ماؤنٹین ویو، 29 اکتوبر 2026 (ویب ڈیسک): گوگل ڈیپ مائنڈ (Google DeepMind) نے مصنوعی ذہانت (AI) کا اپنا نیا جدید ترین ماڈل جیمنائی 4 کاربن (Gemini 4 Carbon) متعارف کرا دیا ہے، جسے کمپنی نے سائبر سیکیورٹی اور طویل دورانیے کے پیچیدہ کاموں کے لیے اپنا اب تک کا سب سے مضبوط ماڈل قرار دیا ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ ماڈل ایک آزاد درجہ بندی میں پہلے نمبر پر آ گیا ہے، اور سافٹ ویئر میں کمزوریاں تلاش کرنے، ان کی تصدیق کرنے اور ان کی مرمت کرنے کے تینوں مراحل میں اس نے نئے ریکارڈ قائم کیے ہیں۔
کاربن کا اعلان 28 اکتوبر کو گوگل کے بلاگ پر کیا گیا، یعنی جیمنائی 4 آرگن (Gemini 4 Argon) کی آمد کے صرف دو ہفتے بعد۔ آرگن دو ہفتے قبل متعارف کرایا گیا تھا، اور کاربن اسی کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے۔ گوگل کے مطابق آرٹیفیشل اینالیسس (Artificial Analysis) کے انٹیلی جنس انڈیکس (Intelligence Index) کے نئے ورژن 5.0 میں کاربن نے 59 اسکور کے ساتھ پہلی پوزیشن حاصل کی ہے، جبکہ اینتھروپک (Anthropic) کے کلاڈ اوپس 5.5 (Claude Opus 5.5) نے 58 اور اوپن اے آئی (OpenAI) کے جی پی ٹی 6 ایسٹرا (GPT-6 Astra) نے 57 اسکور حاصل کیے۔
جیمنائی 4 کاربن ہمارا اب تک کا سب سے مضبوط ماڈل ہے، جو سائبر سیکیورٹی اور طویل دورانیے کے کاموں میں بہترین کارکردگی کا حامل ہے۔
یہ الفاظ گوگل ڈیپ مائنڈ کے بلاگ میں کاربن کے تعارف کے طور پر درج ہیں۔
کاربن کیسے کام کرتا ہے
کاربن کو خاص طور پر ان انجینئرنگ مسائل کے لیے بنایا گیا ہے جو ایک نشست میں حل نہیں ہوتے۔ گوگل کے مطابق اس کی اندرونی ٹیموں نے دیکھا ہے کہ یہ ماڈل کئی دن تک مسلسل کام کرتا رہا، ناکام راستوں سے گزر کر بھی رکا نہیں، اور بڑے سافٹ ویئر ذخائر میں چھپی ہوئی باریک خامیوں کی جڑ تک پہنچ کر ان کی مرمت کی۔ یوں یہ ماڈل طویل کام کو بیچ میں چھوڑنے کے بجائے اس کے ہر مرحلے پر نظر رکھتا ہے۔ صارفین کی آراء کی روشنی میں اس کی کارکردگی کوڈ لکھنے، ایجنٹوں کے کام، سائنسی سوالات اور ویب سافٹ ویئر کی تیاری میں بہتر کی گئی ہے۔
سائبر دفاع کے تین مراحل میں ریکارڈ نتائج
سائبر دفاع کے تین مراحل ہیں: کمزوری تلاش کرنا، اس کے خطرے کی تصدیق، اور اس کی جڑ سے مرمت۔ گوگل کا دعویٰ ہے کہ کاربن تینوں میں بہترین نتائج لایا ہے۔ کمزوریاں تلاش کرنے کے معیار سیک بینچ پرو (SEC-bench Pro) میں اس نے 88.2 فیصد اسکور حاصل کیا، یعنی اس نے حقیقی سافٹ ویئر میں چھپی ہوئی پیچیدہ خامیوں کو خود تلاش کر لیا۔ خطرے کی تصدیق کے معیار ایکسپلائٹ جم (ExploitGym) میں اس کا اسکور 54.8 فیصد رہا، اور جڑ سے مرمت کے معیار سی ڈبلیو ای بینچ (CWE-bench) میں 71.0 فیصد رہا۔
یہ تقسیم اس لیے اہم ہے کیوں کہ ہر خامی برابر خطرناک نہیں ہوتی، اور ٹیموں کو پہلے یہ جاننا ہوتا ہے کہ کس خامی پر حملہ ممکن ہے۔ گوگل نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ یہ بیرونی معیارات حفاظتی پابندیوں کے بغیر جانچے گئے، تاکہ ماڈل کی اصل صلاحیت سامنے آ سکے۔ اس کے علاوہ کروم (Chrome) ٹیم کے مطابق معیاری مرمتیں تیار کرنے میں کاربن کسی دوسری لیب کے بڑے فرنٹیئر ماڈل (Frontier Model) سے دس گنا سے زیادہ بہتر رہا، اور وز (Wiz) کے مطابق ویب کی سیکیورٹی جانچ میں بھی وہ آگے رہا ہے۔ واضح رہے کہ یہ اعداد گوگل کے بلاگ اور بیرونی درجہ بندیوں سے لیے گئے ہیں، اور ان کی آزادانہ تصدیق زیادہ ماہرین کی رسائی کے بعد ہی سامنے آئے گی۔
حفاظت کے اقدامات اور اعتماد کا سوال
