شینزین، 5 نومبر 2026 (ویب ڈیسک): چینی ٹیکنالوجی کمپنی ٹینسنٹ (Tencent) نے اپنے بڑے لینگویج ماڈل ہائی 4 (Hy4) کا مکمل ورژن متعارف کرا دیا ہے۔ یہ ہنیوان (Hunyuan) سلسلے کا پہلا ماڈل ہے جو تصاویر اور چارٹس کو دیکھ کر سمجھ سکتا ہے اور کمپیوٹر کو خود چلا سکتا ہے۔ کمپنی نے یہ اعلان 4 نومبر کو کیا، اور ماڈل اسی روز ٹینسنٹ کلاؤڈ ٹوکن ہب (Tencent Cloud TokenHub) اور اوپن راؤٹر (OpenRouter) پر دستیاب ہو گیا۔
ہائی 4 ایک مکسچر آف ایکسپرٹس (Mixture of Experts) ماڈل ہے، جس کے کل پیرامیٹرز 770 ارب ہیں، مگر ہر ٹوکن پر ان میں سے صرف 49 ارب کام کرتے ہیں۔ ماڈل ایک ہی بار میں دس لاکھ ٹوکن تک کی تحریر، یعنی بہت بڑی دستاویزات اور طویل گفتگو، سامنے رکھ کر کام کر سکتا ہے۔ واضح رہے کہ یہ اعداد اگست میں جاری کیے گئے پیش نظارہ (Preview) کے ماڈل کارڈ سے لیے گئے ہیں؛ نومبر کے اعلان میں ٹینسنٹ نے انھیں دہرایا نہیں۔
ٹینسنٹ نے ہائی 4 کا پیش نظارہ 28 اگست کو جاری کیا تھا۔ وہ ورژن صرف متن تک محدود تھا، مگر اس کے وزن اسی روز ہگنگ فیس (Hugging Face) پر اپاچی 2.0 (Apache 2.0) لائسنس کے تحت جاری کر دیے گئے تھے۔ نئے مکمل ورژن میں تصویر دیکھنے اور کمپیوٹر چلانے کی صلاحیتیں شامل کی گئی ہیں، مگر اس کے وزن تاحال جاری نہیں ہوئے۔
ہائی 4 میں نیا کیا ہے؟
نئی صلاحیتوں میں سب سے پہلی تصویر کی سمجھ ہے۔ ہائی 4 اب تصاویر، چارٹس اور اسکرین پر موجود مواد کو پڑھ کر اس پر سوالات کے جواب دے سکتا ہے۔ دوسری، اور زیادہ اہم، صلاحیت کمپیوٹر کا استعمال (Computer Use) ہے: ماڈل کمانڈ لائن (Command Line) اور گرافیکل انٹرفیس (Graphical Interface) دونوں کے ذریعے کمپیوٹر چلا سکتا ہے۔ یعنی وہ اسکرین دیکھ کر فیصلہ کرتا ہے کہ کہاں کلک کرنا ہے، کیا لکھنا ہے، اور کون سا حکم چلانا ہے، پھر نتیجہ دیکھ کر اگلا قدم اٹھاتا ہے۔
ٹینسنٹ کے مطابق ماڈل کو پیشہ ورانہ سافٹ ویئر کے استعمال کی خصوصی تربیت دی گئی ہے، جن میں تھری ڈی ڈیزائن کا ٹول بلینڈر (Blender) اور سی اے ڈی (CAD) ٹولز شامل ہیں۔ گیمز بنانے کے لیے اسے انریل انجن (Unreal Engine)، یونٹی (Unity) اور گوڈو (Godot) کے ساتھ کام کرنے کی تربیت بھی دی گئی ہے۔ کمپنی کا دعوٰی ہے کہ یہ تربیت ماڈل کو دفتری کاموں، مالی تجزیے اور گیم ڈویلپمنٹ جیسے طویل کاموں میں مددگار ثابت ہوتی ہے، جن میں ایک سے زیادہ ایپلی کیشنز استعمال کرنا پڑتی ہیں۔
کمپیوٹر چلانے کی صلاحیت کیسے کام کرتی ہے؟
عام چیٹ بوٹ صرف جواب لکھتا ہے، مگر کمپیوٹر چلانے والا ماڈل خود عمل کرتا ہے۔ ہائی 4 اسکرین کو دیکھتا ہے، اس میں بٹن اور مینیو پہچانتا ہے، پھر ماؤس اور کی بورڈ کی حرکتیں طے کرتا ہے۔ ہر قدم کے بعد وہ نتیجہ دیکھ کر جانچتا ہے کہ کام درست ہوا یا نہیں، اور غلطی ہونے پر راستہ بدل لیتا ہے۔ اس طریقے سے وہ ایک ہی نشست میں ایسا کام مکمل کر سکتا ہے جس میں کئی ایپلی کیشنز استعمال ہوتی ہیں، جیسے اسپریڈ شیٹ سے اعداد نکال کر دستاویز میں لکھنا اور پھر اس کا چارٹ بنانا۔
یہ صلاحیت اے آئی ایجنٹس کی دوڑ میں اہم ہے، کیوں کہ اوپن اے آئی (OpenAI)، اینتھروپک (Anthropic) اور گوگل (Google) بھی اپنے ماڈلز کو کمپیوٹر چلانے کی طرف لے جا رہے ہیں۔ ٹینسنٹ کا دعوٰی ہے کہ ہائی 4 اس میدان میں اوپن سورس ماڈلز کی صفِ اول میں آ گیا ہے، مگر یہ کمپنی کا اپنا دعوٰی ہے، آزادانہ تصدیق نہیں۔
کارکردگی کے دعوے: اعداد کیا کہتے ہیں؟
