سان فرانسسکو، 30 اکتوبر 2026 (ویب ڈیسک): اے آئی ایجنٹس کی دوڑ میں ایک اور بڑی سرمایہ کاری سامنے آئی ہے۔ صارفین کے لیے ذاتی اے آئی ایجنٹ بنانے والی کمپنی وابی (Wabi) نے 55 ملین ڈالر، یعنی 5.5 کروڑ ڈالر، کی نئی سرمایہ کاری حاصل کر لی ہے۔ اس سرمایہ کاری کے بعد کمپنی کی مجموعی مالیت 1.25 ارب ڈالر، یعنی 125 کروڑ ڈالر، ہو گئی ہے۔ اس کا اعلان 29 اکتوبر کو ہوا، اور ٹیک کرنچ (TechCrunch) نے سب سے پہلے اس کی خبر دی۔
وابی کا دعویٰ ہے کہ اس کا نیا ایجنٹ صرف جواب نہیں دے گا، بلکہ صارف کی ضرورت کے مطابق چھوٹی ایپلی کیشن بھی موقع پر بنا کر دے گا۔ کمپنی نے اسے وابی 2.0 کا نام دیا ہے۔ یوں صارف کو کسی کام کے لیے الگ الگ ایپس کھولنے کی ضرورت نہیں رہے گی؛ بات چیت کے اندر ہی ایجنٹ وہ اوزار بنا دے گا جو اس وقت درکار ہوں۔ یہی وہ خیال ہے جس پر سرمایہ کاروں نے اتنی بڑی رقم لگائی ہے۔
وابی 2.0 میں کیا نیا ہے؟
کمپنی نے وابی 2.0 کو ایک ذاتی ایجنٹ کے طور پر پیش کیا ہے جو گروپ چیٹ کے اندر کام کرتا ہے۔ عام چیٹ بوٹ ایک شخص سے بات کرتا ہے، جب کہ وابی کا ایجنٹ کئی افراد کی مشترکہ گفتگو میں شامل ہو کر ان کی منصوبہ بندی میں مدد کرتا ہے۔ مثال کے طور پر دو دوست رات کے کھانے کا پروگرام بنا رہے ہوں تو ایجنٹ ان کے لیے ریستورانوں کی فہرست، اوقات کی ترتیب اور خرچ کا حساب ایک ہی جگہ تیار کر سکتا ہے۔
کمپنی کی جانب سے دی گئی مثالوں میں کھانے کی منصوبہ بندی، قریبی ریستورانوں پر نظر رکھنا، ڈیٹ نائٹ کا پروگرام بنانا، فٹنس کا منصوبہ تیار کرنا اور مخصوص موضوعات پر ٹریویا گیم بنانا شامل ہیں۔ یہ سب منی ایپس (mini-apps) کہلاتی ہیں، یعنی چھوٹی ایپلی کیشنز جو ایک ہی مقصد کے لیے بنتی ہیں اور فوراً استعمال ہو جاتی ہیں۔ وابی کا کہنا ہے کہ یہ منی ایپس صارف کے ذوق، عادات اور صورت حال کے مطابق بنتی ہیں۔
وابی صرف ایک چیٹ ایپ کا نام نہیں، بلکہ تین چیزوں کا مجموعہ ہے: ایک اے آئی ایجنٹ، منی ایپس، اور مشترکہ جگہیں جہاں خاندان یا دوست مل کر منصوبہ بنا سکیں۔ واضح رہے کہ یہ کمپنی کا اپنا بیان ہے۔
سرمایہ کاری کی تفصیلات
اس سرمایہ کاری کے دور کی قیادت آئی وی پی (IVP) نے کی۔ اس میں اینڈریسن ہورووٹز (Andreessen Horowitz)، فوررنر (Forerunner) اور ایمیزون الیکسا فنڈ (Amazon Alexa Fund) نے بھی حصہ لیا۔ انفرادی سرمایہ کاروں میں شاپیفائی (Shopify) کے سربراہ ٹوبی لٹکے (Tobi Lütke)، سیلز فورس (Salesforce) کے سربراہ مارک بینیوف (Marc Benioff)، یاہو (Yahoo) کی سابق سربراہ ماریسا میئر (Marissa Mayer)، ٹوئٹر (Twitter) کے سابق سربراہ ڈک کوسٹولو (Dick Costolo) اور دی چینسموکرز (The Chainsmokers) کے رکن الیکس پال (Alex Pall) شامل ہیں۔
آئی وی پی کے جنرل پارٹنر الیکس لم (Alex Lim) نے وابی کی بانی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انھیں اس بات کی منفرد سمجھ ہے کہ اے آئی کس سمت جا رہا ہے۔ ان کے بقول وابی کی بانی کے پاس اس بات کا واضح تصور ہے کہ لوگ اے آئی سے کس طرح بات چیت کریں گے، اور یہ تصور محض ٹیکسٹ باکس یا کمانڈ لائن سے کہیں آگے جاتا ہے۔
"یوجینیا کو اس بات کی منفرد سمجھ ہے کہ اے آئی کس سمت جا رہا ہے اور وہ اسے بہترین انداز میں بنانے کا تجربہ رکھتی ہیں۔ ان کے پاس اس بات کا واضح تصور ہے کہ لوگ اے آئی سے کس طرح بات چیت کریں گے، اور یہ تصور محض ٹیکسٹ باکس یا کمانڈ لائن سے کہیں آگے جاتا ہے۔ وابی اسی تصور کی عملی شکل ہے، اور ہم اس کی حمایت پر خوش ہیں۔" الیکس لم، جنرل پارٹنر، آئی وی پی نے کہا۔
