واشنگٹن، 28 اکتوبر 2026 (نیوز ڈیسک): امریکی ایوانِ نمائندگان کی نگرانی کمیٹی (House Oversight Committee) نے ڈیلاویئر کی اس تجویز پر سوالات اٹھا دیے ہیں جس کے تحت ایک اے آئی ایجنٹ کسی کمپنی کا روزمرہ کاروبار چلا سکے گا، اور اس پیش رفت نے امریکا میں اے آئی ایجنٹس کی قانونی حیثیت پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ کمیٹی کے سربراہ جیمز کومر (James Comer) نے ڈیلاویئر کے گورنر میٹ میئر (Matt Meyer) کو خط لکھ کر اس منصوبے سے متعلق دستاویزات طلب کی ہیں۔ رپورٹوں کے مطابق یہ خط 26 اکتوبر کو لکھا گیا اور دستاویزات 9 نومبر تک پیش کرنے کو کہا گیا ہے۔
یہ معاملہ ایک نئی طرز کی کمپنی سے متعلق ہے جسے مصنوعی ذہانت کمپنی (Artificial Intelligence Company) کا نام دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ یہ تجویز تاحال قانون نہیں بنی۔ مسودہ بل آئندہ برس ڈیلاویئر کی مقننہ میں پیش ہونے کا امکان ہے۔
منصوبہ کیا ہے: اے آئی کمپنی کیسے چلے گی
تجویز کے مطابق مصنوعی ذہانت کمپنی ایک الگ قانونی وجود ہوگی۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ اپنے نام پر مقدمہ کر سکے گی اور اس پر مقدمہ ہو سکے گا، جائیداد رکھ سکے گی، معاہدے کر سکے گی اور انسانی مداخلت کے بغیر لین دین کر سکے گی۔ کمپنی کا ایک رکن ہوگا جو سرمایہ دے گا، منافع لے گا اور کاروبار چلانے والے اے آئی ایجنٹ کا تعین کرے گا۔ رکن کو دو شرطیں پوری کرنا ہوں گی: کمپنی کے پاس مناسب سرمایہ برقرار رکھنا اور اس کی سرگرمیوں کا ریکارڈ محفوظ رکھنا۔
اس کمپنی کا دائرہ وسیع رکھا گیا ہے۔ بینکنگ کے سوا کوئی بھی جائز مقصد اختیار کیا جا سکے گا، خواہ وہ منافع کے لیے ہو یا بغیر منافع کے۔ تجویز میں 30 ماہ کا تجرباتی ضابطہ کاری دائرہ (regulatory sandbox) بھی شامل ہے، جس کے دوران اس تجربے کو نگرانی میں پرکھا جائے گا اور ضرورت پڑنے پر نظام کو بند بھی کیا جا سکے گا۔
یہ منصوبہ جولائی 2026 میں سامنے آیا تھا، جب ڈیلاویئر کی سیکریٹری آف اسٹیٹ چارونی پٹی بندا سانچیز (Charuni Patibanda-Sanchez) اور قانونی اے آئی ایجنٹس بنانے والی کمپنی نارم اے آئی (Norm AI) کے بانی جان نی (John Nay) نے ایک مشترکہ مضمون میں اس کی حمایت کی۔ مسودے کے مرکزی مصنف کارپوریٹ وکیل جان مارک زیبرکیوچ (John Mark Zeberkiewicz) ہیں۔ گورنر میئر نے جولائی 2025 میں اے آئی کے لیے تجرباتی دائرے کا اعلان کیا تھا۔
ذمے داری کا تحفظ: اصل تنازع کہاں ہے
اس منصوبے پر سب سے بڑا سوال ذمے داری کا ہے۔ مسودے کے مطابق رکن عام طور پر کمپنی کے قرضوں سے محفوظ رہے گا اور کمپنی کے کسی عمل یا کوتاہی کی ذمے داری اس پر نہیں آئے گی، حتی کہ اے آئی کمپنی کی ہدایت پر کام کرنے والے کسی شخص کے عمل کی بھی نہیں۔ اس تحفظ کی چند مستثنیات رکھی گئی ہیں: اگر رکن کمپنی کو مناسب سرمایہ فراہم نہ کرے، کمپنی کو فراڈ یا قانون کی دانستہ خلاف ورزی کے لیے استعمال کرے، یا جانتے بوجھتے کمپنی کو اس کے اعلان کردہ مقصد سے باہر کاروبار کرنے دے تو تحفظ ختم ہو جائے گا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ تحفظ بہت وسیع ہے۔ ان کا سوال یہ ہے کہ جب اے آئی ایجنٹ کوئی نقصان دہ فیصلہ کرے گا تو اس کا جواب دہ کون ہوگا: وہ انسان جس نے کمپنی کو سرمایہ دیا، وہ کمپنی جس نے ماڈل بنایا، یا وہ قانونی وجود جو خود کوئی انسان نہیں؟ مناسب سرمایے کی مالی حد اور ریکارڈ تک رسائی کا طریقہ کار بھی تاحال واضح نہیں، اور یہی ابہام اس بحث کا مرکز ہے۔
حامیوں کا مؤقف: قانون کی روشنی میں
