سان فرانسسکو، 6 نومبر 2026 (نیوز ڈیسک): اوپن اے آئی (OpenAI) نے سافٹ ویئر میں چھپی کمزوریاں ڈھونڈنے والا نیا ماڈل جی پی ٹی 6 سائبر (GPT-6 Cyber) متعارف کرا دیا ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ ماڈل سافٹ ویئر کی کمزوریاں تلاش کرتا ہے، ان پر حملے کا عملی طریقہ تیار کرتا ہے اور ان کی مرمت کی تجاویز بھی پیش کرتا ہے۔ یہ ماڈل فی الحال صرف منتخب اور تصدیق شدہ سائبر سیکیورٹی ماہرین کو دستیاب ہوگا۔
کمپنی نے اپنے تیاری کے فریم ورک (Preparedness Framework) کے تحت اس کی سائبر سیکیورٹی صلاحیت کو کریٹیکل (Critical) قرار دیا ہے، جو اس فریم ورک کی بلند ترین درجہ بندی ہے۔ اس سے قبل آنے والے ماڈل جی پی ٹی 5.6 سائبر (GPT-5.6 Cyber) کی درجہ بندی ہائی (High) تھی۔
جی پی ٹی 6 سائبر کیا کرتا ہے
جی پی ٹی 6 سائبر ایک ایسا ماڈل ہے جو سافٹ ویئر کے کوڈ کو پڑھ کر اس میں موجود کمزوریاں تلاش کرتا ہے۔ عام چیٹ بوٹ کے برعکس یہ ماڈل صرف کمزوری کی نشاندہی پر نہیں رکتا، بلکہ اس کمزوری سے فائدہ اٹھا کر نظام تک رسائی حاصل کرنے کا عملی طریقہ بھی تیار کرتا ہے اور پھر اس کمزوری کو دور کرنے کی تجویز دیتا ہے۔ کمپنی کے مطابق اس سے سافٹ ویئر بنانے والوں کو کمزوریاں حملہ آوروں سے پہلے مل جاتی ہیں۔
اس ماڈل کی ایک اور خصوصیت یہ ہے کہ یہ اپنے طے شدہ دائرے میں رہ کر کام کرتا ہے۔ اوپن اے آئی کے مطابق اسے اس طرح تربیت دی گئی ہے کہ یہ صرف وہی کام کرے جس کی اسے اجازت دی گئی ہو، اور اجازت سے باہر کے نظاموں کو نہ چھیڑے۔ ایک آزمائش میں اس ماڈل نے ایک فیصد سے بھی کم بار اجازت کی حد توڑی، جبکہ اس سے قبل آنے والے ماڈل کی یہ شرح تقریباً پانچ فیصد تھی۔
لینکس اور فائر فاکس میں آزمائش
ماڈل کی صلاحیت کا اندازہ اس آزمائش سے ہوتا ہے جو اوپن اے آئی نے لینکس کرنل (Linux kernel) پر کی۔ کمپنی کے مطابق ماڈل نے لینکس کے تازہ ترین کوڈ میں 1,724 کمزوریاں دوبارہ ثابت کیں اور ان میں سے 948 کمزوریوں پر روٹ رسائی حاصل کرنے کے عملی طریقے تیار کیے۔ کمپنی نے اس تحقیق کی تفصیل 4 نومبر کو شائع کی تھی۔
اسی طرح ماڈل نے فائر فاکس (Firefox) براؤزر میں 81 نئی کمزوریاں ڈھونڈیں۔ موزیلا (Mozilla) نے ان کمزوریوں کو شدید نوعیت کا قرار دیا۔ ان میں سے کئی کی مرمت فائر فاکس 159 میں شامل کی گئی، جو 27 اکتوبر کو جاری ہوا تھا۔
کمپنی کے مطابق ایک معیاری جانچ ایکسپلوئٹ جِم (ExploitGym) میں جی پی ٹی 6 سائبر نے 48.5 فیصد اسکور حاصل کیا، جبکہ جی پی ٹی 5.6 سائبر کا اسکور 32.1 فیصد تھا۔ اس جانچ میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ کوئی ماڈل کسی معلوم کمزوری پر حملہ کر سکتا ہے یا نہیں۔
رسائی صرف منتخب ماہرین تک
جی پی ٹی 6 سائبر فی الحال ہر کسی کے لیے دستیاب نہیں ہے۔ اوپن اے آئی نے اسے اپنے ڈے بریک ریڈ (Daybreak Red) پروگرام کے منتخب صارفین تک محدود رکھا ہے۔ یہ پروگرام ان اداروں اور ماہرین کے لیے ہے جو باقاعدہ اجازت سے سائبر سیکیورٹی تحقیق کرتے ہیں، جیسے کمزوریوں کی تلاش اور سسٹم کی جانچ۔ کمپنی کے مطابق آئندہ چند ہفتوں میں یہ رسائی ڈے بریک ریڈ کے تمام منظور شدہ صارفین تک بڑھا دی جائے گی۔
رسائی کے لیے سخت شرائط رکھی گئی ہیں۔ صارفین کی شناخت کی تصدیق کی جاتی ہے، ان کے ادارے کی سیکیورٹی جانچی جاتی ہے، اور اے پی آئی تک رسائی صرف پہلے سے منظور شدہ آئی پی پتوں سے ممکن ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ صنعتی نظاموں، ضروری خدمات اور انتخابی نظاموں کی حفاظت کے لیے اضافی نگرانی بھی شامل کی گئی ہے۔
اوپن اے آئی نے پرانا ماڈل جی پی ٹی 5.6 سائبر بھی اب ڈے بریک ریڈ کے تمام صارفین کے لیے دستیاب کر دیا ہے۔ اس سے قبل یہ ماڈل صرف دفاعی کام کرنے والے ڈے بریک بلیو (Daybreak Blue) پروگرام کے ذریعے ملتا تھا۔
