ماؤنٹین ویو، 4 نومبر 2026 (ویب ڈیسک): گوگل (Google) نے اسکولوں کے لیے گائیڈڈ لرننگ (Guided Learning) متعارف کرا دیا ہے، جو طلبہ کو سیدھا جواب تھمانے کے بجائے قدم بہ قدم سوچنے اور مسئلہ حل کرنے کی طرف لے جاتا ہے۔ کمپنی نے 3 نومبر کو اپنے تعلیمی بلاگ میں اعلان کیا ہے کہ یہ سہولت گوگل کلاس روم (Google Classroom) میں عالمی سطح پر دستیاب ہو گئی ہے، جب کہ گوگل سرچ (Google Search) میں اس کی آزمائش رواں ماہ امریکا کے منتخب اسکولوں سے شروع ہوگی۔
اس اعلان کے ساتھ گوگل نے اسکولوں کو دیے گئے کنٹرول کا طریقہ بھی بدل دیا ہے۔ اب جیمنائی (Gemini)، نوٹ بک ایل ایم (NotebookLM)، جیمنائی ان کلاس روم اور گوگل سرچ، اسکول کے طلبہ کے کھاتوں پر مکمل طور پر بند رہیں گے، جب تک اسکول کی انتظامیہ خود انھیں فعال نہ کرے۔ اسی نکتے پر سب سے زیادہ بحث ہو رہی ہے، کیوں کہ رپورٹوں کے مطابق اے آئی مکمل طور پر بند رکھنے والے اسکولوں کے طلبہ گوگل سرچ سے بھی محروم ہو جائیں گے۔
گائیڈڈ لرننگ کیا ہے اور کیسے کام کرے گی
گائیڈڈ لرننگ ایک ایسا مطالعاتی نظام ہے جو طالب علم کے ساتھ استاد کی طرح قدم بہ قدم چلتا ہے، تاکہ اسے جواب تھما دینے کے بجائے خود سوچنے پر مجبور کیا جائے۔ گوگل اس فلسفے کو مثبت جدوجہد (productive struggle) کا نام دیتا ہے، یعنی طالب علم کو اتنا چیلنج ضرور ملے کہ وہ سیکھے، مگر اتنی مشکل نہ ہو کہ وہ ہمت ہار دے۔
گوگل سرچ میں یہ سہولت اس وقت کام کرے گی جب نظام کو اندازہ ہوگا کہ طالب علم ہوم ورک کے لیے مدد مانگ رہا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی طالب علم طبیعیات کا مشکل مسئلہ چسپاں کرے یا کتاب پر رپورٹ لکھنے میں مدد مانگے تو سرچ اسے سیدھا جواب دینے کے بجائے ایسے سوالات اور اشارے دے گا جن سے وہ خود تصورات پر غور کر سکے۔ گوگل کے مطابق یہ آزمائش پہلے امریکا کے منتخب اسکولوں میں ہوگی، اور اساتذہ کی آراء کے بعد اسے دوسرے اضلاع تک پھیلایا جائے گا۔
یہ سہولت جیمنائی ایپ میں پہلے سے موجود ہے، جہاں کھلے سوالات اور مرحلہ وار وضاحت کے ذریعے طالب علم کی رہنمائی کی جاتی ہے۔ اب یہی طریقہ کلاس روم اور سرچ تک پھیلایا جا رہا ہے۔
کلاس روم میں اساتذہ کے لیے کیا بدلا ہے
گوگل کلاس روم میں گائیڈڈ لرننگ اساتذہ کی نگرانی میں چلے گا۔ استاد طلبہ کے لیے سرگرمی مقرر کرے گا، اور طالب علم کے شروع کرتے ہی یہ نظام کلاس کے مواد سے جڑا ہوا ذاتی مطالعاتی معاون بن جائے گا، تاکہ گفتگو اسی سبق کے گرد رہے جو استاد نے پڑھایا ہے۔
اساتذہ کو اس نظام سے یہ فائدہ بھی ملے گا کہ انھیں اندازہ ہوگا کہ کلاس کس نکتے پر اٹک رہی ہے اور کس طالب علم کو اضافی مدد چاہیے۔ اس سے استاد ابتدائی سوالات کا بوجھ نظام پر چھوڑ کر ان طلبہ پر توجہ دے سکے گا جنھیں انفرادی رہنمائی کی ضرورت ہو۔
اس سہولت کو کلاس روم میں لانے سے پہلے گوگل نے اساتذہ کے ساتھ مل کر اس کی آزمائش کی تھی۔ ان کی آراء کی روشنی میں اساتذہ کے لیے یہ دیکھنے کی سہولت شامل کی گئی ہے کہ طلبہ گائیڈڈ لرننگ کے ساتھ کیسے پیش آ رہے ہیں، اور گفتگو کو استاد کے اپ لوڈ کردہ نصاب سے جوڑنے کی صلاحیت بھی بہتر بنائی گئی ہے۔
تحقیق نے کیا دکھایا
گوگل نے اس اعلان کے ساتھ دو نئی تحقیقیں بھی پیش کی ہیں۔ پہلی تحقیق ٹوکیو یونیورسٹی (University of Tokyo) میں کی گئی، جس میں 300 سے زیادہ طلبہ نے حصہ لیا۔ تمام طلبہ کو آدھے دن کے لیے شماریات کا ایک سبق خود پڑھنے کے لیے دیا گیا۔ آدھے طلبہ نے صرف عام آن لائن ذرائع استعمال کیے، جب کہ باقی طلبہ کو جیمنائی ایپ میں گائیڈڈ لرننگ بھی دستیاب تھی۔
