ماؤنٹین ویو، 29 اکتوبر 2026 (ویب ڈیسک): گوگل (Google) نے اینڈرائیڈ ایپس بنانے کے اپنے مرکزی ماحول کو بیرونی اے آئی ایجنٹس کے لیے کھول دیا ہے۔ کمپنی نے اینڈرائیڈ ڈیولپمنٹ سمٹ میں اعلان کیا ہے کہ اینڈرائیڈ اسٹوڈیو (Android Studio) کے نئے ورژن ریبٹ 2 میں ڈویلپرز اب صرف گوگل کے اپنے اوزاروں تک محدود نہیں رہیں گے، بلکہ 40 سے زیادہ بیرونی کوڈنگ ایجنٹس کو براہ راست اسی ماحول میں چلا سکیں گے۔ تاکہ ڈویلپر اپنا مانوس ایجنٹ برقرار رکھتے ہوئے نیا ماحول سیکھنے سے بچ جائے۔
یہ اعلان اس وقت سامنے آیا ہے جب اے آئی ایجنٹس کا کردار تیزی سے بڑھ رہا ہے: پہلے اے آئی صرف تجاویز دیتا تھا، اب ایجنٹ کوڈ بدلتے ہیں، غلطیاں ڈھونڈتے ہیں اور جانچ بھی کرتے ہیں۔
سب سے بڑی تبدیلی: اپنا پسندیدہ ایجنٹ، گوگل کا ماحول
نئی سہولت کا نام برنگ یور اون ایجنٹ (Bring Your Own Agent) ہے، یعنی اپنا ایجنٹ خود لے آئیں۔ اس کے ذریعے کھلے معیار ایجنٹ کلائنٹ پروٹوکول (Agent Client Protocol) سے مطابقت رکھنے والے 40 سے زیادہ ایجنٹس اینڈرائیڈ اسٹوڈیو میں چلائے جا سکیں گے۔ ان میں اینتھروپک (Anthropic) کا کلاڈ ایجنٹ (Claude Agent)، اوپن اے آئی (OpenAI) کا کوڈیکس (Codex) اور گوگل کا اپنا اینٹی گریوٹی (Antigravity) شامل ہیں۔ ڈویلپر انھیں اسٹوڈیو کے اندر موجود مارکیٹ پلیس سے نصب کر سکتا ہے اور کام کے دوران ان کے درمیان آسانی سے جا سکتا ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ بیرونی ایجنٹ کو اسٹوڈیو کی وہی گہری معلومات میسر آئیں گی جو گوگل کے اپنے اوزاروں کو حاصل ہوتی ہیں، یعنی منصوبے کی ساخت، اس کی تعمیر کی ترتیب، علامتوں کی تفصیل، ایمولیٹر اور لاگ کیٹ تک رسائی۔ اس سے ایجنٹ اندازے پر کام نہیں کرے گا، بلکہ منصوبے کو ایک تجربہ کار ڈویلپر کی طرح سمجھے گا، اور گوگل کے مطابق اس کی تجاویز زیادہ درست ہوں گی۔
ڈویلپرز اور ان کے ایجنٹس کو معیاری اینڈرائیڈ ایپس تیزی سے بنانے کے اوزار اور معلومات دینا ہی ہمارا مقصد ہے۔
آدرش فرنینڈو، سینئر پراڈکٹ مینیجر، گوگل
ایجنٹ اب کوڈ کیسے لکھے گا اور جانچے گا
گوگل نے ٹرمینل میں کام کرنے والے ڈویلپرز کے لیے بھی دروازے کھول دیے ہیں۔ اینڈرائیڈ سی ایل آئی (Android CLI) اب کلاڈ کوڈ (Claude Code)، کوڈیکس اور اینٹی گریوٹی کے لیے سرکاری پلگ ان کے طور پر دستیاب ہے، تاکہ کمانڈ لائن پر کام کرنے والا ڈویلپر بھی اپنے پسندیدہ ایجنٹ سے اینڈرائیڈ کے اوزار چلا سکے۔
