سان فرانسسکو، 27 اکتوبر 2026 (نیوز ڈیسک): اوپن اے آئی (OpenAI) نے کمپیوٹر پر روزمرہ کے کام خود کرنے والا اپنا نیا ماڈل جی پی ٹی 6.1 ٹیرا (GPT-6.1 Terra) متعارف کرا دیا ہے، جس کی اے پی آئی قیمت اس کے پیش رو سے آدھی مقرر کی گئی ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ ماڈل اسکرین دیکھ کر، ماؤس چلا کر اور فارم بھر کر دفتری کام نمٹا سکتا ہے، اور اسے چیٹ جی پی ٹی ورک (ChatGPT Work) اور کوڈیکس (Codex) میں پیش کر دیا گیا ہے۔
اوپن اے آئی نے 26 اکتوبر کو اس ماڈل کا اعلان کیا۔ اس سے پہلے کمپیوٹر پر کام کرنے والے ماڈل عام طور پر مہنگے پڑتے تھے، اس لیے چھوٹی ٹیمیں انھیں روزمرہ کے کاموں کے لیے استعمال کرنے سے گریز کرتی تھیں۔ نئی قیمت کے بعد ایک عام دفتری کام پر آنے والی لاگت نمایاں طور پر کم ہو جائے گی۔
قیمت اور دستیابی
جی پی ٹی 6.1 ٹیرا کی اے پی آئی قیمت دس لاکھ ٹوکن کے لیے ان پٹ پر ایک ڈالر اور آؤٹ پٹ پر پانچ ڈالر مقرر کی گئی ہے۔ محفوظ شدہ ان پٹ پر قیمت صرف پانچ سینٹ فی دس لاکھ ٹوکن ہوگی۔ یہ قیمت اس کے پیش رو جی پی ٹی 5.6 ٹیرا (GPT-5.6 Terra) سے آدھی ہے، جس کی قیمت ان پٹ پر دو ڈالر اور آؤٹ پٹ پر بارہ ڈالر تھی۔ اسی طرح یہ اوپن اے آئی کے بڑے ماڈل جی پی ٹی 6.1 سول (GPT-6.1 Sol) سے بھی آدھی ہے، جب کہ اینتھروپک (Anthropic) کے درمیانے ماڈل کلاڈ سونٹ 5.5 (Claude Sonnet 5.5) کی قیمت ان پٹ پر دو ڈالر اور آؤٹ پٹ پر دس ڈالر ہے۔
یہ ماڈل چیٹ جی پی ٹی ورک اور کوڈیکس میں پلس، پرو، بزنس، انٹرپرائز اور ایجو منصوبوں کے لیے مرحلہ وار آئے گا۔ ڈویلپر اسے اے پی آئی کے ذریعے بھی استعمال کر سکیں گے۔ البتہ یہ عام چیٹ جی پی ٹی میں نہیں آئے گا، بلکہ صرف کام کے ماحول، یعنی ورک اور کوڈیکس، تک محدود رہے گا۔ دستیابی منصوبے، علاقے اور کام کے ماحول کی ترتیبات پر منحصر ہوگی۔
کمپیوٹر پر کام کیسے کرتا ہے
جی پی ٹی 6.1 ٹیرا کی خاص بات کمپیوٹر کا استعمال (Computer Use) ہے۔ ماڈل صرف جواب لکھنے تک محدود نہیں، بلکہ اسکرین پڑھ کر، بٹنوں پر کلک کر کے، متن ٹائپ کر کے اور ایک ایپ سے دوسری ایپ میں جا کر کام مکمل کر سکتا ہے۔ اوپن اے آئی نے اس کی مثالیں دیتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ ماڈل آنے والے بلوں کی تفصیلات اکاؤنٹنگ سافٹ ویئر میں درج کر سکتا ہے، فارم بھر سکتا ہے، تجاویز کے مسودے تیار کر سکتا ہے، تکنیکی نقشے پڑھ سکتا ہے اور ویڈیو ایڈیٹنگ کے سافٹ ویئر میں کام کر سکتا ہے۔
