک رہنما ایجنٹ کا کردار ادا کرتا ہے، جو صارف کی ہدایت کو چھوٹے مراحل میں توڑتا ہے، ہر فریم کا جائزہ لیتا ہے اور منظر کو راستے سے ہٹنے نہیں دیتا۔ منظر چلتے ہوئے لکھی گئی تبدیلی بھی اسی نظام کے ذریعے منظر سے ہم آہنگ ہو جاتی ہے۔
ڈیپ مائنڈ نے اس نظام کا ایک عملی تجربہ بھی دکھایا ہے، جس میں جیمنائی 4 آرگن (Gemini 4 Argon) نے روبوٹ کے کام کو مراحل میں تقسیم کیا اور جینی 4 نے ان مراحل کو حقیقی وقت میں منظر کی صورت میں چلا کر دکھایا۔ اس تجربے میں ایپٹرونک (Apptronik) کے انسانی نما روبوٹ اپالو (Apollo) کے چیکرز کھیلنے کا منظر بھی شامل تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ روبوٹ کو اصل دنیا میں اتارنے سے پہلے اس کے کام کو محفوظ نقلی دنیا میں آزمایا جا سکتا ہے، جہاں غلطی کی کوئی قیمت نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ڈیپ مائنڈ جینی 4 کو صرف تفریح کا آلہ نہیں بلکہ روبوٹس اور ایجنٹس کی تربیت کا ماحول بھی قرار دیتا ہے۔
کہاں استعمال ہوگا، کہاں ابھی کمزور ہے
کمپنی کے مطابق جینی 4 کے پہلے صارفین فلم ساز، گیم ڈیزائنر اور روبوٹکس ٹیمیں ہوں گی، جو اسے کہانی کے خاکے، منظر کی آزمائش اور تربیتی ماحول کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔
ڈیپ مائنڈ نے اس کی کمزوریاں بھی کھل کر بتائی ہیں۔ لمبے مناظر میں تفصیلات آہستہ آہستہ بدلنے لگتی ہیں، چیزیں اپنی جگہ برقرار نہیں رکھ پاتیں، منظر میں لکھی تحریر ہمیشہ پڑھنے کے قابل نہیں رہتی اور آواز کی درستی بھی ہر بار مکمل نہیں ہوتی۔ اسی لیے کمپنی نے پہلے مرحلے میں اسے صرف منتخب آزمائشی صارفین تک محدود رکھا ہے، تاکہ ان کی رائے سے خامیاں دور کی جا سکیں۔ ہر تیار شدہ ویڈیو اور آڈیو پر گوگل کا ناقابلِ دید واٹر مارک سنتھ آئی ڈی (SynthID) بھی لگایا جائے گا، تاکہ اے آئی سے بنی چیز کی شناخت ممکن رہے۔
"مستقبل میں ہم تیزی سے ایسے مشترکہ ورلڈ ماڈلز دیکھیں گے، جن میں جیمنائی تحریر اور کوڈ لکھے گا اور جینی اسے حقیقی وقت میں حقیقت کی صورت میں ڈھالے گا۔"
یہ بات گوگل کے ریسرچ ڈائریکٹر تیجس کلکرنی (Tejas Kulkarni) نے صحافیوں کو بریفنگ کے دوران کہی۔ ڈیپ مائنڈ کے انجینئر ڈیاگو ریواس (Diego Rivas) نے اسی بریفنگ میں کہا کہ ریئل ٹائم کی خوبی وہیں سب سے زیادہ کام آتی ہے جہاں تخلیقی کام کا بہاؤ برقرار رکھنا ہو، جیسے خیالات کی آزمائش اور کہانی کے خاکے کا مرحلہ۔
ایک تیز ہوتی دوڑ، اور پاکستان کے لیے مطلب
جینی 4 ایسے وقت میں آیا ہے جب ورلڈ ماڈلز کی دوڑ غیر معمولی حد تک تیز ہو گئی ہے۔ چند ماہ قبل رن وے (Runway) نے اپنا دوسرا ورلڈ ماڈل پیش کیا تھا، جو آواز کے ساتھ صارف کی ہدایت پر ردعمل دکھاتا ہے۔ اسی دوران ورلڈ لیبز (World Labs) کو حاصل کرنے کا معاہدہ AMD نے کر لیا، ایمیزون (Amazon) ڈیکارٹ (Decart) کی خریداری پر بات چیت کر رہا ہے اور ریوین (Rivian) نے تھرڈ ڈائمینشن (Third Dimension) کو اپنی کمپنی میں ضم کر لیا ہے، تاکہ خودکار گاڑیوں کی آزمائش کے لیے نقالی کی صلاحیت گھر میں ہی موجود ہو۔ اس دوڑ میں گوگل کا جواب جینی 4 ہے، جس میں آواز، حقیقت پسندی اور براہِ راست تبدیلی کو ایک ساتھ جوڑا گیا ہے۔
پاکستان کے لیے اس خبر کا اثر فی الحال براہِ راست نہیں، مگر حقیقی ہے۔ یہ ماڈل ابھی پاکستان میں عام صارفین کو دستیاب نہیں، اور اس کی حتمی قیمت یا یہاں دستیابی کی تاریخ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔ مگر جن شعبوں میں اس کا اثر سب سے پہلے پڑے گا، وہ پاکستان میں بھی موجود ہیں۔ گیم بنانے والے چھوٹے اسٹوڈیوز، اینیمیشن اور ویڈیو سے وابستہ فری لانسرز، اور کمپیوٹر سائنس کے طلبہ کے لیے ورلڈ ماڈل کا مطلب یہ ہے کہ دنیا اور منظر بنانے کا کام اب بڑی ٹیموں تک محدود نہیں رہے گا۔ فی الحال پراجیکٹ جینی (Project Genie) میں جینی 4 کے لیے انتظار کی فہرست کھلی ہوئی ہے، جہاں سے گوگل اے آئی الٹرا کے صارفین کو آئندہ ہفتوں میں رسائی ملنے کی توقع ہے۔




