پیرس، 29 اکتوبر 2026 (نیوز ڈیسک): فرانسیسی کمپنی مسٹرل (Mistral) نے اپنے سب سے بڑے اے آئی ماڈل لارج 4 (Mistral Large 4) کا اوپن ویٹ (Open-weight) ورژن جاری کر دیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اب کوئی بھی ادارہ یا ڈویلپر اسے ڈاؤن لوڈ کر کے اپنے سرورز پر چلا سکتا ہے اور اپنی ضرورت کے مطابق بدل بھی سکتا ہے۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ کمزوریوں کی نشاندہی اور ان کی مرمت میں یہ اوپن ماڈلز میں سب سے آگے ہے۔
یہ خبر اس لیے اہم ہے کہ لارج 4 کا پہلا ورژن صرف تین ہفتے پہلے، 6 اکتوبر کو، ایک محدود پری ویو کے طور پر سامنے آیا تھا، جسے صارفین صرف مسٹرل کی اپنی سروس کے ذریعے استعمال کر سکتے تھے۔ اب جاری ہونے والا ورژن اس سے بہتر ہے، کیوں کہ ان تین ہفتوں میں اس کی مزید تربیت ہوئی ہے اور حکومتی اداروں اور کاروباری صارفین کی آزمائش کے نتائج بھی اس میں شامل ہیں۔
تین ہفتے کا پری ویو اور اب کا فرق
لارج 4 اپنی جسامت کے لحاظ سے یورپ کا سب سے بڑا ماڈل ہے: اس میں مجموعی طور پر ایک کھرب پیرامیٹرز ہیں، ہر ٹوکن پر 49 ارب پیرامیٹرز فعال ہوتے ہیں۔ یہ تحریر اور تصویر، دونوں کو سمجھتا ہے، ایک وقت میں دس لاکھ ٹوکن تک کا مواد سنبھال سکتا ہے، اور اس کی تربیت 160 سے زیادہ زبانوں کے ڈیٹا پر ہوئی ہے، جن میں یورپی یونین کی تمام سرکاری زبانیں شامل ہیں۔
پری ویو کے دوران کمپنی نے اس ماڈل کو سائبر سیکیورٹی کے ماہرین، منتخب شراکت داروں اور سرکاری اداروں کے حوالے کیا تھا، تاکہ وہ اسے حقیقی ماحول میں آزما سکیں۔ اس آزمائش کے نتیجے میں کوڈنگ اور دفاعی سائبر کام میں نمایاں بہتری آئی، اور اب اسی بہتر ورژن کے وزن سب کے لیے دستیاب کر دیے گئے ہیں۔
سائبر سیکیورٹی میں یہ ماڈل کیا کر سکتا ہے
سائبر سیکیورٹی کا کام عام چیٹ بوٹ والے کام سے بہت مختلف ہے: کسی سافٹ ویئر میں کمزوری ڈھونڈنے کے لیے پہلے اسے دوبارہ پیدا کرنا پڑتا ہے، پھر اس کی تصدیق کرنی پڑتی ہے، اور آخر میں ایسا پیچ تیار کرنا پڑتا ہے جو کمزوری بند کر دے مگر باقی کام خراب نہ کرے۔ مسٹرل کا کہنا ہے کہ اسی کام میں لارج 4 کی اصل طاقت ہے۔
آزادانہ جائزہ لینے والے ادارے آرٹیفیشل اینالیسس (Artificial Analysis) کے سائبر انڈیکس میں اس ماڈل نے 51 فیصد اسکور حاصل کیا ہے۔ اسی انڈیکس کے ایک حصے میں، جہاں ماڈل کو اوپن سورس سافٹ ویئر میں حقیقی کمزوری دوبارہ پیدا کر کے اس کا پیچ لگانا تھا، اس نے 82 فیصد اسکور کیا، جو اس ٹیسٹ میں اب تک کا سب سے زیادہ اسکور بتایا گیا ہے۔ سیکیورٹی مقابلوں کے 40 چیلنجز پر مشتمل سائی بینچ (Cybench) میں اس نے 93 فیصد چیلنجز حل کیے۔
اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ لارج 4 جائز دفاعی کام سے انکار نہیں کرتا، جب کہ کئی تجارتی ماڈل کمزوری دوبارہ پیدا کرنے کی درخواست پر انکار کر دیتے ہیں، کیوں کہ ان کے فلٹر اسے حملے جیسا کام سمجھتے ہیں۔ کمپنی کے مطابق، بدنیتی پر مبنی سائبر درخواستوں پر اس کے انکار کی شرح 96.6 فیصد ہے، اور ایجنٹ سیکیورٹی کے بی 3 (B3) بینچ مارک میں اس نے 97.1 فیصد حملوں کو ناکام بنایا، جب کہ پری ویو میں یہ شرح 93.3 فیصد تھی۔
"میں ایسی دنیا میں رہنا پسند نہیں کرتا جہاں اوپن ویٹ ماڈل موجود نہ ہوں۔ ایک بار ماڈل باہر آ جائے تو اس تک رسائی کو روکنا ناممکن ہو جاتا ہے۔"
یہ بات مسٹرل کے نائب صدر برائے سائنس پیئر اسٹاک (Pierre Stock) نے روئٹرز سے گفتگو میں کہی۔
کوڈنگ اور کاروباری کاموں میں کارکردگی
کوڈنگ میں نئے ورژن نے واضح بہتری دکھائی ہے۔ کوگنیشن (Cognition) کے فرنٹیئر کوڈ 2.0 (FrontierCode 2.0) بینچ مارک میں لارج 4 نے 19.7 فیصد اسکور کے ساتھ اوپن ماڈلز میں پہلی پوزیشن حاصل کی ہے۔ ٹرمینل بینچ 4.0 (Terminal-Bench 4.0) میں اس کا اسکور پری ویو کے مقابلے میں 13 فیصد پوائنٹس بڑھ کر 41 فیصد ہو گیا ہے، اور اس دوران اس کے آؤٹ پٹ ٹوکن 30 فیصد کم ہوئے ہیں۔ آرٹیفیشل اینالیسس کے کوڈنگ ایجنٹ انڈیکس میں اس نے 48 فیصد اسکور کیا، جو جی ایل ایم 5.3 (GLM-5.3) کے برابر ہے، مگر 47 فیصد کم ٹوکن کے ساتھ۔
کاروباری کاموں میں بھی اس کی کارکردگی بہتر ہوئی ہے۔ مالیات اور اکاؤنٹنگ کے اسپریڈ شیٹس بنانے اور بدلنے کے کام میں اس کا فنچ (Finch) اسکور 73.3 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جو اوپن ماڈلز میں صرف کیمی K3 (Kimi K3) سے کم ہے۔ ڈویلپرز کو لاگت اور کارکردگی کے درمیان توازن رکھنے کے لیے ماڈل میں اب استدلال کے تین درجے دیے گئے ہیں: کم، درمیانہ اور زیادہ۔
اوپن ویٹ کا مطلب اور لائسنس کی شرط
اوپن ویٹ کا مطلب یہ نہیں کہ ماڈل مکمل طور پر اوپن سورس ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ماڈل کے وزن، یعنی تربیت کے بعد حاصل ہونے والی قدریں، سب کے لیے دستیاب ہیں، اور کوئی بھی اسے اپنے سرور پر چلا سکتا ہے، اس کی فائن ٹیوننگ (Fine-tuning) کر سکتا ہے، اور اسے اپنی مصنوعات میں استعمال کر سکتا ہے۔ اس کے برعکس، گوگل کے جیمنائی (Gemini) جیسے تجارتی ماڈل عام طور پر صرف آن لائن سروس کے ذریعے ملتے ہیں۔
