بیجنگ، 6 نومبر 2026 (ویب ڈیسک): چین کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنی بائیڈو (Baidu) نے اپنا نیا بنیادی ماڈل ارنی 5.5 فلیش بیس (ERNIE 5.5 Flash Base) اوپن سورس کر دیا ہے، جس کے وزن ڈویلپرز کے لیے مفت ڈاؤن لوڈ کے لیے دستیاب کر دیے گئے ہیں۔ کمپنی کے مطابق یہ ماڈل 280 ارب پیرامیٹرز پر مشتمل ہے، تاہم ہر ٹوکن پر ان میں سے صرف 14 ارب پیرامیٹرز فعال ہوتے ہیں، جس سے اسے چلانے کی لاگت کم رہتی ہے۔ یہ بائیڈو کا جون 2025 کے بعد پہلا اوپن سورس ماڈل ہے۔ اس سے قبل جاری ہونے والے ارنی 5.0 اور ارنی 5.1 تجارتی ماڈل رہے تھے اور ان کے وزن عام ڈویلپرز کے لیے جاری نہیں کیے گئے تھے۔
بائیڈو نے ماڈل کے وزن مقبول پلیٹ فارم ہگنگ فیس (Hugging Face) پر FP8 اور BF16 شکل میں جاری کیے ہیں۔ ماڈل کو 335 کھرب ٹوکن پر شروع سے تربیت دی گئی ہے۔ تربیت کے دوران اس کی سیاق و سباق کی ونڈو (Context Window) ایک لاکھ 28 ہزار ٹوکن ہے، جب کہ فائن ٹیوننگ (Fine-tuning) اور انفرنس (Inference) کے دوران یہ 10 لاکھ ٹوکن تک پھیل سکتی ہے۔
ماڈل کیسے کام کرتا ہے
ارنی 5.5 فلیش بیس مکسچر آف ایکسپرٹس (Mixture of Experts) ڈھانچے پر تیار کیا گیا ہے۔ اس ڈھانچے میں ماڈل کے اندر کئی چھوٹے ماہر نظام ہوتے ہیں اور ہر ٹوکن کے لیے صرف متعلقہ ماہر نظام فعال ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے 280 ارب پیرامیٹرز کا ماڈل بھی ہر ٹوکن پر صرف 14 ارب پیرامیٹرز ہی کام میں لاتا ہے۔ بائیڈو کے مطابق ماڈل میں ہائبرڈ اسپارس اٹینشن (Hybrid Sparse Attention) کا طریقہ بھی استعمال کیا گیا ہے، جس سے طویل متن پر کام کرنے کی لاگت کم ہوتی ہے۔ دس لاکھ ٹوکن کی گنجائش کا مطلب ہے کہ ماڈل ایک ہی بار میں طویل دستاویزات یا بڑے کوڈ بیس کا بڑا حصہ دیکھ سکتا ہے، جو تحقیق اور کوڈنگ کے کام میں مددگار ہو سکتا ہے۔
یہ ایک بنیادی ماڈل (Base Model) ہے، یعنی اسے چیٹ بوٹ کی طرح بات چیت کے لیے تیار نہیں کیا گیا۔ اس میں نہ ہدایات پر عمل کی تربیت دی گئی ہے، نہ اس کی ہم آہنگی کی گئی ہے۔ ڈویلپرز کو اسے اپنے کام کے لیے خود فائن ٹیون کرنا ہوگا۔ کمپنی نے بتایا ہے کہ مکمل تربیت یافتہ ورژن، ارنی 5.5 فلیش، جلد جاری کیا جائے گا۔
بینچ مارک کے دعوے اور ان کی حدود
بائیڈو نے ماڈل کا موازنہ اسی درجے کے تین چینی بنیادی ماڈلوں سے کیا ہے: ڈیپ سیک وی 4 فلیش بیس (DeepSeek-V4-Flash-Base)، ٹینسنٹ ہائی 3 پری ویو بیس (Hy3-preview-Base) اور شیاؤمی میمو وی 2.5 بیس (MiMo-V2.5-Base)۔ کمپنی کے جاری کردہ نتائج کے مطابق ارنی 5.5 فلیش بیس 30 بینچ مارک میں سے 24 میں پہلے نمبر پر رہا۔ عمومی علم کے بینچ مارک ایم ایم ایل یو (MMLU) پر اس کا اسکور 93.3 اور مشکل سوالات کے بینچ مارک ایم ایم ایل یو پرو (MMLU-Pro) پر 78.4 رہا۔ بائیڈو کا دعوٰی ہے کہ ماڈل علم، استدلال، ریاضی، کوڈنگ، کثیر لسانی کاموں اور طویل سیاق و سباق میں ہم درجہ ماڈلوں سے آگے ہے۔
واضح رہے کہ یہ تمام اعداد بائیڈو کے اپنے جاری کردہ ہیں۔ ان کی آزادانہ تصدیق تاحال نہیں ہوئی۔ بینچ مارک کے اسکور پرامپٹ، نمونہ لینے کے طریقے اور جانچ کے پیمانے سے بھی بدل سکتے ہیں۔ اس لیے ان نتائج کو کمپنی کا دعوٰی سمجھنا چاہیے، حتمی فیصلہ نہیں۔ دوسری جانب، یہ موازنہ صرف بنیادی ماڈلوں کے درمیان ہے۔ تیار چیٹ بوٹ یا معاون کے طور پر اس ماڈل کی کارکردگی کا اندازہ اس سے نہیں لگایا جا سکتا، کیوں کہ اسے اس کام کے لیے تربیت ہی نہیں دی گئی۔