نتائج کے مطابق صرف عام ذرائع استعمال کرنے والے طلبہ کے ٹیسٹ اسکور میں 5.3 فیصد پوائنٹس کی بہتری آئی، جب کہ گائیڈڈ لرننگ استعمال کرنے والے طلبہ کے اسکور میں 8.1 فیصد پوائنٹس کی بہتری ریکارڈ کی گئی۔ گوگل کے مطابق یہ تقریباً ڈیڑھ گنا زیادہ بہتری ہے، اور یہ صرف آدھے دن کی پڑھائی میں حاصل ہوئی۔ تاہم یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ یہ گوگل کی اپنی تحقیق ہے، اور اس کا دائرہ ایک سبق اور ایک مختصر سیشن تک محدود تھا۔
دوسری آزمائش برطانیہ میں تعلیمی ادارے آرک (Ark) کے ساتھ کی گئی، جو تین سیکنڈری اسکولوں میں چار ہفتے جاری رہی اور چار مضامین پر محیط تھی۔ اساتذہ نے بتایا کہ اس نظام نے طلبہ کے ابتدائی سوالات سنبھال لیے، جس سے انھیں انفرادی مدد کے لیے زیادہ وقت ملا، جب کہ نصف سے زیادہ طلبہ نے کہا کہ اس نے انھیں مسائل خود حل کرنے میں مدد دی۔
اسکولوں کے کنٹرول اور سرچ کا تنازع
گوگل کے تعلیمی شعبے کے نائب صدر و جنرل منیجر کرس فلپس (Chris Phillips) نے بلاگ میں لکھا ہے کہ اسکولوں، اساتذہ، محققین اور پالیسی سازوں سے بات چیت کے بعد کنٹرول کا یہ طریقہ بدلا جا رہا ہے۔
تاہم ٹیک کرنچ کی رپورٹ کے مطابق کرس فلپس نے نیویارک ٹائمز سے گفتگو میں یہ بھی کہا ہے کہ سرچ اور اے آئی اب گہرائی سے جڑے ہوئے ہیں، اس لیے جو اسکول اے آئی کو مکمل طور پر بند رکھنے کا فیصلہ کرے گا، اس کے طلبہ کو سرچ تک رسائی بھی نہیں ملے گی۔
سرچ اور اے آئی گہرائی سے جڑے ہوئے ہیں۔ اگر کوئی اسکول اے آئی کو مکمل طور پر بند رکھنے کا انتخاب کرتا ہے تو اس کے طلبہ کو سرچ تک رسائی حاصل نہیں ہوگی، اور انھیں اپنے اسکول کی جانب سے ایک پیغام نظر آئے گا کہ یہ سہولت دستیاب نہیں ہے۔
اس بیان کے بعد یہ سوال اٹھا ہے کہ کیا اسکولوں کے پاس واقعی انتخاب بچا ہے، یا سرچ برقرار رکھنے کے لیے انھیں اے آئی قبول کرنا ہی پڑے گا۔ گوگل کا مؤقف یہ ہے کہ اس کا مقصد اسکولوں کو کنٹرول اور اعتماد دینا ہے۔ دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ جب سرچ اور اے آئی ایک ہی پیکج بن جائیں تو سرچ کے بغیر اے آئی سے انکار کا راستہ نہیں رہتا۔ ٹیک کرنچ کے مطابق یہ تبدیلی اگلے برس متوقع ہے، جب کہ گوگل کے بلاگ میں کوئی حتمی تاریخ نہیں دی گئی۔
پاکستانی اسکولوں اور طلبہ کے لیے اس کا مطلب
پاکستان کے اسکولوں کے لیے اس خبر میں دو الگ پیغام ہیں۔ پہلا پڑھائی کے طریقے سے متعلق ہے: جو طالب علم ہوم ورک کا جواب نقل کرنے کے بجائے قدم بہ قدم مسئلہ حل کرنا سیکھ لے، اس کی سمجھ زیادہ پائیدار ہوتی ہے۔ پاکستانی اساتذہ کے لیے بھی یہی سوال اہم ہے کہ کلاس میں اے آئی نقل کا راستہ بنے گا یا سیکھنے کا ذریعہ، اور گائیڈڈ لرننگ کا دعوٰی یہی ہے کہ وہ دوسرا راستہ اختیار کرتا ہے۔
دوسرا پیغام فیصلے کے اختیار سے متعلق ہے۔ گوگل کا نیا طریقہ یہ اختیار انتظامیہ کے ہاتھ میں دیتا ہے، مگر ساتھ ہی یہ شرط بھی لگاتا ہے کہ اے آئی سے مکمل انکار کی صورت میں سرچ بھی ساتھ چھوٹ جائے گا۔ اس لیے یہ فیصلہ صرف اے آئی کے حق یا مخالفت کا نہیں رہا، بلکہ اس کے ساتھ طلبہ کی روزمرہ معلومات تک رسائی کا سوال بھی جڑ گیا ہے۔
فی الحال یہ بھی واضح نہیں ہے کہ گائیڈڈ لرننگ اردو میں کس حد تک اور کب دستیاب ہوگا، اور سرچ کی آزمائش امریکا کے منتخب اسکولوں سے آگے دوسرے ملکوں تک کب پھیلے گی۔ گوگل کا کہنا ہے کہ آنے والے مہینوں میں اسکولوں کے ساتھ مزید تفصیلات بانٹی جائیں گی، تاکہ تبدیلی سے پہلے تیاری کا وقت مل سکے۔




