بیجنگ، 1 نومبر 2026 (ویب ڈیسک): چینی مصنوعی ذہانت کی کمپنی ڈیپ سیک (DeepSeek) کی ہارنس ٹیم (Harness team) نے کوڈنگ کے لیے ایک خودکار ایجنٹ کا تجرباتی نمونہ اوپن سورس کر دیا ہے جو ڈویلپرز کی ہدایت کے بغیر ان کے کوڈنگ مسائل تلاش کر کے ان کا حل تجویز کر سکتا ہے۔ اس نظام کو سپر ایجنٹ (Super-agent) کا نام دیا گیا ہے، اور اس کا کوڈ 31 اکتوبر کو گٹ ہب (GitHub) پر اوپن سورس کر دیا گیا ہے۔ کمپنی نے واضح کیا ہے کہ یہ ابھی صرف ایک تجرباتی نمونہ ہے، کوئی باقاعدہ پروڈکٹ نہیں۔
اس پیش رفت کی خبر سب سے پہلے ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ (South China Morning Post) اور بلومبرگ (Bloomberg) کی رپورٹوں میں سامنے آئی۔ رپورٹوں کے مطابق ہارنس ٹیم نے اس نظام کا اعلان چینی پیغام رسانی ایپ وی چیٹ (WeChat) پر ایک پوسٹ کے ذریعے کیا، اور اس کے ساتھ اس نئے طرز کے ایجنٹ کا خاکہ پیش کرنے والا ایک تکنیکی مضمون بھی شائع کیا۔
سپر ایجنٹ کیا کرتا ہے
عام کوڈنگ ایجنٹ ڈویلپر کی ہدایت پر حرکت میں آتا ہے۔ سپر ایجنٹ اس سے ایک قدم آگے کا دعویٰ کرتا ہے۔ ٹیم کے مطابق یہ نظام ڈویلپرز کی گروپ گفتگو پر نظر رکھتا ہے، اس میں سامنے آنے والے کوڈنگ مسائل کو خود پہچانتا ہے، اور کسی کے بلائے بغیر ان کا ممکنہ حل تجویز کرتا ہے۔ گروپ چیٹ میں کسی بگ کی اطلاع آئے تو ایجنٹ خود اس پر کام شروع کر سکتا ہے۔
گٹ ہب پر موجود رہنما دستاویز میں ٹیم نے اس نظام کا مقصد ایک ہی جملے میں بیان کیا ہے۔
"اس ایجنٹ کا مقصد کم سے کم انسانی توجہ کے ساتھ زیادہ سے زیادہ فائدہ دینا ہے۔"
یہی نکتہ اس منصوبے کی بنیاد ہے۔ ٹیم کا کہنا ہے کہ جوں جوں ایجنٹ زیادہ کام سنبھال رہے ہیں، ان کی نگرانی خود ایک بوجھ بنتی جا رہی ہے، اور ایک ڈویلپر بیک وقت کئی کاموں پر نظر نہیں رکھ سکتا۔ سپر ایجنٹ اسی رکاوٹ کو دور کرنے کی کوشش ہے، تاکہ انسان فیصلے کرنے اور نتائج کے جائزے تک محدود رہے۔
راؤٹر اور ورکرز: نظام کیسے چلتا ہے
سپر ایجنٹ کا ڈھانچہ دو تہوں پر مشتمل ہے: اوپر ایک مرکزی رابطہ کار، جسے راؤٹر (Router) کہا جاتا ہے، اور نیچے متعدد ورکر (Worker) سیشن۔ راؤٹر گٹ ہب سے آنے والی مجاز درخواستوں کو وصول کر کے ہر درخواست ایک الگ ورکر کے حوالے کر دیتا ہے۔ ہر ورکر کا اپنا سیشن اور اپنی ڈائریکٹری ہوتی ہے، اس لیے کئی مسائل پر بیک وقت کام ہو سکتا ہے۔ کام مکمل ہونے پر ورکر اپنا نتیجہ، مثلاً ایک پل ریکویسٹ (Pull Request)، اسی گفتگو میں واپس بھیج دیتا ہے۔
اس ڈھانچے کی ایک اور خصوصیت واقعات پر مبنی کام ہے: روایتی ایجنٹ کسی حکم کا انتظار کرتا ہے، جب کہ یہ نظام گٹ ہب پر نیا مسئلہ درج ہونے یا گروپ چیٹ میں کسی بگ کا ذکر آنے پر خود حرکت میں آتا ہے۔ ٹیم کے مطابق اندرونی آزمائش میں اس طریقے سے ایک کام 16 منٹ سے کچھ کم وقت میں مکمل ہوا، جب کہ روایتی طریقے سے اسی کام میں 29 منٹ سے زیادہ لگے تھے۔ یہ ٹیم کے اپنے اعداد ہیں، آزادانہ تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔
یہ نمونہ ڈیپ سیک ہارنس (DeepSeek Harness) پر مبنی ہے، جو ایک اوپن سورس فریم ورک ہے اور کمپنی نے اسے 13 اگست 2026 کو جاری کیا تھا۔ اس کا مقصد لینگویج ماڈلز کو عام کمپیوٹرز پر ایجنٹ کی صورت میں چلانا ہے۔ سپر ایجنٹ کا نمونہ اسی فریم ورک کے پلگ انز کا ایک مجموعہ ہے جو ایک ہی گٹ ہب ریپازٹری کے لیے بنایا گیا ہے، اور اس کے ساتھ فیشو (Feishu) گروپ چیٹس بھی اختیاری طور پر جوڑی جا سکتی ہیں۔
کلاڈ کوڈ اور کوڈیکس سے مقابلہ