منصوبے کے حامیوں کا مؤقف یہ ہے کہ خودکار نظام پہلے ہی کاروبار کر رہے ہیں، اس لیے سوال یہ نہیں کہ انھیں روکا جائے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ انھیں قانون کے دائرے میں کیسے لایا جائے۔ ان کے مطابق اے آئی کو قانونی شکل دینے سے وہ قانون کی نظر میں آ جائے گا، اس کی ذمے داری کا ایک واضح مرکز بن جائے گا اور اس کا طرزِ عمل دیکھا اور پرکھا جا سکے گا۔
حامیوں کے مطابق نئی طرز کی کمپنی سے ریاست کو ٹیکس اور رجسٹریشن فیس بھی ملے گی۔ واضح رہے کہ امریکا کی تقریبا دو تہائی فارچون 500 (Fortune 500) کمپنیاں ڈیلاویئر میں رجسٹرڈ ہیں، اور صرف 2025 میں وہاں 3 لاکھ 34 ہزار 461 نئی کمپنیاں بنیں۔
ناقدین کے خدشات اور وفاقی مداخلت کا امکان
جیمز کومر نے اپنے خط میں خبردار کیا ہے کہ یہ منصوبہ طاقتور اے آئی کمپنیوں اور ان کے سرمایہ کاروں کو لاپرواہ اور نقصان دہ اقدامات کی ذمے داری سے بچانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ غیر شفاف قوتیں اس منصوبے سے مسابقت کو اپنے حق میں موڑ سکتی ہیں۔ کمیٹی اس جانچ کی روشنی میں وفاقی قانون سازی پر بھی غور کر سکتی ہے، جس سے ریاستوں کے اے آئی ضوابط کی حد طے ہو۔
ہمیں خدشہ ہے کہ ڈیلاویئر کی یہ تجویز طاقتور اے آئی کمپنیوں اور ان کے سرمایہ کاروں کو لاپرواہ اور نقصان دہ اقدامات کی ذمے داری سے بچانے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
ماہرین قانون کی رائے بھی ایک نہیں ہے۔ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے (University of California, Berkeley) کے قانون کے پروفیسر اینڈریو بیکر (Andrew Baker) کے مطابق یہ تحفظ حد سے زیادہ فراخ ہے اور اس کی پالیسی بنیاد تاحال پوری طرح واضح نہیں کی گئی۔ دوسری جانب یارک یونیورسٹی (York University) کے پروفیسر مارٹن پیٹرن (Martin Petrin) کا کہنا ہے کہ مسابقت کی دوڑ میں دوسری ریاستیں بھی اسی راستے پر چل سکتی ہیں، اور اس صورت میں ایک وفاقی فریم ورک حفاظتی خدشات سے نمٹنے میں مددگار ہو سکتا ہے۔ گورنر کے دفتر کے مطابق خط موصول ہو گیا ہے اور اس کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ڈیلاویئر کے لیے داؤ اور آگے کا راستہ
ڈیلاویئر کے لیے یہ معاملہ محض ایک قانونی تجربہ نہیں، بلکہ اس کی معاشی شناخت کا سوال بھی ہے۔ یہ ریاست کئی دہائیوں سے امریکا کی کارپوریٹ رجسٹریشن کا مرکز رہی ہے۔ ایسے میں یہ نئی شکل ڈیلاویئر کو آگے رکھ سکتی ہے، یا وفاقی جانچ اس کی رفتار دھیمی کر سکتی ہے۔ تاحال یہ واضح نہیں کہ مسودہ کس شکل میں پیش ہوگا۔
اگر ایک ریاست اے آئی ایجنٹس کو یہ قانونی حیثیت دے دیتی ہے تو دوسری ریاستیں بھی یہی سہولت پیش کر سکتی ہیں، اس لیے اس معاملے کو اے آئی ایجنٹس کے مستقبل کا آزمائشی مقدمہ قرار دیا جا رہا ہے۔ فی الحال سب کی نظریں 9 نومبر پر ہیں، جب ڈیلاویئر کی جانب سے دستاویزات پیش کیے جانے کی توقع ہے۔
پاکستانی قاری کے لیے اس خبر کا مطلب
پاکستان میں بھی اے آئی ایجنٹس کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے، جہاں سافٹ ویئر ہاؤسز اور آن لائن کاروبار خودکار نظاموں سے رابطے اور ادائیگیوں کا کام لے رہے ہیں۔ ایسے میں ڈیلاویئر کی بحث ایک بنیادی سوال سامنے لاتی ہے: اگر کوئی اے آئی ایجنٹ غلط فیصلہ کرے، غلط ادائیگی کر دے یا معاہدے کی خلاف ورزی کر بیٹھے تو اس کا ذمے دار کون ہوگا؟ موجودہ کمپنی قوانین انسانوں کے فیصلوں کو سامنے رکھ کر بنے ہیں، خودکار نظاموں کے نہیں۔
پاکستانی کاروباروں کے لیے فوری سبق یہ ہے کہ اے آئی ایجنٹس کو مالی لین دین یا معاہدوں جیسے حساس کام سونپنے سے پہلے انسانی نگرانی اور واضح ذمے داری کا نظام طے کر لیا جائے۔ اے آئی ایجنٹ کی رفتار سے فائدہ اٹھانا ممکن ہے، مگر اس کی غلطی کی قیمت کس کے کھاتے میں جائے گی، یہ فیصلہ نظام کے استعمال سے پہلے ہونا چاہیے، بعد میں نہیں۔