کاربن کے معاملے میں گوگل کی سب سے زیادہ توجہ اس بات پر ہے کہ ایک طاقتور ماڈل غلط طریقے سے استعمال نہ ہو۔ گوگل کے مطابق یہ ماڈل آرگن کے حفاظتی نظام ہی پر بنا ہے، جس میں تربیت کے دوران حفاظت، غلط استعمال کی بروقت روک تھام، خفیہ ہدایات کے حملوں سے بچاؤ اور ماڈل کی سوچ کے عمل کی نگرانی شامل ہے۔ اس کے باوجود کاربن میں کئی نئی بہتریوں کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ٹرمینل بینچ 4.0 (Terminal-Bench 4.0) نامی آزمائش میں کاربن کی دھوکا دہی سے کامیابی کی شرح صفر فیصد رہی، جبکہ دھوکا دینے کی کوششیں صرف 0.4 فیصد رہیں۔ اندرونی ٹیموں کی براہ راست کوڈنگ میں سنگین انحراف کے انتباہات میں تقریبا 80 فیصد کمی واقع ہوئی، اور بے بنیاد دعوے میں تقریبا نصف کمی آئی۔ ماڈل کے حد سے آگے بڑھنے کے واقعات میں 26 فیصد اور کام ادھورا چھوڑنے کے واقعات میں 29 فیصد کمی آئی۔ خفیہ ہدایات کے حملوں کے خلاف گرے سوان (Gray Swan) کے معیار میں کاربن نے ہر حملے کو ناکام بنا دیا، جبکہ آرگن میں کامیاب حملوں کی شرح 0.7 فیصد تھی۔
ہمارے محققین اور ماڈل مل کر صلاحیتوں کو تیزی سے آگے بڑھا رہے ہیں، جبکہ حفاظتی اقدامات بھی ساتھ ساتھ مضبوط کیے جا رہے ہیں۔
گوگل نے اسی توازن کو اپنی حکمت عملی کی بنیاد قرار دیا ہے، اور اسی لیے ماڈل کی رسائی مرحلہ وار رکھی گئی ہے۔
پہلے کس کو ملے گا اور قیمت کیا ہوگی
کاربن کے بارے میں سب سے اہم بات اس کی رسائی ہے: عام صارفین اسے فی الحال استعمال نہیں کر سکیں گے۔ گوگل کے مطابق اس ہفتے سے یہ ماڈل پہلے منتخب سائبر ماہرین کے ایک چھوٹے گروہ کو دیا جائے گا، اور پھر مرحلہ وار فیئر ونڈ پروگرام (Fairwind Program) کے ذریعے مزید قابل اعتماد شراکت داروں تک پہنچایا جائے گا۔ کمپنی امریکی حکومت کے رضاکارانہ جانچ کے عمل میں بھی شریک ہے۔ ڈویلپرز، کاروباروں اور عام صارفین کے لیے گوگل نے صرف جلد از جلد رسائی کا وعدہ کیا ہے، کوئی تاریخ نہیں دی۔
قیمت پہلے سے طے ہے: تعارفی قیمت آرگن کے برابر رکھی گئی ہے، یعنی فی دس لاکھ ان پٹ ٹوکن 2 ڈالر اور فی دس لاکھ آؤٹ پٹ ٹوکن 10 ڈالر، جبکہ محفوظ شدہ ان پٹ ٹوکن پر 95 فیصد رعایت ملے گی۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق تعارفی مدت کے بعد یہ قیمت 4 اور 20 ڈالر ہو جائے گی، اور اس کی سیاق و سباق کی حد دس لاکھ ٹوکن ہے۔
تیز رفتار مقابلہ اور پاکستان کے لیے اہمیت
کاربن کا اعلان اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ یہ گوگل ڈیپ مائنڈ کی تیز رفتار ترتیب کی تازہ ترین کڑی ہے۔ اس سے ایک روز قبل ہی اس لیب نے جینی 4 (Genie 4) پیش کیا تھا، جو بولنے والے کرداروں کی دنیا بنانے والا ماڈل ہے، اور اب کاربن کے ساتھ ہی گوگل نے سائبر دفاع کے میدان میں بھی اپنا دعویٰ مضبوط کر دیا ہے۔ اسی ہفتے الفابیٹ (Alphabet) کے سہ ماہی نتائج میں یہ بھی سامنے آیا کہ جیمنائی ایپ کے صارفین کی تعداد ایک ارب تک پہنچ گئی ہے۔
دوسری جانب مقابلہ بھی سخت ہے، اور کاربن ہر میدان میں آگے نہیں ہے۔ گوگل کے اپنے موازنے کے مطابق کوڈنگ ایجنٹ کے معیار میں کلاڈ اوپس 5.5 کے ساتھ کلاڈ کوڈ (Claude Code) کاربن سے تین پوائنٹس آگے ہے، جبکہ فرنٹیئر سافٹ ویئر انجینئرنگ میں جی پی ٹی 6 ایسٹرا اور کمپیوٹر کے عملی استعمال میں کلاڈ اوپس 5.5 کاربن سے آگے ہیں۔ یوں لیبوں کی دوڑ اب کسی ایک ماڈل کی فتح نہیں، بلکہ ہر شعبے میں الگ برتری کی لڑائی بن گئی ہے۔
پاکستان کے تناظر میں یہ خبر اس لیے اہم ہے کیوں کہ یہاں کے سافٹ ویئر ہاؤسز، بینکوں اور ٹیلی کام کمپنیوں کو بھی خامیوں کی تلاش اور مرمت میں وہی دباؤ برداشت کرنا پڑتا ہے۔ اگر مستقبل میں کاربن جیسے ماڈل ڈویلپرز کے لیے کھل جاتے ہیں تو مقامی ٹیمیں کوڈ کے جائزے اور مرمت میں ان سے مدد لے سکیں گی، مگر فی الحال یہ ایک امکان ہی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ حفاظتی اقدامات پر رائے لینے کے بعد ہی اسے عام رسائی دے گی۔