ایک ارب ڈالر کا منصوبہ اور خدشات
ماڈل کے ساتھ ساتھ اوپن اے آئی نے سائبر سیکیورٹی کے ماہرین کی مدد کے لیے ایک ارب ڈالر کے منصوبے کا بھی اعلان کیا ہے۔ یہ رقم ان ماہرین کو ملے گی جو بجلی کے نظام یا پانی کی فراہمی جیسے اہم ڈھانچے کی حفاظت پر کام کرتے ہیں۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ وقت کم ہے۔ اوپن اے آئی کے مطابق اے آئی ماڈل ہیکنگ میں بہتر ہوتے جا رہے ہیں اور ان تک رسائی بھی آسان ہو رہی ہے، اس لیے ڈیجیٹل ڈھانچے کی کمزوریاں دور کرنے کا موقع محدود ہے۔ کمپنی کے تکنیکی عملے کے رکن ایرک والس (Eric Wallace) نے کہا ہے کہ اوپن اے آئی اپنے جدید ترین کمپیوٹنگ وسائل کا بڑا حصہ اوپن سورس کوڈ کی کمزوریاں ڈھونڈنے اور ان کی مرمت پر لگا رہی ہے، اور یہ کام بغیر کسی معاوضے کے ہو رہا ہے۔
"ہم اپنے جدید ترین کمپیوٹنگ وسائل کا بڑا حصہ اوپن سورس کوڈ کی کمزوریاں ڈھونڈنے اور ان کی مرمت پر لگا رہے ہیں، اور یہ کام مکمل طور پر بغیر کسی معاوضے کے ہو رہا ہے۔" (ایرک والس، تکنیکی عملہ، اوپن اے آئی)
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات کافی نہیں ہیں۔ جسٹز کا کہنا ہے کہ دفاعی کام کے لیے ملنے والے ڈے بریک بلیو کی صلاحیت حالیہ عرصے میں کم کر دی گئی ہے، جبکہ حملہ آور اوپن ویٹ ماڈلز استعمال کر سکتے ہیں جن کی حفاظتی پابندیاں ہٹا دی گئی ہوں۔ اس صورت میں دفاع کرنے والوں کا ایک ہاتھ بندھا رہتا ہے۔ اوپن اے آئی کے مطابق ڈے بریک میں اس وقت صرف ہزاروں ماہرین شامل ہیں، جبکہ ممکنہ حملہ آوروں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔
ایک مثال سے اس صورتحال کا اندازہ ہوتا ہے۔ چارج روبوٹکس (Charge Robotics) کے شریک بانی اور چیف ٹیکنالوجی افسر میکس جسٹز (Max Justicz) نے جی پی ٹی 5.6 سول (GPT-5.6 Sol) کی مدد سے اوبنٹو (Ubuntu) سافٹ ویئر میں ایک سنگین کمزوری صرف دو گھنٹوں میں ڈھونڈ لی۔ انھوں نے بتایا کہ کئی کمزوریاں ڈھونڈنے کے لیے ان کے تقریباً پانچ ہزار ڈالر خرچ ہوئے۔ انھوں نے کمزوری کی اطلاع ڈیبین (Debian) منصوبے کو دی، جس نے اس کی مرمت کر دی۔ تاحال اس کمزوری سے فائدہ اٹھانے کا کوئی واقعہ سامنے نہیں آیا۔
لینکس کی آزمائش پر اوپن اے آئی کے تقریباً 12 لاکھ ڈالر خرچ ہوئے۔
"ہمارا مقصد ڈے بریک کو بڑے پیمانے پر پھیلانا ہے، تاکہ ہر سائز کے اداروں، آزاد محققین اور اوپن سورس کی دیکھ بھال کرنے والوں تک جدید سائبر سیکیورٹی تحقیق پہنچ سکے۔" (اوپن اے آئی کا بیان)
پاکستان کے لیے اہمیت
پاکستان کے لیے یہ پیش رفت کئی حوالوں سے اہم ہے۔ ملک کے سافٹ ویئر ہاؤسز، بینکوں اور سرکاری اداروں کے نظام بھی اسی اوپن سورس سافٹ ویئر پر چلتے ہیں جس کی کمزوریاں یہ ماڈل ڈھونڈ رہا ہے۔ اگر یہ کمزوریاں وقت پر دور کر دی جائیں تو پاکستانی اداروں کے نظام بھی محفوظ رہیں گے۔
دوسری جانب یہ خبر پاکستانی سائبر سیکیورٹی ماہرین کے لیے ایک موقع بھی ہے۔ جو ماہرین ڈے بریک پروگرام میں شامل ہو سکیں گے، وہ دنیا کے جدید ترین سائبر سیکیورٹی ماڈل تک رسائی حاصل کر سکیں گے۔ تاہم فی الحال یہ واضح نہیں ہے کہ پاکستانی ادارے اور آزاد محققین اس پروگرام میں کس طرح شامل ہو سکتے ہیں، اور رسائی کب تک عام ہوگی۔
مجموعی طور پر جی پی ٹی 6 سائبر سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اے آئی اب صرف چیٹ بوٹ تک محدود نہیں رہا، بلکہ سائبر سیکیورٹی جیسے حساس شعبے میں بھی براہ راست کام کر رہا ہے۔ ماہرین کے نزدیک اصل سوال یہ ہے کہ کیا دفاع کرنے والے اس رفتار سے کمزوریاں دور کر سکیں گے جس رفتار سے اے آئی انھیں ڈھونڈ رہا ہے۔




