سانتا کلارا، 6 نومبر 2026 (ویب ڈیسک): سائبر سیکیورٹی کی بڑی کمپنی پالو آلٹو نیٹ ورکس (Palo Alto Networks) نے اے آئی ایجنٹس کی شناختوں کی حفاظت کرنے والے اسٹارٹ اپ کلچ سیکیورٹی (Clutch Security) کو خریدنے کے لیے بات چیت شروع کر دی ہے۔ ٹیک کرنچ (TechCrunch) کے مطابق معاہدے کی مالیت 50 کروڑ ڈالر نقد ہو سکتی ہے، جس کے ساتھ طے شدہ اہداف مکمل ہونے پر مزید ادائیگیاں بھی شامل ہوں گی۔ اس پیش رفت کی خبر سب سے پہلے دی انفارمیشن (The Information) نے 4 نومبر کو دی تھی، جب کہ ٹیک کرنچ نے 6 نومبر کو معاملے سے واقف ایک ذریعے کے حوالے سے تفصیلات شائع کیں۔
دونوں کمپنیوں میں سے کسی نے بھی ابھی اس کی تصدیق نہیں کی ہے۔ ٹیک کرنچ کے مطابق پالو آلٹو نیٹ ورکس اور کلچ سیکیورٹی نے تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا، جب کہ پالو آلٹو نیٹ ورکس نے دی انفارمیشن کو بتایا تھا کہ وہ افواہوں یا قیاس آرائیوں پر تبصرہ نہیں کرتی۔ مذاکرات جاری ہیں اور یہ ضروری نہیں کہ وہ کسی معاہدے پر ختم ہوں۔
کلچ تین برس پرانی کمپنی ہے۔ اس کی آخری قیمت جنوری 2025 میں 2 کروڑ ڈالر کی سیریز اے سرمایہ کاری کے وقت ساڑھے 8 کروڑ ڈالر لگائی گئی تھی، جس کی قیادت لائٹ اسپیڈ (Lightspeed) اور سگنل فائر (SignalFire) نے کی تھی۔ ٹیک کرنچ کے مطابق کمپنی کی سالانہ مستقل آمدنی (ARR) اب 1 کروڑ ڈالر کے قریب ہے۔ اس حساب سے 50 کروڑ ڈالر کی قیمت کمپنی کی سالانہ آمدنی سے تقریباً 50 گنا زیادہ ہے، جو سافٹ ویئر کمپنیوں کی قیمت لگانے کا ایک عام پیمانہ ہے۔ کمپنی نے جولائی 2024 میں 85 لاکھ ڈالر کی ابتدائی سرمایہ کاری حاصل کی تھی، جس کے بعد جنوری 2025 میں 2 کروڑ ڈالر کی سیریز اے سرمایہ کاری ہوئی۔ اس طرح اس نے اب تک مجموعی طور پر تقریباً 2 کروڑ 85 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کی ہے۔
کلچ کیا کرتی ہے؟
کلچ کا کام ان شناختوں کی حفاظت کرنا ہے جو انسانوں کی نہیں، بلکہ مشینوں اور سافٹ ویئر کی ہوتی ہیں۔ اسے غیر انسانی شناخت (Non-Human Identity) کی سیکیورٹی کہا جاتا ہے۔ جب کوئی اے آئی ایجنٹ کمپنی کے نظام سے ڈیٹا پڑھتا ہے یا کوئی کام ازخود انجام دیتا ہے تو اسے رسائی کے لیے اے پی آئی کیز، سروس اکاؤنٹس، تصدیقی ٹوکن اور پاس ورڈ درکار ہوتے ہیں۔ کلچ کا پلیٹ فارم ان تمام شناختوں کا نقشہ بناتا ہے، ان کی نگرانی کرتا ہے، ضرورت سے زیادہ وسیع اجازتوں کی نشان دہی کرتا ہے اور مشکوک استعمال پر خبردار کرتا ہے۔
کمپنی 2023 کے آخر میں قائم ہوئی تھی۔ اس کے بانیوں میں چیف ایگزیکٹو اوفیر ہار چین (Ofir Har-Chen)، چیف ٹیکنالوجی آفیسر ساگی ہاس (Sagi Haas) اور تحقیق و ترقی کے نائب صدر ٹال کمھی (Tal Kimhi) شامل ہیں۔ کمپنی اسرائیل اور امریکا میں کام کرتی ہے۔ معاہدہ طے پانے کی صورت میں پالو آلٹو نیٹ ورکس کو وہ ٹیکنالوجی مل جائے گی جو اے آئی ایجنٹس کی شناختوں کا نقشہ بناتی ہے اور ان کے استعمال پر نظر رکھتی ہے۔
ایجنٹس کی حفاظت اچانک اتنی اہم کیوں ہو گئی؟
اس کی وجہ یہ ہے کہ کمپنیوں میں اے آئی ایجنٹس کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ یہ ایجنٹس اندرونی ڈیٹا پڑھتے ہیں، دستاویزات تیار کرتے ہیں اور کئی کام انسانی مداخلت کے بغیر انجام دیتے ہیں۔ ہر ایجنٹ کو کام کرنے کے لیے شناخت اور رسائی درکار ہوتی ہے، اس لیے جتنے زیادہ ایجنٹس استعمال ہوتے ہیں، اتنی ہی زیادہ مشینی شناختیں بنتی جاتی ہیں۔ عملی مسئلہ یہ ہے کہ ڈویلپرز اکثر ایجنٹس کو ضرورت سے زیادہ وسیع اجازتیں دے دیتے ہیں اور پھر انھیں واپس لینا بھول جاتے ہیں۔ ایسی بھولی ہوئی شناختیں حملہ آوروں کے لیے دروازہ بن سکتی ہیں، کیوں کہ روایتی سیکیورٹی نظام انسانوں کے لاگ ان کے لیے بنے تھے، مشینوں کی شناختوں کے لیے نہیں۔