یہاں ایک وضاحت ضروری ہے۔ ماڈل ویڈیو فائل کو براہ راست ان پٹ کے طور پر نہیں لیتا، بلکہ اسکرین پر کھلے ہوئے ویڈیو ایڈیٹنگ سافٹ ویئر کو چلا کر کام کرتا ہے۔ اس کا ان پٹ متن اور تصاویر تک محدود ہے، اور اس کی سیاق و سباق کی حد تقریباً دس لاکھ پچاس ہزار ٹوکن ہے۔ ٹوکن (Token) متن کی ایک چھوٹی اکائی ہوتا ہے، جسے لفظ کا ایک ٹکڑا سمجھا جا سکتا ہے۔
"جی پی ٹی 6.1 ٹیرا تیز بصری سمجھ بوجھ اور کمپیوٹر پر درست کنٹرول کو زیادہ واضح اور فطری تحریر کے ساتھ جوڑتا ہے۔"
یہ اوپن اے آئی کے اعلان کے الفاظ ہیں۔
اوپن اے آئی کا دعوٰی ہے کہ یہ ماڈل روزمرہ کے دفتری کاموں کے لیے بنایا گیا ہے، نہ کہ صرف تحقیقی تجربات کے لیے۔
بینچ مارک میں کارکردگی اور حدود
کارکردگی کی جانچ، یعنی بینچ مارک (Benchmark)، میں کمپنی کے اپنے اعداد کے مطابق جی پی ٹی 6.1 ٹیرا نے نمایاں بہتری دکھائی ہے۔ کوڈنگ کے امتحان ٹرمینل بینچ 4.0 (Terminal-Bench 4.0) میں اس نے زیادہ سے زیادہ محنت پر 50.3 فیصد کام مکمل کیے، جب کہ اس کے پیش رو نے 21.5 فیصد کام مکمل کیے تھے۔ بصری سمجھ بوجھ کی جانچ ایم ایم ایم یو پرو (MMMU-Pro) میں بھی یہ پیش رو سے بہتر اور بڑے ماڈلوں کے قریب رہا۔
آزاد تجزیاتی ادارے آرٹیفیشل اینالیسس (Artificial Analysis) کے مطابق یہ ماڈل فی ڈالر ذہانت کا نیا معیار قائم کرتا ہے۔ ادارے کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ زیادہ سے زیادہ محنت پر اس کا ذہانت کا اسکور 48 رہا، جو پیش رو کے 42 سے زیادہ اور بڑے ماڈل سول کے 52 سے کم ہے، مگر فی کام لاگت ایک ڈالر چالیس سینٹ سے گھٹ کر چالیس سینٹ رہ گئی۔ اسی ادارے کے مطابق جب ماڈل کو جواب معلوم نہیں ہوتا تو وہ اندازہ لگانے کی بجائے اپنی لا علمی کا اعتراف زیادہ کرتا ہے، کیوں کہ اس کی اندازے پر مبنی جوابات کی شرح 88 فیصد سے گھٹ کر 38 فیصد رہ گئی ہے۔
ایجنٹوں کی آخری جانچ، یعنی ایجنٹس لاسٹ ایگزام (Agents' Last Exam)، میں کمپنی کے مطابق ٹیرا نے سب سے بڑے ماڈل ایسٹرا (Astra) کے برابر کارکردگی دکھائی، اور ایک کام پر اس کی لاگت تقریباً ایک ڈالر ایک سینٹ رہی، جب کہ اینتھروپک کے سب سے بڑے ماڈل کلاڈ اوپس 5.5 (Claude Opus 5.5) پر یہی کام تقریباً آٹھ ڈالر بیاسی سینٹ میں پڑا۔ کمپنی کا دعوٰی ہے کہ یہ ماڈل بڑے ماڈلوں سے تین گنا زیادہ تیزی سے کام کرتا ہے، مگر یہ اعداد کمپنی کے اپنے تجربات پر مبنی ہیں۔