لارج 4 مسٹرل ایکو سسٹم اوپن ویٹ لائسنس (Mistral Ecosystem Open-Weight License) کے تحت جاری ہوا ہے، جو ایم آئی ٹی (MIT) لائسنس کی ایک ترمیم شدہ صورت ہے۔ اس کے تحت ماڈل کو مفت استعمال کیا جا سکتا ہے، اس میں تبدیلی کی جا سکتی ہے، اس کی فائن ٹیوننگ کی جا سکتی ہے، اور اس سے تجارتی فائدہ بھی اٹھایا جا سکتا ہے۔ البتہ ایک شرط ہے: جو کاروبار اس ماڈل کو بطور سروس دوسروں کو فراہم کرے گا، اسے مسٹرل سے الگ تجارتی لائسنس لینا ہوگا۔ قیمت کے لحاظ سے نیا ورژن سستا ہوا ہے: اب دس لاکھ ان پٹ ٹوکن کی قیمت 0.70 ڈالر، دس لاکھ محفوظ شدہ ان پٹ ٹوکن کی 0.07 ڈالر، اور دس لاکھ آؤٹ پٹ ٹوکن کی 2.10 ڈالر ہے، جب کہ پری ویو میں ان پٹ اور آؤٹ پٹ کی قیمتیں 1.36 ڈالر اور 4.18 ڈالر تھیں۔
مقابلہ اور یورپ کی خودمختاری
لارج 4 کی ریلیز یورپ کے لیے بھی ایک علامتی پیش رفت ہے۔ یہ ماڈل یورپ میں، یورپی انفراسٹرکچر پر، شروع سے تربیت دیا گیا ہے، اور مسٹرل کے مطابق اس کی تربیت میں 3,800 Nvidia گریس بلیک ویل (Grace Blackwell) جی پی یوز استعمال ہوئے۔ کمپنی اسے "سوورین اے آئی" کی بنیاد قرار دیتی ہے، یعنی ادارے کا اپنے اے آئی پر اختیار۔ روئٹرز کے مطابق، اوپن سائبر ماڈلز کے میدان میں چینی ماڈلز کا غلبہ ہے، اور مسٹرل کا دعویٰ ہے کہ لارج 4 اس مقابلے میں یورپ کا سب سے مضبوط جواب ہے۔
اس کی دستیابی وسیع رکھی گئی ہے: یہ مسٹرل اسٹوڈیو (Mistral Studio)، مسٹرل اے پی آئی، اوپن روٹر (OpenRouter)، ہگنگ فیس (Hugging Face) اور Nvidia کے این آئی ایم (NIM) کنٹینر کے ذریعے ملتا ہے، اور مائیکروسافٹ (Microsoft) اسے اپنے فاؤنڈری (Foundry) پلیٹ فارم پر پیش کرنے والا پہلا کلاؤڈ فراہم کنندہ ہے۔
پاکستانی صارفین اور صنعت کے لیے اہمیت
پاکستانی سافٹ ویئر ہاؤسز اور سائبر سیکیورٹی ٹیموں کے لیے اس ریلیز کا عملی پہلو یہ ہے کہ وہ اب ایک طاقتور ماڈل کو اپنی نگرانی میں چلا سکتے ہیں، اور حساس کوڈ اور سیکیورٹی ڈیٹا کو کسی بیرونی سروس کو بھیجے بغیر اپنے سرور پر جانچ سکتے ہیں۔ تاہم، ایک کھرب پیرامیٹرز کا مکمل ماڈل چلانے کے لیے بھاری ہارڈویئر درکار ہوتا ہے، اس لیے زیادہ تر پاکستانی ڈویلپرز کے لیے عملی راستہ یہی ہوگا کہ وہ پہلے اے پی آئی یا چھوٹے اور ہلکے ورژن کے ذریعے اسے آزمائیں۔ مسٹرل کے مطابق، لارج 4 آئندہ خصوصی اور بہتر ماڈلز کی بنیاد بنے گا، اور کمپنی اوپن ویٹ ماڈلز کا سلسلہ جاری رکھے گی۔




