بوسٹن (نمائندہ خصوصی) — دنیا کی مشہور ترین روبوٹکس کمپنی بوسٹن ڈائنیمکس نے اپنے نئے سربراہ کا اعلان کر دیا ہے، اور یہ انتخاب خود ایک بڑا پیغام ہے۔ کمپنی نے ایمازون کے سابق سینئر نائب صدر روہت پرساد کو چیف ایگزیکٹو مقرر کیا ہے — وہی سائنسدان جنہوں نے الیکسا کو بولنا سکھایا اور ایمازون کے نووا فاؤنڈیشن ماڈلز کی قیادت کی۔ یہ تقرری اس بات کا اعلان ہے کہ بوسٹن ڈائنیمکس کا اگلا دور ہارڈویئر کا نہیں، مصنوعی ذہانت کا ہوگا۔
روہت پرساد — الیکسا سے روبوٹس تک
روہت پرساد کا نام ٹیکنالوجی کی دنیا میں نیا نہیں۔ انہوں نے ایمازون میں بارہ سال گزارے، جہاں وہ الیکسا اور مصنوعی عمومی ذہانت کے شعبے کے سینئر نائب صدر اور ہیڈ سائنٹسٹ رہے۔ الیکسا کے ابتدائی دنوں سے وہ اس ٹیم کا حصہ تھے جس نے ایک تجرباتی وائس اسسٹنٹ کو کروڑوں گھروں تک پہنچایا۔ بعد میں انہوں نے ایمازون نووا کی قیادت کی — فاؤنڈیشن ماڈلز کا وہ خاندان جو ایمازون اپنے کاروباری صارفین کو فروخت کرتا ہے۔
بوسٹن ڈائنیمکس کے بقول پرساد کا یہی تجربہ — ایمازون سے پہلے ریتھیون بی بی این میں چودہ سالہ مشین لرننگ تحقیق سمیت — ذہین روبوٹک نظاموں کی تجارتی کاری کو تیز کرے گا اور حقیقی صنعتی ماحول میں 'فزیکل اے آئی' کے اطلاقات بڑھائے گا۔ پرساد نے خود کہا کہ کمپنی فزیکل اے آئی کو آگے بڑھانے کے لیے منفرد پوزیشن میں ہے، اور ان کا منصوبہ جدید مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کو ملا کر ایسے ذہین نظام بنانا ہے جو حقیقی دنیا میں ٹھوس قدر پیدا کریں۔
سات ماہ خالی کرسی — قیادت کا بحران
پرساد کی تقرری کے پس منظر میں ایک طویل قیادت کا خلا ہے۔ فروری میں رابرٹ پلیٹر چھ سال بعد عہدے سے ہٹ گئے تھے — کمپنی کے تیس سال سے زائد کی تاریخ میں وہ صرف دوسرے سربراہ تھے۔ ان کے بعد چیف فنانشل آفیسر امینڈا میک ماسٹر نے سات ماہ عبوری سربراہ کے طور پر کام سنبھالا۔
صرف سربراہ ہی نہیں بدلا۔ نومبر ۲۰۲۵ میں چیف ٹیکنالوجی آفیسر ایرون سانڈرز گوگل ڈیپ مائنڈ چلے گئے، اور ۲۰۲۶ کے ابتدائی مہینوں میں کئی مزید سینئر رہنما بھی کمپنی چھوڑ گئے۔ یعنی بورڈ نے صرف سربراہ نہیں بدلا، پوری قیادت کی ٹیم نئے سرے سے بنانے کا فیصلہ کیا۔
اس پس منظر میں پرساد کا انتخاب مزید معنی خیز ہو جاتا ہے۔ بورڈ نے روبوٹکس کمپنی چلانے کا تجربہ رکھنے والے کسی مینیجر کے بجائے ایک مصنوعی ذہانت کے سائنسدان کو چنا — واضح اشارہ کہ کمپنی کے اگلے مرحلے کی اصل ضرورت مشینیں بنانا نہیں، انہیں ذہین بنانا ہے۔
فزیکل اے آئی — اصل داؤ
'فزیکل اے آئی' وہ اصطلاح ہے جو اب روبوٹکس کی دنیا میں سب سے زیادہ سنی جا رہی ہے۔ مطلب سیدھا ہے: ایسی مصنوعی ذہانت جو صرف اسکرین پر جواب نہیں دیتی بلکہ حقیقی دنیا میں جسمانی کام کرتی ہے — چلتی ہے، اٹھاتی ہے، جوڑتی ہے، اور ماحول کے مطابق خود کو ڈھالتی ہے۔ چیٹ بوٹ ذہین ہے مگر بے جسم؛ فزیکل اے آئی ذہین بھی ہے اور اس کے ہاتھ پاؤں بھی ہیں۔
بوسٹن ڈائنیمکس کے پاس اس دوڑ میں تین کھلاڑی ہیں: اسپاٹ — چار ٹانگوں والا روبوٹ جو صنعتی معائنوں میں استعمال ہوتا ہے؛ اسٹریچ — جو لاجسٹکس میں ڈبے اٹھانے کا کام کرتا ہے؛ اور اٹلس — بجلی سے چلنے والا انسان نما روبوٹ جو ابھی تیاری کے مرحلے میں ہے اور کمپنی کا اصل مستقبل سمجھا جاتا ہے۔