اوپن اے آئی نے خود کہا ہے کہ سب سے مشکل کوڈنگ کاموں کے لیے سول اور ایسٹرا ہی استعمال کرنے چاہییں۔ ڈیسک ٹاپ ایجنٹ کی جانچ او ایس ورلڈ 2.1 (OSWorld 2.1) میں ٹیرا نے پیش رو سے بہتر نتیجہ دیا، مگر یہ ہر کام میں بڑے ماڈلوں کی جگہ نہیں لے سکتا۔ اس لیے اس ماڈل کو درمیانے درجے کا ماڈل سمجھنا چاہیے، جو روزمرہ کے کام سستے میں کرے گا، نہ کہ ہر مسئلے کا حتمی حل۔
تحفظ اور مقابلہ
اوپن اے آئی کے مطابق جی پی ٹی 6.1 ٹیرا کمپنی کے تیاری سے متعلق فریم ورک کے تحت سائبر سیکیورٹی کی نازک حد تک پہنچ گیا ہے، اس لیے اس پر بڑے ماڈل ایسٹرا جیسی حفاظتی تدابیر لاگو کی گئی ہیں۔ سسٹم کارڈ کے مطابق براہ راست حملوں میں یہ بڑے ماڈلوں کے برابر رہا، جب کہ بالواسطہ حملوں میں اس کی دفاعی شرح 96.2 فیصد سے بڑھ کر 98.8 فیصد ہو گئی۔ اس سے ماڈل کی یہ صلاحیت بہتر ہوئی ہے کہ وہ کسی دستاویز یا ویب صفحے میں چھپی ہوئی ہدایت پر عمل نہ کرے۔
یہ اعلان درمیانے درجے کے ماڈلوں کی قیمت اور کارکردگی کے توازن کو بدل دیتا ہے، جس سے اینتھروپک اور گوگل کے ماڈلوں پر دباؤ بڑھے گا۔ تاہم یہ مقابلہ صرف قیمت کا نہیں۔ بڑے ماڈل اب بھی مشکل ترین کاموں میں آگے ہیں۔ اس لیے صارفین کے لیے فیصلہ اب یہ ہوگا کہ انھیں کس کام کے لیے کتنی طاقت چاہیے اور وہ اس پر کتنی رقم خرچ کرنا چاہتے ہیں۔
پاکستان کے لیے مطلب
پاکستان کے سافٹ ویئر ہاؤسز، فری لانسرز اور چھوٹی ٹیموں کے لیے اس اعلان کا عملی مطلب لاگت میں کمی ہے۔ کوڈیکس یا اے پی آئی سے فارم بھرنے، بل درج کرنے اور دستاویزات تیار کرنے جیسے کام خودکار کرنے والی ٹیموں کے لیے فی کام لاگت کم ہونے سے ایسے منصوبے زیادہ قابل عمل ہو جائیں گے۔ البتہ قیمت ڈالر میں ہے، اس لیے پاکستانی صارفین کو شرح تبادلہ اور ادائیگی کے طریقے کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔
یہ ماڈل صرف کام کے ماحول میں اور مرحلہ وار دستیاب ہوگا، اس لیے پاکستانی صارفین کو اپنے منصوبے کے لیے اس کی دستیابی دیکھنی ہوگی۔ مجموعی طور پر یہ اعلان اس رجحان کو آگے بڑھاتا ہے کہ اے آئی ماڈل اب صرف جواب دینے والے چیٹ بوٹ نہیں رہے، بلکہ کمپیوٹر پر عملی کام کرنے والے معاون بن رہے ہیں، اور اس دوڑ میں قیمت اب کارکردگی جتنی ہی اہم ہو گئی ہے۔