ٹینسنٹ نے اپنے آزمائشی نتائج میں کئی بینچ مارکس (Benchmarks) پیش کیے ہیں۔ ٹرمینل بینچ (Terminal-Bench) 4.0 پر ہائی 4 نے 44.4 اسکور حاصل کیا، جب کہ کلاڈ اوپس 5.5 (Claude Opus 5.5) کا اسکور 66.4 اور جی پی ٹی 6.1 سول (GPT-6.1 Sol) کا 55.5 رہا۔ یعنی اس آزمائش میں ہائی 4 اپنے بڑے حریفوں سے پیچھے رہا۔ ای بینچ (E-Bench) 2.0 پر ماڈل سات ماڈلز میں دوسرے نمبر پر آیا۔
کمپنی کے مطابق مکمل ورژن میں غلط معلومات گھڑنے کی شرح، جسے ہیلوسینیشن (Hallucination) کہتے ہیں، 15.76 فیصد سے کم ہو کر 5.45 فیصد رہ گئی ہے۔ گیم ڈویلپمنٹ کے کاموں میں کمپنی نے 19.1 فیصد بہتری کا دعوٰی کیا ہے۔ یہ تمام اعداد ٹینسنٹ کے اپنے جاری کردہ ہیں؛ ان کی آزادانہ تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔
قیمت اور دستیابی
ہائی 4 فی الحال صرف اے پی آئی (API) کے ذریعے دستیاب ہے۔ ٹینسنٹ کلاؤڈ ٹوکن ہب پر قیمت دس لاکھ ان پٹ ٹوکن کے لیے 6 یوآن اور دس لاکھ آؤٹ پٹ ٹوکن کے لیے 18 یوآن مقرر کی گئی ہے، جو تقریباً 90 سینٹ اور 2.70 ڈالر بنتی ہے۔ دس لاکھ محفوظ شدہ ٹوکن (Cached Tokens) کی قیمت 0.3 یوآن ہے۔ 31 دسمبر 2026 تک ان قیمتوں پر 50 فیصد رعایت دی جا رہی ہے۔
ماڈل کے وزن اور مکمل سسٹم کارڈ (System Card) تاحال جاری نہیں ہوئے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ آنے والے دنوں میں جاری کیے جائیں گے، مگر کوئی تاریخ نہیں دی گئی۔ یہ اگست کے پیش نظارہ سے فرق ہے، جس کے وزن پہلے ہی روز جاری کر دیے گئے تھے۔ ٹینسنٹ نے یہ بھی بتایا ہے کہ ہائی 4 کا سستا ورژن، ہائی 4 فلیش (Hy4 Flash)، جلد متعارف کرایا جائے گا۔ ماڈل ٹینسنٹ کلاؤڈ ٹوکن ہب، اوپن راؤٹر، کوڈ بڈی (CodeBuddy) اور ورک بڈی (WorkBuddy) پر دستیاب ہے۔
مقابلے کی دوڑ میں ہائی 4 کہاں کھڑا ہے؟
چینی لیبز کے درمیان اوپن ماڈلز کی دوڑ تیز ہو گئی ہے۔ ڈیپ سیک (DeepSeek)، کیمی (Kimi) اور کوئن (Qwen) بھی اپنے بڑے ماڈل اوپن ویٹ (Open Weights) کے طور پر جاری کر رہی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ہائی 4 کا کل حجم 770 ارب پیرامیٹرز ہے، جب کہ اس سے پہلے ہائی 3 میں 295 ارب پیرامیٹرز تھے۔ حجم میں یہ اضافہ بتاتا ہے کہ ٹینسنٹ اپنے ماڈل کو سب سے بڑے اوپن ماڈلز کی صف میں لانا چاہتا ہے۔
تاہم حجم ہی سب کچھ نہیں۔ ٹرمینل بینچ کے اعداد بتاتے ہیں کہ عملی کاموں میں ہائی 4 اب بھی امریکی ماڈلز سے پیچھے ہے۔ دوسری جانب، اس کی قیمت حریفوں کے مقابلے میں کم ہے، اور کمپیوٹر چلانے کی صلاحیت اسے دفتری اور پیشہ ورانہ کاموں کے لیے دلچسپ بناتی ہے۔ اصل فیصلہ تب ہوگا جب ماڈل کے وزن جاری ہوں گے اور آزاد محققین اس کی آزمائش کر سکیں گے۔
پاکستان کے لیے کیا معنی رکھتا ہے؟
پاکستانی ڈویلپرز اور سافٹ ویئر ہاؤسز کے لیے ہائی 4 کی فوری اہمیت اس کی اے پی آئی کے ذریعے دستیابی ہے۔ اوپن راؤٹر کے ذریعے پاکستانی صارفین بھی اسے استعمال کر سکتے ہیں، اور کم قیمت کی بدولت چھوٹے کاروبار اور فری لانسرز طویل دستاویزات اور دفتری کاموں میں اسے آزما سکتے ہیں۔ اگر کمپنی اپنے وعدے کے مطابق وزن جاری کر دیتی ہے تو پاکستانی ٹیمیں ماڈل کو اپنے سرورز پر چلا کر اردو اور مقامی ضروریات کے مطابق اس کی فائن ٹیوننگ (Fine-tuning) بھی کر سکیں گی۔ تاحال یہ امکان وعدے کی حد تک ہے، اور وزن جاری ہونے تک اس پر انحصار نہیں کیا جا سکتا۔
تمام نظریں اب ٹینسنٹ کے اگلے قدم پر ہیں: ماڈل کے وزن اور سسٹم کارڈ کب جاری ہوتے ہیں، اور ہائی 4 فلیش کی قیمت کیا رکھی جاتی ہے۔