لائسنس کی سخت شرائط اور حکمت عملی میں تبدیلی
ماڈل کا لائسنس اس خبر کا دوسرا اہم پہلو ہے۔ بائیڈو نے ارنی 5.5 فلیش بیس کے لیے اپنا مخصوص لائسنس تیار کیا ہے، جو پچھلی نسل کے ارنی 4.5 کے اپاچی 2.0 (Apache 2.0) لائسنس سے کہیں زیادہ سخت ہے۔ نئے لائسنس کے تحت یورپی یونین، برطانیہ اور جنوبی کوریا میں ماڈل کا استعمال ممنوع ہے۔ اس کے علاوہ جن کمپنیوں کی گزشتہ 12 ماہ کی آمدنی 5 کروڑ ڈالر سے زیادہ رہی ہو، انھیں تجارتی استعمال کے لیے بائیڈو سے الگ تحریری اجازت لینا ہوگی۔
یہ پیش رفت اس لیے بھی قابلِ توجہ ہے کہ بائیڈو کے بانی اور سربراہ رابن لی (Robin Li) ماضی میں اوپن سورس کو تجارتی طور پر بے فائدہ قرار دے چکے تھے۔ اب کمپنی کا بڑا ماڈل اوپن سورس کرنا اس مؤقف سے واضح تبدیلی ہے۔ جون 2025 میں ارنی 4.5 کے اوپن سورس ہونے کے بعد بائیڈو نے 16 ماہ تک کوئی بڑا ماڈل نہیں کھولا تھا۔ ارنی 5.0 اور ارنی 5.1 اسی دوران تجارتی ماڈل کے طور پر جاری ہوئے۔
چینی لیبز کی دوڑ میں بائیڈو کی جگہ
ارنی 5.5 فلیش بیس ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چینی لیبز کھلے وزن والے ماڈلوں کی دوڑ میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ڈیپ سیک نے اپنے فلیش ماڈلوں سے اس میدان میں معیار قائم کیا ہے، ٹینسنٹ نے ہائی سیریز جاری کی ہے اور شیاؤمی کا میمو بھی اسی دوڑ میں شامل ہے۔ بائیڈو کا نیا ماڈل اسی مقابلے کا حصہ ہے، اور اس کی کامیابی کا اصل امتحان یہ ہوگا کہ ڈویلپر کمیونٹی اسے کتنا اپناتی ہے۔ یاد رہے کہ ٹینسنٹ کا ہائی 4 بھی اسی ہفتے سامنے آیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چینی لیبز اب کھلے ماڈلوں کی دوڑ میں ہفتہ بہ ہفتہ نئے ماڈل پیش کر رہی ہیں۔
ماڈل کو مقبول اوپن سورس ٹولز وی ایل ایل ایم (vLLM) اور ایس جی لینگ (SGLang) کی معاونت بھی حاصل ہے، جس سے ڈویلپرز اسے اپنے سرورز پر چلا سکتے ہیں۔ تاہم یہ سہولت ہر کسی کے لیے نہیں۔ صرف ماڈل کا وزن ہی FP8 شکل میں تقریباً 280 گیگا بائٹ جگہ گھیرتا ہے، اس لیے اسے چلانے کے لیے طاقتور ہارڈویئر درکار ہوگا۔
پاکستانی ڈویلپرز کے لیے کیا معنی رکھتا ہے
پاکستانی سافٹ ویئر ہاؤسز اور محققین کے لیے یہ خبر اس لیے دلچسپی رکھتی ہے کہ کھلے وزن والا بنیادی ماڈل مقامی ضروریات کے مطابق ڈھالا جا سکتا ہے، مثلاً اردو یا مقامی کاروباری ڈیٹا پر اس کی فائن ٹیوننگ کی جا سکتی ہے۔ تاہم دو باتیں ذہن میں رکھنا ضروری ہیں۔ پہلی یہ کہ ماڈل خام حالت میں ہے، اس لیے اسے براہِ راست چیٹ بوٹ کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ دوسری یہ کہ لائسنس کی پابندیاں بڑی کمپنیوں پر لاگو ہوتی ہیں، اور ماڈل چلانے کے لیے بھاری ہارڈویئر بھی چاہیے۔ چھوٹی ٹیموں کے لیے یہ ماڈل تحقیق اور تجربے کا ذریعہ بن سکتا ہے، مگر فوری تجارتی استعمال کا راستہ نہیں۔ یونیورسٹیوں میں اے آئی کی تحقیق کرنے والے طلبہ کے لیے بھی ایسے کھلے ماڈل مفید ہیں، کیوں کہ وہ ان پر تجربات کر کے ماڈل کی اندرونی کارکردگی کو سمجھ سکتے ہیں۔
بائیڈو نے ابھی یہ نہیں بتایا کہ مکمل تربیت یافتہ ارنی 5.5 فلیش کب جاری ہوگا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ جلد آئے گا۔ اس ورژن کے بعد ہی واضح ہوگا کہ ارنی 5.5 کی اصل صلاحیت کیا ہے۔