کمپنی نے اس موقع پر صارفین کی تعداد یا آمدنی کے کوئی اعداد و شمار جاری نہیں کیے، اس لیے 1.25 ارب ڈالر کی مالیت ایک نئے تصور اور بانی کے تجربے پر لگائی گئی شرط ہے۔
ایک مہینے میں بدلی ہوئی شکل
وابی کی کہانی اس لیے بھی دل چسپ ہے کیوں کہ اس کی شکل صرف ایک مہینے میں بدل گئی۔ کمپنی کی بانی یوجینیا کوئڈا (Eugenia Kuyda) اس سے پہلے اے آئی ساتھی بنانے والی کمپنی ریپلیکا (Replika) کی بانی کے طور پر جانی جاتی ہیں۔ وابی کا آغاز اس خیال سے ہوا تھا کہ کوئی بھی شخص عام زبان میں لکھ کر اپنی چھوٹی ایپ بنا سکے۔ گزشتہ ماہ کمپنی نے اپنا رخ بدلا اور خود کو ایک اے آئی میسنجر کے طور پر پیش کیا، جس میں ذاتی ایجنٹ گفتگو کے اندر ہی ضرورت کے اوزار بنا دیتا ہے۔
اس تبدیلی کے پیچھے ایک سادہ مشاہدہ ہے: لوگ اپنی زندگی کے زیادہ تر فیصلے دوستوں اور خاندان کے ساتھ مل کر کرتے ہیں۔ اس لیے وابی کا نیا رخ یہ ہے کہ ایجنٹ اس مشترکہ گفتگو میں موجود رہے اور جب ضرورت پڑے تو وہ اسکرین یا اوزار موقع پر بنا دے جس سے فیصلہ آسان ہو جائے۔ گزشتہ برس نومبر میں اینڈریسن ہورووٹز نے وابی کے 20 ملین ڈالر، یعنی 2 کروڑ ڈالر، کے ابتدائی دور کی قیادت کی تھی۔ نئی سرمایہ کاری کے ساتھ کمپنی کی مجموعی حاصل کردہ رقم 75 ملین ڈالر، یعنی 7.5 کروڑ ڈالر، ہو گئی ہے۔
ایجنٹس کی دوڑ میں وابی کہاں کھڑی ہے؟
وابی کی سرمایہ کاری اس وقت سامنے آئی ہے جب اے آئی ایجنٹس کے میدان میں سرمایہ کاروں کا مقابلہ تیز ہو گیا ہے۔ ستمبر میں وائرل اے آئی ایجنٹ انسٹنکٹ (Instinct) نے 10 ارب ڈالر کی مالیت پر ایک ارب ڈالر، یعنی 100 کروڑ ڈالر، کی سرمایہ کاری حاصل کی تھی۔ اسی دوران ٹولان (Tolan) نے 30 ملین ڈالر، یعنی 3 کروڑ ڈالر، حاصل کیے تھے۔ یہ کمپنی لوگوں کی روزمرہ زندگی میں مدد کے لیے ایک اے آئی ساتھی بناتی ہے۔
دوسری جانب، جب ایجنٹ صارف کی جانب سے فیصلے کرنے لگیں، تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ فیصلہ دراصل کس کا ہے۔ اینتھروپک (Anthropic) کی ایک حالیہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ ماہرین بھی بعض اوقات اپنے ایجنٹ کی رائے کو اپنی رائے سمجھ لیتے ہیں، اور وابی کا ایجنٹ گروپ کی گفتگو میں شامل ہو کر مشترکہ فیصلوں پر اثر ڈال سکتا ہے۔
تاہم، سرمایہ کاروں کی نظر میں وابی کی اصل طاقت اس کا صارف پر مرکوز رخ ہے۔ بڑے چیٹ بوٹ ایک شخص کے سوال کا جواب دیتے ہیں، جب کہ وابی کا دعویٰ ہے کہ اس کا ایجنٹ لوگوں کے درمیان ہونے والی بات چیت سے کام شروع کرتا ہے۔
پاکستان کے قارئین کے لیے اس خبر کا مطلب
پاکستانی قارئین کے لیے وابی کی خبر کا سب سے عملی پہلو اس کی مشترکہ گفتگو والی خصوصیت ہے۔ پاکستان میں خاندانوں اور دوستوں کے گروپ چیٹس روزمرہ زندگی کا حصہ ہیں، جہاں شادی کی تیاری سے لے کر سفر کی منصوبہ بندی تک ہر فیصلہ مشترکہ گفتگو میں ہوتا ہے۔ اگر مستقبل میں ایسا ایجنٹ عام ہوا جو اسی گفتگو کے اندر بجٹ، فہرست اور شیڈول بنا دے، تو چھوٹے کاروباروں، فری لانسرز اور طلبہ کے لیے بھی نئے اوزار کھل سکتے ہیں۔
دوسری جانب، وابی کے اعلان میں پاکستان میں دستیابی، قیمت یا اردو زبان کی معاونت کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ اس لیے پاکستانی صارفین کے لیے فی الحال یہ خبر ایک سمت کا اشارہ ہے، نہ کہ فوری دستیاب سہولت۔ مجموعی طور پر، یہ سرمایہ کاری بتاتی ہے کہ اے آئی کی اگلی لڑائی صرف بہتر جواب دینے کی نہیں، بلکہ اس بات کی ہے کہ ایجنٹ لوگوں کی مشترکہ زندگی میں کتنا کارآمد اوزار بن سکتا ہے۔