اسی لیے اس شعبے میں خریداری کی دوڑ لگی ہوئی ہے۔ سائبر سیکیورٹی کمپنی سائیرا (Cyera) نے اسی طرح کا کام کرنے والی کمپنی اویسس سیکیورٹی (Oasis Security) کو 1 ارب ڈالر میں خرید لیا تھا، جب کہ سسکو (Cisco) نے ایسٹرکس (Astrix) کو تقریباً 40 کروڑ ڈالر میں حاصل کیا تھا۔ گزشتہ ہفتے کلاؤڈ سیکیورٹی اسٹارٹ اپ اپ ونڈ (Upwind) نے ڈیٹا ڈاگ (DataDog) کی جانب سے خریداری کی پیش کش ٹھکرا دی تھی، جس میں اس کی قیمت سالانہ آمدنی سے تقریباً 40 گنا لگائی گئی تھی۔ کلچ کے لیے 50 گنا قیمت اسی رجحان کی ایک اور مثال ہے۔
پالو آلٹو کی خریداری کی لہر
اگر یہ معاہدہ طے پا گیا تو یہ پچ بک (PitchBook) کے مطابق پالو آلٹو نیٹ ورکس کی اس سال کی ساتویں خریداری ہوگی۔ دی انفارمیشن کے مطابق یہ سال کی پانچویں اعلان کردہ خریداری ہوگی۔ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو نکیش اروڑا (Nikesh Arora) اے آئی سے پیدا ہونے والے نئے خطرات کے مقابلے کے لیے شناخت کی سیکیورٹی اور خودکار نظاموں کی حفاظت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔
ستمبر میں پالو آلٹو نیٹ ورکس نے کنسول (Console) کو خریدا تھا، جو اے آئی ایجنٹس کے ذریعے آئی ٹی کے معمول کے کام خودکار بناتی ہے۔ اس معاہدے کی مالیت بھی 50 کروڑ ڈالر تھی۔ اس سال کی دیگر خریداریوں میں ایمبرس (Embrace) 32 کروڑ 50 لاکھ ڈالر میں، کرونوسفیئر (Chronosphere) 2 ارب 95 کروڑ ڈالر میں اور کوئی (Koi) 23 کروڑ 10 لاکھ ڈالر میں خریدی گئیں۔ اس سے قبل فروری 2026 میں شناختی سیکیورٹی کی کمپنی سائبر آرک (CyberArk) کا 25 ارب ڈالر کا حصول مکمل ہوا تھا۔
ٹیک کرنچ کے مطابق پالو آلٹو نیٹ ورکس کی روایت رہی ہے کہ وہ نئی ٹیکنالوجی خود تیار کرنے کے بجائے خرید لیتی ہے، اور اے آئی کی مدد سے ہونے والے سائبر حملوں میں اضافے کے جواب میں اس نے اس سال خریداری کی رفتار تیز کر دی ہے۔ کلچ کی خریداری اسی حکمت عملی کا اگلا قدم ہوگی، جس کا مقصد اے آئی ایجنٹس کے دور میں کمپنیوں کے نظام کو محفوظ بنانا ہے۔
پاکستانی سافٹ ویئر صنعت کے لیے سبق
پاکستان میں بھی سافٹ ویئر ہاؤسز اور فری لانسرز تیزی سے اے آئی ایجنٹس کو اپنے کام میں شامل کر رہے ہیں۔ کوڈ لکھنے والے ایجنٹس، کسٹمر سروس کے چیٹ بوٹس اور ڈیٹا کا تجزیہ کرنے والے خودکار نظام کمپنیوں کے اندرونی نظاموں تک رسائی کے لیے اے پی آئی کیز اور پاس ورڈ استعمال کرتے ہیں۔ ان کیز کی نگرانی اکثر انسانی ملازمین کی رسائی جیسی سختی سے نہیں ہوتی، حالاں کہ ان کے ذریعے بھی وہی حساس ڈیٹا کھل سکتا ہے۔
جب دنیا کی سب سے بڑی سائبر سیکیورٹی کمپنیوں میں سے ایک ایجنٹس کی شناخت کی حفاظت کرنے والی کمپنی کے لیے سالانہ آمدنی سے 50 گنا قیمت پر بات چیت کر رہی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ یہ مسئلہ اب صنعت کی اولین ترجیحات میں شامل ہو چکا ہے۔ پاکستانی ٹیموں کے لیے سبق سادہ ہے: ہر ایجنٹ کو صرف اتنی ہی رسائی دی جائے جتنی اس کے کام کے لیے ضروری ہو، اور ہر کی کو وقتاً فوقتاً تبدیل کیا جائے۔ یہ وہ بنیادی احتیاط ہے جس پر عمل کیے بغیر اے آئی ایجنٹس کا استعمال کاروبار کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
بات چیت جاری ہے اور ابھی یہ واضح نہیں کہ معاہدہ کب اور کس حتمی قیمت پر طے پائے گا۔ دونوں کمپنیوں کی جانب سے کوئی باضابطہ اعلان سامنے آنے پر ہی اس معاہدے کی حتمی صورت سامنے آئے گی۔