اس اعلان کا براہِ راست ہدف امریکی لیب اینتھروپک (Anthropic) کا مقبول کوڈنگ ٹول کلاڈ کوڈ (Claude Code) ہے، اور اوپن اے آئی (OpenAI) کا کوڈیکس (Codex) بھی اسی میدان میں سرگرم ہے۔ ڈیپ سیک نے ہارنس ٹیم اسی سال کے آغاز میں اسی مقصد کے لیے بنائی تھی کہ امریکی لیبز کی کوڈنگ خدمات کا مقابلہ کیا جا سکے۔ سپر ایجنٹ اس ٹیم کی پہلی عوامی جھلک ہے۔
دوسری جانب، یہ مقابلہ صرف سہولتوں کا نہیں، قیمت اور کھلے پن کا بھی ہے۔ کلاڈ کوڈ اور کوڈیکس بامعاوضہ خدمات ہیں جن کے اندرونی نظام صارف کی نظر سے پوشیدہ رہتے ہیں۔ ڈیپ سیک کا نمونہ اس کے برعکس ہے: کوڈ سب کے سامنے ہے، اسے پڑھا، بدلا اور اپنی مشین پر چلایا جا سکتا ہے، اور اس پر کوئی لائسنس فیس نہیں۔ اسی کھلے پن نے ڈویلپرز کی توجہ کھینچی ہے۔ رپورٹوں کے مطابق اس ریپازٹری نے ایک ہی دن میں چار ہزار سے زیادہ اسٹارز حاصل کیے ہیں۔
تجرباتی نمونہ، باقاعدہ پروڈکٹ نہیں
اس کہانی کا سب سے اہم پہلو وہ احتیاط ہے جو خود ڈیپ سیک نے برتی ہے۔ کمپنی نے واضح کیا ہے کہ گٹ ہب پر شائع شدہ کوڈ صرف حوالے کے لیے ایک تجرباتی نمونہ ہے، یہ کمپنی کی باقاعدہ پروڈکٹ نہیں اور اسے پیداواری کام کے لیے تیار نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ ٹیم نے یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ شائع شدہ کوڈ اس کے اندرونی نظام سے مختلف ہے، اور تکنیکی مضمون کے بعض خیالات اس کوڈ میں ابھی نافذ بھی نہیں ہوئے۔
حفاظت کے حوالے سے بھی کئی انتباہ سامنے آئے ہیں۔ رپورٹوں کے مطابق ورکر سیشن صارف کے کمپیوٹر پر بغیر منظوری کے کمانڈز چلا سکتے ہیں، اور ہارنس ابھی تجرباتی سافٹ ویئر ہے جس کا آزادانہ حفاظتی جائزہ نہیں ہوا۔ ہارنس میں سینڈ باکس سے نکلنے کی ایک سنگین خامی بھی سامنے آئی تھی جسے نئے ورژن میں دور کر دیا گیا ہے، اس لیے ماہرین صرف تازہ ترین ورژن کے استعمال اور مقامی کنٹرول پورٹ بند رکھنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ ڈیپ سیک نے خود بھی تسلیم کیا ہے کہ بدنیتی پر مبنی ہدایات ایسے ایجنٹس کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں جو دوسری خدمات سے جڑے ہوں۔
اس کا عملی مطلب یہ ہے کہ اس نمونے کو کسی اہم یا پیداواری ریپازٹری پر براہِ راست آزمانا دانش مندی نہیں۔ ماہرین کا مشورہ ہے کہ اسے کسی علیحدہ، عارضی ریپازٹری پر، محدود اختیارات کے ساتھ آزمایا جائے، اور اس کی ہر تجویز کردہ تبدیلی کو انسان خود جانچ کر منظور کرے۔ ایسی ٹیموں کے لیے یہ نمونہ کثیر ایجنٹ نظاموں کو سمجھنے کا سستا ذریعہ بن سکتا ہے۔
سرمایہ کاری اور آئی پی او کا پس منظر
سپر ایجنٹ کا اعلان ایسے وقت میں ہوا ہے جب ڈیپ سیک اپنی مالی طاقت بھی بڑھا رہی ہے۔ بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق کمپنی نے اپنے تازہ ترین مالیاتی دور میں تقریباً 100 ارب یوآن، یعنی تقریباً 15 ارب ڈالر، حاصل کیے ہیں۔ یہ چین کی سب سے بڑی مالیاتی پیش رفتوں میں سے ایک ہے، اور یہ رقم کمپنی کے متوقع اسٹاک مارکیٹ اندراج سے پہلے اکٹھی کی گئی ہے۔
اینتھروپک بھی اسی ماہ کے آخر میں اسٹاک مارکیٹ میں آنے کی تیاری کر رہی ہے۔
پاکستانی ڈویلپرز کے لیے کیا مطلب
پاکستانی سافٹ ویئر ہاؤسز اور فری لانس ڈویلپرز کے لیے اس خبر کا فوری فائدہ کوئی تیار ٹول نہیں، بلکہ سیکھنے کا موقع ہے۔ جو ڈویلپر پہلے ہی گٹ ہب استعمال کرتے ہیں، وہ اس کھلے کوڈ سے سمجھ سکتے ہیں کہ کئی ایجنٹ بیک وقت کیسے چلائے جاتے ہیں۔
تاہم، کسی کلائنٹ کا کوڈ یا پیداواری نظام کسی تجرباتی ایجنٹ کے حوالے کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ پاکستانی ٹیموں کے لیے محفوظ راستہ یہی ہے کہ اسے پہلے کسی فرضی منصوبے پر آزمایا جائے۔ آئندہ چند ہفتوں میں یہ واضح ہوگا کہ ڈیپ سیک اس تجرباتی خاکے کو کب اور کس صورت میں ایک مکمل پروڈکٹ میں بدلتی ہے۔