اٹلس کی تربیت اب لیبارٹری سے نکل کر فیکٹری میں ہو رہی ہے۔ ہنڈائی کے جارجیا میں قائم مینوفیکچرنگ کیمپس کے قریب بوسٹن ڈائنیمکس نے تربیتی مرکز کھولا ہے، جہاں اٹلس روبوٹس کو گاڑیوں کے پرزے اسمبلی کی ترتیب میں رکھنے جیسے کام سکھائے جا رہے ہیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ ۲۰۲۷ میں یہ مرکز تقریباً دس گنا بڑی جگہ منتقل ہوگا، اور ۲۰۳۰ تک پرزوں کی اسمبلی جیسے پیچیدہ کام بھی روبوٹس کے سپرد ہوں گے۔
ہنڈائی کا ۳۰ ہزار روبوٹس کا منصوبہ
اس ساری کہانی کے پیچھے ہنڈائی موٹر گروپ کی بھاری سرمایہ کاری ہے، جس نے ۲۰۲۱ میں بوسٹن ڈائنیمکس کی اکثریتی ملکیت حاصل کی تھی۔ رائٹرز کے مطابق ہنڈائی کا منصوبہ ہے کہ ۲۰۲۸ تک سالانہ ۳۰ ہزار روبوٹ یونٹس بنانے کی صلاحیت والا کارخانہ تیار کیا جائے، اور اسی سال سے اپنے مینوفیکچرنگ مراکز میں روبوٹس کی تعیناتی شروع کی جائے۔ کچھ رپورٹس کے مطابق اگلے چند برسوں میں ہنڈائی اور کیا کے کارخانوں میں ۲۵ ہزار اٹلس روبوٹس تعینات کرنے کا ہدف ہے۔
ہنڈائی سافٹ بینک گروپ کا بوسٹن ڈائنیمکس میں باقی ماندہ حصہ بھی خرید کر مکمل ملکیت کی طرف بڑھ رہی ہے، اور اٹلس کی تیاری کے لیے این ویڈیا اور گوگل ڈیپ مائنڈ کے ساتھ شراکتیں بھی قائم کی ہیں۔ توقع ہے کہ روبوٹس پہلے ویلڈنگ اور لاجسٹکس جیسے نسبتاً سادہ کام سنبھالیں گے، پھر بتدریج پیچیدہ مینوفیکچرنگ عمل کی طرف بڑھیں گے۔
یہ محض ایک کمپنی کی توسیع نہیں — یہ علامت ہے کہ انسان نما روبوٹس تحقیقی نمونوں سے نکل کر صنعتی پیداوار کے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں۔ جو کمپنی پہلے بڑے پیمانے پر قابلِ اعتماد روبوٹ دے گی، وہ اگلی دہائی کی فیکٹریوں کی شکل طے کرے گی۔
مشکل سوال: روبوٹ بیچنا ہارڈویئر بیچنا نہیں
تاہم پرساد کے سامنے چیلنجز بھی کم نہیں۔ الیکسا جیسی سافٹ ویئر مصنوعات کو کروڑوں صارفین تک پہنچانا ایک بات ہے، اور ایسے روبوٹ بیچنا دوسری بات جو فیکٹری میں شفٹوں تک بغیر رکے کام کرے اور جس کی دیکھ بھال آسان ہو۔ سافٹ ویئر میں ناکامی کا مطلب ایک بگ ہے؛ فیکٹری کے روبوٹ میں ناکامی کا مطلب رکی ہوئی پیداوار لائن ہے۔
دوسرا چیلنج مقابلہ ہے۔ انسان نما روبوٹس کی دوڑ میں ٹیسلا سمیت کئی بڑی کمپنیاں اور اسٹارٹ اپس بھی شامل ہیں، اور چین کی کمپنیاں کم قیمت پر تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں۔ جیت اس کی ہوگی جس کا روبوٹ صرف چست نہیں، بلکہ سستا، قابلِ اعتماد اور آسانی سے چلنے والا بھی ہو۔
تیسرا چیلنج خود بوسٹن ڈائنیمکس کی تاریخ ہے۔ یہ کمپنی تیس سال سے حیران کن روبوٹس بنا رہی ہے — چھلانگیں لگانے والے، دروازے کھولنے والے — مگر کوئی بھی بڑے پیمانے پر فروخت ہونے والی مصنوعات نہیں بن سکا۔ پرساد کی اصل آزمائش یہی ہوگی: حیرت کو کاروبار میں بدلنا۔
پاکستان کے لیے پیغام
پاکستان میں یہ خبر دور کی کہانی لگ سکتی ہے، مگر اس کا پیغام قریب ہے۔ ہماری ٹیکسٹائل، آٹو پارٹس اور لاجسٹکس کی صنعتیں ابھی بڑی حد تک دستی محنت پر چلتی ہیں۔ جب انسان نما روبوٹس بڑے پیمانے پر بننے لگیں گے اور ان کی قیمت گرے گی، تو وہی سوال ہماری فیکٹریوں کے دروازے پر بھی آئے گا جو آج کوریا اور امریکہ میں پوچھا جا رہا ہے: کون سے کام انسان کرے گا اور کون سے مشین؟
دوسرا پیغام ہمارے نوجوان انجینئروں اور سافٹ ویئر ڈویلپرز کے لیے ہے۔ اگلی بڑی سافٹ ویئر لہر موبائل ایپس کی نہیں، روبوٹس کے دماغ کی ہوگی۔ جو آج روبوٹکس، کنٹرول سسٹمز اور مشین لرننگ سیکھے گا، وہ کل کی فیکٹریوں کی زبان بولے گا۔