اس میں ایک نمایاں سہولت یہ ہے کہ ایجنٹ اب ٹرمینل میں ہی ایپ کے انٹرفیس کا پیش منظر بنا سکتا ہے، اس کے لیے اسے ایمولیٹر چلانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ گوگل کے اندرونی تجربات کے مطابق اس سہولت سے ایجنٹس نے انٹرفیس سے متعلق کام 77 فیصد تیزی سے مکمل کیے اور تین گنا تک کم ٹوکن استعمال کیے۔ ٹوکن سے ماڈل کے استعمال کی مقدار اور لاگت ناپی جاتی ہے۔
جانچ کے شعبے میں میموری لیک ڈھونڈنے والا اوپن سورس اوزار لیک کینری (LeakCanary) اب سی ایل آئی اور اسٹوڈیو کے پروفائلر دونوں میں شامل کر دیا گیا ہے۔ یہ نظام میموری کی جانچ فون کے بجائے کمپیوٹر پر کرتا ہے، تاکہ جانچ کے دوران ایپ سست نہ ہو۔ گوگل کے مطابق کلاڈ اوپس 5.5 (Claude Opus 5.5) کے ساتھ کی گئی آزمائش میں اس اوزار کی بدولت میموری لیک تقریبا دو گنا تیزی سے ملے اور ٹھیک ہوئے، جبکہ ٹوکن کا استعمال تقریبا 25 فیصد کم رہا۔
چوں کہ لینگویج ماڈلز کو نئے ترین اینڈرائیڈ اے پی آئیز کی تربیت ہمیشہ حاصل نہیں ہوتی، اس لیے گوگل نے 30 سے زیادہ اینڈرائیڈ اسکلز بھی جاری کی ہیں۔ یہ دستاویزات ایجنٹ کو بتاتی ہیں کہ ایپ جمع کرانے سے پہلے گوگل پلے کی پالیسی کیسے جانچی جائے اور اجازتوں سے متعلق سیکیورٹی کے مسائل کیسے نمٹائے جائیں۔ ایجنٹ کے لکھے ہوئے بڑے کوڈ کی جانچ کے لیے چینج ریویو بھی متعارف کرایا گیا ہے۔
فون کے اندر ایجنٹ: جیمنائی نینو اور ایپ فنکشنز
یہ تبدیلی صرف کوڈ لکھنے تک محدود نہیں۔ گوگل نے ایپس کے اندر ایجنٹ کی سہولتیں بنانے کے لیے بھی نئے انٹرفیس پیش کیے ہیں۔ ان میں سب سے اہم ایم ایل کٹ (ML Kit) میں شامل کیا جانے والا ایجنٹک اے پی آئی ہے، جو فی الحال آزمائشی مرحلے میں ہے اور جیمنائی نینو 4 (Gemini Nano 4) پر چلتا ہے۔ یہ اے پی آئی فون کے اندر ہی کام کرنے والے ایجنٹ کے لیے افعال خود چلاتی ہے، گفتگو کی تاریخ محفوظ رکھتی ہے اور حفاظتی فلٹر بھی فراہم کرتی ہے۔
دوسری طرف ایپ فنکشنز (AppFunctions) نامی انٹرفیس اب آزمائشی مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ یہ ایک مشترکہ تہہ ہے جس کے ذریعے ایپ اپنی منتخب سہولتیں مقامی یا نظام گیر ایجنٹس کے ساتھ بانٹ سکتی ہے، اور اس کا رابطہ ماڈل کانٹیکسٹ پروٹوکول (Model Context Protocol) سے قائم ہوتا ہے۔ اسی سلسلے میں ایجنٹ ٹو یو آئی (Agent-to-UI) بھی پیش کیا گیا ہے، جس سے ایجنٹ تحریری جواب کے بجائے ایپ کے اپنے اجزا سے بنا ہوا انٹرفیس دکھا سکے گا۔
ایپس اب جیمنائی اور سرچ میں کیسے نظر آئیں گی
