مینلو پارک، 7 نومبر 2026 (ویب ڈیسک): میٹا (Meta) نے اپنے اے آئی ایجنٹ میوز (Muse) کے لیے اسپیسز (Spaces) متعارف کرا دی ہیں۔ یہ نئی سہولت ہر کام اور منصوبے کے لیے ایک الگ جگہ بناتی ہے، جہاں صارف چیٹ میں اپنا خیال بتائے گا اور میوز اس کے لیے ٹریکر، پلانر یا پراجیکٹ بورڈ تیار کر دے گا۔ میٹا کے مطابق اسپیسز کی بدولت ایجنٹ محض بات چیت تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ کام سنبھالنے اور ان کی نگرانی کرنے والا ساتھی بن جائے گا۔
یہ اعلان جمعے، 6 نومبر کو سامنے آیا۔ میٹا کے بانی اور چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ (Mark Zuckerberg) نے اسی روز سوشل میڈیا پر بتایا کہ وہ خود اسپیسز آزما رہے ہیں اور انھوں نے اس سے باربی کیو کا ایک کھیل، ایک تقریبات کا ٹریکر اور گھر کے آلات کو کنٹرول کرنے والا ڈیش بورڈ بنایا ہے۔ میٹا کے مطابق یہ سہولت اسی روز سے ان تمام خطوں میں دستیاب ہو گئی ہے جہاں میوز پیش کیا جاتا ہے۔
اسپیسز کیا ہیں اور کیسے کام کرتی ہیں؟
اسپیسز دراصل میوز کے انٹرفیس کی سائیڈ بار میں رہنے والی الگ الگ گفتگوئیں ہیں، جن میں سے ہر ایک کسی ایک موضوع یا مقصد کے گرد گھومتی ہے۔ میٹا انھیں عام چیٹ کے بجائے "کسٹم تجربات" (Custom Experiences) کہتی ہے۔ صارف جب کسی اسپیس پر کلک کرتا ہے تو وہی گفتگو کھل جاتی ہے، جس میں میوز اسی مقصد کے لیے کام کرتا رہتا ہے۔ یوں صارف کو ہر بار اپنی بات کا سیاق و سباق دوبارہ بتانے کی ضرورت نہیں رہتی، کیوں کہ ہر منصوبے کی تفصیل اپنی جگہ محفوظ رہتی ہے۔
میٹا نے اس کی کئی مثالیں دی ہیں۔ چھٹیوں کا منصوبہ بنانا ہو، خاندانی تقریب کے لیے کھانوں کی ترکیبیں جمع کرنی ہوں، تعطیلات کے تحفوں کا حساب رکھنا ہو، شادی کی تیاریوں کی فہرست بنانی ہو یا گھر کے کسی منصوبے پر کام کرنا ہو، ہر کام کے لیے ایک الگ اسپیس بنائی جا سکتی ہے۔ صارف کو صرف چیٹ میں بتانا ہوتا ہے کہ اسے کیا چاہیے، باقی کام میوز خود کرتا ہے۔
"چیٹ میں اپنا خیال بتائیے، میوز آپ کے لیے اسپیس بنا دے گا، چاہے وہ ٹریکر ہو، پلانر ہو یا پراجیکٹ بورڈ۔" (میٹا)
اس سہولت کی اصل تبدیلی یہ ہے کہ ایجنٹ اب صرف سوال کا جواب دینے والا چیٹ بوٹ نہیں رہا، بلکہ وہ اب صارف کے لیے ایسی جگہ بنا دیتا ہے جہاں ہر کام محفوظ رہتا ہے اور آگے بڑھتا رہتا ہے۔ صارف جب چاہے اسی اسپیس پر واپس آ کر کام وہیں سے جاری رکھ سکتا ہے جہاں وہ رکا تھا۔
تیسری پارٹی ایپس سے خودکار رابطہ
اسپیسز کی دوسری اہم خصوصیت یہ ہے کہ انھیں صارف کی روزمرہ کی ایپس سے جوڑا جا سکتا ہے۔ میٹا کے مطابق جی میل (Gmail)، گوگل کیلنڈر (Google Calendar)، اوپن ٹیبل (OpenTable) اور نوشن (Notion) جیسی ایپس سے رابطے کے بعد اسپیسز پس منظر میں خود بخود تازہ ہوتی رہیں گی۔ یوں کسی کنسرٹ کی نئی تاریخ، کسی چیز کی قیمت میں تبدیلی یا بچت کی پیش رفت صارف کے پوچھے بغیر اس کی اسپیس میں ظاہر ہو جائے گی۔
تاہم اس مرحلے پر اسپیسز صرف ایک صارف کے استعمال کے لیے ہیں۔ میٹا نے تصدیق کی ہے کہ وہ ان اسپیسز کو دوسرے صارفین کے ساتھ بانٹنے کے طریقوں پر غور کر رہی ہے، مگر یہ سہولت تاحال دستیاب نہیں۔ یوں فی الحال کوئی اسپیس مشترکہ منصوبے کے لیے دو افراد ایک ساتھ استعمال نہیں کر سکتے۔
میوز کی تیز رفتار ترقی