گوگل نے کنیکٹڈ ایپس پلیٹ فارم (Connected Apps Platform) کا پیش منظر بھی پیش کیا ہے۔ اس کے ذریعے کاروبار اور ڈویلپرز اپنی ایپ کو گوگل سرچ اور جیمنائی ایپ سے جوڑ سکیں گے، اور صارف اپنی پسندیدہ سروس کو جیمنائی سے منسلک کر کے اسی کے ذریعے کام کرا سکے گا۔
گوگل کے مطابق جیمنائی ایپ میں پہلے ہی 50 سے زیادہ شراکت دار ایپس کی خدمات موجود ہیں، جن میں ایڈوبی (Adobe)، پیلوٹون (Peloton) اور ایکسپیریئن (Experian) شامل ہیں۔ یہ خدمات آئندہ چند ہفتوں میں گوگل سرچ میں بھی آ جائیں گی، اور مراقبے کی ایپ کیلم (Calm) بھی جلد دونوں جگہوں پر دستیاب ہوگی۔
اس پلیٹ فارم کا پیش منظر فی الحال صرف امریکا کے ڈویلپرز کے لیے دستیاب ہے، اور اس میں شامل ہونے کے لیے انتظار کی فہرست میں نام لکھوانا ہوگا۔ گوگل نے یہ نہیں بتایا کہ یہ سہولت دیگر ملکوں میں کب آئے گی۔ اس لیے پاکستانی ڈویلپرز کے لیے فوری فائدہ بنیادی طور پر اینڈرائیڈ اسٹوڈیو اور اس کے ایجنٹس تک محدود رہے گا۔
مقابلہ اور پاکستانی ڈویلپرز کے لیے مطلب
گوگل کا یہ قدم دراصل ایک بڑی مسابقت کا حصہ ہے۔ اوپن اے آئی اور اینتھروپک اپنے ایجنٹس کو ڈویلپرز کا پہلا انتخاب بنانا چاہتے ہیں، جبکہ گوگل چاہتا ہے کہ ڈویلپر اینڈرائیڈ کے ماحول میں رہیں، چاہے ایجنٹ کسی کا بھی ہو۔ حریف کے ایجنٹ کو اپنے ماحول میں جگہ دے کر گوگل نے ڈویلپر کو اپنے ساتھ رکھنے کی کوشش کی ہے، نہ کہ اسے کسی اور ماحول کی طرف دھکیلنے کی۔
دوسری جانب یہ سوال بھی کھڑا ہوتا ہے کہ جب ایجنٹ کو منصوبے کی مکمل معلومات تک رسائی مل جائے گی تو ڈویلپر کا اپنا کردار کیا رہ جائے گا۔ گوگل کا جواب یہ ہے کہ آخری فیصلہ اور ذمے داری انسان کی رہے گی۔ اس ضمن میں یہ بھی واضح رہے کہ رفتار اور لاگت کے اعداد گوگل کے اپنے تجربات پر مبنی ہیں، ان کی آزادانہ تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔
پاکستان کے لیے اس خبر کی اہمیت خاص ہے، کیوں کہ یہاں اینڈرائیڈ فونز کی اکثریت ہے اور ہزاروں فری لانسرز اور سافٹ ویئر ہاؤسز اینڈرائیڈ ایپس بناتے ہیں۔ اگر پاکستانی ڈویلپر پہلے ہی کلاڈ یا کوڈیکس استعمال کر رہا ہے تو اب اسے گوگل کے ماحول میں آتے ہی اپنا ایجنٹ چھوڑنا نہیں پڑے گا۔ چھوٹی ٹیموں کے لیے انٹرفیس کی جانچ اور میموری کے مسائل ڈھونڈنا تیز اور سستا ہو سکتا ہے۔
تاہم اس سہولت کا اصل امتحان آنے والے مہینوں میں ہوگا، جب یہ واضح ہوگا کہ بیرونی ایجنٹس اینڈرائیڈ کے ماحول میں کتنے درست کام کرتے ہیں اور فون کے اندر چلنے والے ایجنٹس کب عام صارف تک پہنچتے ہیں۔ فی الحال اتنا طے ہے کہ اینڈرائیڈ کی دنیا میں ایجنٹ اب مہمان نہیں، بلکہ اس ماحول کا باقاعدہ حصہ بن گیا ہے۔