اسپیسز میوز میں ایک ہفتے کے اندر متعارف کرائی جانے والی دوسری بڑی سہولت ہے۔ اس سے ایک روز قبل، جمعرات 5 نومبر کو، میٹا نے میوز وائس (Muse Voice) پیش کی تھی، جس کی بدولت صارف اپنے ایجنٹ سے ویڈیو چیٹ کے ذریعے بات کر سکتا ہے اور اسے بول کر ہدایات دے سکتا ہے۔ یوں میوز اب محض تحریر پڑھنے والا ساتھی نہیں رہا، اس سے بول کر بھی بات کی جا سکتی ہے۔
میوز خود 8 ستمبر کو متعارف کرایا گیا تھا۔ میٹا کے مطابق میوز کے آغاز کے دو ماہ سے بھی کم عرصے میں امریکا اور کینیڈا میں اس کے صارفین کی تعداد ایک کروڑ تک پہنچ گئی۔ یہ اعداد اکتوبر میں کمپنی کی آمدنی سے متعلق کانفرنس کال میں بتائے گئے تھے۔ اس رفتار سے اندازہ ہوتا ہے کہ میٹا اپنے ایجنٹ کو اپنی اہم ترین مصنوعات میں سے ایک سمجھتی ہے۔
"میں گزشتہ کچھ عرصے سے میوز میں اسپیسز آزما رہا ہوں۔ میوز کو بتائیے کہ آپ کو کیا چاہیے اور وہ بنا دے گا۔ میں نے اس سے باربی کیو کا ایک کھیل، تقریبات کا ٹریکر اور گھر کے آلات کو کنٹرول کرنے والا ڈیش بورڈ بنایا ہے۔" (مارک زکربرگ، بانی اور چیف ایگزیکٹو، میٹا)
زکربرگ کے اس پیغام سے بھی یہی اندازہ ہوتا ہے کہ میٹا اسپیسز کو صارف کی روزمرہ زندگی کے چھوٹے بڑے کاموں سے جوڑنا چاہتی ہے، نہ کہ صرف دفتری منصوبوں تک محدود رکھنا چاہتی ہے۔
اے آئی ایجنٹس کی دوڑ
میٹا اس میدان میں تنہا نہیں۔ اوپن اے آئی (OpenAI) نے اپنے ایجنٹ ڈاٹس (Dots) اور اسپیس ایکس اے آئی (SpaceXAI) نے گروک باٹ (Grokbot) پیش کیے ہیں، اور دونوں کو بھی اسی طرح دوستانہ اور کارٹون جیسے انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ ان سب کا مقصد ایک ہی ہے: اے آئی ایجنٹ کو محض سوال و جواب کی جگہ سے نکال کر صارف کے کاموں میں شریک ساتھی بنانا۔
اس دوڑ میں فرق اس بات سے پڑے گا کہ کس کمپنی کا ایجنٹ صارف کی زندگی میں زیادہ گہرائی تک اتر سکتا ہے۔ میٹا کے پاس واٹس ایپ (WhatsApp) اور انسٹاگرام (Instagram) جیسے پلیٹ فارم ہیں، جن کے ذریعے وہ میوز کو کروڑوں صارفین تک پہنچا سکتی ہے۔ تاہم یہ تاحال واضح نہیں کہ یہ سہولت ان پلیٹ فارموں پر کب اور کس شکل میں آئے گی۔
تاہم اصل آزمائش یہ ہوگی کہ اسپیسز میں دکھائی جانے والی معلومات کتنی درست اور قابلِ اعتماد ہوں گی۔ اگر اسپیس میں دکھائی جانے والی معلومات پرانی ہوں یا ایجنٹ غلط فیصلہ کرے تو صارف کا اعتماد جلد ختم ہو سکتا ہے۔ اور اسپیس میں معلومات کے ماخذ کیسے دکھائے جائیں گے، یہ بھی ابھی واضح نہیں۔
پاکستانی صارفین کے لیے کیا معنی رکھتی ہے؟
پاکستان میں فری لانسرز، چھوٹے کاروبار اور طلبہ اکثر ایک ہی وقت میں کئی منصوبوں پر کام کرتے ہیں، اور ہر منصوبے کی تفصیل الگ رکھنا ان کے لیے مشکل ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے اسپیسز جیسی سہولت ان کے لیے کارآمد ہو سکتی ہے، کیوں کہ اس کی بدولت ہر منصوبے کی گفتگو، فہرست اور پیش رفت ایک ہی جگہ محفوظ رہے گی۔
تاہم یہ واضح رہے کہ میٹا نے تاحال یہ نہیں بتایا کہ میوز اور اسپیسز پاکستان میں کب دستیاب ہوں گے۔ اس وقت یہ سہولت صرف ان خطوں میں پیش کی جا رہی ہے جہاں میوز پہلے سے موجود ہے، اور میٹا کی جانب سے بتائے گئے خطوں میں پاکستان کا نام تاحال سامنے نہیں آیا۔ اس لیے پاکستانی صارفین کو اس سہولت کے لیے انتظار کرنا ہوگا۔




